مساجد سے محبت، جنت کی بشارت
’’جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے مسجد بناتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کیلئے اُس سے (بھی) زیادہ وسیع گھر تیار فرماتے ہیں‘‘(صحیح بخاری و مسلم) ’’نبی کریمﷺ نے اِس بات کا حکم دیا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں، اُن کی صفائی کی جائے اور اُنہیں معطر رکھا جائے‘‘(ابو دائود، ابن ماجہ)
مساجد کی تعمیرات، اُن کی صفائی ستھرائی، آبادی و شادابی اور اُن کی طرف پیدل چل کر جانے کا بہت زیادہ ثواب قرآنِ مجید اور احادیث مبارکہ میں وارد ہوا ہے۔ حضرت عثمان بن عفانؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سُنا کہ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ (کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے) کیلئے مسجد بناتا ہے تو اللہ تعالیٰ (بھی) اُس شخص کیلئے اُس جیسا گھر جنت میں تیار فرماتے ہیں‘‘۔ ایک اور حدیث میں آتا ہے، نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو شخص اللہ تعالیٰ (کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے) کیلئے مسجد بناتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کیلئے اُس سے (بھی) زیادہ وسیع گھر تیار فرماتے ہیں‘‘(صحیح بخاری: 450، صحیح مسلم:7471)۔ ایک اور حدیث حضرت ابو ذر غفاری ؓ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو شخص اللہ تعالیٰ (کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے) کیلئے مسجد بناتا ہے، اگرچہ وہ پرندے کے گھونسلے جتنی (بہت ہی چھوٹی) ہی کیوں نہ ہو،تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کیلئے جنت میں گھر تیار فرماتے ہیں‘‘۔
حضرت عروہ بن زبیرؒ حضور اقدس ﷺ کے ایک صحابیؓ سے یہ نقل کرتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ ہمیں اپنے محلوں میں مسجدیں تعمیر کرنے، اُنہیں اچھی طرح بنانے اور پاک رکھنے کا حکم دیتے تھے۔ اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ ’’نبی کریمﷺ نے اِس بات کا حکم دیا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں، اُن کی صفائی کی جائے اور اُنہیں معطر رکھا جائے‘‘(ابو دائود:455، ابن ماجہ: 758)۔ حضرت ابن عباس ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت مسجد میں سے کوڑا وغیر ہ اُٹھایا کرتی تھی اُس کا انتقال ہو گیا، اُس کے دفن ہونے کی رسول کریمﷺ کو خبر نہ ہوئی ( جب آپﷺ کو پتہ چلا تو) آپﷺ نے فرمایا ’’جب تم میں سے کوئی مر جایا کرے توتم مجھے اُس کی خبر کیا کرو‘‘، آپﷺ نے اُس کی نمازِ جنازہ پڑھی اور فرمایا ’’میں نے اُسے جنت میں دیکھا کہ وہ مسجد میں سے کوڑا وغیرہ اُٹھا رہی ہے‘‘۔ حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ ہر جمعہ کے دن حضور اکرمﷺ کی مسجد کو خوشبو کی دھونی دیا کرتے تھے۔
حضرت زید بن ثابت ؓ روایت کرتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ پیدل چل رہا تھا۔ ہم نماز کیلئے (مسجد) جا رہے تھے، حضور اکرمﷺ چھوٹے چھوٹے قدم رکھ رہے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا ’’تم جانتے ہو کہ میں کیوں چھوٹے چھوٹے قدم رکھ رہا ہوں؟‘‘ میں نے عرض کیا ،اللہ اور اُس کا رسولﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا ’’جب تک آدمی نماز کی کوشش میں لگا رہتا ہے وہ نماز ہی میں شمار ہوتا ہے‘‘۔ دوسری روایت میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’میں ایسا اِس لئے کر رہا ہوں تاکہ نماز کی کوشش میں میرے قدم زیادہ ہو جائیں‘‘۔ حضرت ثابت ؒ کہتے ہیں ایک مرتبہ میں حضرت انس بن مالکؓ کے ساتھ (بصرہ کے قریب) ’’زاویہ‘‘ نامی بستی میں چلا جارہا تھا کہ اتنے میں اُنہوں نے اذان کی آواز سنی تو آواز سنتے ہی چھوٹے چھوٹے قدم رکھنے شروع کر دیئے، یہا ں تک میں (اُن کے ساتھ) مسجد میں داخل ہوگیا۔ پھرکہا ’’ اے ثابت! کیا تم جانتے ہو کہ میں اِس طرح کیوں چلا؟ تاکہ نماز کی تلاش میں میرے قدم زیادہ ہو جائیں‘‘۔
قبیلہ بنوطے کے ایک صاحب اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود ؓمسجد جانے کیلئے گھر سے نکلے اور تیز تیز چلنے لگے ، تو کسی نے اُن سے کہا آپؓ تو اِس طرح چلنے سے منع کرتے ہیں اور خود اِس طرح چل رہے ہیں؟۔ اُنہوں نے کہا میں چاہتا ہوں کہ مجھے نماز کا ابتدائی کنارہ یعنی ’’تکبیر اُولیٰ‘‘ مل جائے (معجم کبیرللطبرانی)۔ حضرت سلمہ بن کہیل ؒ کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعودؓ نماز کیلئے تیزی سے چل رہے تھے ، کسی نے اُن سے اِس کی وجہ پوچھی تو کہا جن چیزوں کی طرف تم تیزی سے چلتے ہو کیا اُن میں سے نماز اِس کی سب سے زیادہ حقدار نہیں ہے؟۔
حضرت ابو قتادہؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ اتنے میں حضور اکرمﷺ نے اپنے پیچھے کچھ لوگوں کا شور سنا، جب آپﷺ نماز پوری کرچکے تو فرمایا ’’تمہیں کیا ہوا؟‘‘۔ اُن لوگوں نے عرض کیا،ہم نماز کیلئے تیزی سے چل کر آرہے تھے۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا ’’ایسا نہ کرو بلکہ آرام سے چلو اور جتنی نماز مل جائے اُسے پڑھ لو اور جتنی رہ جائے اُسے قضا کرلو‘‘۔
حضرت حسن مجتبیٰ ؓسے مسجد میں دوپہر کو آرام کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؓ نے فرمایا ’’میں نے حضرت عثمان بن عفانؓ کو زمانہ خلافت میں مسجد میں دوپہر کو آرام کرتے ہوئے دیکھا ہے‘‘(سنن بیہقی)۔ حضرت ابن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم چند نوجوان حضورِ اقدسﷺ کے زمانے میں رات کو مسجد میں سویا کرتے تھے۔ امام زہری ؒبیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے کہا جب کوئی آدمی زیادہ دیر تک مسجد میں بیٹھے تو اُس کیلئے کمر سیدھی کرنے کیلئے لیٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیوں کہ اِس طرح لیٹنے سے اُس کا دِل نہیں اُکتائے گا۔ حضرت عطا ؒ کہتے ہیں حضرت یعلیٰ بن اُمیہ ؓ کو حضور اقدسﷺ کی صحبت حاصل تھی، وہ جب تھوڑی دیر کیلئے بھی مسجد میں بیٹھا کرتے تو اعتکاف کی نیت کر لیا کرتے۔
حضرت ابو بکر صدیق ؓ روایت کرتے ہیں جب حضورِ اکرم ﷺ ’’خیبر‘‘ فتح کرچکے تو لوگ لہسن پر ٹوٹ پڑے اور اُسے خوب کھانے لگے، اِس پر حضور ﷺ نے فرمایا ’’جو یہ بودار سبزی کھائے وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے‘‘۔ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق ؓ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے، آپؓ نے خطبے میں کہا،اے لوگو! تم یہ دو بدبودار چیزیں پیاز اور لہسن کھاتے ہو، حالانکہ میں نے حضورِ اقدسﷺ کو دیکھا ہے کہ جب حضورﷺ کو مسجد میں کسی سے اِن دونوں کی بو محسوس ہوتی تو آپﷺ کے فرمانے پر اُسے ’’بقیع‘‘ کی طرف نکال دیا جاتا، لہٰذا جو اِنہیں کھانا چاہتا ہے وہ اِنہیں پکاکر اِن کی بُو ختم کرلے۔ حضرت ابن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ جب بھی مسجد تشریف لے جاتے تو اُونچی آواز سے یہ اعلان کرتے، مسجد میں شور کرنے سے بچو۔ دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عمر ؓ بلند آواز سے کہتے مسجد میں بیکار باتوں سے بچو۔ حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے مسجد میں شور کرنے سے منع کیااور کہاہماری اِس مسجد میں آواز بلند نہ کی جائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح مساجد کی تعمیر کرنا، آبادو شاداب رکھنا ، صفائی و ستھرائی کا خیال کرنا ، خوشبوؤں کی دھونی دینا، اپنے اندر عظیم ثواب اور خوش قسمتی رکھتا ہے تو اسی طرح مساجد کی خستہ حالی و بدحالی سے صرفِ نظر کرنا، اُن کی ویرانی و سنسانی سے پہلو تہی برتنا، طہارت و نظافت سے لاپرواہی اختیار کرنا، اُن کی فضاؤں کو بدبودار چیزوں سے آلودہ کرنا بھی اپنے اندر بڑا گناہ اور بدبختی رکھتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments