مسائل اور ان کا حل
لے پالک شرعاً وارث نہیں ہوتا سوال: کیا قرآن وسنت کی روشنی میں لے پالک کو اپنی جائیداد سے حصہ دینا مناسب ہے؟اگر دے دیا ہو اور بھائیوں کو محروم کیا گیا ہو اور بھائی اعتراض کر رہے ہوں تو کیا حکم ہے؟ جبکہ قانون یہ ہے کہ بیٹا نہ ہو تو بیٹیوں کو حصہ دے کر باقی جائیداد بھائیوں کو جاتی ہے، اس طرح بھائیوں کو بھی لاوارث کیا گیا، شریعت کے مطابق مسئلہ کا حل بتا دیں۔ (عرفان، شیخوپورہ)
جواب: ہر شخص اپنی زندگی میں صحت کی حالت میں اپنی جائیداد کا خود مالک ہے اور اس میں ہر قسم کے تصرف کا اختیار رکھتا ہے لہٰذا جس کو جتنا دینا چاہے دے سکتا ہے، کسی کو اعتراض کا حق نہیں۔ تاہم لے پالک کا شرعاً ترکہ میں حق نہیں لہٰذا جو اسے زندگی میں مالکانہ قبضہ کے ساتھ دے دیا گیا ہو وہ تو اس کی ملکیت ہو چکا۔ اس کے علاوہ جتنی جائیداد باقی ہوگی وہ مذکورہ شخص کی وفات کی صورت میں اس کے شرعی ورثاء کو ملے گی، جس میں لے پالک شامل نہیں ہو گا۔
مسجد کے فرش پر وضو کے قطرے گرنا
سوال :بعض علماء مسجدکے فرش پروضوکے پانی کے قطرے گرانے کومکروہ تحریمی کہتے ہیں، ایساکہناکہاں تک درست ہے؟(فرحان خان ،میانوالی)
جواب: مسجد میں وضو کے پانی کے قطرے گرانے کو مکروہ تحریمی یعنی ناجائز کہنا شرعاً غلط ہے ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وضو کرنے کے بعدجسم پرلگے پانی کے قطروں کی حیثیت مستعمل(استعمال شدہ) پانی کی ہے اور مستعمل پانی خود پاک ہے اگرچہ کسی اورچیزکوپاک نہیں کر سکتا (محمودیہ 5؍126)، اس لئے کبھی کچھ قطرے ازخودمسجدمیں گرجائیں تومضائقہ نہیں مگراسے مسجدمیں جھاڑنامسجدکے احترام کے خلاف ہونے کی وجہ سے مکروہ تنزیہی یعنی خلاف اولیٰ ہے۔ (فتاویٰ عثمانی (4؍507)
فرض نماز کے بعد طریقہ اور اذکار
سوال:بعض لوگ فرض نمازکے بعدکلمہ طیبہ پڑھتے ہیں جبکہ بعض اللہ اکبرکا وردکرتے ہیں اورکوئی استغفارکا وردکرتا ہے۔ اصل سنت طریقہ کیا ہے فرض نماز ادا کرنے کے بعد؟(جمیل الرحمن، فیصل آباد)
جواب: نماز کے بعد نبی کریمﷺ سے بہت سی دعائیں منقول ہیں ایک روایت میں ہے کہ جب آپﷺنماز سے فارغ ہوتے تو3مرتبہ استغفار پڑھتے اوراس کے بعد’’اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یاذاالجلال والاکرام‘‘ پڑھتے تھے (صحیح مسلم)۔ نیزبخاری ومسلم کی ایک روایت میں چوتھا کلمہ پڑھنے کاذکرہے ،نیز ’’رب اعنی علی ذکرک وشکرک وحسن عبادتک‘‘ بھی روایت سے ثابت ہے (معارف الحدیث 3؍192)۔ لہٰذاجودعائیں یا اذکار احادیث شریف میں واردہیں ان کا پڑھنا موجب فضیلت اور اجروثواب کاباعث ہے۔ تاہم ان اذکارکو کسی ہیئت کے ساتھ مخصوص کرنایاکسی ایسی ہیئت کوزیادہ موجب اجروثواب سمجھناجوصحابہ کرامؓ ؓسے منقول نہیں اورجوشخص اس ہیئت کواختیارنہ کرے اسے برا سمجھنا غلط ہے، اس سے احترازکرنا چاہئے۔ (فتاویٰ عثمانی ،123/1)
بچے کی پیدائش کے بعد کی سنتیں
سوال:بچے کی پیدائش کے بعد اسلام میں کب کب اور کیا کیا سنتیں ہیں؟ اور ان کا اہتمام کس قدر ضروری ہے، تفصیل کے ساتھ رہنمائی فرما دیں؟ (جرمنی سے ایک خاتون)
جواب: بچے کا اچھا نام رکھنااورپیدائش کے ساتویں روز لڑکے کیلئے دو بکرے اور لڑکی کیلئے ایک بکرا ذبح کرنا اور اس کا گوشت تقسیم کرنااوربالوں کے برابر چاندی وزن کر کے خیرات کرنا اور بچے کا سر مونڈنے کے بعد زعفران سرمیں لگا دینا اور لڑکے کا ختنہ کرانااور کسی صالح آدمی سے تحنیک (نومولود کو گھٹی یعنی اپنے منہ سے کوئی چیز چبا کر بچے کے منہ میں ڈالنا) اوربچے کے کان میں اذان دینامسنون ہے۔(مظاہرحق)
جادو کرنے والوں سے میل جول رکھنا
سوال:۔جادو وغیرہ کرنے والے افراد سے میل جول رکھنا کیسا ہے؟(میاں وحید، کراچی)
جواب:۔جادو کرنا حرام اور گناہِ کبیرہ ہے اور جو لوگ جادو کرتے ہیں چونکہ ان سے میل جول رکھنے میں عقائد کے بگڑنے کا اندیشہ ہے لہٰذا ان سے میل جول نہیں رکھنا چاہئے۔ (فی بذل المجہود 5/261)
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments