کھلے مسام ،جلد کا عام مسئلہ

تحریر : سائرہ خان


خوبصورت، صاف اور ہموار جلد ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے ۔ چہرے پر نمایاں مسام جلد کی خوبصورتی کو متاثر کرتے ہیں۔

 خاص طور پر ناک، پیشانی اور گالوں پر کھلے مسام زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ انہیں ختم کرنے کے لیے مہنگی کریمیں، فیشل اور مختلف گھریلو ٹوٹکے استعمال کرتے ہیں مگر اکثر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جلد کی ساخت اور مساموں کی نوعیت کو سمجھے بغیر علاج شروع کر دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسام جلد کا قدرتی حصہ ہیں اور انہیں مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں البتہ مناسب نگہداشت، درست مصنوعات اور صحت مند عادات کے ذریعے ان کی نمایاں شکل کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

 کھلے مسام کیا ہیں اور ان کی وجوہات کیا ہیں؟

جلد پر موجود مسام دراصل بالوں کے فولیکلز اور چکنائی خارج کرنے والے غدود کے قدرتی راستے ہیں۔ ان کے ذریعے جلد کا قدرتی تیل جسے سیبم (Sebum) کہا جاتا ہے سطح تک پہنچتا ہے۔ یہ تیل جلد کو نرم رکھنے اور اس کی حفاظتی تہہ برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ تاہم جب مساموں میں اضافی تیل، ڈیڈ سیلز اور گردوغبار جمع ہو جاتے ہیں تو وہ زیادہ نمایاں دکھائی دینے لگتے ہیں۔کھلے مساموں کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، ان میں جلد کا زیادہ چکنا ہونا، بڑھتی عمر، سورج کی شعاعوں کے اثرات اور جلد میں کولیجن کی کمی شامل ہیں۔ عمر کے ساتھ جلد کی لچک کم ہونے لگتی ہے جس سے مسام پہلے کی نسبت زیادہ نمایاں محسوس ہوتے ہیں۔ 

 جلد کی صفائی اور درست مصنوعات کا استعمال

کھلے مساموں کو کم کرنے کے لیے سب سے پہلا قدم جلد کی مناسب صفائی ہے۔ دن میں دو مرتبہ نرم فیس واش سے چہرہ دھونا مفید ہے۔ بہت زیادہ سخت صابن، کھردرے سکرب اور بار بار چہرہ دھونے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے جلد میں خشکی، جلن اور سوزش پیدا ہو سکتی ہے۔چکنی جلد کے لیے سیلیسیلک ایسڈ پر مبنی مصنوعات مفید ثابت ہوتی ہیں۔ یہ جزو مساموں میں جمع اضافی تیل اور مردہ خلیات کو صاف کرنے میں مدد دیتا ہے۔نیاسینامائڈ (Niacinamide) بھی جلد کی نگہداشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ جلد کی حفاظتی تہہ کو بہتر بنانے، اضافی چکنائی کو متوازن رکھنے اور جلد کی مجموعی ساخت کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، نان کا میڈوجینک (Noncomedogenic) موئسچرائزر استعمال کرنا بہتر ہے۔ رات کو سونے سے پہلے میک اپ صاف کرنا اور چہرے کو اچھی طرح دھونا بھی ضروری ہے۔

 سن سکرین، صحت مند غذا اور نگہداشت

سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعیں جلد میں کولیجن کو نقصان پہنچا سکتی ہیں جس سے وقت کے ساتھ جلد کی مضبوطی اورلچک متاثر ہوتی ہے۔ اس وجہ سے مسام زیادہ نمایاں دکھائی دے سکتے ہیں۔ روزانہ کم از کم ایس پی ایف 30والی براڈ سپیکٹرم سن سکرین استعمال کریں۔ دھوپ میں زیادہ وقت گزارنے کی صورت میں اسے دوبارہ لگانا چاہیے۔صحت مند غذا جلد کی عمومی حالت بہتر رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ پھل، سبزیاں، دالیں، مناسب مقدار میں پروٹین اور صحت مند چکنائی کو روزمرہ خوراک میں شامل کرنا چاہیے۔ مناسب مقدار میں پانی پینا جسم کی عمومی صحت کے لیے ضروری ہے تاہم صرف زیادہ پانی پینے سے کھلے مسام ختم نہیں ہوتے۔گھریلو نگہداشت کے معاملے میں احتیاط ضروری ہے۔ لیمن جوس، بیکنگ سوڈا، ٹوتھ پیسٹ اور کھردرے اجزا چہرے پر لگانے سے گریز کریں کیونکہ یہ جلد میں جلن اور نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ برف لگانے سے جلد وقتی طور پر قدرے کھنچی ہوئی محسوس ہو سکتی ہے لیکن اس سے مسام مستقل طور پر چھوٹے نہیں ہوتے۔ اسی طرح بھاپ مساموں کو مستقل طور پر کھولنے یا بند کرنے کا مؤثر طریقہ نہیں ہے۔

 ماہرِ جلد سے علاج اور مستقل مزاجی کی اہمیت

اگر مسام بہت زیادہ نمایاں ہوں یا ان کے ساتھ مہاسے، داغ دھبے اور جلد کی غیر ہمواری بھی موجود ہو تو ماہرِ جلد سے مشورہ کرناچاہیے۔ ڈاکٹر جلد کی نوعیت اور مسئلے کی شدت کے مطابق ریٹینوئڈز (Retinoids) تجویز کر سکتے ہیں جو جلد کے  سیلز کی تجدید اور مساموں میں رکاوٹ کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان مصنوعات سے خشکی اور جلن ہو سکتی ہے اس لیے مناسب رہنمائی ضروری ہے۔ بعض افراد کے لیے کیمیکل پیلز، مائیکرونیڈلنگ یا فریکشنل لیزر جیسے طریقے بھی مفید ہیں۔  ان کے نتائج جلد کی نوعیت، مسئلے کی شدت اور علاج کی قسم پر منحصر ہوتے ہیں۔ یہ طریقے ہر شخص کے لیے موزوں نہیں ہوتے، اس لیے انہیں مستند ماہرِ جلد کی نگرانی میں ہی کروانا چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

بدلتی دنیا، مستقبل کے تقاضے بچوں کی تربیت کیسے کریں؟

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تعلیم اور روزگار کے بدلتے ہوئے تقاضوں نے زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں بچوں کی تربیت کا مقصد صرف انہیں اچھے نمبر دلوانا یا کسی اچھی ملازمت کے قابل بنانا نہیں، بلکہ انہیں ایسا باشعور، خوداعتماد، تخلیقی اور ذمہ دار انسان بنانا ہے جو مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔

آج کا پکوان: چکن شاشلیک اور ویجیٹیبل رائس

اجزا: چکن بون لیس آدھا کلو، ، شملہ مرچ2 عدد، ، پیاز1 درمیانی، ٹماٹر1 درمیانہ،، دہی آدھا کپ، ادرک لہسن کا پیسٹ 1 چائے کا چمچ، لال مرچ پاؤڈر 1 چائے کا چمچ،پسی ہوئی کالی مرچ آدھا چائے کا چمچ،

کرنل محمد خان کی مزاح نگاری

27 ویں برسی:ان کی پہلی کتاب’’بجنگ آمد‘‘ کی اشاعت اُردو ادب کا اہم واقعہ شمار ہوتا ہے:کرنل محمد خان کو ظرافت تک پہنچنے کیلئے کسی تمہید کا پل نہیں باندھنا پڑتا‘ واقعات کی گردن میں لطافت کی بجتی ہوئی گھنٹیاں بھی وہ آویزاں نہیں کرتے‘ اُن کا لطیف اور لچکیلا مزاح اُن کے اسلوبِ تحریر کا جزو ہے ، ان کے نقطہ نظر کی پیداوار ہے

اُردوکا آغاز:کب ، کہاں اور کیسے ہوا؟

ارود زبان کی پیدائش کب، کہاں اور کیسے ہوئی اس سلسلے میں لسانیات کے عالم اور ماہرین کے درمیان کافی اختلافات پائے جاتے ہیں۔

گرین شرٹس:نیا کپتان ،اگلا امتحان

سہ ملکی ون ڈے انٹرنیشنل سیریز:پاکستان ،سری لنکا اور انگلینڈ سہ ملکی سیریز کا باقاعدہ آغاز آج سے راولپنڈی میں ہوگا:افتتاحی مقابلے میں میزبان پاکستان اور سری لنکا کی ٹیمیں مدمقابل ہوں گی،فائنل سمیت 4میچ قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلے جائیں گے

کتاب دوستی

آئینہ جماعت ہفتم کی ہونہار طالبہ تھی۔ ہر کام کو ہوشیاری سے کرنا اس کی زندگی کا خاصا تھا۔ وہ اپنی ٹیچرز کا بے حد احترام کرتی تھی لیکن اس میں ایک برائی تھی کہ وہ موبائل بہت زیادہ استعمال کرتی تھی۔