عمرہ کی فضیلت روحانی برکات

تحریر : مولانا محمد الیاس گھمن


’’اور اللہ کیلئے حج اور عمرہ پورا کرو‘‘ (سورۃ البقرہ:196) عمرہ صرف سفر نہیں، توبہ، عبادت اور اصلاحِ زندگی کا ایک عظیم موقع ہے ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے، اور حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں(صحیح بخاری)

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت اور بندگی کیلئے پیدا فرمایا ہے۔ عبادت کی مختلف صورتیں ہیں اور ہر عبادت کا اپنا مقام و مرتبہ ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کی طرح عمرہ بھی اللہ تعالیٰ کی عظیم عبادات میں سے ہے۔ عمرہ دراصل بندے کیلئے اللہ تعالیٰ کے مقدس گھر کی حاضری، عاجزی و بندگی کے اظہار اور اپنے گناہوں سے توبہ و رجوع کا ایک عظیم موقع ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے گھر کی زیارت اور حرمین شریفین میں عبادت کی توفیق عطا فرماتا ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور اللہ کیلئے حج اور عمرہ پورا کرو‘‘ (سورۃ البقرہ: 196)۔ اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عمرہ بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے اور اسے اخلاص کے ساتھ اللہ ہی کیلئے ادا کرنا چاہیے۔ عمرہ محض ایک سفر یا مقدس مقامات کی سیر کا نام نہیں بلکہ یہ ایسا سفر ہے جس میں انسان دنیاوی مشاغل سے الگ ہو کر اللہ تعالیٰ کے گھر کا رخ کرتا ہے، احرام باندھتا ہے، تلبیہ پڑھتا ہے، طواف کرتا ہے، صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی عاجزی و محتاجی کا اظہار کرتا ہے۔

عمرہ کی فضیلت

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے، اور حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں‘‘(صحیح بخاری : 1773)۔ انسان سے زندگی میں بے شمار لغزشیں اور کوتاہیاں ہوتی رہتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ایسے مواقع عطا فرمائے ہیں جن کے ذریعے بندہ اپنے گناہوں کی معافی حاصل کرتا ہے۔ عمرہ بھی انہی عظیم مواقع میں سے ایک ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’حج اور عمرہ کو یکے بعد دیگرے ادا کرتے رہو، کیونکہ یہ دونوں محتاجی اور گناہوں کو اس طرح دور کرتے ہیں جیسے بھٹی لوہے کے میل کو دور کر دیتی ہے‘‘ (جامع ترمذی: 810)۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان صرف ظاہری طور پر عمرہ ادا کر لے اور اپنی زندگی کے معمولات میں گناہوں پر قائم رہے۔ عمرہ کا اصل فائدہ اسی وقت نمایاں ہوتا ہے جب بندہ وہاں سے واپسی کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت، توبہ، تقویٰ اور نیک اعمال کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔

بیت اللہ کی حاضری کی حقیقت

عمرہ کی سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ انسان بیت اللہ شریف کی حاضری حاصل کرتا ہے۔ دنیا بھر سے مسلمان ایک ہی مرکز کی طرف رخ کرتے ہیں۔ کوئی عرب ہے، کوئی عجمی، کوئی امیر ہے، کوئی غریب، لیکن اللہ تعالیٰ کے گھر کے سامنے سب بندے ہیں۔ احرام کی سادگی انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ اصل عزت لباس، مال، عہدے اور دنیاوی مرتبے میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور تقویٰ میں ہے۔ طواف کے دوران بندہ بیت اللہ کے گرد چکر لگاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عظمت کو یاد کرتا ہے۔ حجر اسود کے استلام، طواف، مقام ابراہیم کے قریب نماز، آب زم زم نوش کرنے اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کے ذریعے اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ یوں عمرہ صرف چند عبادات کا مجموعہ نہیں رہتا بلکہ یہ ایمان، قربانی، توکل اور اللہ تعالیٰ کے سامنے مکمل سپردگی کا عملی سبق بن جاتا ہے۔

عمرہ انسان کو کیا سکھاتا ہے؟

عمرہ انسان کو سب سے پہلے اخلاص سکھاتا ہے۔ انسان ہزاروں میل کا سفر کر کے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے حرم پہنچتا ہے۔ اس کے بعد صبر کا سبق ملتا ہے، ہجوم، تھکن، گرمی یا دیگر مشکلات کے باوجود بندہ عبادت جاری رکھتا ہے۔عمرہ انسان کو توبہ اور اصلاح کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے۔ جب انسان خانہ کعبہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے تو دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر اسے چاہیے کہ اپنی گزشتہ زندگی کا جائزہ لے ، غیر ضروری خریداری، فضول گفتگو اور تصویروں سے بچنا چاہیے۔ نماز، تلاوتِ قرآن، ذکر، دُعا اور درود شریف میں وقت گزارے ،گناہوں سے سچی توبہ کرے اور آئندہ زندگی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق گزارنے کا عزم کرے۔

دعاؤں کا اہتمام

حرمین شریفین کی حاضری کے دوران اپنے لیے، اپنے والدین، اہل خانہ، اساتذہ، مشائخ، دوست احباب اور پوری اُمت مسلمہ کیلئے دعائیں کرنی چاہئیں۔ خصوصاً اپنے ایمان، خاتمہ بالخیر، گناہوں کی معافی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی دعا مانگنی چاہیے۔

عمرہ کی اصل کامیابی

عمرہ کی اصل کامیابی یہ ہے کہ اس سفر نے اس کی زندگی میں کیا تبدیلی پیدا کی۔ اگر ایک شخص عمرہ کرکے واپس آئے اور نماز کی پابندی پہلے سے بہتر ہو جائے، معاملات درست ہو جائیں، والدین کے حقوق کا خیال رکھنے لگے، لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آئے، حرام کمائی سے بچنے لگے اور گناہوں سے دوری اختیار کرے تو یہ عمرہ اس کیلئے حقیقی اصلاح کا ذریعہ بن گیا۔ اس لیے عمرہ کرنے والے کو چاہیے کہ واپسی کے بعد ان اعمال کی پابندی کا اہتمام کرے۔

اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اپنے مقدس گھر کی باادب حاضری، صحیح طریقے سے عمرہ ادا کرنے، اس کی برکات حاصل کرنے اور عمرہ کے بعد اپنی زندگی کو اطاعت و تقویٰ سے سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

حکمرانی ایک عظیم امانت!

احادیث نبویﷺ کی روشنی میں حقوقِ رعایا اور اعلیٰ قیادت کے رہنما اصول مسلمان پر سننا اور حکم بجا لانا واجب ہے خواہ وہ کام اسے پسند ہو یا نہ پسند، جب تک کہ اسے گناہ کا حکم نہ دیا جائے(صحیح مسلم) خبردار ! تم سب راعی ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا(صحیح بخاری)

مساجد سے محبت، جنت کی بشارت

’’جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے مسجد بناتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کیلئے اُس سے (بھی) زیادہ وسیع گھر تیار فرماتے ہیں‘‘(صحیح بخاری و مسلم) ’’نبی کریمﷺ نے اِس بات کا حکم دیا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں، اُن کی صفائی کی جائے اور اُنہیں معطر رکھا جائے‘‘(ابو دائود، ابن ماجہ)

مسائل اور ان کا حل

لے پالک شرعاً وارث نہیں ہوتا سوال: کیا قرآن وسنت کی روشنی میں لے پالک کو اپنی جائیداد سے حصہ دینا مناسب ہے؟اگر دے دیا ہو اور بھائیوں کو محروم کیا گیا ہو اور بھائی اعتراض کر رہے ہوں تو کیا حکم ہے؟ جبکہ قانون یہ ہے کہ بیٹا نہ ہو تو بیٹیوں کو حصہ دے کر باقی جائیداد بھائیوں کو جاتی ہے، اس طرح بھائیوں کو بھی لاوارث کیا گیا، شریعت کے مطابق مسئلہ کا حل بتا دیں۔ (عرفان، شیخوپورہ)

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا مستقبل ؟

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے 13 سالہ حکومتی تسلسل کا خاتمہ ہو گیا۔ پاکستان تحریک انصاف نے ایسے سیاسی فیصلوں کے باعث اپنے آخری مورچے کو بھی وفاق کے حوالے کر دیا ہے۔

کے پی میں آئینی اقدامات، قومی سیاست پر اثرات

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے اثرات قومی سیاست پر نظر آ رہے ہیں۔ حکومت مذکورہ اقدامات کی بنیادی وجہ خیبر پختونخوا کی سابق حکومت کے رویے خصوصاً دہشت گردی کے سدباب میں عدم سنجیدگی کو قرار دیتی ہے۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ سندھ میں بھی…

ملک میں ہر طرف خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا چرچا ہے‘حکومت کی بھی ساری توجہ اسی طرف ہے البتہ ایم کیو ایم کے سینئر رہنما فاروق ستار نے پیپلز پارٹی کو مخاطب کر تے ہوئے کہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ سندھ میں بھی صدرمملکت آصف علی زرداری کے دستخط سے گورنر راج لگ جائے۔