قومی مفاد مقدم!
بلوچستان سمیت ملک بھر میں پائیدار امن، آئین کی بالادستی، سیاسی استحکام اور عوامی خوشحالی اہم قومی تقاضے ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاستی اقدامات ہوں، خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر سیاسی اختلافات ہوں، بلوچستان کے قدرتی وسائل پر اختیار کی بحث ہو یا نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے منصوبے، ان تمام معاملات کا اصل تعلق عوام کے مستقبل سے ہے۔
ایک طرف حکومت اور اس کے حامی حلقے امن و امان کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کو ناگزیر قرار دیتے ہیں تو دوسری جانب سیاسی جماعتیں آئینی حدود، عوامی مینڈیٹ اور جمہوری تسلسل کے تحفظ پر زور دے رہی ہیں۔ ایسے حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی مفاد کو سیاسی مفادات پر ترجیح دی جائے، اختلافِ رائے کو تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جائے اور ایسا متوازن راستہ اختیار کیا جائے جس میں ریاست کی سلامتی، جمہوریت کا تسلسل اور عوام کے بنیادی حقوق محفوظ رہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان اسمبلی میں خیبر پختونخوا کی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومتوں کو اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوتی ہے اور سکیورٹی اداروں کو حکومتی تعاون، مو ثر قانون سازی اور مناسب پالیسی کے ذریعے معاونت فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج سے متعلق وفاقی اقدام کی حمایت کرتے ہوئے اسے آئینی قرار دیا۔ ان کے اس مؤ قف کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومتوں کو محض بیانات دینے کے بجائے عملی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔بلوچستان اسمبلی کے سپیکر عبدالخالق خان اچکزئی نے گورنر راج کو آئین میں موجود طریقہ کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ جہاں صوبائی حکومت اپنے فرائض مؤ ثر انداز میں انجام دینے میں ناکام ہو وہاں متعلقہ آئینی تقاضوں کے مطابق اس معاملے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق دہشت گردی جیسے سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں ہم آہنگی ضروری ہے۔ دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوامی مینڈیٹ اور جمہوری تسلسل کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ منتخب حکومتوں کی اصلاح کا راستہ آئین، پارلیمان اور سیاسی مکالمے سے گزرنا چاہیے نہ کہ غیر معمولی اقدامات کے ذریعے عوامی اختیار محدود کرنے سے۔مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل نے وفاقی حکومت کے فیصلے کی حمایت میں نکالی گئی ریلی کی قیادت کرتے ہوئے امن و امان، قومی سلامتی اور سیاسی جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری پر زور دیا۔ دوسری جانب گورنر راج کی مخالفت کرنے والے حلقے اسے جمہوری اختیار اور عوامی مینڈیٹ کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ایک جمہوری معاشرے میں دونوں طرح کے مو قف کو سننا اور ان کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
ادھر ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی میں فراری کمانڈر نور خان بگٹی کی اپنے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہونے کی پیش رفت بھی اہم ہے۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے سامنے ہتھیار ڈالنے اور پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھانے کا یہ اقدام اس امکان کو اجاگر کرتا ہے کہ مسلسل تصادم کے ماحول سے نکلنے اور ریاست کے قانونی دائرے میں آنے کے راستے موجود ہیں۔ اگر اس پیش رفت کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے تو یہ علاقے میں امن کے قیام اور لوگوں میں تحفظ کا احساس پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔دوسری جانب سینئر سیاستدان نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے مائنز اینڈ منرل ایکٹ پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جمع کرائی گئی سفارشات منظرِ عام پر لائی جائیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبے کے قدرتی وسائل سے متعلق فیصلوں میں بلوچستان کے مفادات کو مناسب اہمیت نہیں دی جا رہی اور سیاسی نمائندگی کے حوالے سے بھی سنجیدہ مسائل موجود ہیں۔
ان کے مؤقف کے مطابق معدنی وسائل سے مالامال صوبے کے عوام کو ان وسائل کے فوائد سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔حکومت کی کارکردگی کا اصل امتحان بھی اسی وقت ہوتا ہے جب پالیسیوں کے ثمرات عام شہری تک پہنچتے ہیں۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت بی ٹیوٹا کے اجلاس میں آئندہ سال تک 25 ہزار نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کرنے اور 30 ہزار نوجوانوں کو ہنرمند بنا کر بیرون ملک روزگار کے لیے بھجوانے کے پروگرام پر پیش رفت تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ فنی تربیتی اداروں کی رجسٹریشن اور نگرانی کے لیے پورٹل کا افتتاح بھی کیا گیا۔ یہ اقدامات بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے اہم مواقع پیدا کر سکتے ہیں بشرطیکہ ان پر مقررہ مدت میں عمل ہو اور تربیت کو حقیقی روزگار کی ضروریات سے منسلک کیا جائے۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی ملاقات بھی سیاسی رابطوں کے حوالے سے اہم ہے جس میں صوبے کی صورتحال، عوامی مسائل اور ترقی و خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بلوچستان کو درپیش چیلنجز کا حل حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی میں نہیں بلکہ ایسے سیاسی ماحول میں ہے جہاں اختلافات کے باوجود عوامی مفاد کے معاملات پر تعاون ممکن ہو۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ امن، تعلیم، صحت، معدنی وسائل، روزگار اور صوبائی حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ نکات پر اتفاق پیدا کریں۔ حکومت کو بھی تنقید کو محض مخالفت سمجھنے کے بجائے قابلِ عمل تجاویز سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ پاکستان کا مستقبل اس بات سے جڑا ہے کہ ریاستی ادارے، حکومتیں، سیاسی قوتیں اور عوام مشترکہ قومی مقاصد کے لیے کس حد تک ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ نور خان بگٹی کی قومی دھارے میں شمولیت امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
فنی تربیت کے منصوبے نوجوانوں کے معاشی مستقبل کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور سوئی میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے اقدامات عوامی زندگی میں بہتری لا سکتے ہیں۔ گورنر راج اور صوبائی خودمختاری سے متعلق اختلافات کو بھی آئینی حدود، سیاسی مکالمے اور شفاف فیصلوں کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ امن اور جمہوریت ایک دوسرے کے مخالف نہیں، پائیدار امن کے لیے انصاف اور جمہوری استحکام کے لیے مؤثر حکمرانی ضروری ہے۔ یہی وہ متوازن راستہ ہے جو سیاسی اختلافات کو قومی تقسیم میں تبدیل ہونے سے روک سکتا ہے اور بلوچستان کے عوام کے لیے امن، ترقی، وقار اور خوشحالی کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments