بدلتی دنیا، مستقبل کے تقاضے بچوں کی تربیت کیسے کریں؟

تحریر : سلمیٰ ظفر


دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تعلیم اور روزگار کے بدلتے ہوئے تقاضوں نے زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں بچوں کی تربیت کا مقصد صرف انہیں اچھے نمبر دلوانا یا کسی اچھی ملازمت کے قابل بنانا نہیں، بلکہ انہیں ایسا باشعور، خوداعتماد، تخلیقی اور ذمہ دار انسان بنانا ہے جو مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔

 اس اہم ذمہ داری میں خواتین خصوصاً ماؤں کا کردار نمایاں ہے تاہم بچوں کی تربیت صرف ماں کی ذمہ داری نہیں والد، اساتذہ اور خاندان کے دیگر افراد بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خواتین اپنی روزمرہ زندگی میں چند مثبت تبدیلیاں لا کر بچوں کی شخصیت اور مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

  سوچنے اور سوال کرنے کی صلاحیت

بچوں کو مستقبل کیلئے تیار کرنے کا پہلا قدم انہیں محض معلومات یاد کروانے کے بجائے سوچنے، سمجھنے اور سوال کرنے کی عادت ڈالنا ہے۔ بدلتی ہوئی دنیا میں معلومات تک رسائی آسان ہوتی جا رہی ہے لیکن درست معلومات کی پہچان، ان کا تجزیہ اور مناسب فیصلہ کرنا اہم صلاحیت بن چکا ہے۔مائیں بچوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ اردگرد ہونے والے واقعات کے بارے میں سوالات پوچھیں۔ اگر بچہ کسی بات کی وجہ جاننا چاہے تو اسے فوراً خاموش کرانے کے بجائے اس کے سوال کا جواب دینے کی کوشش کریں۔ اگر جواب معلوم نہ ہو تو اس کے ساتھ مل کر کتاب یا کسی قابلِ اعتماد ذریعے سے معلومات تلاش کریں۔گھر میں مطالعے کا ماحول پیدا کریں۔ بچوں کو کہانیاں، سائنسی مضامین اور معلوماتی کتابیں پڑھنے کی ترغیب دیں۔ اس طرح ان کے ذخیرہ الفاظ، تخیل اور سمجھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ انہیں یہ احساس بھی دلائیں کہ تعلیم صرف امتحان پاس کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ زندگی بھر جاری رہنے والا عمل ہے۔

 ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت 

مستقبل کی دنیا میں ٹیکنالوجی سے واقفیت ایک اہم ضرورت ہوگی۔ کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت نے سیکھنے اور کام کرنے کے نئے راستے کھول دیے ہیں۔ اس لیے بچوں کو ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر دور رکھنے کے بجائے اس کا محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال سکھانا زیادہ مفید ہے۔ بچوں کو عمر کے مطابق تعلیمی ایپس، معلوماتی ویڈیوز، بنیادی کوڈنگ اور ڈیجیٹل تخلیق کے مواقع فراہم کر یں ۔ بچوں کو یہ بھی سمجھائیں کہ انٹرنیٹ پر موجود ہر بات درست نہیں ہوتی۔ انہیں جعلی خبروں، آن لائن دھوکے، نامناسب مواد اور ذاتی معلومات کے غلط استعمال سے آگاہ کریں۔ مصنوعی ذہانت سے مدد لینا مفید ہے لیکن اس کے جوابات کی تصدیق کرنا اور اپنی سمجھ بوجھ استعمال کرنا بھی ضروری ہے۔

  جذباتی ذہانت اور تخلیقی صلاحیتیں 

بہتر مستقبل کے لیے صرف ذہانت کافی نہیں، خوداعتمادی، برداشت، ہمدردی اور مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔ جو بچہ ناکامی کے بعد دوبارہ کوشش کرنا سیکھ لیتا ہے وہ زندگی کے بدلتے حالات میں زیادہ بہتر انداز سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ماؤں کو چاہیے کہ بچوں کا دوسرے بچوں سے مسلسل موازنہ کرنے سے گریز کریں۔ ہر بچے کی صلاحیتیں، دلچسپیاں اور سیکھنے کی رفتار مختلف ہوتی ہے۔ ان دلچسپیوں کو پہچاننا اور مناسب مواقع فراہم کرنا والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔بچوں کو چھوٹے فیصلے خود کرنے دیں۔ ان کی کوشش کی تعریف کریں خواہ نتیجہ توقع کے مطابق نہ ہو۔ انہیں اپنے جذبات کا اظہار کرنا، دوسروں کی بات سننا، اختلافِ رائے کا احترام کرنا اور غصے پر قابو پانا بھی سکھائیں۔ یہ خوبیاں انہیں نہ صرف کامیاب بلکہ بہتر انسان بننے میں مدد دیں گی۔

 مالی شعور اور اخلاقی تربیت 

مستقبل کے لیے تیار بچے وہ ہیں جو کتابی علم کے ساتھ عملی زندگی کے تقاضوں کو بھی سمجھتے ہوں۔ گھر میں چھوٹے چھوٹے کاموں میں بچوں کو شامل کرنا، وقت کی پابندی سکھانا اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی عادت ڈالنا ان کی خودانحصاری میں اضافہ کرتا ہے۔اسی طرح مالی شعور کی تربیت بھی کم عمری سے شروع کی جا سکتی ہے۔ بچوں کو پیسے کی قدر، بچت، ضروریات اور خواہشات کے فرق اور سوچ سمجھ کر خرچ کرنے کے بارے میں بتائیں۔ عمر کے مطابق جیب خرچ دے کر انہیں بجٹ بنانے کی مشق کروائی جا سکتی ہے۔ بڑے بچوں کو آن لائن ادائیگیوں اور ڈیجیٹل فراڈ سے بچاؤ کے بنیادی اصول بھی سمجھائیں۔اس کے ساتھ سچ بولنا، دوسروں کی مدد کرنا، ذمہ داری قبول کرنا اور ماحول کا خیال رکھنا ایسی خوبیاں ہیں جو ہر دور میں اہم رہیں گی۔ بچوں کو صرف نصیحت کرنے کے بجائے اپنے عمل سے مثال پیش کریں کیونکہ بچے اکثر وہی سیکھتے ہیں جو اپنے بڑوں کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ بچوں کے روشن مستقبل کی بنیاد مہنگے سکولوں، جدید آلات یا بہت زیادہ وسائل پر منحصر نہیں۔ محبت بھرا ماحول، معیاری وقت، مناسب رہنمائی اور سیکھنے کے مواقع محدود وسائل میں بھی فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ والدین بچوں کو یہ اعتماد دیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر مسلسل محنت اور سیکھنے کے ذریعے آگے بڑھ سکتے ہیں۔بچوں کو مستقبل کی دنیا کے لیے تیار کرنا ایک مسلسل عمل ہے اور خواتین خصوصاً مائیں اس میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں لیکن اس کے لیے پورے خاندان اور تعلیمی اداروں کا تعاون بھی ضروری ہے۔ بچوں کو مستقبل کے لیے تیار کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے لیے زندگی کے ہر فیصلے کا انتخاب والدین کریں بلکہ انہیں اس قابل بنانا ہے کہ وہ خود بہتر فیصلے کر سکیں، نئی صورتحال سے سیکھیں اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

کھلے مسام ،جلد کا عام مسئلہ

خوبصورت، صاف اور ہموار جلد ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے ۔ چہرے پر نمایاں مسام جلد کی خوبصورتی کو متاثر کرتے ہیں۔

آج کا پکوان: چکن شاشلیک اور ویجیٹیبل رائس

اجزا: چکن بون لیس آدھا کلو، ، شملہ مرچ2 عدد، ، پیاز1 درمیانی، ٹماٹر1 درمیانہ،، دہی آدھا کپ، ادرک لہسن کا پیسٹ 1 چائے کا چمچ، لال مرچ پاؤڈر 1 چائے کا چمچ،پسی ہوئی کالی مرچ آدھا چائے کا چمچ،

کرنل محمد خان کی مزاح نگاری

27 ویں برسی:ان کی پہلی کتاب’’بجنگ آمد‘‘ کی اشاعت اُردو ادب کا اہم واقعہ شمار ہوتا ہے:کرنل محمد خان کو ظرافت تک پہنچنے کیلئے کسی تمہید کا پل نہیں باندھنا پڑتا‘ واقعات کی گردن میں لطافت کی بجتی ہوئی گھنٹیاں بھی وہ آویزاں نہیں کرتے‘ اُن کا لطیف اور لچکیلا مزاح اُن کے اسلوبِ تحریر کا جزو ہے ، ان کے نقطہ نظر کی پیداوار ہے

اُردوکا آغاز:کب ، کہاں اور کیسے ہوا؟

ارود زبان کی پیدائش کب، کہاں اور کیسے ہوئی اس سلسلے میں لسانیات کے عالم اور ماہرین کے درمیان کافی اختلافات پائے جاتے ہیں۔

گرین شرٹس:نیا کپتان ،اگلا امتحان

سہ ملکی ون ڈے انٹرنیشنل سیریز:پاکستان ،سری لنکا اور انگلینڈ سہ ملکی سیریز کا باقاعدہ آغاز آج سے راولپنڈی میں ہوگا:افتتاحی مقابلے میں میزبان پاکستان اور سری لنکا کی ٹیمیں مدمقابل ہوں گی،فائنل سمیت 4میچ قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلے جائیں گے

کتاب دوستی

آئینہ جماعت ہفتم کی ہونہار طالبہ تھی۔ ہر کام کو ہوشیاری سے کرنا اس کی زندگی کا خاصا تھا۔ وہ اپنی ٹیچرز کا بے حد احترام کرتی تھی لیکن اس میں ایک برائی تھی کہ وہ موبائل بہت زیادہ استعمال کرتی تھی۔