مصنوعی ذہانت کے دور میں خواتین کیلئے نئے مواقع

تحریر : توقیر فاطمہ


آرٹیفشل انٹیلی جنس (AI) موجودہ دور کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی ٹیکنالوجیز میں شامل ہے۔ اس نے نہ صرف کاروبار، تعلیم، طب اور صنعت کے شعبوں کو متاثر کیا ہے بلکہ روزگار اور کام کرنے کے روایتی طریقوں کو بھی بدلنا شروع کر دیا ہے۔

 مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ کو بعض لوگ ملازمتوں کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی خواتین کے لیے روزگار، کاروبار اور گھر بیٹھے کام کرنے کے بے شمار نئے مواقع بھی پیدا کر رہی ہے۔ خاص طور پر وہ خواتین جو گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے مستقل ملازمت نہیں کر سکتیں، AI ان کے لیے آمدنی کے نئے راستے کھول سکتی ہے۔

ورک فرام ہوم اور فری لانسنگ 

مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے بہت سے کاموں کو آسان اور تیز بنا دیا ہے۔ آج ایک خاتون گھر بیٹھے کمپیوٹر یا موبائل فون کے ذریعے مختلف خدمات فراہم کر سکتی ہے مثلاً کانٹینٹ رائٹنگ، ٹرانسلیشن، گرافک ڈیزائن، ویڈیو ایڈیٹنگ، سوشل میڈیا مینجمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور آن لائن ٹیچنگ جیسے شعبوں میں AI سے معاونت حاصل کی جا سکتی ہے۔ ماضی میں کسی کمپنی میں کام کرنے کے لیے لازمی طور پر دفتر جانا ہوتا تھا لیکن اب انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا کے کسی بھی حصے کے کلائنٹ کے لیے گھر سے کام کیا جا سکتا ہے۔ AI ٹولز کی مدد سے فری لانسر اپنی تحقیق، تحریر، ڈیزائن اور ڈیٹا سے متعلق کام زیادہ تیزی سے مکمل کر سکتا ہے۔ اس طرح کم وقت میں زیادہ کام کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

تعلیم اور نئی مہارتیں

مصنوعی ذہانت نے تعلیم کے میدان میں بھی ایک نیا انقلاب پیدا کیا ہے۔ اب سیکھنے کے لیے صرف روایتی کلاس روم یا مہنگے اداروں پر انحصار ضروری نہیں۔ خواتین مختلف آن لائن پلیٹ فارمز اور AI ٹولز کے ذریعے نئی مہارتیں اپنی رفتار کے مطابق سیکھ سکتی ہیں۔ کوئی خاتون ڈیجیٹل مارکیٹنگ، پروگرامنگ، گرافک ڈیزائن، ویب ڈویلپمنٹ، اکاؤنٹنگ یا زبانوں کے ترجمے کی مہارت حاصل کر سکتی ہے۔ AI مشکل موضوعات کو آسان الفاظ میں سمجھانے، مشقیں تیار کرنے اور سیکھنے کے عمل کو ذاتی ضرورت کے مطابق ڈھالنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔بزنس وویمن کے لیے بھی AI ایک بہترین معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک چھوٹا کاروبار شروع کرنے والی خاتون مارکیٹ ریسرچ، مصنوعات کی تشہیر، سوشل میڈیا پوسٹس، کسٹمر سروس اور کاروباری منصوبہ بندی میں مصنوعی ذہانت سے مدد لے سکتی ہے۔ اس سے کاروبار شروع کرنے کی لاگت اور وقت کم ہو سکتے ہیں۔

خواتین کیلئے نئے راستے

AI صرف ملازمتوں تک محدود نہیں بلکہ خواتین کے لیے کاروباری مواقع بھی پیدا کر رہا ہے۔ آن لائن سٹور، ہوم بیسڈ فوڈ بزنس، کپڑوں کا کاروبار، دستکاری، آن لائن کوچنگ اور تعلیمی خدمات فراہم کرنے والی خواتین AI کی مدد سے اپنے کاروبار کو زیادہ منظم انداز میں چلا سکتی ہیں۔کوئی خاتون اپنے کاروبار کے لیے سوشل میڈیا میٹریل تیار کرنے، صارفین کے سوالات کے جوابات دینے، اشتہاروں کے آئیڈیاز اور مصنوعات کی تفصیلات لکھنے کے لیے AI استعمال کر سکتی ہے۔ اس طرح وہ بہت سے ایسے کام خود انجام دے سکتی ہے جن کے لیے پہلے الگ افراد کی خدمات حاصل کرنا پڑتی تھیں۔اس کے علاوہ خواتین ٹیکنالوجی کے شعبے میں قائدانہ کردار بھی ادا کر سکتی ہیں۔ AI، ڈیٹا سائنس، سائبر سکیورٹی، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور روبوٹکس جیسے شعبوں میں خواتین کوبہتر کیریئر مل سکتا ہے۔

چیلنجز، احتیاط اور مستقبل کی تیاری

اگرچہ مصنوعی ذہانت خواتین کے لیے بہت سے مواقع پیدا کر رہی ہے لیکن اس کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی موجود ہیں۔ سب سے اہم مسئلہ مناسب تربیت اور ڈیجیٹل مہارتوں کی کمی ہے۔ اگر خواتین نئی ٹیکنالوجی کو سمجھنے اور استعمال کرنے کی کوشش نہ کریں  تو وہ مستقبل کے روزگار کے کئی مواقع سے محروم ہو سکتی ہیں۔AI استعمال کرتے وقت معلومات کی درستگی، رازداری اور  اخلاقی اصولوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والی ہر معلومات درست نہیں ہوتی اس لیے اہم فیصلوں سے پہلے معلومات کی تصدیق ضروری ہے۔ اسی طرح ذاتی اور کاروباری معلومات کو غیر ضروری طور پر AI ٹولز میں درج کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔مستقبل میں وہ خواتین زیادہ کامیاب ہوں گی جو AI کو اپنی جگہ لینے والی ٹیکنالوجی سمجھنے کے بجائے اسے ایک معاون کے طور پر استعمال کرنا سیکھیں گی۔ انسانی تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ، جذباتی سمجھ بوجھ اور فیصلہ سازی ایسی خصوصیات ہیں جن کی اہمیت مصنوعی ذہانت کے دور میں بھی برقرار رہے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین جدید ٹیکنالوجی سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اسے سیکھیں اور اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کریں۔ اگر خواتین کو مناسب تعلیم، تربیت اور ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کی جائے تو مصنوعی ذہانت نہ صرف ان کی معاشی خودمختاری میں اضافہ کر سکتی ہے بلکہ معاشرے کی مجموعی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

لانگ مارچ کیا رنگ لائے گا؟

خیبر پختونخوا میں ایک جانب مسلسل دہشت گردی‘ امن و امان کے مسائل اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے تو دوسری جانب صوبے کی حکمران جماعت کی جانب سے لانگ مارچ نے وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔

حکومت اپوزیشن مذاکرات اور بلدیاتی انتخابات

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر غیر مشروط طور پر پی ٹی آئی اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی مسائل سیاسی بنیادوں پر حل کرنا چاہتے ہیں اور وہ مل بیٹھ کر ہی ہو سکتے ہیں۔

ایم ڈی کیٹ کے نتائج پر تنازع

نئے صوبوں کے معاملے پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اس کی منطق سمجھ میں نہیں آتی، اگر اسلام آباد ناکام ہوچکا ہے تو اسے تھر واسیوں کے حوالے کردیا جائے۔

خیبرپختونخوا میں کیا ہونے والا ہے؟

خیبر پختونخوا کا سیاسی درجہ حرارت گزشتہ ہفتے سے مسلسل بلند ہے۔ چار اکتوبر کو لکی مروت سے شروع ہونے والا لانگ مارچ جنوبی علاقوں سے ہوتا ہوا شمال کی طرف بڑھ رہا ہے۔کرک اورکوہاٹ سے گزر کر آج یہ خیبرکے راستے پشاورپہنچے گا۔

بلوچستان، چیلنجز اور مواقع

صوبائی حکومت کی جانب سے گزشتہ ڈھائی برس کے دوران مختلف شعبوں میں اصلاحات، صحت کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، پولیسنگ کو جدید خطوط پر استوار کرنے، نوجوانوں کی تربیت، تعلیمی اداروں کے معیار میں بہتری اور سرکاری وسائل کو عوامی فلاح کے اقدامات واضح کرتے ہیں کہ بلوچستان میں حکمرانی کے انداز کو بتدریج جدید نظام سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش جاری ہے۔

نئی حکومت، نئی کشمیر کونسل

آزاد جموں و کشمیر میں نئی حکومت کے قیام، صدر کے انتخاب اور اسمبلی کی نئی سیاسی صف بندی کے بعد کشمیر کونسل کے نئے اراکین کا انتخاب بھی ہو گیا ہے۔