سبز مشن
کیا تم نے غور کیا ہے کہ آسمان کا رنگ کتنا عجیب لگ رہا ہے ؟ زین نے دور پھیلے شہر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
’’ ہاں ‘‘ عائشہ بولی ۔ امی کہتی ہیں کہ جب فضا میں آلودگی بڑھ جائے تو سورج کی روشنی بھی دھندلی لگنے لگتی ہے ۔
عمران نے اپنے بیگ سے ایک نوٹ بک نکالی ۔ میں نے راستے میں مشاہدہ کیا ہے کہ یہاں پرندے بھی بہت کم نظر آ رہے ہیں ۔ شاید ان کے مسکن ختم ہوگئے ہیں ۔
چھوٹی حنا نے افسوس سے کہا : پھر تو یہ جگہ پہلے بہت خوب صورت ہوگی ۔
’’ بالکل ! ‘‘ زین نے جواب دیا ۔ یہاں کبھی گھنے جنگل ، صاف ندیاں اور بے شمار جانور ہوا کرتے تھے ۔
اتنے میں عمران کو زمین پر ایک چھوٹا سا سبز پودا نظر آیا ۔
’’ دیکھو ! ‘‘ وہ خوشی سے بولا : ابھی اُمید باقی ہے ۔
عائشہ نے کہا : اگر ایک ننھا پودا اتنی مشکل حالت میں زندہ رہ سکتا ہے تو انسان بھی ماحول کو دوبارہ بہتر بنا سکتا ہے ۔
حنا نے پوچھا : ہم کیا کر سکتے ہیں ؟
زین نے مسکراتے ہوئے جواب دیا : درخت لگائیں، پانی ضائع نہ کریں، پلاسٹک کم استعمال کریں اور دوسروں کو بھی یہ پیغام دیں ۔
چاروں دوستوں نے وہیں ایک پودا لگایا ۔ دور دھوئیں سے گھرا شہر خاموش کھڑا تھا ، مگر اس خاموشی میں ایک نئی تبدیلی کی آہٹ سنائی دے رہی تھی ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments