حکمرانی ایک عظیم امانت!

تحریر : مفتی ڈاکٹرمحمدکریم خان


احادیث نبویﷺ کی روشنی میں حقوقِ رعایا اور اعلیٰ قیادت کے رہنما اصول مسلمان پر سننا اور حکم بجا لانا واجب ہے خواہ وہ کام اسے پسند ہو یا نہ پسند، جب تک کہ اسے گناہ کا حکم نہ دیا جائے(صحیح مسلم) خبردار ! تم سب راعی ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا(صحیح بخاری)

اسلام ایک جامع ضابط حیات ہے، جو انفرادی و اجتماعی زندگی کے ساتھ نظامِ حکومت و ریاست کیلئے بھی رہنما اصول فراہم کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں منصبِ حکمرانی محض اقتدار و اختیار نہیں، بلکہ ایک عظیم امانت ہے، جس کی بنیاد خوفِ خدا، عدل و انصاف، امانت و دیانت اوررعایا کی خیر خواہی  پر ہے۔ رسول اللہﷺ نے اپنے فرامین مبارکہ میں حکمرانوں کے فرائض و حقوق، عادل حکمران کاانعام و ظالم قیادت کا انجام، وزرا و مشیروں کی ذمہ داریوں اور عوام کے حقوق و فرائض کو واضح فرمایا ہے۔ اسی تناظر میں شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی (1551ء۔1642ء ) نے اپنا رسالہ ’’الجواہر القیادۃ‘‘ (اعلیٰ قیادت) مغل فرمانروا شاہ جہاں کی خدمت میں غالباً( 1630ء) میں تحفتاً پیش کیا، جس میں احادیث نبویہ کی روشنی میں حکمرانی کے بنیادی اصولوں اور عوام کیلئے رہنما ہدایات کو جمع کیا گیا ہے۔ زیر نظر مضمون میں اسی رسالے سے منتخب احادیث کی روشنی میں حکمرانی کے اہم نبوی اصولوں کو اختصار کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔

 اطاعت حکمران کی شرعی حدودوقیود

اسلام میں حکمرانوں کی جائز امور میں اطاعت اور نظم اجتماعی کا تحفظ ضروری ہے، تاہم یہ اطاعت شریعت کے تابع ہے، گناہ کے کاموں میں کسی کی فرمانبرداری جائز نہیں۔ ذیل کی احادیث اطاعتِ حکمران کے شرعی اصول و حدودکو واضح کرتی ہیں۔

حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی، جس نے میرے مقرر کردہ امیر(حکمران)کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی ، امام ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے پیچھے جہاد کیا جائے گا اور اس کی آڑ میں پنا ہ لی جائے گی، اگر وہ خوف خدا کا حکم دے اور انصاف کرے تو اس کیلئے اس سبب سے اجر و ثواب ہے اور اگر وہ اس کے بغیر کہے تو اس کام کی وجہ سے اس پر گناہ ہے۔(صحیح بخاری: 2957)

حضرت اُم الحصینؓسے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا : اگر تم پر ایسا ناک اور کان کٹا غلام امیر بنا دیا جائے، جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ تمہاری قیادت کرے ،تو تم اس کا حکم سنو اور اطاعت کرو(صحیح مسلم: 1838)۔حضرت ابن عمرؓسے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: مسلمان پر سننا اور حکم بجا لانا واجب ہے خواہ وہ کام اسے پسند ہو یا نہ پسند، جب تک کہ اسے گناہ کا حکم نہ دیا جائے، پس جب اسے گناہ کا حکم دیا جائے تو اس حکم کا نہ تو قبول کرنا لازم ہے اورنہ ہی اس کی تعمیل ضروری ہے(صحیح مسلم:1839)۔

حضرت دائل بن حجرؓ سے روایت ہے کہ حضرت سلمہ بن یزید جعفیؓ نے  رسول اللہ ﷺ سے پوچھا :کہ اے اللہ کے نبی! یہ فرمائیں کہ اگر ہم پر ایسے امراء مسلط ہو جائیں جو ہم سے اپنا حق مانگیں اور ہمیں ہمارا حق نہ دیں، تو آپﷺ کا ہمارے لیے کیا ارشاد ہے ؟ فرمایا: تم سنو اور اطاعت کرو، کیونکہ جس چیز کے وہ مکلف ہیں، وہ ان کے ذمہ اور تم جس چیز کے مکلف ہو وہ تمہارے ذمہ ہے۔ (صحیح مسلم:1846)

وحدتِ جماعت اور خروج سے اجتناب

اسلام میں وحدت جماعت کی پاسداری، اجتماعی نظم کا تحفظ اور فتنہ و فساد سے اجتناب کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ رسول اللہﷺ نے اختلافات اور حکمرانوں کی ناپسندیدہ روش کے باوجود صبر، عہد کی پاسداری اور خونِ مسلم کی حرمت کی تاکید فرمائی ہے۔ ذیل کی احادیثِ مبارکہ انہی اصولوں اور شرعی حدود کو واضح کرتی ہیں۔

حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے امیر سے کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے، تو صبر کرے، کیونکہ جو شخص بھی جماعت سے ایک بالشت بھر جدا ہوا، پھر مر گیاتو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ (صحیح مسلم: 1849)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہﷺ نے فرمایا : عنقریب تم ہمارے بعد دوسروں کو ترجیح دینا اور ایسے امور دیکھو گے جن کا تم انکار کرو گے ، صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! پھر آپﷺ ہمیں کیا حکم دیتے ہو ؟ فرمایا: ان کا حق انہیں ادا کرو اور اپنا حق اللہ تعالیٰ سے مانگو۔(صحیح بخاری:7052)

حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا؟ جب ہمارے بعد حکام اسی مال کو اپنے لیے مختص کر لیں گے، میں نے عرض کیا: قسم اس ذات! کی جس نے آپﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ،میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھوں گا، پھر وہ تلوار اس وقت تک چلاؤں گا کہ آپﷺ کی خدمت میں حاضرہو جاؤں، فرمایا: کیا اس سے بہتر چیز کی طرف تمہاری راہنمائی نہ کروں ؟ تم صبر کرنا یہاں تک کہ ہم سے مل جانا۔(ابوداؤد:4759)

حریص کوعہدہ نہ دینے کاحکم

اسلام میں منصبِ حکومت و قیادت کو اعزاز کے بجائے ایک عظیم امانت اور بھاری ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے عہدے کی حرص، طلبِ اقتدار اور نااہل افراد کی تقرری سے منع فرمایا، تاکہ اختیارات ذاتی مفاد کے بجائے عدل و انصاف اور خدمتِ خلق کیلئے استعمال ہوں۔حضرت عبدالرحمن بن سمرہ ؓسے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہﷺنے فرمایا : تم حکومت طلب نہ کرو ، کیونکہ اگر مانگنے پر تمہیں حکومت دی گئی تو تم اس کے سپرد کر دیئے جاؤگے ،اور اگربن مانگے تمہیں حکومت دی گئی ،تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی۔ (صحیح مسلم:1652)

ہرشخص کی جوابدہی

ہر منصب اور ذمہ داری ایک امانت ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہونا پڑے گا۔ خواہ کوئی حاکم ہو، سربراہِ خاندان یا کسی ادارے کا ذمہ دار، ہر شخص اپنے دائرہ اختیار میں ماتحتوں کے حقوق، فلاح و بہبود اور عدل و انصاف کا پابند ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: خبردار ! تم سب راعی ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا، پس بادشاہ جو لوگوں کا سربراہ ہے، وہ محافظ ہے، اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا، مرد اپنے گھر والوں کا نگران ہے، اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا ، عورت اپنے شوہر کے گھراور اس کی اولاد کی محافظ ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ مرد کا غلام اپنے آقا کے مال کا محافظ ہے، اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ خبردار ! تم سب محافظ ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا(صحیح بخاری:7138)۔

حضرت معقل بن یسارؓسے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص مسلمان رعایا کا والی ہو اور ان کے حق میں خیانت کرتے ہوئے مر جائے، تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام فرما دے گا(صحیح مسلم: 142)۔ حضرت عائذ بن عمر و ؓسے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ فرمایا: بد ترین حکمران وہ ہیں جو ظلم کرتے ہیں۔(صحیح مسلم: 1830)

عادل حکمران کامقام

اسلام میں عدل و انصاف کو حکمرانی کی اساس اور رعایا کے ساتھ حسنِ سلوک کو حکمران کی بنیادی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریمﷺ نے عادل حکمرانوں کیلئے عظیم اجر و فضیلت بیان فرمائی اور ظلم، حق تلفی اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے اجتناب کی تعلیم دی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا کی : اے اللہ ! جو شخص میری امت کے کسی کام کا والی بنا یا گیا، پھر اس نے انہیں مشقت میں ڈالا، تو اسے مشقت میں ڈال اور جو شخص میری اُمت کے کسی کام کا والی بنایا گیا ،پھر اس نے ان پر مہربانی کی ، تواس پر مہربانی فرما۔(صحیح مسلم:1828)

حضرت عبداللہ بن عمر وبن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: عادل حکمران اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نور کے منبروں پر ہوں گے، رحمت کاملہ والے رب کے دائیں ہاتھ کی جانب، اور اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں، وہ حکمران جو اپنے فیصلے اپنے اہل اور ا س چیز میں عدل کرتے ہیں، جس کے وہ والی ہیں۔(صحیح مسلم:1827)

ظالم حکمران کاانجام

رسول اللہﷺ نے حکمرانوں کو ظلم، خیانت اور عوامی ضروریات سے غفلت برتنے پر سخت وعید سنائی اور عدل و امانت کی پابندی کی تاکید فرمائی۔ ذیل کی احادیث مبارکہ ظالم حکمران کے انجام اور اس کی ذمہ داریوں سے غفلت کے سنگین نتائج کو واضح کرتی ہیں۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ جو شخص دس افراد کا بھی حاکم ہو، قیامت کے دن اسے اس حال میں لایا جائے گا کہ اس کی گردن میں طوق ہو گا، یہاں تک کہ انصاف اسے رہا ئی دلا دے یا ظلم اسے ہلاک کر دے۔(مجمع الزوائد: 9045 )

وزیروں،مشیروں اور

سیکرٹریوں کی آزمائش

اسلامی نظامِ حکمرانی میں وزیروں، مشیروں اور دیگر معاونین اقتدار کا کردار نہایت اہم اور ذمہ داری پر مبنی ہے۔ ان کیلئے ضروری ہے کہ وہ حکمرانوں کی درست رہنمائی کریں، حق و انصاف کا ساتھ دیں اور اپنے اختیارات کو ناجائز مفادات کیلئے استعمال کرنے سے اجتناب کریں۔حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جس شخص نے بادیہ نشینی اختیار کی وہ درشت خو ہو گیا، جو شخص ہمیشہ شکار کے پیچھے دوڑتا ہے غافل ہو گیا، اور جو باد شاہ کے پاس آیا وہ فتنہ اور بلا میں ڈالا گیا۔ (سنن ترمذی: 2258)

ظالم حکمران کے سامنے 

کلمہ حق کہنے کااجر

ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا، حق و انصاف کی حمایت کرنا اور حکمرانوں کو خیر خواہی کے ساتھ درست رہنمائی فراہم کرنا بڑی فضیلت کا حامل ہے۔ رسول اللہﷺ نے ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنے کو افضل جہاد قرار دیا، جبکہ بدگمانی، تہمت اور لوگوں کے عیوب کی تلاش سے منع فرمایا۔ حضرت ابو سعیدؓسے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: تحقیق قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب اور اس کی بارگاہ میں قریب ترین مجلس والا، عادل باد شاہ ہو گا اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ نا پسند اور سب سے زیادہ سخت عذاب والا،اور ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ بعید مجلس والا، ظالم بادشاہ ہو گا۔(جامع ترمذی: 1329) ان ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: افضل جہاد اس شخص کا قول ہے، جو ظالم باد شاہ کے سامنے کلمہ حق کہے۔ (ابوداؤد:4344)

جیسے عوام ویسے حکمران

اسلامی تعلیمات انسانوں کے اعمال، اخلاق اور اجتماعی رویّوں کو معاشرے کے حالات سے مربوط کرتی ہیں۔ زیرِ نظر روایات میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ عوام کی دینی و اخلاقی اصلاح، اطاعتِ الٰہی اور رجوع الی اللہ معاشرتی بہتری کے اہم اسباب ہیں۔ حضرت یحییٰ بن ہاشم یونس بن ابی اسحاق سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جیسے تم ہو گے ویسے ہی لوگ تم پر حاکم بنائے جائیں گے۔ (مشکوٰۃ المصابیح: 3717)

حکمرانوں کیلئے حضرت 

عمرفاروقؓ کی ہدایات

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ اپنے حکام کو بھیجتے تو ان کو ان شرائط کا پابند کرتے تھے : تم ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہونا،چھناہواآٹا نہ کھانا، باریک اور عمدہ کپڑا نہ پہننا اور لوگوں کی حاجتوں کے آگے اپنے دروازے بند نہ کرنا۔ اگر تم نے ان میں سے کوئی کام کیا تو تمہیں سزا ملے گی، پھر انہیں الوداع کہنے کیلئے ساتھ چلتے۔ (مشکوٰۃ المصابیح:3730) (الجواہر القیادۃ ، ص11، 12 ) 

احادیث مبارکہ کے مطالعہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اسلامی تصورِ حکمرانی میں اقتدار ذاتی منفعت کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک عظیم شرعی امانت اور جواب دہ ذمہ داری ہے۔ حکمرانوں کیلئے عدل و انصاف، رعایا کی خدمت، حق داروں کو ان کے حقوق کی ادائیگی اور ظلم و ناانصافی سے اجتناب لازم ہے، جبکہ وزرا و مشیران پر حق گوئی، خیر خواہی اور دیانت داری کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اسی طرح عوام کیلئے جائز امور میں اطاعت، عہد کی پاسداری، اتحادِ امت اور فتنہ و فساد سے اجتناب ضروری ہے، تاہم معصیت میں کسی کی اطاعت جائز نہیں۔ معاشرے کی حقیقی اصلاح حکمرانوں اور عوام، دونوں کی اخلاقی و دینی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے ممکن ہے۔ اگر حکمران خوفِ خدا اور عدل کو اپنا شعار بنائیں اور عوام اصلاحِ نفس و اعمال کی طرف متوجہ ہوں، تو ایک پرامن، مبنی برانصاف اور فلاحی معاشرے کی تشکیل ممکن ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

عمرہ کی فضیلت روحانی برکات

’’اور اللہ کیلئے حج اور عمرہ پورا کرو‘‘ (سورۃ البقرہ:196) عمرہ صرف سفر نہیں، توبہ، عبادت اور اصلاحِ زندگی کا ایک عظیم موقع ہے ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے، اور حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں(صحیح بخاری)

مساجد سے محبت، جنت کی بشارت

’’جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے مسجد بناتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کیلئے اُس سے (بھی) زیادہ وسیع گھر تیار فرماتے ہیں‘‘(صحیح بخاری و مسلم) ’’نبی کریمﷺ نے اِس بات کا حکم دیا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں، اُن کی صفائی کی جائے اور اُنہیں معطر رکھا جائے‘‘(ابو دائود، ابن ماجہ)

مسائل اور ان کا حل

لے پالک شرعاً وارث نہیں ہوتا سوال: کیا قرآن وسنت کی روشنی میں لے پالک کو اپنی جائیداد سے حصہ دینا مناسب ہے؟اگر دے دیا ہو اور بھائیوں کو محروم کیا گیا ہو اور بھائی اعتراض کر رہے ہوں تو کیا حکم ہے؟ جبکہ قانون یہ ہے کہ بیٹا نہ ہو تو بیٹیوں کو حصہ دے کر باقی جائیداد بھائیوں کو جاتی ہے، اس طرح بھائیوں کو بھی لاوارث کیا گیا، شریعت کے مطابق مسئلہ کا حل بتا دیں۔ (عرفان، شیخوپورہ)

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا مستقبل ؟

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے 13 سالہ حکومتی تسلسل کا خاتمہ ہو گیا۔ پاکستان تحریک انصاف نے ایسے سیاسی فیصلوں کے باعث اپنے آخری مورچے کو بھی وفاق کے حوالے کر دیا ہے۔

کے پی میں آئینی اقدامات، قومی سیاست پر اثرات

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے اثرات قومی سیاست پر نظر آ رہے ہیں۔ حکومت مذکورہ اقدامات کی بنیادی وجہ خیبر پختونخوا کی سابق حکومت کے رویے خصوصاً دہشت گردی کے سدباب میں عدم سنجیدگی کو قرار دیتی ہے۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ سندھ میں بھی…

ملک میں ہر طرف خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا چرچا ہے‘حکومت کی بھی ساری توجہ اسی طرف ہے البتہ ایم کیو ایم کے سینئر رہنما فاروق ستار نے پیپلز پارٹی کو مخاطب کر تے ہوئے کہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ سندھ میں بھی صدرمملکت آصف علی زرداری کے دستخط سے گورنر راج لگ جائے۔