نئے انتظامی یونٹس اور 28 ویں آئینی ترمیم

تحریر : عدیل وڑائچ


پاکستان میں اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی کی بحث اب سنجیدہ رُخ اختیار کر چکی ہے۔ نئے صوبوں کے قیام پر ایک کے بعد ایک قومی مباحثہ ہو رہا ہے جس میں سیاستدان، سول سوسائٹی ، قانون دان اور گورننس کے ماہرین حصہ لے رہے ہیں اور اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

 اسلام آباد کے جس بھی فورم پر یہ بحث سننے کا موقع ملا وہاں ایک بات پر تو مکمل اتفاقِ رائے ہے کہ  اقتدار نچلی سطح تک منتقل کیا جائے چاہے اس کی شکل کوئی بھی ہو۔ ریاستی سطح پر یہ سوچ پائی جا رہی ہے کہ ملک میں گورننس کا موجودہ ماڈل مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے ، اس کی تنظیم ِنو اَب نا گزیر ہو چکی ہے۔ مباحثوں میں ہونے والی گفتگو میں اگرچہ یہ رائے بھی سننے کو مل رہی ہے کہ اگر اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے تو بلدیاتی انتخابات کروا دیئے جائیں، مگر حقیقت میں صرف بلدیاتی انتخابات کروا دینا ہی مسئلے کا حل نہیں ۔ 

ایک تو مشرف دور کے بعد ہونے والے بلدیاتی انتخابات جب بھی کروائے گئے ، تینوں بڑی سیاسی جماعتوں، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پار ٹی اور تحریک انصاف نے اس نظام کو دانستہ طور پر وہ اختیارات دیئے ہی نہیں جو اسے دیئے جانے تھے۔  ایک بے اختیار بلدیاتی نظام لانے کے باوجود بھی پنجاب اور اسلام آباد میں توآخری مرتبہ انتخابات 2015ء میں ہوئے اور اس کے بعد اب تک ان کے انعقاد میں رکاوٹ ہی ڈالی گئی۔ پاکستان تحریک انصاف نے اپنی پوری مدت میں پنجاب اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کے انتخابات نہیں کروائے۔ یہی صورتحال مسلم لیگ( ن) کے موجودہ دور میں بھی دیکھنے کو ملی۔ بلدیاتی انتخابات کا سب سے پہلا مرحلہ یعنی حلقہ بندیاں جب بھی شروع ہوئیں نیا قانون یاآرڈیننس  لا کر اس عمل کو ڈی ریل کر دیا جاتا ۔ سندھ ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جہاں انتخابات کروائے گئے وہاں بھی مقامی حکومتوں کو اصل اختیارات نہیں دیئے گئے۔ 

صرف یہی نہیں ، ان بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے اندر بھی جمہوریت نہیں آنے دی ۔ پاکستان تحریک انصاف تو انٹرا پارٹی انتخابات اپنے آئین کے مطابق نہ کرانے کے باعث 2024ء کے انتخابات سے ہی باہر ہو گئی مگر (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے انتخابات کے نتائج بھی پہلے ہی سے معلوم ہوتے ہیں کہ دونوں جماعتوں کی پارٹی سربراہی دو خاندانوں کے پاس ہی  رہنی ہے۔ تینوں بڑی سیاسی جماعتیں یہ تاثر قائم کر چکی ہیں کہ اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی ان کی ترجیحات میں ہے ہی نہیں۔ اقتدار کی عوام کو منتقلی اور سیاسی جماعتوں کے اندر حقیقی جمہوریت نہ ہونے سے ملک میں سیاسی انسٹیٹیوشن بن پائے نہ ہی  گزشتہ دہائیوں میں سیاسی نرسری سے نئی قیادت تیار ہو ئی۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں عوام اور حکمرانوں کے درمیان فاصلے  بڑھتے چلے گئے وہیں سیاسی ادارے بھی روز بروز کمزور ہو تے گئے۔اب جبکہ ملک میں انتظامی ری سٹرکچرنگ کی باتیں زور پکڑنے لگی ہیں تو ان سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کو لوکل گورنمنٹ انتخابات یادآنے لگے ہیں اور ملک میں ایک مرتبہ  پھر بلدیاتی انتخابات کا چرچا ہونے لگا ہے۔ مگر جو بلدیاتی نظام لایا جا رہا ہے وہ مشرف دور کے مؤثر نظام کے مقابلے میں کہیں زیادہ بے اختیار ہے۔ مقامی حکومت کا اگر بہتر نظام لے بھی آیا جائے تو یہ اب گورننس کے بڑی ری سٹرکچرنگ کے  بغیر بالکل بے سود ہو گا۔

پیپلز پارٹی تو نئے انتظامی یونٹس کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے صرف جنوبی پنجاب اور گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دینے  کی بات کر رہی اور سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر مزاحمت کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ مسلم لیگ( ن) میں وزیر اعظم شہباز شریف نئے صوبوں کے قیام کے مخالف نظر نہیں آتے مگر نواز گروپ کی جانب سے اس پر فی الوقت چپ سادھنے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے اور پیپلز پارٹی کے طرزِ عمل اور ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اب اچانک (ن) لیگ کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر تیزی دیکھنے کو مل سکتی ہے تاکہ انتظامی ری سٹرکچرنگ کے دباؤ کو کسی حد تک کنٹرول کیا جا سکے  کیونکہ اگر ریفرنڈم کے ذریعے عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا تو سیاسی جماعتیں اس ری سٹرکچرنگ کو زیادہ دیر تک روک نہیں پائیں گی۔

خیبر پختونخوا کے نئے سیٹ اَپ کو نئے انتظامی یونٹس کا پائلٹ پراجیکٹ یا ٹیسٹ کیس کہا جا سکتا ہے ،جہان شورش زدہ 12 اضلاع کو ایک الگ انتظامی سیٹ اَپ کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ اگر مشکل ترین علاقوں میں مشکل ترین حالات میں یہ انتظامی سیٹ اَپ کامیاب ہو جاتا ہے تو مکمل طور پر ایسا نہ سہی مگر کسی نہ کسی صورت میں ملک کے دیگر حصوں میں لانا آسان ہو گا۔ خیبر پختونخوا میں اس انتظامی سیٹ اَپ کے پاس ڈیلیور کرنے کے لیے ابتدائی طور پر 6 ماہ کا وقت ہے۔ اس سیٹ اَپ  کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے واضح معیار مقرر کئے گئے ہیں جبکہ مکمل شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کا ٹاسک بھی دیا گیا ہے۔ ٹیکنو کریٹس کے اس انتظامی سیٹ اَپ میں مقامی طور پر عوامی نمائندگی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ 

شہرِ اقتدار میں جاری غور و خوض میں اس آپشن پر بھی بات چیت ہو رہی ہے کہ اگر صوبوں کو تقسیم کئے بغیر ڈویژن کی سطح پر ہی انتظامی اختیارات کے ساتھ خود مختار یونٹس کا قیام عمل میں لایا جائے تو اس کے لیے آئین میں بڑی تبدیلیاں کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اگر ایسا کیا جاتا ہے تو اس کے لیے آئین کے آرٹیکل 239 چار میں موجود ایک بڑی قدغن یعنی متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی منظور ی کی شرط سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ اس سے صوبے کی اصل حدود وہیں رہیں گی مگر صوبے کے اندر با اختیار انتظامی یونٹس پہلے سے موجود انفراسٹرکچر کا استعمال کرتے ہوئے کام کر سکیں گے۔ مگر یہ سب کرنے کے لیے پھر بھی آئین میں ترمیم ضرور کرنا ہو گی۔ اس کے لیے تمام نظریں 28 ویں آئینی ترمیم پر ہیں ۔ اس آئینی ترمیم نے ابھی تک کسی حتمی مسودے کی شکل اختیار نہیں کی مگر یہ متعلقہ فورمز پر زیر بحث ضرورآچکی ہے ۔ اس کے ساتھ این ایف سی سے متعلق شقوں میں ترمیم بھی نا گزیر ہو چکی ہے کیونکہ این ایف سی کا موجودہ سٹرکچر اس وقت ملک کی اہم ضروریات کو پورا کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش ،کتنی سنجیدہ؟

وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کا تعلق دہشت گردی کے خلاف سیاسی یکجہتی اور ہم آہنگی سے ہے ۔

جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ، پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات

سندھ کابینہ نے میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پبلک کردی ہے،جس میں پولیس کی کارکردگی کو بدترین قرار دیا گیا ہے ‘میڈیکو لیگل نظام کی بھی قلعی کھول دی ہے۔

خیبر پختونخوا میں اگلے دو ماہ اہم!

کیا خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی واپس آجائے گی ؟یہ ایک سوال ہے جو آج کل تقریبا ًتمام حلقوں میں پوچھا جارہا ہے ۔بظاہر تو یہ مشکل لگ رہا ہے لیکن پس پردہ اس کیلئے کوششیں جاری ہیں۔

بلوچستان: قربانیاں، چیلنجز اور ذمہ داریاں!

بلوچستان میں ایک طرف سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہیں اور اہلکار اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں تو دوسری طرف اغوا، دھماکوں، فائرنگ اور شہریوں کے عدم تحفظ کی خبریں مسلسل توجہ حاصل کر رہی ہیں۔

آزاد کشمیر، سیاسی صف بندی یا دھڑے بندی؟

آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر اندرونی خلفشار، قیادت کے سوال اور باہمی سیاسی اختلافات کے باعث توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

بدلتی دنیا، مستقبل کے تقاضے بچوں کی تربیت کیسے کریں؟

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تعلیم اور روزگار کے بدلتے ہوئے تقاضوں نے زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں بچوں کی تربیت کا مقصد صرف انہیں اچھے نمبر دلوانا یا کسی اچھی ملازمت کے قابل بنانا نہیں، بلکہ انہیں ایسا باشعور، خوداعتماد، تخلیقی اور ذمہ دار انسان بنانا ہے جو مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔