تحفظ حرمین شریفین: مقدس امانت، اجتماعی ذمہ داری

تحریر : مولانا محمد الیاس گھمن


’’بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کیلئے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا ہے اور تمام جہانوں کیلئے ہدایت کا مرکز ہے‘‘(آل عمران:96)

دنیا کے نقشے پر بہت سے شہر اپنی جغرافیائی، سیاسی، معاشی یا تاریخی اہمیت کے باعث نمایاں ہیں، مگر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حیثیت ان سب سے منفرد ہے۔ یہ دو شہر محض کسی ریاست کے دو اہم مراکز نہیں بلکہ کروڑوں مسلمانوں کے ایمان، عبادت، عقیدت اور روحانی وابستگی کا محور ہیں۔ مکہ مکرمہ میں بیت اللہ شریف ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کیلئے برکت اور ہدایت کا مرکز قرار دیا، جبکہ مدینہ منورہ وہ شہر ہے جہاں رسول اللہﷺ نے ہجرت فرمائی، اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی، مسجد نبویؐ قائم ہوئی اور جہاں آپ ﷺ آرام فرما ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حرمین شریفین کا تحفظ ایک ایسا موضوع ہے جسے محض سعودی عرب کے داخلی سلامتی کے مسئلے کے طور پر دیکھنا اس کی حقیقی وسعت کو محدود کردینا ہے۔ انتظامی اور قانونی اعتبار سے حرمین شریفین مملکت سعودی عرب کی حدود میں واقع ہیں اور ان کی حفاظت کی براہ راست ذمہ داری سعودی ریاست پر ہے، لیکن مذہبی اور روحانی اعتبار سے ان کا تعلق پوری امت مسلمہ سے ہے۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں بیٹھا ہوا مسلمان جب نماز کیلئے قبلہ رخ ہوتا ہے تو اس کا تعلق مکہ مکرمہ سے قائم ہوجاتا ہے اور جب درود و سلام کے ساتھ مدینہ منورہ کا تصور کرتا ہے تو اس کے دل کا رشتہ اس مقدس شہر سے جڑ جاتا ہے۔ اس لیے حرمین کی سلامتی کا سوال صرف سرحدوں، فوجی تنصیبات اور ریاستی خودمختاری کا سوال نہیں، یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں مذہب، انسانیت، عالمی مسلم اجتماعیت، علاقائی امن اور بین الاقوامی سلامتی کے کئی پہلو باہم مربوط ہوجاتے ہیں۔

حرمین شریفین: امت کا روحانی مرکز

قرآن کریم نے بیت اللہ کی عظمت کو غیر معمولی انداز میں بیان کیا ہے۔ ’’بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کیلئے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا ہے اور تمام جہانوں کیلئے ہدایت کا مرکز ہے‘‘(سورہ آل عمران )۔یہی وہ مرکز ہے جہاں دنیا کے مختلف براعظموں سے آنے والے مسلما ن ایک لباس، ایک قبلہ اور ایک مقصد کے ساتھ جمع ہوتے ہیں۔قرآن کریم نے مکہ مکرمہ کے امن کو بھی خصوصی اہمیت دی: ’’اور جو اس میں داخل ہوا وہ امن والا ہوگیا‘‘۔حرم کا تصور ہی امن، حرمت اور اطمینان سے وابستہ ہے۔ اس لیے حرمین شریفین کو جنگ، دہشت گردی، تخریب کاری یا کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی کا میدان بننے سے بچانا محض انتظامی ترجیح نہیں بلکہ اس مقدس تصورِ امن کا تقاضا بھی ہے جو اسلام نے حرم کے ساتھ وابستہ کیا ہے۔

حرمین کا تحفظ: صرف دفاعی مسئلہ نہیں

حرمین شریفین کا تحفظ صرف یہ نہیں کہ کسی ممکنہ میزائل یا ڈرون کو فضا میں روک لیا جائے۔ یہ یقیناً سکیورٹی کا اہم حصہ ہے، لیکن مکمل تحفظ اس سے کہیں وسیع تصور ہے۔حرم کا تحفظ زائرین کی جان و مال کی حفاظت، حج اور عمرہ کے پرامن انعقاد، مقدس مقامات کی حرمت، دہشت گردی اور تخریب کاری کے سدباب، ہجوم کے منظم انتظام، طبی اور ہنگامی سہولتوں، محفوظ آمد و رفت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خطرات کی بروقت نشاندہی، غرض ہر اس انتظام کا نام ہے جو حجاج اور معتمرین کو اطمینان کے ساتھ عبادت کا موقع فراہم کرے۔آج کے دور میں اس ذمہ داری کی نوعیت مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔ ماضی کے روایتی خطرات کے ساتھ میزائل، ڈرون، سائبر حملے، غیر ریاستی مسلح گروہ اور دور مار ہتھیار سکیورٹی کے منظرنامے کو تبدیل کرچکے ہیں۔اس لیے تحفظ حرمین کیلئے صرف عسکری قوت کافی نہیں، مضبوط ریاستی ادارے، جدید ٹیکنالوجی، مؤثر شہری انتظام، ہنگامی منصوبہ بندی، سفارت کاری اور علاقائی تعاون بھی ناگزیر ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ نے مختلف ادوار میں سیاسی کشمکش، داخلی اختلافات اور بیرونی خطرات کے اثرات دیکھے ہیں۔ اس تاریخ کا بنیادی سبق یہی ہے کہ مقدس مقامات کی حرمت صرف جذباتی وابستگی سے محفوظ نہیں رہتی۔ اس کیلئے امن و امان، مضبوط انتظام، مؤثر ریاستی ادارے، دفاعی صلاحیت اور دور اندیش سیاسی و سفارتی حکمت عملی ضروری ہوتی ہے۔ آج حالات بدل گئے ہیں، خطرات کی نوعیت بدل گئی ہے، لیکن بنیادی اصول وہی ہے کہ مقدس مقامات کو کسی بھی قسم کے جنگی تصادم اور سیاسی کشمکش کا میدان نہیں بننا چاہیے۔

بدلتی ہوئی جنگ اور نئے خطرات

آج جنگ صرف سرحدوں پر فوجوں کے ٹکرانے کا نام نہیں۔ ایک چھوٹا سا ڈرون سیکڑوں کلومیٹر دور سے پرواز کرکے حساس تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ میزائل چند منٹ میں سرحدیں عبور کرسکتا ہے۔ سائبر حملہ کسی ایسے نظام کو متاثر کرسکتا ہے جس پر لاکھوں انسانوں کی روزمرہ زندگی منحصر ہو۔ایسے ماحول میں حرمین شریفین کی حفاظت کا سوال بھی جدید سکیورٹی تقاضوں کے ساتھ جڑ گیا ہے۔

حرمین کو جنگ کے دائرے 

سے باہر رکھنا ہوگا

دنیا کے ہر ذمہ دار نظام کے سامنے یہ اصول ہونا چاہیے کہ مذہبی مقدسات اور شہری آبادیوں کو مسلح تنازعات کی زد سے محفوظ رکھا جائے۔حرمین شریفین کے معاملے میں یہ ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہاں ہر سال دنیا کے مختلف حصوں سے لاکھوں مسلمان جمع ہوتے ہیں۔ کسی بھی بڑے سکیورٹی بحران کے اثرات صرف مقامی آبادی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مختلف ممالک سے آنے والے زائرین کی زندگیوں کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔اس لیے حرمین کو کسی علاقائی جنگ کی توسیع بننے سے روکنا صرف سعودی عرب کا نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے مفاد کا تقاضا ہے۔یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ حرمین کے تحفظ کا مطلب کسی ملک یا قوم کے خلاف جنگ کی حمایت نہیں۔ اس کا بنیادی مفہوم مقدس مقامات، شہریوں اور زائرین کی حفاظت ہے۔ جہاں دفاع ناگزیر ہو وہاں دفاع اور جہاں سفارت کاری مؤثر ہوسکتی ہو وہاں مذاکرات اور کشیدگی میں کمی، دونوں ایک ذمہ دارانہ پالیسی کا حصہ ہیں۔

مسلم دنیا کا تعلق: جذبات 

سے ذمہ داری تک

حرمین شریفین سے مسلمانوں کا تعلق کسی سیاسی اتحاد یا حکومتی معاہدے کا پیدا کردہ نہیں۔ یہ تعلق ایمان، عبادت اور اسلامی تاریخ سے پیدا ہوا ہے۔پاکستان، بنگلہ دیش، ہندوستان، افغانستان، وسطی ایشیا، ترکی، افریقہ، عرب دنیا، یورپ اور امریکہ، دنیا کے تقریباً ہر خطے کے مسلمان حج اور عمرہ کے ذریعے حرمین سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حرمین کی سلامتی کے معاملے میں مسلم دنیا کا کردار صرف جذباتی اظہار تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں سفارتی تعاون، معلومات کا تبادلہ، دہشت گردی کیخلاف مشترکہ اقدامات، شہری تحفظ کے تجربات کا تبادلہ، جدید دفاعی ٹیکنالوجی میں تعاون اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں شامل ہوسکتی ہیں۔

سعودی عرب کی براہ راست ذمہ داری

حرمین شریفین سعودی عرب کی سرزمین پر واقع ہیں، اس لیے ان کی براہ راست انتظامی، سکیورٹی اور شہری ذمہ داری سعودی ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں افراد کی میزبانی، ان کے سفر، رہائش، صحت، عبادات، آمدورفت اور واپسی کے انتظامات ایک وسیع انتظامی نظام کا تقاضا کرتے ہیں۔سعودی ریاست نے گزشتہ برسوں میں حرمین میں سکیورٹی، ٹرانسپورٹ، طب، ہجوم کے نظم اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے اس نظام کو وسعت دی ہے۔ یہ ذمہ داری سعودی حکومت کیلئے انتظامی فرائض سے بڑھ کر ایک تاریخی امانت کی حیثیت رکھتی ہے۔

سعودی قیادت اور حرمین کی ذمہ داری

حرمین شریفین کے تحفظ کی بحث میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان کی قیادت کا ذکر بھی ناگزیر ہے۔پاکستانی ریاستی قیادت نے حالیہ مواقع پر سعودی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا ہے۔ محمد بن سلمان نے پاکستان کی مسلسل حمایت کو سراہاہے۔یہ رابطہ اس حقیقت کا مظہر ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض معمول کے سفارتی روابط نہیں بلکہ مذہبی، تاریخی، عوامی اور تزویراتی تعلقات کا وسیع مجموعہ ہیں۔

پاکستان کی طرف 

سے واضح حمایت

یہی وہ مقام ہے جہاں حرمین شریفین کے تحفظ کا معاملہ پاکستان کیلئے ایک واضح قومی اور ریاستی احساس میں تبدیل ہو جاتا ہے۔پاکستانی عوام کیلئے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ محض بیرون ملک واقع دو مقدس شہر نہیں، یہ ایمان، عبادت، محبت رسول ﷺ اور امت مسلمہ کے اجتماعی شعور کے مراکز ہیں۔چنانچہ جب ان مقدس مقامات کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو پاکستان کی طرف سے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ایک فطری اور واضح مؤقف کے طور پر سامنے آتا ہے۔پاکستان کی موجودہ قیادت نے اس مؤقف کو مختلف سطحوں پر بیان کیا ہے۔افواج پاکستان کی قیادت کی جانب سے بھی یہ واضح کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے معاملے میں پاکستان کے عزم میں کوئی ابہام نہیں۔ پاکستان حرمین شریفین کی حرمت، سلامتی اور زائرین کے تحفظ کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے اور سعودی عرب کی خودمختاری و سلامتی کے ساتھ یکجہتی کو اپنے دیرینہ برادرانہ تعلق کا حصہ سمجھتا ہے۔

 حرمین کا امن، امت کا اطمینان

حرمین شریفین کا تحفظ ایک مقدس ذمہ داری ہے۔ یہ سعودی عرب کی براہ راست ذمہ داری بھی ہے اور پوری مسلم دنیا کیلئے ایک اہم اجتماعی مسئلہ بھی۔مکہ مکرمہ محفوظ ہوگا تو حج محفوظ ہو گا۔حج محفوظ ہوگا تو دنیا بھر کے مسلمانوں کی ایک عظیم عبادت محفوظ رہے گی۔مدینہ منورہ محفوظ ہوگا تو کروڑوں مسلمانوں کے روحانی اطمینان کا مرکز محفوظ رہے گا۔اگر جزیرہ عرب میں امن اور استحکام برقرار رہتا ہے تو خلیج، بحیرہ احمر اور وسیع تر مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات بھی مضبوط ہوں گے۔اس لیے تحفظ حرمین شریفین کو کسی ایک ریاست کے دفاع تک محدود کرنا اس مسئلے کی وسعت کو کم کرنا ہے۔ یہ مذہبی حرمت، انسانی جان، مسلم دنیا کے اجتماعی احساس، علاقائی استحکام اور عالمی امن کے باہم مربوط سوالات کا مجموعہ ہے۔حرمین شریفین کا تحفظ کسی کے خلاف جنگ کی دعوت نہیں، یہ مقدسات کی حرمت، زائرین کی حفاظت، ریاستی خودمختاری کے احترام اور خطے میں امن کے قیام کا مطالبہ ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

نئے صوبوں کی بحث عالمی سطح پر پہنچ گئی

تیزی سے بڑھتی آبادی کیلئے انتظامی اصلاحات :، ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ میں 16 سے 30 انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز کئی :ممالک اپنی آبادی اور معیشت میں تبدیلیوں کے ساتھ اپنے انتظامی ڈھانچوں کو بارہا تبدیل کر چکے ہیں:ہر صوبے کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، اس طرح پہلی سطح کی انتظامی حکومتوں کی تعداد بڑھ کر 16 ہو جائے گی :ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ موجودہ ڈویژنوں کی بنیاد پر انتظامی ڈھانچے کو آگے بڑھایا جائے اور 30 سے زیادہ انتظامی اکائیاں قائم کی جائیں

تقویٰ انسان کی اصل پہچان

’’ اور تم مان لو بیشک اللہ متقین کے ساتھ ہے‘‘(البقرہ) ’’تم میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ شخص ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگا ر ہو‘‘(سورۃ الحجرات) ’’ اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تمہیں حق اور باطل میں فرق کرنے کی قوت عطا فرما دے گا‘‘(سورۃ الانفال)

اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت!

’’تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو‘‘ ( سورۃ الحجرات) اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف مت کرو کہ تم کمزور ہو جاؤ، اور تمہاری ہوا نکل جائے، اور صبر کرو بیشک! اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے(سورۃ الانفال:46)

مسائل اور ان کا حل

فجر کی اذان کے بعد نوافل پڑھنا سوال: کیا نماز فجرکی جماعت سے پہلے 2سنت کے علاوہ تحیۃ المسجدکے نفل پڑھ سکتے ہیں ؟مسجدمیں ایک شخص نے فجرکی سنت سے پہلے 2رکعت تحیۃ المسجدوتحیۃ الوضوپڑھی تو ساتھ بیٹھے ایک بزرگ نے کہاکہ فجرکی اذان کے بعدنفل نہیں پڑھنے چاہئیں، آپ وضاحت فرما دیں۔ (چودھری محمد اسلم، اوکاڑہ)

لانگ مارچ کیا رنگ لائے گا؟

خیبر پختونخوا میں ایک جانب مسلسل دہشت گردی‘ امن و امان کے مسائل اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے تو دوسری جانب صوبے کی حکمران جماعت کی جانب سے لانگ مارچ نے وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔

حکومت اپوزیشن مذاکرات اور بلدیاتی انتخابات

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر غیر مشروط طور پر پی ٹی آئی اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی مسائل سیاسی بنیادوں پر حل کرنا چاہتے ہیں اور وہ مل بیٹھ کر ہی ہو سکتے ہیں۔