عیادت

تحریر : ملک احسن اعوان


ارے ، یہ کیا ہو رہا ہے ؟ بیمار شخص نے گھبرا کر بستر سے اُٹھتے ہوئے کہا۔ ایک موٹے سے لڑکے نے اپنے بازوں کو پھیلا کر جواب دیا : چچا جان ! ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔ ہم آپ کی عیادت کیلئے آئے ہیں ۔

 عیادت ؟ بیمار شخص نے حیرت سے پوچھا ۔ مگر تم لوگ تو پورا جلوس لے آئے ہو ؟  

پیچھے کھڑی خاتون ہنس پڑی : بھائی جان ! بچے ضد کر رہے تھے کہ آپ کو اکیلا نہیں چھوڑسکتے ۔  

ایک بچی آگے بڑھی اور بولی : چچا ، امی کہتی ہیں بیمار آدمی کو خوش رکھنا بھی دوا جیسا ہوتا ہے ۔  

بیمار شخص مسکرایا ۔ یہ بات تو بالکل درست ہے ۔ 

موٹے لڑکے نے فخر سے کہا : میں نے سب کو جمع کیا ۔ سوچا ، اگر ایک آدمی آئے گا تو آپ پانچ منٹ خوش ہوں گے ، لیکن اگر ہم سب آئیں گے تو آپ پورا دن خوش رہیں گے !  

کمرے میں ہنسی گونج اٹھی ۔ 

 اچھا ، پھر میرے لیے کیا لائے ہو ؟ بیمار شخص نے مذاقاً پوچھا ۔ 

ایک بچے نے فوراً جواب دیا :دعائیں ! 

دوسرے نے کہا : مسکراہٹ ! 

تیسرے نے کہا : اور میں اچھی خبریں لایا ہوں ۔ ہمارے محلے کی ٹیم میچ جیت گئی ہے ۔  

بیمار شخص کی آنکھوں میں چمک آگئی ۔ واہ ! یہ تو واقعی اچھی خبر ہے ۔  

خاتون نے نرمی سے کہا : دیکھا بھائی جان ؟ دوا جسم کو طاقت دیتی ہے ، لیکن اپنوں کی محبت دل کو طاقت دیتی ہے ۔ 

بیمار شخص نے سر ہلایا ۔ آج تم سب نے مجھے یہ سکھایا کہ بیماری آدھی تکلیف ہے۔ اصل علاج اپنے لوگوں کی محبت اور توجہ ہے ۔ 

 تو پھر آپ جلدی ٹھیک ہوجائیں گے نا ؟ بچوں نے ایک ساتھ پوچھا ۔ 

بیمار شخص ہنستے ہوئے بولا : اگر تم سب روز آتے رہے تو میں ضرور ٹھیک ہوجائوں گا۔یہ سن کر سب بچے خوشی سے تالیاں بجانے لگے اور کمرہ قہقہوں سے گونج اٹھا ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

قطرہ قطرہ زندگی

نوشین اور اس کا چھوٹا بھائی ارتضیٰ دونوں صحن میں لگے نل کے پاس کھڑے تھے۔ ارتضیٰ دانت برش کر رہا تھا اور نلکا پوری طرح کھلا ہوا تھا۔ پانی تیزی سے بہہ کر نالی میں ضائع ہو رہا تھا۔

گنیز بک 2027ء میں شامل دنیا کے ہونہار بچے!

بڑی ٹیبل کا ننھا کھلاڑی:جوڈ اوونز

ماں ہماری وقار ہستی ہے

ماں ہماری وقار ہستی ہے،ان کے دم سے بہارِ ہستی ہے

نصیحت آموز باتیں

٭…زبان کی حفاظت کرو، بہت سے فتنے خود ختم ہوجائیں گے۔

ذرا مسکرائیے

بیٹے نے باپ سے کہا:میں کھڑکی کے قریب کھڑا گانا گا رہا تھا تو کسی نے ایک جوتا پھینکا۔

پہیلیاں

کھلا پڑا ہے ایک خزانہ،پر مشکل ہے اسے چرانا