اور گورنر راج لگ گیا!
گورنر راج لگ گیا،خیبر پختونخوا اسمبلی معطل اور پی ٹی آئی کی دو تہائی اکثریت والی حکومت ختم کردی گئی۔ وزیراعلیٰ معزول قرار پائے، اختیارات چھن گئے، پی ٹی آئی کی راجدھانی ختم ہوگئی، پاکستان تحریک انصاف کے روپوش رہنماؤں کا آخری محفوظ ٹھکانہ بھی چھن گیا۔
متعدد گرفتاریاں ہوئیں، سہیل آفریدی سیاسی شہید قرار پائے، لیکن نقصان کس کا ہوا؟ان لاکھوں ووٹرز کا جنہوں نے عام انتخابات میں انہیں منتخب کرکے اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھایا تھا۔حیرت انگیز طورپر خیبرپختونخوا بالعموم اور پشاور میں بالخصوص کوئی ترکی والاماڈل دیکھنے کو نہیں ملا۔کوئی ٹینک تھا نہ ہی اس کے نیچے کوئی لیٹنے والا۔
بہت سے سوالات ہیں جو تلخ بھی ہیں اورحیران کردینے والے بھی۔یہ سلسلہ شروع ہواتھا قریب ڈیڑھ ماہ قبل جب 27ستمبر کو لانگ مارچ کی کال دی گئی تھی، پھر اسے بڑھا کر چار اکتوبرکردیاگیا،یہیں سے پینڈورا باکس کھلنا شروع ہوا۔لانگ مارچ ناکام نظرآرہاتھا،قریبی ساتھی سہیل آفریدی کا ساتھ چھوڑ گئے، پارٹی رہنماؤں کا بیانیہ ایک دوسرے سے مختلف تھا۔نجانے سہیل آفریدی اور ان کے قریبی رفقا کو یہ کیوں یقین تھا کہ گورنر راج نہیں لگے گا اور وہ یوں ہی کنٹینر پر چڑھ کراپنا بیانیہ سناتے رہیں گے ؟وہ کیوں بیرسٹرگوہر،سلمان اکرم راجہ، علی محمد خان اور شوکت یوسفزئی کی تنبیہات کو ہوامیں اڑانے کو تیار تھے؟بہت سے سوالات ہیں اور ان کے جوابات بھی وہی دے سکتے ہیں، تاہم یہ صورتحال ان لوگوں کیلئے انتہائی تکلیف دہ ہے کہ ایک منتخب حکومت گھر بھیج دی گئی اوراسمبلی معطل ہوگئی۔اب عوامی رائے کے مطابق بجٹ نہیں بنے گا،عوام کو ریلیف کیسے ملے گا؟جو ترقیاتی منصوبے شروع کئے گئے تھے وہ منصوبے کیا عدم شفافیت کے الزامات کی نذر ہوجائیں گے ؟تمام تر اختیارات وفاق کے پاس چلے گئے، پی ٹی آئی اس تمام عمل کے دوران اس قدر بے بس نظرآئی کہ اس سے قبل انہیں اس حالت میں نہیں دیکھا۔توقع کی جارہی تھی کہ عوام بڑے پیمانے پر نکلیں گے لیکن کچھ بھی نہ ہوا۔اگرپی ٹی آئی نے گزشتہ دوڈھائی سالوں کے دوران گورننس پر توجہ دی ہوتی،وفاق سے پیسہ واپس لائے ہوتے،لوگوں کی حالت بدلی ہوتی تو شاید کچھ لوگ نکل آتے۔ لوگوں کو 26نومبر بھی نہیں بھولا کہ کیسے ان کے لیڈر غائب ہوگئے، میدان میں ورکرز تنہا تھے۔
اب چونکہ تمام اختیارات گورنر کو منتقل ہوگئے ہیں، بارہ اضلاع جن میں آٹھ ضم شدہ قبائلی اضلاع ہیں اور باقی چار بندوبستی اضلاع جن میں بنوں، لکی مروت،ٹانک اور ڈی آئی خان شامل ہیں، یہاں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ دو سیٹ اَپ تیار کئے گئے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ اس کی تیاری ہفتوں سے نہیں بلکہ مہینوں سے جاری تھی۔ جس دن گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی اسی دن گورنر کی ایڈوائزری کونسل کیلئے ناموں کا اعلان کردیاگیا۔ اس گیارہ رکنی ایڈوائزری کونسل کی خبر دنیا نیوز نے پہلے ہی دے دی تھی۔ کونسل ٹیکنو کریٹس پر مشتمل ہے اور اس میں واحد سیاستدان ثمر ہارون بلور ہیں۔ اطلاعات کا محکمہ ان کے سپرد کیاگیا ہے، اس سے قبل وہ اے این پی کی سیکرٹری اطلاعات تھیں اور بڑی تندہی سے انہوں نے اپنے فرائض انجام دیئے۔ دوسری خاتون لیفٹیننٹ جنرل (ر)نگار جوہر ہیں جنہیں صحت کا محکمہ سونپا گیا ہے۔کچھ پرانے چہرے بھی مشاورتی کونسل میں شامل ہیں جو اس سے قبل نگران حکومت میں بھی تھے۔ کونسل کے باقی اراکین کے بارے میں بتایاجارہا ہے کہ وہ بھی اپنے شعبوں کے ماہر ہیں۔ گورنر فیصل کریم کنڈی اور ان کی ایڈوائزری کونسل کو امن وامان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کا ٹاسک دیا گیا ہے جس کیلئے انہیں وفاقی اور سکیورٹی اداروں کی مکمل حمایت اوراعتماد حاصل ہوگا۔
دوسری جانب بارہ اضلاع کیلئے جو سیٹ اَپ تیار کیاگیاہے اسے علاقائی ترقیاتی کونسل کا نام دیاگیا جس کا سیکرٹریٹ بھی قائم کردیاگیا ہے جسے علاقائی ترقیاتی سیکرٹریٹ کا نام دیاگیا ہے۔ اس کونسل کو ایڈیشنل چیف سیکرٹری یحییٰ اخونزادہ لیڈ کریں گے اور ان کے ساتھ ایک ایڈیشنل آئی جی کوتعینات کیاگیا ہے۔ انہیں ماہرین کی ایک ٹیم دی گئی ہے جو قانونی،مالیاتی اوردیگر امور میں ان کی مدد کرے گی۔ یہ کونسل براہ راست وفاق کو جوابدہ ہوگی، ان کے مالی امورکی بھی وہیں سے منظوری لی جائے گی۔ ان بارہ اضلاع میں ہرضلع سے دو دو عمائدین کو لیاجائے گا اوران کی ایک کونسل بنائی جائے گی جسے علاقائی ترقیاتی ونمائندہ کونسل کا نام دیاجائے گا۔ عمائدین پر مشتمل یہ کونسل اپنے اپنے علاقوں میں مسائل کی نشاندہی کرے گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان بارہ اضلاع میں کیوں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے، جس میں توسیع بھی کی جاسکتی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بارہ اضلاع انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ وہ اضلاع ہیں جن میں دہشت گردی کی آگ نہ صرف بھڑک رہی ہے بلکہ اس کے شعلے اور تپش صوبے کے دیگر حصوں اور پنجاب تک محسوس کئے جارہے ہیں۔
ان علاقوں میں فوری طورپر دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں کی اشد ضرورت ہے۔ اگرچہ یہ کارروائیاں پہلے سے جاری ہیں لیکن اس کی سیاسی اونر شپ پہلے نہیں لی جارہی تھی۔ اب نہ صرف وفاق اس کی اونر شپ لینے کوتیار ہے بلکہ فوری مالی اور تکنیکی مسائل بھی حل کئے جائیں گے۔ ان بارہ اضلاع کیلئے الگ سے سیکرٹریٹ قائم کردیاگیا ہے اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری براہ راست وفاق کو رپورٹ کریں گے، پالیسی براہ راست وہیں سے آئے گی۔کیمپ آفس چہکان ڈی آئی خان میں قائم کیاجائے گا۔ قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک نمائندہ کونسل بھی بنائی جارہی ہے جو اپنے علاقے کے مسائل کی نشاندہی کرے گی اورترقیاتی منصوبوں کے شروع کرنے یا پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مدد کرے گی۔ یہ خوش آئند ہے کہ اس سے ترقیاتی منصوبوں کے مالی معاملات میں نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ اصل مسائل کی نشاندہی بھی ہوگی جنہیں بہتر طریقے سے حل کیاجاسکے گا۔
گورنر راج کے بعد گورنر خیبرپختونخوا اور ان کی ایڈوائزری کونسل کتنی تندہی سے کام کرے گی اور یہ سیٹ اَپ کامیاب ہوگا یا نہیں یہ آنے والے چند ماہ میں ہی واضح ہوجائے گا۔فی الوقت معطل وزیراعلیٰ اور سپیکر سمیت پی ٹی آئی کے بارہ کے قریب رہنما حفاظتی تحویل میں ہیں۔ ان کے مستقبل کا فیصلہ بھی چند دنوں میں ہوجائے گا۔شنید ہے کہ کرپشن کے کیسز نکلنے والے ہیں، ثبوت متعلقہ لوگوں کو فراہم کردیئے گئے ہیں، لیکن کیا عوام اس پر یقین کریں گے یا مبینہ کرپشن کی کہانیوں کو سیاسی انتقام سمجھا جائے گا، یہ بھی بڑا اہم سوال ہے جس کاجواب شاید ابھی نہ ملے مگر آنے والے انتخابات میں اس کا اندازہ ہوجائے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments