خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا مستقبل ؟

تحریر : عدیل وڑائچ


خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے 13 سالہ حکومتی تسلسل کا خاتمہ ہو گیا۔ پاکستان تحریک انصاف نے ایسے سیاسی فیصلوں کے باعث اپنے آخری مورچے کو بھی وفاق کے حوالے کر دیا ہے۔

 وفاق کی سفارش پر صدر مملکت نے خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج نافذ کیا۔ آئینی تقاضا پورا کرتے ہوئے ایمرجنسی کی منظوری قومی اسمبلی اور سینیٹ نے دے دی ہے۔ گور نر راج کی منظوری آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے لی جائے گی۔ اگرچہ یہ اقدام آئین میں دیئے گئے طریقہ کار کے تحت اٹھایا گیا ہے مگر اس طرح کے اقدامات کے سیاسی اثرات برسوں رہتے ہیں۔صوبے میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت لگی ایمرجنسی کیلئے مدت کی حد نہیں ہے جبکہ آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک رہ سکتا ہے۔ ایمرجنسی میں بھی اختیارات وفاق، اس کے نمائندے یا گورنر کے پاس ہوتے ہیں مگر الگ سے گورنر راج اس لئے لگانا پڑا کیونکہ آرٹیکل 234 کے نفاذ کے بعد صوبائی اسمبلی کے اختیارات پارلیمنٹ کے پاس آجاتے ہیں یعنی صوبائی اسمبلی عملی طور پر فعال نہیں رہتی۔ قومی اسمبلی سے استعفوں کا معاملہ ہو یا 2023ء میں خیبر پختونخوا اور پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا، تحریک انصاف کبھی سڑکوں پر آکر وفاق کو دباؤ میں لانے کی کوشش کرتی رہی اور کبھی عدالتی محاذ کے ذریعے۔ مگر ماضی کے ہر بڑے فیصلے نے تحریک انصاف کو فائدے کی بجائے نقصان ہی پہنچایا۔ اس مرتبہ پلان اسلام آباد پر چڑھائی کا تھا مگر اب بھی پاکستان تحریک انصاف کے پاس کوئی ٹھوس لائحہ عمل یا حکمت عملی نہیں تھی۔

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اپنے صوبے میں ہی کارکنوں کو باہر نکال کر وفاق پر پریشر ڈالنے کی کوشش کرتے رہے اور انہوں نے وفاقی حکومت کو بڑی آسانی سے گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کا آئینی اور قانونی جواز فراہم کیا۔ جہاں صوبہ اپنے ہاتھ سے گنوایا وہاں بانی پی ٹی آئی کیلئے اگر کسی سٹیج پر جا کر کوئی ریلیف ملنا بھی تھا تو اس کے امکانات بھی تقریباً ختم ہو گئے۔ 3اکتوبر کی رات مذاکرات ختم ہونے کے بعد معاملات تیزی سے گورنر راج کی جانب جاتے دکھائی دیئے۔ ایک جانب صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی کردار ادا کرنے کیلئے کبھی تیار نظر نہ آئی بلکہ ہمیشہ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متنازع بنایا گیا۔ اس کے ساتھ ہر گزرتے وقت میں وفاق پر چڑھائی کا اعلان بھی کیا جاتا رہا۔ گورنر راج کے ناقدین کہتے ہیں کہ بلوچستان میں بھی تو دہشت گردی عروج پر ہے پھر وہاں گورنر راج یا ایمرجنسی کیوں نہیں لگائی جاتی، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کی حکومت ریاست کی ترجیحات کے مطابق سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ اس جنگ میں شریک ہے۔ کے پی کے کا مسئلہ یہ تھا کہ ایک تو صوبائی حکومت نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کی کوشش نہیں کی، دوسرا اس نے سکیورٹی فورسز کے جوانوں اور افسروں کی شہادتوں پر اظہارِ یکجہتی تو دور کی بات مذمت تک نہیں کی۔

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے موجودہ دور میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔ وہاں ٹی ٹی پی نے تو اپنی صلاحیت میں اضافہ کر لیا مگر خیبر پختونخوا حکومت صوبے کی پولیس کی استعداد کار اور صلاحیت میں اضافہ نہ کر سکی۔ صوبائی حکومت پر الزام لگتا رہا ہے کہ دہشت گردی اور جرائم کے نیٹ ورک کو صوبے میں سہولت کاری ملتی ہے۔ 

حالیہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف کے طرزِ سیاست نے اسے عوامی مقبولیت تو دی مگر یہ مقبولیت اس کے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے کے راستے میں رکاوٹ بن گئی۔ رکاوٹ بھی ایسی کہ موجودہ سسٹم میں، پاکستان کی سیاست میں تحریک انصاف نے خود کو غیر متعلقہ کر دیا ہے۔ اس مقبول سیاسی جماعت کا عالم یہ ہے کہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ اور سازشوں کا شکار ہے اور اس کے طرز عمل نے اسے خود ہی فیصلہ سازی میں انتہائی کمزور کر دیا ہے۔ اس کے فیصلے سوشل میڈیا ڈومین کے جذبات اور ماحول پر ہوتے آ رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کا کام سیاست کرنا ہے جنہیں سیاسی فیصلے کرنے ہوتے ہیں جارحیت نہیں، ملک کیلئے حتیٰ کہ اپنی سیاست کیلئے بہت سی جگہوں پر سمجھوتے بھی کرنا پڑتے ہیں، مگر پاکستان تحریک انصاف کی سیاست اسے بند گلی میں پہنچا چکی ہے۔ خیبر پختونخوا سے نہ صرف پی ٹی آئی حکومت کا خاتمہ ہوا ہے بلکہ صوبے میں سیاسی جماعت کے مضبوط گڑھ کو بڑا نقصان بھی پہنچا ہے۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد صوبے سے عوامی سطح پر ردعمل نہ آنے نے بھی پارٹی کے امیج کو نقصان پہنچایا ہے، اس کے نتائج مستقبل کے انتخابات میں بھی دیکھنے کو ملیں گے۔

گورنر راج تو چھ ماہ بعد ختم ہو جائے گا مگر ایمرجنسی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وہ مقصد حاصل نہ ہو جائیں جس کیلئے اس کا نفاذ کیا گیا ہے، یعنی یہ معاملہ آئندہ انتخابات تک چلتا نظر آرہا ہے۔ وفاق نے کے پی میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ٹیکنوکریٹس کی ٹیم فوری طور پر میدان میں اتار دی ہے جو پورے صوبے میں امن و امان کے قیام کے ساتھ شورش زدہ 12 اضلاع میں خصوصی فوکس کے ساتھ شہریوں کے تحفظ، بہتر طرزِ حکمرانی اور ترقی کیلئے کام کرے گی۔ جس کیلئے ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ ایریا ڈویلپمنٹ کونسل 12 شورش زدہ اضلاع کے عوام کی نمائندگی، مقامی مسائل کی نشاندہی اور ترقیاتی ضروریات کو وفاقی حکومت کی نگرانی میں حل کرے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی، گورنر خیبر پختونخوا اور ان کے نیچے ٹیکنو کریٹس کی ٹیم سے وفاقی حکومت توقع کر رہی ہے کہ چھ ماہ کے اندر خیبر پختونخوا کے اندر گراؤنڈ پر واضح طور پر تبدیلی نظر آئے۔ اگرچہ یہ ایک مشکل ترین صوبے میں مشکل ترین ٹاسک ہے لیکن اگر صوبے میں وہاں کے عوام کو اونر شپ دی جاتی ہے، ان کیلئے ترقیاتی منصوبے شروع کئے جاتے ہیں، ان خامیوں کو دور کیا جاتا ہے جن کے باعث صوبے میں دہشت گردی پھیل رہی تھی تو خیبر پختونخوا کے عوام کی قسمت بدل سکتی ہے۔

یہ وفاق اور صوبے میں اتاری گئی ٹیم کا بھی کڑا امتحان ہے کہ انہیں ہر صورت ڈیلیور کرنا ہو گا ورنہ پاکستان تحریک انصاف کی 13 سالہ خامیاں اور ناکامیاں بھی ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے والوں کے ذمہ آئیں گی۔ اس سیٹ اَپ کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے۔یہ ٹیکنو کریٹ سیٹ اَپ اگر ڈیلیور کرنے میں کامیاب ہو گیا تو مستقبل قریب میں اس کے اثرات دیگر صوبوں پر بھی پڑیں گے جیسا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے بعد اب فیصل واوڈ ا بھی پورے شد و مد کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ سسٹم کر ری سیٹ کرنا ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

کے پی میں آئینی اقدامات، قومی سیاست پر اثرات

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے اثرات قومی سیاست پر نظر آ رہے ہیں۔ حکومت مذکورہ اقدامات کی بنیادی وجہ خیبر پختونخوا کی سابق حکومت کے رویے خصوصاً دہشت گردی کے سدباب میں عدم سنجیدگی کو قرار دیتی ہے۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ سندھ میں بھی…

ملک میں ہر طرف خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا چرچا ہے‘حکومت کی بھی ساری توجہ اسی طرف ہے البتہ ایم کیو ایم کے سینئر رہنما فاروق ستار نے پیپلز پارٹی کو مخاطب کر تے ہوئے کہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ سندھ میں بھی صدرمملکت آصف علی زرداری کے دستخط سے گورنر راج لگ جائے۔

اور گورنر راج لگ گیا!

گورنر راج لگ گیا،خیبر پختونخوا اسمبلی معطل اور پی ٹی آئی کی دو تہائی اکثریت والی حکومت ختم کردی گئی۔ وزیراعلیٰ معزول قرار پائے، اختیارات چھن گئے، پی ٹی آئی کی راجدھانی ختم ہوگئی، پاکستان تحریک انصاف کے روپوش رہنماؤں کا آخری محفوظ ٹھکانہ بھی چھن گیا۔

قومی مفاد مقدم!

بلوچستان سمیت ملک بھر میں پائیدار امن، آئین کی بالادستی، سیاسی استحکام اور عوامی خوشحالی اہم قومی تقاضے ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاستی اقدامات ہوں، خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر سیاسی اختلافات ہوں، بلوچستان کے قدرتی وسائل پر اختیار کی بحث ہو یا نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے منصوبے، ان تمام معاملات کا اصل تعلق عوام کے مستقبل سے ہے۔

آزاد کشمیر، سیاست میں اتفاقِ رائے کی ضرورت

آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت کو اقتدار کی سیاست، جماعتی اختلافات اور روایتی سیاسی بیانات سے آگے بڑھ کر آزاد کشمیر کے مفادات، عوامی حقوق اور خطے کے امن و استحکام کو ترجیح دینا ہو گی۔

خواتین کے لیے لیڈر شپ سکلز

خود اعتمادی سے کامیابی تک