اُردوکا آغاز:کب ، کہاں اور کیسے ہوا؟
ارود زبان کی پیدائش کب، کہاں اور کیسے ہوئی اس سلسلے میں لسانیات کے عالم اور ماہرین کے درمیان کافی اختلافات پائے جاتے ہیں۔
ماہرین ِلسانیات گارساں دتاسی،جارج گریسن،جیمز اور ڈاکٹر سنیتی کمار چٹرجی کی آرا من و عن قبول نہیں کی جا سکتی کیونکہ تحقیقی کام نے اس کی ایسی کڑیاں پالی ہیں جو ان ماہرین لسانیات کی تحقیق اور رائے سے آگے نکل گئی ہیں۔ پھر بھی مختلف محققین کی آراکو مدنظر رکھتے ہوئے کسی خاص نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے۔اُردو کی ابتدا کے متعلق میر امن سے جمیل جالبی تک محققین کی طویل فہرست ہے جنہوں نے اپنے اپنے طور پر اُردو کی جائے پیدائش اور سنہ پیدائش مقرر کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ ان میں محمد حسین آزاد، سید سلیمان ندوی، نصیرالدین ہاشمی، حافظ محمود شیرانی، اختر اورینوی،محی الدین قادری ، شوکت سبزواری اور مسعود حسین خاں کے نظریے توجہ کے مستحق ہیں۔آب حیات میں مولانا محمد حسین آزاد نے اُردو کی ابتدا سلطان غیاث الدین بلبن کے عہد سے بتائی ہے اور اردو کا ماخذ برج بھاشا کو بتایا ہے۔جبکہ سید سلیمان ندوی کا یہ خیال ہے کہ اردو کی ابتداباضابطہ طور پر ہندوستان میں محمد بن قاسم کے حملہ سندھ کے بعد ہوئی۔ چونکہ مسلمان فاتح عربی النسل تھے اور جو زبان ساتھ لے کر آئے تھے وہ عربی تھی اور تقریباً 300 سو سال تک وادیٔ سندھ ہی میں مقیم ر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سید سلیمان ندوی اپنی کتاب ’’نقوشِ سلیمانی’’ میں اُردو کی جائے پیدائش سندھ قرار دیتے ہیں۔لیکن لسانیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تواس بیان میں صداقت نہ کے برابر ہے ۔
دسویں صدی کے ربع آخر میں دوسری بار غزنی کے بادشاہ امیر سبکتگین کی سربراہی میں درہ خیبر سے ہو کر پنجاب میں وارد ہوئے۔امیر سبکتگین کی وفات997ء کے بعد اس کے فرزند سلطان محمود غزنوی کے پنجاب اور ہندوستان پر پے در پے حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔دھیرے دھیرے مسلمان پنجاب میں پھیل گئے۔ یہ لوگ اپنے ساتھ فارسی زبان لے کر آئے تھے،ان میں سے کچھ ترک نژاد بھی تھے،خود سلطان بھی ترکی النسل تھا‘ اس لئے ان میں سے کچھ کی زبان ترکی بھی تھی۔ دوسو سال تک مسلمانوں نے پنجاب میں حکومت کی اور گہرے روابط سماج سے پیدا کئے۔اسی بنیاد پر محمود خاں شیرانی نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ زبان جسے ہم اُردو کہتے ہیں پنجاب میں پیدا ہوئی اور دہلی پہنچی۔حافظ محمود شیرانی نے بعض تاریخی شواہد اور دلائل بھی پیش کئے ہیں،پنجابی اُردو اور دکنی اُردو کی مشترک لسانی خصوصیات کا بھی ذکر کیااور اس نتیجہ پر پہنچے کہ اُردو اور پنجابی کی جائے ولادت ایک ہی مقام ہے۔نصیرالدین ہاشمی اُردو کی تلاش دکن کی سنگلاخ وادیوں میں کرتے ہیں تو ڈاکٹر شوکت سبزواری کے مطابق اُردو کھڑی بولی یا ہندوستانی کی ترقی یافتہ شکل ہے ڈاکٹر مسعود حسین خاں شیرانی سے اختلاف کرتے ہیں۔کہتے ہیں،مسلمانوں کے ساتھ پنجاب سے جو زبان آئی وہ دہلی کے گرد ونواح میں بولی جانے والی کھڑی بولی میں مدغم ہو گئی اور ہریانوی کے ساتھ کھڑی بولی کاجو آمیزہ تیار ہوا وہی اردو زبان کے اولین نقوش ٹھہرے۔اختر اورینوی کہتے ہیں کہ اردو کسی مخصوص زمانے اور جغرافیائی خطے میں پیدا نہیں ہوئی بلکہ یہ مختلف تاریخی ادوار میں ہندوستان کے مختلف گوشوں میں الگ الگ علاقائی زبانوں سے اثر انداز ہو کر آزادانہ طور پر پروان چڑھی اور ایک مخصوص تاریخی موڑپر سارے ملک کی زبان بن گئی۔
ماہرین لسانیات کے ان نظریات کی روشنی میں ہم اس نتیجہ کو اخذ کرسکتے ہیں کہ اس بات پر بیشتر لسانیات کے عالم اور ماہر متفق ہیں کہ اردو شمالی ہند میں پیدا ہوئی ا ور شمال سے ہی جنوب (دکن) گئی۔اس زبان کو ادبی قالب میں ڈھالنے والے جنوبی ہند کے وہ مسلمان تھے جو محمد بن تغلق کے ہمراہ ہجرت کر کے دولت آباد(دیوگیری) گئے تھے۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ تیرہویں صدی عیسوی میں ریختہ مبہم شکل میں موجود تھی اور امیر خسروکے کلام میں اس کی جھلک ملتی ہے۔ اُردو کی ابتدا کے متعلق ابھی تحقیق کی اور بھی منزلیں ہیں جہاں تک لسانیات کے عالم کو جانا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments