تقویٰ انسان کی اصل پہچان

تحریر : صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی


’’ اور تم مان لو بیشک اللہ متقین کے ساتھ ہے‘‘(البقرہ) ’’تم میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ شخص ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگا ر ہو‘‘(سورۃ الحجرات) ’’ اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تمہیں حق اور باطل میں فرق کرنے کی قوت عطا فرما دے گا‘‘(سورۃ الانفال)

انسان کی اصل عظمت اس کے مال و دولت، عہدے، شہرت یا ظاہری وجاہت میں نہیں بلکہ اس کے کردار، اعمال اور دل میں موجود خوفِ خدا میں پوشیدہ ہے۔ قرآنِ حکیم نے واضح کر دیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ تقویٰ دراصل انسان کے دل میں یہ احساس زندہ رکھنے کا نام ہے کہ اللہ ہر لمحہ اسے دیکھ رہا ہے، اس کے قول و فعل سے باخبر ہے اور ایک دن اسے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ یہی احساس انسان کو برائی سے روکتا، نیکی کی طرف راغب کرتا اور زندگی کے ہر معاملے میں اعتدال، انصاف، صبر، درگزر اور حسنِ اخلاق اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ جس دل میں تقویٰ پیدا ہو جائے، وہاں خواہشات کے بجائے اللہ کی رضا زندگی کا مقصد بن جاتی ہے اور انسان حقیقی معنوں میں ایک پاکیزہ، مطمئن اور کامیاب زندگی گزارنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا مجھے میرے پروردگار نے نو باتوں کا حکم دیا ہے: ( 1) ظاہر و باطن میں خدا سے ڈرنا، ( 2) انصاف کی بات کہنا غصہ میں اور رضا مندی میں، (3) افلاس اور دولت مندی دونوں حالتوں میں میانہ روی اختیار کرنا، (4) جو مجھ سے قطع تعلق کرے میں اس سے قرابت کو قائم رکھوں، (5) جو مجھے محروم رکھے میں اس شخص کو دوں، (6) جو شخص مجھ پر ظلم کرے میں اسے معاف کر دوں، (7)میری خاموشی غور و فکر ہو میرا بولنا ذکر الٰہی ہو، (9) میرا دیکھنا عبرت کیلئے ہو، (9) اور میں نیکی کا حکم دوں‘‘ (مشکوٰۃ)۔

ان میں سے اوّل چیز خوف خدا ہے، قرآن حکیم میں انسان کے اندر اللہ کا ڈر پیدا کرنے کیلئے مختلف انداز سے دلائل دیئے گئے۔ کہیں اللہ تعالیٰ کے انعامات کا تذکرہ کہ دیکھو اللہ نے تمہارے لیے دنیا کی تمام نعمتیں بنائی ہیں یہ آسمان و زمین اور اس کے اندر کی تمام چیزیں یہ پہاڑ، دریا، درخت اور بارش برسا کر زمین سے تمہارے لیے رزق پیدا کرنا، اس قدر نعمتیں اس رب نے انسان کو عطا فرمائی ہیں کہ اس نے فرما دیا : ’’یعنی اگر تم اللہ کی نعمتیں گننے لگو تو شمار نہیں کر سکو گے‘‘۔ رب ذوالجلال نے انسان کو اپنی عطا کردہ نعمتیں یاد دلا کر کہا کہ دیکھو اب صرف مجھ سے ڈرو اور میری نافرمانی سے بچو۔

اسی طرح انسان کے اندر اللہ تعالیٰ کا ڈر پیدا کرنے کیلئے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی بات اور اس کی قدرت کا خوب تذکرہ کیا گیا۔ تاکہ انسان کے اندر خدا کا صحیح تصور پیدا ہو جائے اس لیے کہ اگر خدا کا تصور انسان کے دل میں پختہ ہو جائے تو پھر اس کے نتیجہ میں اللہ کا ڈر یعنی تقویٰ پیدا ہو جائے گا۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے گزشتہ دور کے انسانوں کے واقعات بیان کرکے انسان کی حیات کو خوب واضح فرمایا کہ بعض لوگ اللہ کے احسانات و انعامات کی وجہ سے اللہ سے ڈرتے ہیں اور بعض لوگ اللہ کی قدرت کا مظاہرہ دیکھ کر ڈرتے ہیں۔ یہی کیفیات آج کے معاشرے کے انسان میں بھی نظر آتی ہیں۔ بسا اوقات انسان پر اللہ کی نعمتوں کی برسات ہو رہی ہوتی ہے تو انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ تو میرا حق تھا اور یہ تو میری محنت اور زور بازو کا کمال ہے۔ بس اس غلط فہمی کی وجہ سے اللہ کا ڈر دل سے نکل جاتا ہے۔ پھر اسی انسان کے دل سے یہ بھی نکل جاتا ہے کہ نماز سے کیا ہوتا ہے تلاوت قرآن حکیم کی کیا ضرورت ہے یہ تمام باتیں اللہ کا ڈر نہ ہونے کی علامات ہیں۔ پھر اسی انسان کو جب دنیا میں دکھوں اور مصیبتوں کا سامنا ہوتا ہے کوئی قریبی عزیز بیمار ہو جاتا ہے یا خود کسی مالی یا ذہنی پریشانی میں مبتلا ہو جاتا ہے پھر خوب قرآن حکیم کی تلاوت کرتا ہے پانچ وقت نماز مسجد میں ادا کرتا ہے اس لیے کہ اس کے دل میں اللہ کا یقین تو تھا اگر یہی یقین انسان کے دل میں پختہ ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ اس انسان کے ہر کام کو دیکھ رہا ہے تو پھر اس ڈر کی وجہ سے وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرے گا اور یوں یہ انسان ایک کامیاب زندگی گزارے گا۔ معلوم ہوا کہ کامیاب زندگی گزارنے کیلئے اللہ کا ڈر انسان کے اندر ہونا بہت ضروری ہے۔

قرآن مجید میں اللہ نے انسان کے اندر اپنا ڈر پیدا کرنے کیلئے جہاں اپنے احسانات انعامات اور اپنی قدرت اور صفات کا تذکرہ فرمایا وہاں انسان کو اس کے برے اعمال کے برے انجام سے بھی ڈرایا۔ انسان کے دل میں اللہ کا ڈر پیدا کرنے کا ایک اہم محرک عقیدۂ آخرت ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں عقیدہ آخرت کے تمام پہلوئوں کو خوب وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا کہ انسان کو آخرت میں یعنی موت کے بعد آنے والی زندگی میں اس کے ہر عمل کا اچھا بدلہ اور برے عمل کا برا بدلہ ملے گا۔

جب انسان کے اندر اللہ کا ڈر پیدا ہو جاتا ہے تو اس انسان کی زندگی میں ایک عظیم انقلاب آجاتا ہے اس کی زندگی میں بہت سی خوشگوار اور عمدہ تبدیلیاں آجاتی ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان باتوں کی نشاندہی فرمائی ہے جو اللہ سے ڈرنے کے نتیجہ میں سامنے آتی ہیں ایسا شخص اللہ پر پختہ ایمان رکھتا ہے، پابندی سے نماز ادا کرتا ہے، جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دیا اس میں سے خرچ کرتا ہے زکوٰۃ ادا کرتا ہے،جب وعدہ کرتے ہیں تو پھر ایسے لوگ وعدہ پورا کرتے ہیں،اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے لوگ جب تنگ دستی میں مبتلا ہوتے ہیں یا بیماری اور مصیبت میں گھر جاتے ہیں تو صبر کرتے ہیں اور ثابت قدم رہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں میں ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ کون سی چیز حلال ہے اور کون سی حرام ہے۔ رسول اکرم ﷺ کے ارشاد کے مطابق تو انسان متقی یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں میں اس وقت شمار ہوتا ہے جب وہ ہر اس چیز سے بچتا ہے جو دل میں کھٹکتی ہے۔ اس لیے کہ جب خوف خدا نصیب ہوتا ہے تو انسان مشتبہ چیزوں سے بھی بچتا ہے۔ بلکہ بظاہر چھوٹے گناہ کو بھی پہاڑ کے برابر بوجھل سمجھتا ہے۔ ایسا انسان پھر دوسرے انسان کے حقوق کا بھی ہر مرحلے میں خیال رکھتا ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس بندے کیلئے بہت سے فوائد بتائے ہیں جو اللہ  تعالیٰ سے ڈرتا ہے جیسے سورۂ حجرات میں فرمایا: ’’تم میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ شخص ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہو‘‘۔جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔سورۂ انفال میں فرمایا’’ اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تمہیں حق اور باطل میں فرق کرنے کی قوت عطا فرما دے گا اور تمہارے گناہ دور کر کے تمہیں بخش دے گا پھر جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے اور اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دوسری چیزوں کے ڈر سے نجات دے دیتا ہے‘‘ ۔ سورۂ بنی اسرائیل میں فرمایا جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا اور نیک ہو گئے ان پر کوئی خوف نہیں ہو گا اور نہ غمگین ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں پر برکتوں اور رحمتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ سورۂ اعراف میں فرمایا اگر اسی بستی والے ایمان لے آتے اور اللہ سے ڈرتے ہوئے پرہیز گاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ سورۃ البقرہ میں فرمایا ’’ اور تم مان لو بیشک اللہ متقین کے ساتھ ہے‘‘۔

معلوم ہوا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں تو پھر اللہ بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ آج معاشرہ میں کسی کا تعلق کسی بڑے عہدیدار سے ہو جائے تو وہ کتنا فخر کرتا ہے اور یوں کہتا ہے کہ مجھے صرف اسی کا ڈر ہے اور کسی کا نہیں۔ اگر انسان کے دل میں صرف اپنے رب کا ڈر پیدا ہو جائے تو یوں کہنے لگے کہ مجھے تو صرف خدا کا ڈر ہے اور کسی کا نہیں تو پھر یقیناً انسان کی زندگی کا ہر لمحہ سنور جائے۔

اللہ رب العزت ہم سب کے دلوں سے مخلوق کا ڈر نکال کر خالق کا ڈر ڈال دے اور پھر اس کے نتیجہ میں رب ذوالجلال اپنے وعدے کے مطابق ہمارے تمام کام آسان بنا دے مشکلات سے نکلنے کے راستے بنا دے، جہاں سے گمان بھی نہ ہو وہاں سے رزق عطا کرے اور ہماری دنیا و آخرت کی زندگی میں برکتیں اور رحمتیں نازل فرما دے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

نئے صوبوں کی بحث عالمی سطح پر پہنچ گئی

تیزی سے بڑھتی آبادی کیلئے انتظامی اصلاحات :، ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ میں 16 سے 30 انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز کئی :ممالک اپنی آبادی اور معیشت میں تبدیلیوں کے ساتھ اپنے انتظامی ڈھانچوں کو بارہا تبدیل کر چکے ہیں:ہر صوبے کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، اس طرح پہلی سطح کی انتظامی حکومتوں کی تعداد بڑھ کر 16 ہو جائے گی :ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ موجودہ ڈویژنوں کی بنیاد پر انتظامی ڈھانچے کو آگے بڑھایا جائے اور 30 سے زیادہ انتظامی اکائیاں قائم کی جائیں

تحفظ حرمین شریفین: مقدس امانت، اجتماعی ذمہ داری

’’بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کیلئے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا ہے اور تمام جہانوں کیلئے ہدایت کا مرکز ہے‘‘(آل عمران:96)

اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت!

’’تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو‘‘ ( سورۃ الحجرات) اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف مت کرو کہ تم کمزور ہو جاؤ، اور تمہاری ہوا نکل جائے، اور صبر کرو بیشک! اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے(سورۃ الانفال:46)

مسائل اور ان کا حل

فجر کی اذان کے بعد نوافل پڑھنا سوال: کیا نماز فجرکی جماعت سے پہلے 2سنت کے علاوہ تحیۃ المسجدکے نفل پڑھ سکتے ہیں ؟مسجدمیں ایک شخص نے فجرکی سنت سے پہلے 2رکعت تحیۃ المسجدوتحیۃ الوضوپڑھی تو ساتھ بیٹھے ایک بزرگ نے کہاکہ فجرکی اذان کے بعدنفل نہیں پڑھنے چاہئیں، آپ وضاحت فرما دیں۔ (چودھری محمد اسلم، اوکاڑہ)

لانگ مارچ کیا رنگ لائے گا؟

خیبر پختونخوا میں ایک جانب مسلسل دہشت گردی‘ امن و امان کے مسائل اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے تو دوسری جانب صوبے کی حکمران جماعت کی جانب سے لانگ مارچ نے وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔

حکومت اپوزیشن مذاکرات اور بلدیاتی انتخابات

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر غیر مشروط طور پر پی ٹی آئی اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی مسائل سیاسی بنیادوں پر حل کرنا چاہتے ہیں اور وہ مل بیٹھ کر ہی ہو سکتے ہیں۔