گھر پر پیڈی کیور، مینی کیور
محفوظ بھی، کم خرچ بھی
خوبصورت، صاف ستھرے ہاتھ اور پاؤں شخصیت میں نکھار پیدا کرتے ہیں۔ ناخنوں کی مناسب صفائی اور دیکھ بھال نہ صرف خوبصورتی کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے ناخنوں اور جلد کی صحت برقرار رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ اکثر پاکستانی خواتین پارلر جانے کے بجائے گھر پر ہی پیڈی کیور اور مینی کیور کرنا پسند کرتی ہیں تاکہ وقت اور پیسے کی بچت ہو سکے۔ تاہم، اگر یہ عمل درست طریقے سے نہ کیا جائے تو جلد پر خراشیں، ناخنوں میں انفیکشن اور انگلیوں کے اردگرد سوزش پیدا ہو سکتی ہے۔ اس لیے گھر پر یہ عمل کرتے وقت صفائی، احتیاط اور درست طریقہ اپنانا ضروری ہے۔مینی کیور ہاتھوں، ہتھیلیوں، انگلیوں اور ناخنوں کی صفائی اور دیکھ بھال کا عمل ہے، جبکہ پیڈی کیور میں پاؤں، ایڑیوں، انگلیوں اور ناخنوں کی صفائی شامل ہوتی ہے۔ ان دونوں طریقوں میں ناخن تراشنا، جلد کو نرم کرنا، مردہ جلد کو احتیاط سے صاف کرنا اور موئسچرائزر لگانا شامل ہو سکتا ہے۔
ضروری سامان
گھر پر مینی کیور اورپیڈی کیور شروع کرنے سے پہلے یہ سامان جمع کر لیں: نیم گرم پانی اور ایک صاف برتن، ہلکا صابن یا نرم کلینزر، صاف تولیہ، نیل کٹر اور نیل فائل، نرم نیل برش، موئسچرائزر یا ہینڈ اینڈ فٹ کریم، پٹرولیم جیلی، صاف جرابیں، اگر پاؤں کی جلد خشک ہو اور ضرورت کے مطابق نیل پالش اور ریموور۔تمام آلات صاف ہونے چاہئیں۔ نیل کٹر اور فائل کسی دوسرے فرد کے ساتھ مشترکہ استعمال نہ کریں، خصوصاً اگر کسی کو جلد یا ناخنوں کا انفیکشن ہو۔
پہلا مرحلہ، ہاتھوں کی صفائی
سب سے پہلے ہاتھ صابن اور صاف پانی سے دھوئیں۔ اگر ناخنوں پر نیل پالش لگی ہو تو اسے مناسب ریموور سے صاف کر لیں۔ ایسیٹون والے ریموور کا بار بار استعمال ناخنوں اور جلد کو خشک کر سکتا ہے، اس لیے اسے محدود رکھیں۔
دوسرا مرحلہ،ناخن نرم کرنا
ایک پیالے میں نیم گرم پانی لیں اور ہاتھ تقریباً پانچ منٹ تک بھگوئیں۔ پانی بہت گرم نہ ہو، کیونکہ اس سے جلد خشک یا متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد ہاتھوں کو تولیے سے نرمی سے خشک کریں۔
تیسرا مرحلہ، ناخن تراشنا
ناخنوں کو مناسب لمبائی میں کاٹیں اور نیل فائل سے کناروں کو ہموار کریں۔ ناخنوں کے اطراف کی جلد یا کٹیکلز کو کاٹنے، چھیلنے یا زور سے پیچھے دھکیلنے سے گریز کریں، کیونکہ یہ جلد انفیکشن سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔
چوتھا مرحلہ، جلد کی نمی برقرار رکھنا
ہاتھوں پر اچھی ہینڈ کریم لگائیں اور انگلیوں کے درمیان بھی نمی برقرار رکھیں۔ ناخنوں اور ان کے اطراف تھوڑی سی پیٹرولیم جیلی لگانے سے خشکی کم ہو سکتی ہے۔ نیل پالش لگانا ضروری نہیں؛ قدرتی ناخن بھی خوبصورت اور صحت مند رہ سکتے ہیں۔
پیڈی کیورپہلا مرحلہ
پاؤں کو صابن اور پانی سے اچھی طرح دھوئیں، خصوصاً انگلیوں کے درمیان۔ اس کے بعد صاف تولیے سے مکمل خشک کریں۔ انگلیوں کے درمیان نمی باقی رہنے سے فنگس پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
دوسرا مرحلہ، پاؤں بھگونا
پاؤں کو نیم گرم پانی میں تقریباً پانچ سے دس منٹ تک بھگوئیں۔ اس سے جلد نرم ہو جاتی ہے اور صفائی آسان ہوتی ہے۔ پانی میں بلیچ، تیزاب، جراثیم کش کیمیکل یا نامعلوم گھریلو اجزا شامل نہ کریں۔
تیسرا مرحلہ، ایڑیوں کی صفائی
اگر ایڑیاں کھردری ہوں تو نرم فٹ فائل یا پمیس اسٹون سے آہستگی سے مردہ جلد صاف کریں۔ بلیڈ، استرا یا تیز دھار آلے سے موٹی جلد کاٹنے کی کوشش نہ کریں۔ زیادہ رگڑنے سے زخم بن سکتے ہیں۔ اگر ایڑیاں پھٹی ہوئی، سرخ یا زخمی ہوں تو رگڑنے سے گریز کریں۔
چوتھا مرحلہ، ناخن تراشنا
پاؤں کے ناخن سیدھے کاٹیں اور کونوں کو بہت زیادہ اندر تک نہ کاٹیں۔ ناخنوں کو بہت چھوٹا کاٹنے سے ان کے جلد میں اندر کی طرف بڑھنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ناخنوں کے نیچے تیز آلہ ڈال کر صفائی نہ کریں۔
پانچواں مرحلہ، کریم لگانا
پاؤں اور ایڑیوں پر موئسچرائزر یا فٹ کریم لگائیں۔ بہت خشک ایڑیوں پر رات کو پیٹرولیم جیلی لگا کر صاف جرابیں پہن سکتی ہیں۔ البتہ انگلیوں کے درمیان زیادہ کریم لگانے سے گریز کریں تاکہ وہاں نمی جمع نہ ہو۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments