کے پی میں آئینی اقدامات، قومی سیاست پر اثرات
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے اثرات قومی سیاست پر نظر آ رہے ہیں۔ حکومت مذکورہ اقدامات کی بنیادی وجہ خیبر پختونخوا کی سابق حکومت کے رویے خصوصاً دہشت گردی کے سدباب میں عدم سنجیدگی کو قرار دیتی ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی،جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے نزدیک مذکورہ عمل سیاسی عدم استحکام کا سبب ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس فیصلے سے وہ مسائل حل ہو جائیں گے جس کو بنیاد بنا کر پی ٹی آئی کی حکومت کو چلتا کیا گیا ؟
اس میں دو آرا نہیں کہ پی ٹی آئی حکومت نے اپنے اوپر احتجاجی بخار سوار رکھا اور اسی بخار کے علاج کیلئے حکومت کو آئینی آپشن کی طرف آنا پڑا اور اب تو ایسی اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ بعض اداروں نے حکومت کو پی ٹی آئی حکومت کے بعض ذمہ داران کے دہشت گرد تنظیموں کے ذمہ داران سے رابطوں کے بارے بھی آگاہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نہ تو دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتی نظر آ رہی تھی اور نہ ہی دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے سکیورٹی فورسز کے افسران اور جوانوں کے جنازوں میں شرکت کی ضرورت محسوس کی؛ چنانچہ حکومت کو بوجوہ مذکورہ آئینی آپشنز کی طرف جانا پڑا۔ تاہم جس ردعمل بارے پی ٹی آئی کی لیڈر شپ خصوصاً معزول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی دھمکاتے نظر آ رہے تھے وہ دیکھنے میں نہیں آ یا۔ خیبر پختونخوا کی سطح پر تو چھوٹے موٹے مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں لیکن پنجاب میں پی ٹی آئی کی تنظیموں اور اراکین اسمبلی نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ وکلا کی جانب سے احتجاج ریکارڈ پر ضرور آیا لیکن بحیثیت مجموعی یہ کہا جا سکتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پیدا شدہ حالات کے باعث گورنر راج اور ایمرجنسی کے اقدامات پر بڑا ردعمل سامنے نہ آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ عوام قومی سلامتی کے حوالہ سے ایسی کسی سیاست کا حصہ بننے کو تیار نہیں جس سے ملکی مفادات اور استحکام متاثر ہوتا ہو۔
پی ٹی آئی کی لیڈر شپ بھی ان آئینی آپشنز کے بعد دفاعی محاذ پر کھڑی نظر آ رہی ہے اور وہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات بارے اپنی صفائیاں دیتے نظر آ رہے ہیں۔ سیاسی سطح پر عام تاثر یہ ہے کہ پی ٹی آئی میں سیاسی سنجیدگی کی کمی نے انہیں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ وہ اپنی آخری سیاسی پناہ گاہ بھی اپنے طرز عمل اور طریقہ کار کے باعث اپنے ہاتھوں گنوا چکے ہیں۔ بہرحال حکومت نے نہ چاہتے ہوئے جو فیصلے کئے ہیں ان سے بہت سے سوالات بھی جنم لیتے ہے اور جن کے جواب آنے والے دنوں میں قومی سیاست کی سمت متعین کریں گے۔
آنے والے چھ ماہ صرف ایک گورنر ایک مشاورتی کونسل، ایک سیاسی جماعت کیلئے امتحان نہیں ہوں گے بلکہ یہ پاکستان میں جاری جمہوری سسٹم، سیاسی اور جمہوری روایت اور قومی سلامتی کی حکمت عملی کا امتحان ہوں گے۔تاریخ یہ نہیں دیکھے گی کہ اس فیصلہ کے نتیجہ میں کون اقتدار سے ہٹا اور کسے آگے لایا گیا بلکہ تاریخ یہ دیکھے گی کہ اس آئینی آپشن کے استعمال کے نتیجہ میں امن قائم ہوا، دہشت گردی کا خاتمہ ہوا، انصاف کی فراہمی ممکن بنی، سیاسی استحکام پر پیش رفت ہوئی اور پاکستان کی جمہوریت مضبوط ہوئی؟ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر اس عمل کے ذمہ دار تاریخ کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔
ویسے تو مذکورہ اقدام کے بعد خود حکومت اور اتحادی اپنے ان اقدامات بارے یکسو دکھائی نہیں دے رہے کہ پیپلزپارٹی اس ضمن میں سیاسی دبائو محسوس کر رہی ہے، اس لئے کہ پاکستان میں پچھلے ایک عرصہ میں مختلف اوقات میں لگنے والے گورنر راج پیپلزپارٹی کے دور میں ہی لگے ہیں۔ اس سے قبل 2009ء میں صدر زرداری نے پنجاب میں گورنر راج کی منظوری دے کر اُس وقت کے وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف کی حکومت کو چلتا کیا جبکہ جنوری 2013ء میں صدر آصف علی زرداری نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کی سمری پر دستخط کیے۔ یوں گزشتہ 13 برسوں کے دوران صدر آصف علی زرداری ملک کے تین صوبوں میں گورنر راج لگانے کی توثیق کر چکے ہیں۔
اس حوالہ سے آنے والے سیاسی دبائو میں خود گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کا یہ تبصرہ قابل ذکر ہے جنہوں نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا فیصلہ وفاقی حکومت کا ہے۔ ایوان صدر نے تو نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار گورنر پنجاب نے اگلے روز لاہور پریس کلب میں کتاب کی تقریب رونمائی میں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج وزیر اعظم کی ایڈوائس پر لگا، سارا ملبہ پیپلز پارٹی پرنہ ڈالا جائے، سب نے مل کر تھوڑا تھوڑا لگایا۔مطلب یہ کہ حکومت اور حکومتی اتحادی بھی اپنے اس آئینی اقدام کا وزن اٹھاتے نظر نہیں آ رہے اور یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے اس آپشن کو حتمی آپشن کے طور پر اختیار کیا۔لیکن کسی بھی غیر معمولی انتظامی اقدام کی افادیت کا فیصلہ نعروں، دعوؤں یا سیاسی بیانات سے نہیں بلکہ اس کے عملی نتائج سے کیا جاتا ہے؛چنانچہ اب گورنر راج اور ایمرجنسی کی کامیابی کو ثابت کرنا اصل چیلنج ہے اور اس پر ہی حکومت کے مستقبل کا سوال ہے۔حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنانے، دہشت گردی پر قابو پانے، عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے اور انتظامی امور میں بہتری لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ اگر ان اہداف کے حصول میں نمایاں پیش رفت ہوتی ہے تو اس اقدام کے حق میں دلائل کو تقویت ملے گی، لیکن اگر حالات میں بہتری نہ آئی اور مسائل بدستور موجود رہے تو گورنر راج کے جواز اور افادیت پر سوالات اٹھیں گے۔ گورنر راج کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت اپنے طے شدہ مقاصد کس حد تک اور کتنا جلدپورے کرتی ہے۔ فیصلہ کارکردگی اور نتائج سے ہوگا اور یہی اس بندوبست کی کامیابی کا اصل امتحان ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments