کہیں ایسا نہ ہو کہ سندھ میں بھی…

تحریر : طلحہ ہاشمی


ملک میں ہر طرف خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا چرچا ہے‘حکومت کی بھی ساری توجہ اسی طرف ہے البتہ ایم کیو ایم کے سینئر رہنما فاروق ستار نے پیپلز پارٹی کو مخاطب کر تے ہوئے کہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ سندھ میں بھی صدرمملکت آصف علی زرداری کے دستخط سے گورنر راج لگ جائے۔

فاروق ستار نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ نے بیان دیا تھاکہ پیپلزپارٹی نہیں چاہتی کہ گورنرراج لگے، اگر صدرمملکت پیپلزپارٹی سے علیحدہ ہیں تو یہ واضح کریں، ایسے اقدامات پیپلزپارٹی نہیں چاہتی تو صدر مملکت کا فیصلہ کریں۔ وہ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

ادھر نئے صوبوں کے حوالے سے ورلڈ اکنامک فورم کی ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق 16 سے 32 نئے صوبے یا انتظامی اکائیاں تشکیل دئیے جانے سے حکومت اور عوام میں قربت پیدا ہوگی۔اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومتوں اور دور دراز کے اضلاع میں بہت فاصلے ہیں ایسے میں پورا نظام سنبھالنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے سرکاری خدمات کی فراہمی کمزور دکھائی پڑتی ہے، مالی معاملات بھی اثر انداز ہوتے ہیں، انتظامی کنٹرول بھی کمزور ہوتا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق نئی اکائیوں یا صوبوں سے حکمرانی بہتر ہونے کے ساتھ عوام کی خدمت بھی اچھی طرح کی جاسکے گی۔ یہ بات مناسب بھی لگتی ہے البتہ ہمیشہ کی طرح پیپلز پارٹی نئے صوبوں کی مخالف ہے، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے واضح کہا ہے کہ جس جگہ عوام صوبہ چاہتے ہیں وہاں کل کے بجائے آج صوبہ بنادیں، مصطفی کمال اور محسن نقوی اور بزنس کمیونٹی کراچی میں روڈ شو کریں، بلدیہ کا چکر لگائیں، سانگھڑ، لاڑکانہ، سجاول جائیں اور وہاں کے لوگوں سے پوچھیں کہ کیا صوبہ بننا چاہیے۔ادھر سندھ ترقی پسند پارٹی نے ایک کانفرنس منعقد کی ہے جس میں مقررین نے سندھ کی وحدت، خودمختاری کے تحفظ کی بات کی اور کہا کہ عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر توجہ دی جانی چاہیے۔ مقررین نے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

کچھ عوامی مسائل کا ذکر بھی کرلیتے ہیں۔ یہ انہی عوام کے مسائل ہیں جن کو بنیاد بنا کر سیاست کی جاتی ہے۔ سب سے پہلے ذکر تھرپارکر کا جہاں کی تعمیر و ترقی کے بارے میں بار بار ذکر کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ملک بھر کے عوام کو یہاں آکر ترقی کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنا چاہیے۔ اسی تھر کے علاقے ننگر پارکر کو بارشیں نہ ہونے کے باعث خشک سالی کا سامنا ہے، عوام نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے کو فوری طور پر آفت زدہ قرار دیا جائے۔ علاقے سے مویشیوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی بھی سامنے آئی ہے۔ دوسرا مسئلہ آٹے کی قیمت میں اضافے کا ہے۔ کراچی، حیدرآباد، خیرپور، نوابشاہ، سانگھڑ اور سکھر سمیت سندھ میں آٹا 160سے 200روپے کلو ہوچکا ہے۔ کراچی میں تو روٹی کی قیمت بھی 30 سے 35روپے کر دی گئی ہے اور اگر کسی نامور تندور پر چلے جائیں تو روٹی 40سے 45روپے میں فروخت کی جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے سرکاری گندم رعایتی نرخ پر فلور ملز کو فراہم کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ صوبے میں گندم کی کوئی کمی نہیں لیکن منافع خور سرگرم ہوچکے ہیں۔ بیکری اشیا کی قیمتیں بھی بڑھا دی گئی ہیں، ڈبل روٹی کی قیمت میں بھی اضافہ ہوچکا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ اس کے بعد آٹے کی قیمت میں کمی آئے گی یا عوام کو اسی طرح لوٹا جاتا رہے گا۔یہاں حکومت کو بھی ایک بات سمجھنی چاہیے کہ صرف گندم فراہم کردینے سے کچھ نہیں ہوگا منافع خوروں کو بھی لگام ڈالنی ہوگی۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال کیا جائے، منافع خوروں کو جرمانے اور سزائیں دی جائیں تو شاید مہنگائی پر قابو پایا جاسکے۔

ورنہ ہر سال کی طرح اس بار بھی قیمت میں معمولی کمی کرکے مستقل قیمت مقرر کردی جائے گی اور اگلے سال پھر اسی طرح کا کھیل کھیلا جائے گا۔ تیسرا مسئلہ کراچی میں لائنوں سے پانی کی فراہمی کا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت نے K4کے لیے 96کلومیٹر پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ بنایا ہے، ٹھیکیدار کو پابند کیا جائے گا کہ وہ ایک وقت میں ایک لائن کے لیے ایک سے تین کلومیٹر سڑک کھود سکے گا، اسے مکمل کرکے آگے بڑھے گا، ریڈلائن تجرے کے مطابق پہلے تو ٹھیکیدار ہی قابو میں نہیں آئے گا اور اگر آبھی گیا تو سڑک کی استرکاری کب ہوگی؟ یعنی ایک بار پھر شہر کی سڑکیں کھودی جائیں گی، جگہ جگہ ٹریفک جام ہوگا۔ گیس پائپ لائنیں ڈالنے کے لیے کھودی گئی سڑکیں ابھی تک جوں کی توں پڑی ہیں، شہریوں کو پہلے ہی ریڈلائن کے نام پر عذاب کا سامنا ہے، ایسے میں شہری یہ رائے رکھتے ہیں ظاہر ہے یہ کام بھی ضروری ہے لیکن حکومت کو چاہیے کہ پہلے جاری منصوبے مکمل کریں اور اس کے بعد ہی کسی اور منصوبے کا آغاز کرے۔ عوام کا بہت امتحان لیا جاچکا ہے، اب بس کردیں۔ ابھی تو بہت سے مسائل کا ذکر کرنا تھا لیکن پھر کبھی سہی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا مستقبل ؟

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے 13 سالہ حکومتی تسلسل کا خاتمہ ہو گیا۔ پاکستان تحریک انصاف نے ایسے سیاسی فیصلوں کے باعث اپنے آخری مورچے کو بھی وفاق کے حوالے کر دیا ہے۔

کے پی میں آئینی اقدامات، قومی سیاست پر اثرات

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے اثرات قومی سیاست پر نظر آ رہے ہیں۔ حکومت مذکورہ اقدامات کی بنیادی وجہ خیبر پختونخوا کی سابق حکومت کے رویے خصوصاً دہشت گردی کے سدباب میں عدم سنجیدگی کو قرار دیتی ہے۔

اور گورنر راج لگ گیا!

گورنر راج لگ گیا،خیبر پختونخوا اسمبلی معطل اور پی ٹی آئی کی دو تہائی اکثریت والی حکومت ختم کردی گئی۔ وزیراعلیٰ معزول قرار پائے، اختیارات چھن گئے، پی ٹی آئی کی راجدھانی ختم ہوگئی، پاکستان تحریک انصاف کے روپوش رہنماؤں کا آخری محفوظ ٹھکانہ بھی چھن گیا۔

قومی مفاد مقدم!

بلوچستان سمیت ملک بھر میں پائیدار امن، آئین کی بالادستی، سیاسی استحکام اور عوامی خوشحالی اہم قومی تقاضے ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاستی اقدامات ہوں، خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر سیاسی اختلافات ہوں، بلوچستان کے قدرتی وسائل پر اختیار کی بحث ہو یا نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے منصوبے، ان تمام معاملات کا اصل تعلق عوام کے مستقبل سے ہے۔

آزاد کشمیر، سیاست میں اتفاقِ رائے کی ضرورت

آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت کو اقتدار کی سیاست، جماعتی اختلافات اور روایتی سیاسی بیانات سے آگے بڑھ کر آزاد کشمیر کے مفادات، عوامی حقوق اور خطے کے امن و استحکام کو ترجیح دینا ہو گی۔

خواتین کے لیے لیڈر شپ سکلز

خود اعتمادی سے کامیابی تک