آزاد کشمیر، سیاست میں اتفاقِ رائے کی ضرورت

تحریر : محمد اسلم میر


آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت کو اقتدار کی سیاست، جماعتی اختلافات اور روایتی سیاسی بیانات سے آگے بڑھ کر آزاد کشمیر کے مفادات، عوامی حقوق اور خطے کے امن و استحکام کو ترجیح دینا ہو گی۔

 ایسے ماحول میں صدر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان کی رہائش گاہ پر مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس غیر معمولی سیاسی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ بظاہر یہ ایک مشاورتی نشست تھی لیکن اس کے ایجنڈے میں شامل معاملات نے آزاد کشمیر کی سیاست کے کئی بنیادی سوالات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔اجلاس میں سابق صدر و وزیراعظم سردار محمد یعقوب خان، صدر مسلم لیگ (ن) شاہ غلام قادر، سابق وزیراعظم فاروق حیدر، قائد حزب اختلاف و صدر پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر چوہدری محمد یاسین، سابق وزیراعظم و صدر استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس، سابق امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی اور ڈاکٹر خالد محمود نے شرکت کی۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور نظریاتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے ان رہنماؤں کی ایک میز پر موجودگی اس امر کی غماز ہے کہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر سنجیدہ مشاورت کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔تاہم سوال یہ نہیں کہ کتنے رہنما اجلاس میں شریک ہوئے بلکہ یہ کہ اس مشاورت سے کیا نتائج برآمد ہوں گے۔مشترکہ مؤقف کو عملی شکل کیسے دی جائے گی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے سیاسی قیادت کس حد تک متحد ہو کر آگے بڑھ سکتی ہے۔

آزاد کشمیر کی سیاست میں مشاورتی اجلاس پہلے بھی ہوتے رہے ہیں لیکن کسی بھی اجلاس کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ اس کے اعلامیے سے زیادہ اس پر عمل درآمد اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مثبت تبدیلی ہے۔آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتیں اقتدار، حکومت سازی، معاشی پالیسیوں اور انتظامی معاملات پر ایک دوسرے سے اختلاف کر سکتی ہیں لیکن مسئلہ کشمیر پر مشترکہ قومی مؤقف کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ مسئلہ کشمیر پر متفقہ نکات، سفارتی ترجیحات، عالمی سطح پر رابطوں اور نوجوان نسل میں مسئلہ کشمیر کے بارے میں آگاہی کے لیے مربوط پروگرام تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔یہی وہ راستہ ہے جس سے کشمیر کاز کو محض تقریروں اور سیاسی اجتماعات تک محدود رکھنے کے بجائے ایک مسلسل اور منظم سیاسی کوشش میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔پاکستان کے ساتھ یکجہتی اور وابستگی کے عزم کے ساتھ آزاد کشمیر کے عوام کی توقعات بھی وابستہ ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ آزاد کشمیر میں تعلیم اور صحت کی سہولتیں ہوں، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں، بنیادی ڈھانچے کو ترقی دی جائے، اداروں پر عوامی اعتماد مضبوط ہو، کرپشن اور مالی بد عنوانیوں میں ملوث کرداروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور منتخب نمائندے عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔

آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں مختلف ادوار کے دوران اختیارات کی تقسیم اور سیاسی معاملات پر بحث ہوتی رہی ہے۔ ان مباحث کو جذباتی نعروں کے بجائے آئینی اصولوں، قانونی تشریحات اور عوامی مفاد کی روشنی میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔یونچھ ڈویژن آزاد کشمیر کے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں عوامی معاملات، معاشی مشکلات، بنیادی سہولتوں اور حکومتی پالیسیوں سے متعلق شکایات سیاسی صورت حال پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ جب عوامی تحفظات بڑھتے ہیں اور ان کے حل کے لیے مؤثر رابطے کا فقدان محسوس ہوتا ہے تو صورتحال پیچیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ایسے حالات میں سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مطالبات کو سنجیدگی سے سنے، متعلقہ حکام تک ان کی ترجمانی کرے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ احتجاج اور اختلاف رائے کسی بھی معاشرے میں سیاسی اظہار کے اہم ذرائع ہیں لیکن ان معاملات کو ایسے طریقے سے آگے بڑھانا ضروری ہے جس سے عام شہریوں کی زندگی، بنیادی سہولتوں اور امن و امان پر منفی اثرات کم سے کم ہوں۔

آزاد کشمیر کے سیاسی رہنماؤں کے راولپنڈی کے اس اجلاس میں پونچھ ڈویژن کے بحران کے پرامن حل پر زور دینا اہم ہے۔ تاہم اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مذاکرات کے لیے طریقہ کار وضع کیا جائے، متعلقہ فریقوں کے تحفظات سنے جائیں اور مسائل کے حل کے لیے قابل عمل تجاویز سامنے لائی جائیں۔سیاسی قیادت اگر مشترکہ طور پر حکومت، عوامی نمائندوں اور احتجاجی حلقوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنے تو اس سے صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے اعتماد سازی، تحمل، باہمی احترام اور مسلسل مذاکرات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اجلاس میں پونچھ ڈویژن میں آمدورفت اور آزادانہ نقل و حرکت یقینی بنانے، اشیائے خورونوش اور ادویات کی ترسیل جاری رکھنے اور انٹرنیٹ کی فوری بحالی کے اقدامات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔آزاد کشمیر کے سینئر سیاستدانوں کے اس اجلاس میں ان معاملات کی نشاندہی ایک اہم پیش رفت ہے لیکن اصل ضرورت یہ ہے کہ ان مطالبات پر عمل درآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے اور عوام کو بتایا جائے کہ مسائل کے حل کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔اجلاس میں پونچھ ڈویژن کے عوام اور رائے دہندگان کو بلا تاخیر انتخابی عمل میں شریک کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔یہاں آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت کے لیے ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا وہ انتخابی عمل کے حوالے سے مشترکہ مطالبات کو ایک متفقہ اور قابل عمل حکمت عملی میں تبدیل کر سکتی ہے؟ اگر ایسا ممکن ہوتا ہے تو یہ اجلاس کے مثبت نتائج میں شمار ہو گا اور پونچھ ڈویژن کی سات نشستوں پر انتخابات کا انعقاد جتنا جلد ہو سکے ممکن بنایا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا مستقبل ؟

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے 13 سالہ حکومتی تسلسل کا خاتمہ ہو گیا۔ پاکستان تحریک انصاف نے ایسے سیاسی فیصلوں کے باعث اپنے آخری مورچے کو بھی وفاق کے حوالے کر دیا ہے۔

کے پی میں آئینی اقدامات، قومی سیاست پر اثرات

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے اثرات قومی سیاست پر نظر آ رہے ہیں۔ حکومت مذکورہ اقدامات کی بنیادی وجہ خیبر پختونخوا کی سابق حکومت کے رویے خصوصاً دہشت گردی کے سدباب میں عدم سنجیدگی کو قرار دیتی ہے۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ سندھ میں بھی…

ملک میں ہر طرف خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا چرچا ہے‘حکومت کی بھی ساری توجہ اسی طرف ہے البتہ ایم کیو ایم کے سینئر رہنما فاروق ستار نے پیپلز پارٹی کو مخاطب کر تے ہوئے کہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ سندھ میں بھی صدرمملکت آصف علی زرداری کے دستخط سے گورنر راج لگ جائے۔

اور گورنر راج لگ گیا!

گورنر راج لگ گیا،خیبر پختونخوا اسمبلی معطل اور پی ٹی آئی کی دو تہائی اکثریت والی حکومت ختم کردی گئی۔ وزیراعلیٰ معزول قرار پائے، اختیارات چھن گئے، پی ٹی آئی کی راجدھانی ختم ہوگئی، پاکستان تحریک انصاف کے روپوش رہنماؤں کا آخری محفوظ ٹھکانہ بھی چھن گیا۔

قومی مفاد مقدم!

بلوچستان سمیت ملک بھر میں پائیدار امن، آئین کی بالادستی، سیاسی استحکام اور عوامی خوشحالی اہم قومی تقاضے ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاستی اقدامات ہوں، خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر سیاسی اختلافات ہوں، بلوچستان کے قدرتی وسائل پر اختیار کی بحث ہو یا نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے منصوبے، ان تمام معاملات کا اصل تعلق عوام کے مستقبل سے ہے۔

خواتین کے لیے لیڈر شپ سکلز

خود اعتمادی سے کامیابی تک