ن م راشد لفظوں کے مجسمہ ساز!

تحریر : مغنی تبم


51 ویں برسی:مغرب کے جدید شعراء سے متاثرہونے کے باوجود فارسی اور اردو شاعری کی روایتوں پہ کاربند رہے: راشد کا انتقال 9اکتوبر 1975 کو لندن میں ہوا تھا، ان کی آخری رسوم کے وقت دوافراد موجود تھے،راشد کی انگریز بیگم شیلا اور ساقی فاروقی جبکہ کچھ لوگ عبداللہ حسین کا ذکر بھی کرتے ہیں

ن م راشد یکم اگست1910 ء کواکال گڑھ (علی پور چٹھہ) میں پیدا ہوئے۔ اسی قصبے کے گورنمنٹ ہائی سکول سے 1926ء میں میٹریکولیشن کا امتحان پاس کیا۔شعر کہنے کا شوق اسی ابتدائی طالب علمی کے زمانے میں پیدا ہوا۔ پہلی نظم ’’انسپکٹر اور مکھیاں‘‘تھی جو سات آٹھ برس کی عمر میں لکھی۔ یہ ایک انسپکٹر پر طنز تھی جو سکول کا معائنہ کرنے آیا تھا اور جس کے سر پر متواتر مکھیوں کا ایک بڑا سا جھنڈ گھوم رہا تھا۔ انہوں نے اپنا تخلص گلاب رکھا تھا۔بچپن میں اس سے بہتر تخلص اور کیا ہوگا۔ اس نظم پر ان کے والد نے ایک روپیہ انعام دیا تھا۔ دادا ڈاکٹر غلام رسول اُردو، فارسی کے شاعر تھے۔یہ نظم والد نے انہیں بھجوائی اور کہا کہ آپ کا پوتا آپ کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کر رہاہے۔ دادا نے اس پر ایک شعر لکھ کر بھیجا:

میرے میاں گلاب دہن میں گلاب ہو 

خوشبو سے تیری با با ترافیض یاب ہو

اور ساتھ ہی نصیحت کی کہ شاعر بننے کی کوشش نہ کرنا کسی کام کے نہ رہوگے اور ہمیشہ شعر گوئی سے باز رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس نصیحت کے باوجو د راشد نے شعرگوئی ترک نہیں کی۔ اس پہلی نظم کے بعد انہوں نے کچھ حمدیں، نعتیں اور غزلیں کہیں۔ ان میں سے کچھ گم نام رسالوں میں چھپتی رہیں۔ اس وقت قلمی نام متعین نہیں ہوا تھا۔ ان رسالوں میں اکثر پورا نام چھپتا رہا۔ نذر محمد خضر عمر تاریخی نام اور بعض دفعہ اس کے ساتھ راجپوت جنجوعہ کا اضافہ بھی ہوتا تھا۔ کچھ عرصے تک راشد وحیدی کے نام سے بھی مضامین اور نظمیں لکھیں۔ ایک آدھ غزل خاطف علی پوری کے نام سے بھی شائع ہوئی۔ دادا شاعر ہونے کے علاوہ عربی کے عالم تھے اور پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ۔جب دہ وظیفے پر سبکدوش ہو کر گھر واپس آئے تو ان سے فیض پانے کا موقع نصیب ہوا۔ راشد کے والد را جہ فضل الٰہی چشتی کو فارسی شاعری سے عشق تھا۔ حافظ اور سعدی اور غالب اور اقبال کی شاعری سے انہی کی بدولت آشنائی حاصل کی۔ سکول کے زمانے میں بعض انگریزی شاعروں کی نظموں کے ترجمے کبھی کیے۔ ملٹن کے سانیٹ’’ نابینا ہونے پر ‘‘اور ورڈزورتھ اور لانگ  فیلو کی بعض نظموں کے ترجمے سکول کی ادبی محفلوں میں پڑھے گئے اور انعام کے قابل قرار پائے۔

1926ء میں راشد نے اعلیٰ تعلیم کیلئے گورنمنٹ کالج لائلپور میں داخلہ لیا۔ مضمون تھے انگریزی ،تاریخ، فلسفہ، فارسی اور اردو۔ کالج کے رسالے کے ایڈیٹر بنائے گئے۔ اس زمانے میں انہوں نے انگریزی میں کئی مضمون لکھے۔ اس کا لج سے 1928ء میں انٹر میڈیٹ پاس کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ اس کا لج کے مشاعروں میں حصہ لیتے رہے۔کالج کے رسالے ’’راوی‘‘ کے اردو حصے کے ایڈیٹر رہے اور اس میں ان کی کئی نظمیں اور مزاحیہ مضامین شائع ہوئے۔ ایک نظم میں پر کالجوں کے باہمی مشاعرے میں انعام ملا۔ نظم تھی ’’تو میرے دل کو عطا کر سکوں خدا کے لیے‘‘ تھی۔ یہ کسی مجموعہ میں شامل نہیں کی گئی لیکن کالج کے رسالے کے علاوہ’’ نگار‘‘ میں چھپی تھی۔ ایک اور نظم ’’ راوی کے کنا رے‘‘ بھی نگار میں شامل ہوئی۔ اسی زمانے میں کئی ایک سانیٹ لکھے جن میں سے بعض ’’ماورا‘‘ میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کئی نظمیں اختر شیرانی کے رسالے میں چھپیں۔ بعض نظمیں ہمایوں اور بعض دوسرے رسالوں میں چھپتی رہیں۔ کالج میں وہ بزم سخن کے سیکرٹری تھے۔ انہیں تقریری مقابلوں میں شریک ہونے کا بھی شوق رہا۔ کالج میں مضمون انگریزی، اقتصادیات اور فارسی تھے۔ انگریزی میں آنرز کے کورس میں شامل رہے لیکن آخر یونیورسٹی کی خاص اجازت سے فارسی میں آنرز کا امتحان دیا اور یونیورسٹی میں دوم رہے اور ایک نقرئی تمغہ انعام میں ملا۔1930 ء میں بی اے پاس کر کے اقتصادیات کے ایم اے میں داخل ہو گئے۔ اسی زمانے میں آئی سی ایس اور پی سی ایس کے امتحانوں میں شرکت کی اور فیل ہوئے۔ فرانسیسی زبان کی شبانہ کلاسوں میں شریک ہو کر انٹر میڈیٹ کے مماثل امتحان پاس کیا اور بیکاری سے تنگ آکر منشی فاضل کا امتحان بھی پاس کر ڈالا۔ آئی سی ایس کے امتحان میں اردو ہی کے پرچے میں سب سے کم نمبرلیے۔ 1932 ء میں ایم اے کرنے کے بعد وہ اپنے والد کے ساتھ مختلف مقامات پر رہے۔

خاصاوقت شیخوپورہ اور ملتان میں گزارا۔ ملتان میں دوسال کے لگ بھگ ایک نیم ادبی نیم تعلیمی اورنیم دیہاتی رسالے ’’نخلستان‘‘ کی بلا معاوضہ ادارت کی۔ دسمبر 1934ء میں مولانا تاجور نجیب آبادی کے اصرار پر ان کے رسالے ’’ شہکار‘‘ کی ادارت قبول کی لیکن 1935 ء میں علیحدگی اختیار کر لی۔ پھر ملتان میں کمشنر کے دفتر میں کلرک ہوگئے۔ اُس زمانے میں راشد نے کئی اچھی نظمیں کہیں۔ انہوں نے اپنی پہلی آزاد نظم ’’جرأتِ پرواز‘‘ غالبا 1933ء میں لکھی جو ماورا میں شامل ہے۔ اگرچہ اس سے پہلے کی نظموں میں بھی آزاد نظم کی بے ترتیبی کے آثار موجود ہیں۔ جس نظم نے بعض نقادوں اور قاریوں کو سب زیادہ چونکا یا تھا وہ ’’اتفاقات‘‘تھی جو 1935ء میں ادبی دنیا لاہور کے سالنامے میں شائع ہوئی تھی۔ دسمبر 1935ء میں ن م راشد کی شادی ہوئی۔بیوی ماموں زاد تھیں۔ ان سے پانچ بچے ہوئے: نسرین ، یاسمین،شاہین، شہریار اور تمزین۔

جس زمانے میں راشد ملتان میں کلرک تھے خاکسار تحریک سے دلچسپی لی۔ اس تحریک میں شامل ہو کر پریڈیں کیں اور ضلع سالاری کے فرائض انجام دئیے۔ انہیں اس تحریک کا نظم وضبط پسند تھا جس کے وہ ہمیشہ سے عادی رہے لیکن اس کی آمریت ان کے لیے قابل قبول نہیں تھی ؛چنا نچہ ایک سال بعد اس تحریک سے لا تعلق ہو گئے۔ اسی زمانے میں الگزانڈر کو پرین کے روسی ناول ’’مایا‘‘ کا اردومیں ترجمہ کیاتا کہ کلرکی کی غریبی کا اثرکسی قدرکم ہو۔لیکن بد معاملہ پبلشر نے صرف معاوضہ ادا نہیں کیا بلکہ مترجم کے نام کے بغیر یہ ناول شائع کر دیا۔اگرچہ اشتہاروں میں مترجم کی حیثیت سے راشد کانام با قاعدہ آتا رہا۔ مئی 1939ء میں نیوز ایڈیٹر کی حیثیت سے آل انڈیاریڈیومیں ان کا تقرر ہوا پھر اسی سال پروگرام اسسٹنٹ بنا دئیے گئے۔ 1943ء سے 1947ء تک انٹر سروسز پبلک ریلیشنز ڈائریکٹریٹ انڈیا کے تحت بحیثیت پبلک ریلیشنز آفیسر خدمات انجام دیں۔ چھ ماہ عراق میں، ڈیڑھ برس ایران میں، کچھ ماہ مصرمیں اور چھ مہینے سیلون میں گزارے۔مئی 1947ء میں فوج سے رخصت ہو کر آل انڈیا ریڈیو  میں واپس آگئے اور لکھنو سٹیشن پراسسٹنٹ ریجنل ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔تقسیم کے بعد ریڈیو پاکستان کے پشاور سٹیشن پر اسی حیثیت سے منتقل ہو گئے۔ ایک سال پشاور میں اور ایک سال چھ ماہ کے قریب لا ہور سٹیشن پر گزار ے۔ 1949ء میں ریڈیوپاکستان کے ہیڈ کوارٹرز کراچی میں ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز رہے۔ 1950ء سے 1951ء تک پشاور سٹیشن پر ریجنل ڈائریکٹر کے طور پر رہے۔ اکتوبر 1952ء میں اقوام متحدہ میں شامل ہوئے۔ اس دوران چہار سال نیویارک میں، ڈیڑھ سال جکارتہ میں ، ساڑھے تین سال کراچی میں پھر چھ سال نیویارک میں گزارے۔1967ء سے 1973ء تک تہران  میں اقوام متحدہ کے مرکز اطلاعات کے ڈائر یکٹر رہے۔

 جن لوگوں کی رفاقت نے زندگی اور شاعری اور بعض عادات پر خاصا اثر ڈالا ان میں آغا عبدالحمید، چراغ حسن حسرت، محمد وحید کیلانی جو ’قوس قزح‘ کے ایڈیٹر تھے اور جنہوں نے راشد تخلص دیا تھا، اختر شیرانی، پروفیسر احمد شاہ بخاری، ڈاکٹر محمد دین تاثیراور غلام عباس قابل ذکر ہیں۔ جن ادیبوں اور شاعروں کے مطالعے نے روشنی بخشی ان میں آلڈس ہکسلے، آسکر وائلڈ، ڈی ایچ لارنس ، ای ایم ، فاسٹر جیمز جائس، ٹالسٹائی، دوستوفسکی، ملا رمے، ازرا پاونڈ، ٹی ایس ایلیٹ، رومی ، حافظ اور سعدی کا نام لیا جا سکتا ہے۔

 ن م راشد کے کلام کے چار مجموعے ماورا (1942ء) ایران میں اجنبی (1955ء) لا انسان (1969ء) اور گماں کا ممکن 1977ء شائع ہوئے۔ انہوں نے چند کتابوں کے ترجمے بھی کیے جن میں الگزانڈر کو پرین کا ناول مایا (1939ء) ولیم سرویان کا ناول ’’ماما آئی لو یو‘‘ (1956ء)اور لورین آئزلے کی کتاب ’’وقت کا آسمان‘‘ کے ترجے چھپ چکے ہیں۔ ایران کے دوران قیام میں راشد نے جدید فارسی شاعروں کے کلام کاتفصیل سے مطالعہ کیا۔ ان میں سے بائیس شاعروں کی 80 نظموں کو اردو میں نقل کیا اور ایک طویل دیباچے کے ساتھ ’’جدید فارسی شاعر‘‘ کے نام سے کتاب مرتب کی۔ راشد کو شاعری کے ساتھ تنقید نگاری سے بھی دلچسپی رہی۔ متعد د تنقیدی مضامین رسائل میں شائع ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کتاب کی صورت میں جمع نہیں کیسے جا سکے۔

حسن کوزہ گر

جہاں زاد نیچے گلی میں ترے در کے آگے

یہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں!

تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطار یوسف

کی دکان پر میں نے دیکھا

تو تیری نگاہوں میں وہ تابناکی تھی میں 

جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں

جہاں زاد نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں!

یہ وہ دور تھا جس میں میں نے

کبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانب

پلٹ کر نہ دیکھا

وہ کوزے مرے دست چابک کے پتلے

گل و رنگ و روغن کی مخلوق بے جاں

وہ سر گوشیوں میں یہ کہتے

حسن کوزہ گر اب کہاں ہے؟

وہ ہم سے خود اپنے عمل سے

خدا وند بن کر خداؤں کے مانند ہے روئے گرداں!

جہاں زاد نو سال کا دور یوں مجھ پہ گزرا

کہ جیسے کسی شہر مدفون پر وقت گزرے

تغاروں میں مٹی

کبھی جس کی خوشبو سے وارفتہ ہوتا تھا میں

سنگ بستہ پڑی تھی

صراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداں

مری ہیچ مایہ معیشت کے اظہار فن کے سہارے

شکستہ پڑے تھے

میں خود میں حسن کوزہ گر پا بہ گل خاک بر سر برہنہ

سر چاک ژولیدہ مو سر بہ زانو

کسی غمزدہ دیوتا کی طرح واہمہ کے

گل و لا سے خوابوں کے سیال کوزے بناتا رہا تھا

جہاں زاد نو سال پہلے

تو ناداں تھی لیکن تجھے یہ خبر تھی

کہ میں نے حسن کوزہ گر نے

تری قاف کی سی افق تاب آنکھوں

میں دیکھی ہے وہ تابناکی

کہ جس سے مرے جسم و جاں ابر و مہتاب کا

رہگزر بن گئے تھے

جہاں زاد بغداد کی خواب گوں رات

وہ رود دجلہ کا ساحل

وہ کشتی وہ ملاح کی بند آنکھیں

کسی خستہ جاں رنج بر کوزہ گر کے لیے

ایک ہی رات وہ کہربا تھی

کہ جس سے ابھی تک ہے پیوست اس کا وجود

اس کی جاں اس کا پیکر

مگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلا

حسن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ہے!

جہاں زاد اس دور میں روز ہر روز

وہ سوختہ بخت آ کر

مجھے دیکھتی چاک پر پا بہ گل سر بہ زانو

تو شانوں سے مجھ کو ہلاتی

(وہی چاک جو سال ہا سال 

جینے کا تنہا سہارا رہا تھا!)

زندگی سے ڈرتے ہو؟

زندگی سے ڈرتے ہو؟

زندگی تو تم بھی ہو زندگی تو ہم بھی ہیں

زندگی سے ڈرتے ہو؟

آدمی سے ڈرتے ہو؟

آدمی تو تم بھی ہو آدمی تو ہم بھی ہیں

آدمی زباں بھی ہے آدمی بیاں بھی ہے

اس سے تم نہیں ڈرتے

حرف اور معنی کے 

رشتہ ہائے آہن سے آدمی ہے وابستہ

آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ

اس سے تم نہیں ڈرتے

ان کہی سے ڈرتے ہو

جو ابھی نہیں آئی اس گھڑی سے ڈرتے ہو

اس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو

(کچھ حصہ)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

لانگ مارچ کیا رنگ لائے گا؟

خیبر پختونخوا میں ایک جانب مسلسل دہشت گردی‘ امن و امان کے مسائل اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے تو دوسری جانب صوبے کی حکمران جماعت کی جانب سے لانگ مارچ نے وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔

حکومت اپوزیشن مذاکرات اور بلدیاتی انتخابات

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر غیر مشروط طور پر پی ٹی آئی اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی مسائل سیاسی بنیادوں پر حل کرنا چاہتے ہیں اور وہ مل بیٹھ کر ہی ہو سکتے ہیں۔

ایم ڈی کیٹ کے نتائج پر تنازع

نئے صوبوں کے معاملے پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اس کی منطق سمجھ میں نہیں آتی، اگر اسلام آباد ناکام ہوچکا ہے تو اسے تھر واسیوں کے حوالے کردیا جائے۔

خیبرپختونخوا میں کیا ہونے والا ہے؟

خیبر پختونخوا کا سیاسی درجہ حرارت گزشتہ ہفتے سے مسلسل بلند ہے۔ چار اکتوبر کو لکی مروت سے شروع ہونے والا لانگ مارچ جنوبی علاقوں سے ہوتا ہوا شمال کی طرف بڑھ رہا ہے۔کرک اورکوہاٹ سے گزر کر آج یہ خیبرکے راستے پشاورپہنچے گا۔

بلوچستان، چیلنجز اور مواقع

صوبائی حکومت کی جانب سے گزشتہ ڈھائی برس کے دوران مختلف شعبوں میں اصلاحات، صحت کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، پولیسنگ کو جدید خطوط پر استوار کرنے، نوجوانوں کی تربیت، تعلیمی اداروں کے معیار میں بہتری اور سرکاری وسائل کو عوامی فلاح کے اقدامات واضح کرتے ہیں کہ بلوچستان میں حکمرانی کے انداز کو بتدریج جدید نظام سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش جاری ہے۔

نئی حکومت، نئی کشمیر کونسل

آزاد جموں و کشمیر میں نئی حکومت کے قیام، صدر کے انتخاب اور اسمبلی کی نئی سیاسی صف بندی کے بعد کشمیر کونسل کے نئے اراکین کا انتخاب بھی ہو گیا ہے۔