منشا یاد :ایک انوکھا قصہ گو
15ویں برسی:ان کی کہانی جدید ہونے کے باوجود اپنی زمین، ماحول، حقیقت نگاری اور کہانی پن سے معطر ہے:منشاد یادنے 1950ء کی دہائی کے آخر میں افسانہ نگاری کا آغاز کیا ‘ ان کے افسانوں کے موضوعات تو بہت ہیں مگر دیہی تمدن پہ ان کی خاص گرفت تھی: افسانہ ایک ایسا مختصر نثر پارہ ہے جس میں کسی واقعہ، منظر، خیال، جذبے، تجربے، احساس یا کردار کو یوں پیش کیا جائے کہ پڑھنے والے کو متاثر کرے اور یادداشت کا حصہ بن جائے
منشا یاد: مختصر سوانح
منشا یاد 5ستمبر 1937 کو فاروق آباد کے نزدیک گائوں ٹھٹھہ نشتراں (پرانا نام سچا سودا) کے قریب ایک گائوں میں پیدا ہوئے، گجیانہ نو میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔میٹرک کا امتحان حافظ آباد سے پاس کیا۔بعد ازاں 1955 میں رسول کالج سے انجینئرنگ ڈپلومہ کیا۔اس کے ساتھ 1964 میں اردو فاضل کا امتحان بھی پاس کیا۔ 1972 میں پنجاب یونیورسٹی سے پنجابی میں ماسٹر کیا۔ ان کی شادی 1960 میں اپنی کزن سے ہوئی اور ان کے ہاں تین بیٹے اور ایک بیٹی کی ولادت ہوئی۔وہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی ملازم رہے اور 1997 میں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر ریٹائر ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد منشا تھا تاہم منشا یاد کے قلمی نام سے لکھنے کا سفر شروع کیا۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ 1975 میں شائع ہوا۔بند مٹھی میں جگنو،ماس اور مٹی،خلا اندر خلا، وقت سمندر اور درخت آدمی ،ان کی کہانیوں کے معروف مجموعے ہیں۔چند کتب کے تراجم بھی کئے۔
انہوں نے متعد ڈرامے لکھے جن میں جنون،بندھن،آواز اور پورے چاند کی رات، ان کے مشہور ٹی وی ڈرامے ہیں، ان کے پنجابی ناول ٹاواں ٹاواں تارا کو1999 میں ڈرامہ سیریل میں ڈھالا گیا جو راہیں کے نام سے نشر ہوا اور بہت مقبولیت حاصل کی۔ حکومت پاکستان نے 2004 میں تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا، 2006 میں پنجابی میں بہترین ناول نگاری کا بابا فرید ادبی ایوارڈ دیا گیا ،2010 میں عالمی فروغ ادب ایوارڈ حاصل کیا۔منشا یاد 15 اکتوبر 2011 کو دل کا دورہ پڑنے سے اسلام آباد میں وفات پا گئے اور وہیں مدفن ہیں۔
محمد منشا یاد جدید اردو افسانے کا سب سے معتبر حوالہ ہے ۔ان کی کہانیوں کے متعدد مجموعے شائع ہوئے اور ہر مجموعہ ان کے فن اور فکر کی ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایسی انوکھی، اچھوتی، فکر انگیز اور شرف ِانسانی کی بحالی کے سوز میں ڈوبی ہوئی کہانیاں انہیں اپنے ہم عصروں میں ہی ممتاز نہیں کرتیں بلکہ اُردو افسانے کے پورے تناظر میں بھی ایک بلند مقام پر فائز نظر آتی ہیں۔1940ء سے 1960ء تک کی دو دہائیوں میں اردو افسانے نے حیرت انگیز ترقی کی تاہم اُردو افسانہ 60 ء اور70ء کی دہائیوں میں پٹری سے اُتر گیا تھا، اس کی بہت سی وجوہات بیان کی جاتی ہیں ،اگر ان سب کو سچ مان بھی لیا جائے تب بھی یہ حقیقت اپنی جگہ قائم رہتی ہے کہ جدیدیت کے بخار نے افسانے میں سر سام کی سی کیفیت پیدا کر دی تھی ۔ ایک ایسا وقت بھی آیا تھا جب یہ مریض بچتا دکھائی نہیں دیتا تھا، ایسے میں جو نوجوان مسیحا بن کر ابھرے ان میں منشا یاد کا نام سب سے اوپر ہے ۔کہانی کاروں کے اس تازہ تر کارواں میں مظہر الاسلام، نجم الحسن رضوی، منیر احمد شیخ، اسد محمد خاں، امرائو طارق، سلطان جمیل نسیم، امر جلیل، طارق محمود، سعید شیخ ،نیلو فر اقبال اور عطیہ سید کے علاوہ اور بھی کئی نام ہیں۔
منشا یاد اور ان کے بہت سے ہم عصر علامت نگاروں میں بنیادی فرق یہی ہے کہ وہ علامت کو نہیں بناتے اور اسے اسی قدر استعمال کرتے جتنی ضرورت ہوتی۔ ان کی کہانیوں میں موضوع اور ہیئت کا یہی خوبصورت توازن ہے۔ منشا یاد کے بہترین افسانے جس نے ان کے اسلوب کو انفرادیت عطا کی ’’ بند مٹھی میں جگنو‘‘ سے ’’ درخت آدمی‘‘ تک ان کی بہت سی کہانیوں کا اسلوب جدید اور جدید تر ہونے کے باوجود اپنی زمین، ماحول، عوام، حقیقت نگاری اور کہانی پن سے اس طرح روشن اور معطر ہے کہ علامت کہیں بھی آپ کا راستہ نہیں روکتی، کہیں بھی آپ کو گمراہ نہیں کرتی اور کہیں آپ سے پہاڑے نہیں سنتی۔
منشا یاد نے 1950ء کی دہائی کے آخر میں افسانہ نگاری کا آغاز کیا ۔ ان کے افسانوں کے موضوعات تو بہت ہیں مگر دیہی تمدن پہ ان کی خاص گرفت تھی۔ جدید زمانے میں جبکہ شہروں کی دل کشی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ دیہات کی زندگی اور کسانوں کے مسائل عدم توجہی کا شکار تھی ایسے میں منشا یاد نے اس کلچر کو اپنے افسانوں میں تمام تر جزئیات کے ساتھ پیش کیا ۔ اس لحاظ سے وہ پریم چند اور احمد ندیم قاسمی کی روایت کے امین ہیں لیکن معاصر زندگی کے دیگر مسائل بھی ان کے افسانوں کا موضوع بنے ہیں، تاہم وہ اپنے انداز کے انوکھے اور منفرد قصہ گو تھے ۔
لکھنے سے پہلے انہوں نے ہزاروں کہانیاں پڑھیں، سینکڑوں لکھیں مگر ایک بڑا اور ناقابل فراموش افسانہ لکھنے کی خواہش میں مسلسل مشق کرتے رہے۔ چھٹی ساتویں جماعت ہی میں بچوں کے رسالوں میں کہانیاں اور نظمیں لکھنا شروع کر دیں تھیں لیکن پہلا افسانہ دسویں جماعت کا امتحان دینے کے فوراً بعد ’’ کنول‘‘ کے عنوان سے لکھا جو اس زمانے کے ایک نیم ادبی مگر مقبول ترین رسالہ ’شمع‘‘ میں شائع ہوا۔ اس کے بعد ان کے افسانے ماہنامہ عکس نو لاہور میں شائع ہونے لگے۔ لیکن یہ ابتدائی مشق کا دور تھا۔ ان کی ادبی زندگی کا اصل آغاز اس افسانے سے ہوا جس کا عنوان ’’ کہانی‘ تھا اور جو انہوں نے 1957ء میں لکھا، مگر یہ 1959ء میں اشفاق احمد کے خوبصورت رسالے ’ ’داستان گو‘ ‘میں شائع ہوا تھا۔ ان کے افسانوں کے جومجموعے شائع ہو ئے ان میں ایک پنجابی افسانوں کا مجموعہ بھی شامل ہے۔ پنجابی میں ایک ناول ’ ٹانواں ٹانواں تارا‘ شائع ہو ا ۔ اس کے علاوہ انہوں نے افسانوں کی کچھ انتھالوجیز بھی مرتب کیں۔ بچوں کیلئے لکھی گئی ثاقبہ رحیم الدین کی کتاب کا پنجابی میں ترجمہ بھی کیا۔
جب منشا یاد نے افسانہ پڑھنا اور پھر لکھنا شروع کیا تو وہ سبھی اچھے اور مشہور افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں سے متاثر تھے۔ انہوں نے ابتدا میں نسیم حجازی کے سارے ناول پڑھ ڈالے۔ مرزا ادیب کے صحرا نورد کے خطوط اور رومان اور اس عہد تک چھپے ہوئے سارے اردو ناول پڑھے۔ لیکن جن افسانہ نگاروں کے افسانے وہ دل سے پسند کرتے تھے ان میں پریم چند، احمد ندیم قاسمی، سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ، بیدی، عصمت چغتائی، کرشن چندر اور اشفاق احمد شامل تھے۔ درحقیقت انہوںنے ہر ایک سے کچھ نہ کچھ سیکھا۔
منشا یادسمجھتے تھے کہ افسانہ ایک ایسا مختصر نثر پارہ ہے جس میں کسی واقعہ، منظر، خیال، جذبہ، تجربہ، احساس ، کردار یا روحانی کیفیت کو ایسے بہترین اور موثر انداز میں پیش کیا جائے کہ وہ پڑھنے والے کو متاثر کرے اور اس کی یادداشت کا حصہ بن جائے اور اسے زندگی کے معاملات ومسائل سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ اور شعور بخشے۔بہت سے دوسرے افسانہ نگاروں کی طرح ان کی ابتدائی کہانیاں بھی روایتی اور وضاحتی اسلوب کی حامل تھیں، لیکن وہ بھی عصری افسانے میں ہونے والی تبدیلیوں سے بے خبر نہیں تھے۔ اس لئے علامتی اور نیم علامتی بہت سی کہانیاں لکھیں مگربہت سے افسانہ نگاروں کے برعکس ایک تو یہ قابل ِفہم تھیں دوسرے ان میں کہانی پن سے کبھی صرفِ نظر نہیں کیا گیا۔پلاٹ کردار اور کہانی کو افسانے میں دوبارہ استحکام ایسے ہی لکھنے والوں سے حاصل ہوا اور افسانہ پہلے سے زیادہ متنوع عمیق اور توانا ہو گیا۔
یہ سچ ہے کہ منشا یاد کے افسانے کا عام طور پر کوئی ایک موضوع نہیں۔ ان کے افسانوں کے موضوعات بھی مخصوص نہیں، متنوع ہیں۔ انسانی زندگی کے سارے ہی پہلوئوں اور رخوں کو پیش کیا گیا۔ دیہاتی اور شہری زندگی کے مختلف پہلو، فرد اور معاشرے کے داخلی اور خارجی معاملات و مسائل اور فکرو خیال کے متنوع رنگ، یوں انسانی زندگی کا سب سے بہترین موضوع محبت ہے اور انہوں نے بھی اس پر بہت سی کہانیاں لکھیں مگرانہوں نے کسی بھی سماجی ، نفسیاتی اور سیاسی موضوع کو شجرِ ممنوعہ نہیں سمجھا۔ تاہم عام آدمی کے دکھ سکھ، ماحول کی گھٹن ، سیاسی جبر اور طبقاتی تقسیم سے متعلق موضوعات ان کے بہت سے افسانوں کا موضوع بنے۔
اگر افسانے کے کرداروں یا اسلوب پربات کی جائے تو بقول منشا یاداسلوب ایسی چیز نہیں ہے کہ اس پر ہمہ وقت توجہ مرکوز رکھی جائے اس کا تعین افسانہ شروع کرتے وقت ہی ہو جاتا ہے۔ پھر افسانہ مکمل کرنے کے بعد آپ نظرثانی کرتے ہوئے زبان و بیان کی خامیاں اور اسلوب کی کمزوریاں دور کر سکتے ہیں۔ ان کی زیادہ تر توجہ اس آئیڈیا یا تھیم کی طرف ہوتی ہے جس کی خاطروہ افسانہ لکھتے تھے۔ ان کے مطابق کردار تو ٹولز ہوتے ہیں جو لکھنے والے کی بات قاری تک پہنچاتے ہیں لیکن کرداروں پر پوری توجہ نہ دینے سے کردار مصنوعی اور جھوٹے معلوم ہونے لگتے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایک اچھے اور مکمل افسانے میں سبھی عناصر اور اجزا جیسے تھیم، پلاٹ، اسلوب، کردار نگاری، منظر نگاری، نقطہ نظر، ہیئت اور تکنیک وغیرہ ضروری ہوتے ہیں اور ان میں توازن پایا جانا چاہئے۔سب سے اہم وہ آئیڈیا یا تھیم ہے جس کوبنیاد بنا کر یا جس کی بنیاد پر افسانے کی عمارت کھڑی کی جاتی ہے۔ اسے مرکزی خیال بھی کہہ سکتے ہیں۔ اسی کا تاثر ابھارنے کیلئے افسانہ نگار کردار اور ماحول تخلیق کرتا اور اسی کے مطابق زبان و بیان اختیار کرتا ہے۔ اس کے علاوہ افسانے کی کچھ خصوصیات اور ضروریات ہوتی ہیں جن میں سب سے اہم غزل کی سی ایمائیت اور ایجاز و اختصار ہے جو شارٹ سٹوری یا مختصر افسانے کی بنیادی خصوصیت اور پہچان ہے۔ یوں افسانہ نگار کو فن اور فکر کے سارے پہلوئوں پر توجہ رکھنا ہوتی ہے۔ افسانے کی سرخی یا عنوان سے لے کر اس کے آخری جملے تک۔ مثلاً عنوان یاد رہ جانے والا اور بامعنی ہو۔ آخری جملہ ایسا ہو کہ کسی بات کا انکشاف کرے اور تکمیل کا احساس ہو۔
منشا یاد اردو افسانے کے سنہرا دور اسی زمانے کو قرار دیتے تھے جب منٹو، بیدی، احمد ندیم قاسمی، کرشن چندر، عصمت چغتائی، غلام عباس، مرزا ادیب، اشفاق احمد، اوپندر ناتھ اشک، شوکت صدیقی، عزیز احمد، انور عظیم، ہاجرہ مسرور، خدیجہ مستور، غیاث احمد گدّی، قاضی عبد الستار، آغا بابر، بانو قدسیہ، اے حمید، رام لعل، قرۃ العین حیدر اور انتظار حسین ایک ساتھ افسانہ لکھ رہے تھے۔انتظار حسین، سریندر پرکاش، انور سجاد، جوگندر پال، بلراج منیرا، احمد ہمیش، وقار بن الٰہی، خالدہ حسین، رشید امجد، اعجاز راہی، سمیع آہوجا، مظہر الاسلام، اسد محمد خاں، احمد دائود، مرزا حامد بیگ، احمد جاوید، غلام الثقلین نقوی، رتن سنگھ، محمد عمر میمن، قمر احسن، نیر مسعود، احمد یوسف، سلام بن رزاق، کلام حیدری، شوکت حیات، انور عظیم، آغا سہیل، انور زاہدی، ناصر بغدادی اور بہت سے افسانہ نگار نئی حسیت کے ساتھ ابھرے۔
منشا یادکے بہت سے افسانوں کی ریڈیو اور ٹی وی کیلئے ڈرامائی تشکیل ہو چکی ہے۔ پنجابی میں کم، اردو میں زیادہ، کچھ اوریجنل ڈرامے بھی لکھے۔ جیسے کچے پکے رنگ، اور ’ ذرانم ہو تو‘ وغیرہ۔ ٹی وی سیریلز میں جنون، بندھن، راہیں، پورے چاند کی رات، ور وفا وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں ’’ راہیں‘‘ کوسال کے بہترین سکرپٹ کا پی ٹی وی نیشنل ایوارڈ بھی ملا تھا۔اردو کے اس گنی افسانی نگار کا انتقال15 اکتوبر 2011ء کو اسلام آ باد میں ہوا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments