قطرہ قطرہ زندگی
نوشین اور اس کا چھوٹا بھائی ارتضیٰ دونوں صحن میں لگے نل کے پاس کھڑے تھے۔ ارتضیٰ دانت برش کر رہا تھا اور نلکا پوری طرح کھلا ہوا تھا۔ پانی تیزی سے بہہ کر نالی میں ضائع ہو رہا تھا۔
’’ارتضیٰ! نلکا تو بند کرو، جب تک تم برش کر رہے ہو اتنے پانی کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ نوشین نے فکر مندی سے کہا۔
ارتضیٰ نے منہ میں جھاگ بھرے ہوئے لاپروائی سے جواب دیا، ’’ارے باجی! کیا ہو گیا ہے؟ پانی ہی تو ہے، کون سا ختم ہو رہا ہے‘‘۔
نوشین نے ٹھنڈی آہ بھری اور نلکا بند کر دیا۔ اسی وقت دادا جان وہاں سے گزرے۔ انہوں نے دونوں بچوں کی بات سن لی تھی۔ انہوں نے مسکرا کر کہا، ’’بچو! ذرا ادھر میرے پاس آ کر بیٹھو، آج میں تمہیں بہت اہم کہانی سناتا ہوں‘‘۔ دونوں بچے دادا جان کے گرد چارپائی پر بیٹھ گئے۔
دادا جان نے پیار سے دونوں کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بولے: بچو! قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ہم نے پانی سے ہی ہر چیز کو زندگی بخشی ہے یعنی اس کرہ ارض پر ہر آن زندگی کی لازمی ضرورت پانی ہے۔ اگر پانی نہ ہو تو کوئی انسان، جانور یا پودا زندہ نہیں رہ سکتا۔ کائنات کا سارا نظام بارش کا مرہونِ منت ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک ہمارے ملک میں کثرت سے بارشیں ہوتی تھیں، مگر اب موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ سلسلہ کم ہو گیا ہے۔ اگرچہ کبھی کبھار بارش سے سیلاب بھی آ جاتا ہے لیکن مجموعی طور پر ہمارا ملک پانی کی کمی کا شکار ہے‘‘۔
ارتضیٰ نے حیرت سے پوچھا: ’’دادا جان! لیکن ہمارے گھر میں تو بجلی کا بٹن دباؤ تو موٹر چل جاتی ہے، پھر کمی کیسے؟‘‘
دادا جان نے سمجھاتے ہوئے کہا: ’’بیٹا! جب ڈیموں میں پانی کم ہوتا ہے تو پورے ملک میں بجلی کی سپلائی کم ہو جاتی ہے اور گھنٹوں لوڈشیڈنگ کرنی پڑتی ہے۔ ہمارے اپنے شہر کا حال دیکھو، نلکوں میں صاف کے بجائے آلودہ پانی سپلائی ہو رہا ہے جس سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ ہر ہفتے نلکوں کے کھلے رہنے کی وجہ سے ہزاروں گیلن پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ تمہیں معلوم ہے؟ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر ہم نے پانی کی قدر نہ کی تو دنیا کی آئندہ جنگیں پانی پر لڑی جائیں گی‘‘۔
یہ سن کر ارتضیٰ اور نوشین کے چہرے پر تشویش کے آثار نمودار ہوئے۔ ارتضیٰ کو اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا۔دادا جان نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’’وطن عزیز پاکستان اس وقت کتنے ہی مسائل کا شکار ہے، لیکن ہم میں سے بہت سے لوگوں کو احساس تک نہیں ہے۔ یہ وطن ہم سب کا گھر ہے۔ اس سے پیار کرنے کا مطلب نعرے لگانا نہیں بلکہ اس کے مسائل کو اپنا ذاتی مسئلہ سمجھنا ہے۔ اگر ہم نلکا کھلا چھوڑ دیں گے تو یہ وطن کے ساتھ بے وفائی ہوگی۔ ہمیں اپنے اور اپنے سے چھوٹے بچوں کے رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی تاکہ پاکستان کو اقوامِ عالم میں اعلیٰ اور منفرد مقام دلایا جا سکے‘‘۔
ارتضیٰ نے شرمندگی سے سر جھکا لیا اور بولا: ’’دادا جان! مجھے معاف کر دیں، مجھے اندازہ نہیں تھا کہ پانی کا ایک ایک قطرہ اتنا قیمتی ہے‘‘۔نوشین نے ارتضیٰ کا ہاتھ تھاما اور کہا ’’دادا جان! آج سے ہم دونوں عزم کرتے ہیں کہ پھر ایسا نہیں ہوگا‘‘۔
اسی وقت دونوں بچوں نے دادا جان کے سامنے کھڑے ہو کر عہد کیا: ’’آج سے ہم پانی جیسی عظیم نعمت خداوندی کو ذرہ بھر بھی ضائع نہیں کریں گے۔ اسے صرف ضرورت کے مطابق خرچ کریں گے اور ہمیشہ یہ جذبۂ شکر دل میں رکھیں گے کہ: یا اللہ! تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تو نے ہمیں پانی جیسی نعمت عطا کی‘‘۔
دادا جان نے بچوں کو گلے سے لگا لیا اور ان کیلئے دعائیں کیں۔ اس کے بعد ارتضیٰ نے نہ صرف خود نلکا ضرورت کے وقت کھولنا شروع کیا،بلکہ اپنے دوستوں کو بھی پانی بچانے کی ہدایت دینے لگا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments