کتاب دوستی
آئینہ جماعت ہفتم کی ہونہار طالبہ تھی۔ ہر کام کو ہوشیاری سے کرنا اس کی زندگی کا خاصا تھا۔ وہ اپنی ٹیچرز کا بے حد احترام کرتی تھی لیکن اس میں ایک برائی تھی کہ وہ موبائل بہت زیادہ استعمال کرتی تھی۔
اکثر و بیشتر اپنے ہوم ورک میں بھی چیٹ جی پی ٹی اور اے آئی سے مدد لیتی۔اس طرح جہاں اس کیلئے آسانیاں ہوتیں وہیں یہ ان سب کی بہت محتاج بھی ہوتی چلی گئی۔
ایک مرتبہ آئینہ کے سکول میں ایک نئی اردو کی ٹیچر آئیں۔ جن کا نام نور النساء تھا۔ وہ آئینہ کی کلاس انچارج ہونے کے ساتھ ساتھ اردو کی ٹیچر بھی تھیں۔ مس نور النساء کی شخصیت سارے سکول میں بہت بھا لینے والی تھی۔وہ نرم گفتار ہونے کے ساتھ ساتھ طالب علموں سے بہت ہی محبت رکھنے والی تھیں۔ سارا سکول مس نور النساء کا معترف تھا۔
اردو ادب کی استاد اور نہایت ہی مشفقانہ رویہ نے آئینہ اور اس کے تمام کلاس فیلوز کو بہت متاثر کیا۔ جب بھی مس پڑھاتیں سب بچے بہت ہی توجہ سے ان کا لیکچر سنتے ۔
مس دورانِ لیکچر اکثر و بیشتر سوالات پوچھتیں تو آئینہ اور اس کے کلاس فیلوز فوری جوابات دینے کی کوشش کرتیں اور مس جب بھی ہوم ورک دیتیں تو آئینہ کا ہوم ورک سب سے زیادہ منفرد ہوتا۔ مس اس سے سوالات اور جملوں کی بنت کاری کا پوچھتیں تو آئینہ کافی حد تک جواب دیتی مگر اس کے جوابات عموماً تسلی بخش نہ ہوتے۔
ایک مرتبہ مس نور النساء اردو میں ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کا مضمون پڑھا رہی تھیں کہ آئینہ سمیت بہت سے طلباء نے ان کی شخصیت سے متعلق سوالات کے جواب ٹھیک نہ دیئے اور نہ ہی اشعار ٹھیک پڑھے۔ مس نے پوچھا ’’آپ سب بچوں نے ہوم ورک میں اتنے مشکل اشعار مضامین کے ساتھ لکھے ہوتے ہیں اور جملے بھی کمال کے ہوتے ہیں۔ تو یہاں کیوں نہیں مجھے ٹھیک سے جوابات دے رہے‘‘۔
مس نے قدرے غصے میں کہا تو آئینہ بولی ’’مس چیٹ جی پی ٹی سے ہم اپنا ہوم ورک کروالیتے ہیں۔ سارے پرابلمز کا حل اسی کے پاس تو ہے‘‘۔ اس پر مس دماغ کی طرف اشارہ کر کے بولیں مسائل کا حل یہاں ہے۔ دیکھو بچوں اگر آپ سب چیٹ جی پی ٹی سے مدد لو گے تو اپنے دماغوں کا استعمال کیسے کرو گے۔ آخر یہ ایک سافٹ وئیر ہے، انسان کی بنائی ہوئی چیز، اس میں غلطی بھی ہوسکتی ہے۔ اس کا بہت زیادہ استعمال آپ کے دماغوں اور تخلیقی صلاحیتوں کو کھا جائے گا۔ اگر آپ سب کا انحصار اسی پر رہا تو اللہ کا دیا ہوا دماغ،عقل و شعور جیسی نعمتوں سے آپ غافل ہوجائیں گے۔ ماضی میں ہم بھی آپ جیسے ہی تھے، سکول جاتے اور پڑھتے تھے، ہم لوگ کتابیں پڑھتے تھے اور ہماری کری ایٹیو ایکٹیوٹی (Creative Activity)نصابی اور ہم نصابی کتابوں سے ہی ہوجاتی تھی۔
مس نے سمجھاتے ہوئے کہا کہ کتابیں انسان کی دوست ہیں۔ان سے نہ نظر خراب ہوتی ہے اور نہ چکرآتے ہیں۔سہولیات سے فائدہ ضرور اٹھائیں مگر اپنی حقیقی صلاحیتوں کو سمجھتے ہوئے کتابیں خریدنے اور پڑھنے کا شوق بھی پیدا کریں۔
مس کے اس طرح سمجھانے پر سب بچے غوروفکر میں لگ گئے۔ خود آئینہ بھی مس کی بات کو سمجھ رہی تھی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ اس کو کاپی پیسٹ کرنے کی عادت پڑگئی ہے اور وہ خود سوچنے کی عادت سے محروم ہوچکی ہے۔
آئینہ اور اس کے سب کلاس فیلوز ہمیشہ مس نور النساء کے پاس کوئی نہ کوئی کتاب ہی دیکھتے۔ جس کو وہ اپنے فارغ وقت میں پڑھتی رہتیں۔ مس نے اپنی یہ عادت بھی سب بچوں کے اندر ڈالی۔ جس سے آئینہ اور باقی بچوں میں کتابیں خرید کر پڑھنے کا شوق پیدا ہوا اورانہوں نے یہ بات سمجھ لی کہ کتاب ہمیشہ سے ہی انسان کی دوست رہی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments