اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش ،کتنی سنجیدہ؟

تحریر : سلمان غنی


وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کا تعلق دہشت گردی کے خلاف سیاسی یکجہتی اور ہم آہنگی سے ہے ۔

سیاسی محاذ پر مذاکرات کی باتیں دو طرفہ ہوتی نظر آ رہی ہیں اور یقینا سیاسی ٹھہرائو اور ملک میں استحکام کیلئے ڈائیلاگ ہی بہتر آپشن ہے اور اسے عمل میں لا کر بہت کچھ درست کیا جا سکتا ہے اور اس طرح سیاسی معاملات بھی احسن طریقے سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ جہاں تک دہشت گردی کے خاتمہ پر اتفاق رائے کیلئے مذاکرات کا سوال ہے تو یہ واضح ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی وجہ بھی یہ تھی کہ وہاں کی حکومت نے اس ضمن میں وفاق سے مل کر چلنے سے انکار کیا۔ ریاست میں ایسی سیاست کسی طور قبول نہیں کی جا سکتی اس لئے کہ دہشت گردی کا مسئلہ وفاق یا صوبوں کا نہیں ریاست اور اس کی بقا و سلامتی کا مسئلہ ہے۔ پشاور میں سانحہ اے پی ایس سکول کے بعد دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے عنوان سے قومی عزم سامنے آیا تھا جس میں بنیادی کردار تو سکیورٹی فورسز کا تھا مگر شدت پسندی اور انتہا پسندی کے خاتمہ اور سہولت کاروں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کیلئے صوبائی حکومتوں کو بھی ذمہ داریاں تفویض کی گئیں  تھیں ۔سکیورٹی فورسز نے تو بہت حد تک نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کیا مگر صوبائی حکومتوں کی کارکردگی اس حوالہ سے  تسلی بخش ثابت نہ ہوئی اوردہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومتوں سے جس تعاون کی ضرورت تھی وہ ممکن نہ ہوسکا۔

خیبر پختونخوا کی حکومت جو اپنے سیاسی ایجنڈ پر گامزن اور وفاق پر دبائو کیلئے متحرک تھی، آپریشنز میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون سے انکاری رہی اور اس کا نتیجہ بالآخر اس حکومت کی معطلی کی صورت میں سامنے آیا ۔ اب جب خیبر پختونخوا کی حکومت بھی ہاتھوں سے نکل گئی ہے تو پی ٹی آئی کی صفوں میں یہ احساس ابھرنا شروع ہوا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ریاست سے تعاون قومی ضرورت ہے جس سے انحراف نہیں ہو سکتا اور خیبر پختونخوا حکومت نے اس حوالہ سے تعاون نہ کر کے اپنا بھی نقصان کیا اور جماعت کی پوزیشن بھی خراب کی۔ اس تناظر میں ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور مؤثر لائحہ عمل کی تیاری کیلئے مذاکرات کی بات ہو رہی ہے اور پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن کی دیگر جماعتیں بھی مشکل حالات میں مذاکرات کو ہی حل سمجھ رہی ہیں؛چنانچہ ایسے اشارے دئیے جا رہے ہیں کہ یہ سلسلہ بروئے کار آنا چاہئے۔مگر اہم سوال یہ ہے کہ اپوزیشن اور پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف حکومت کی اس پیشکش کو پذیرائی بخشیں گی؟

 ماضی کو دیکھا جائے تو پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے ہر پیشکش کو اپنے سیاسی مطالبات سے مشروط کرتی نظر آئی ۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے حالیہ مذاکراتی عمل میں اگرچہ بہت سے ایشوز پر اتفاق ہو گیا تھا مگر ایک خاص مائنڈ سیٹ اس کے خلاف  سرگرم ہوا اور سارا عمل ناکامی سے دوچار ہوا۔اس میں بڑا کردار اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور خیبر پختونخوا کے معزول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا تھا۔ اسی مائنڈ سیٹ کے منفی کردار کے نتیجہ میں حکومت بھی گئی اور اپوزیشن کا کردار بھی مجروح ہوا ۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکراتی عمل کے امکانات اب بھی ہیں لیکن اس میں اپوزیشن کو دہشت گردی کے خلاف تعاون کرنا ہو گا اورپی ٹی آئی کو اپنے مفاہمت پسندوں کو آگے لاکر معاملات کے سیاسی حل کیلئے سرگرم ہونا پڑے گا۔ پی ٹی آئی کو اب احتجاجی سیاست اور مزاحمتی بیانیہ سے نکل کر ایک سیاسی قوت کے طور پر اپنے کردار کیلئے حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کرنا ہوگا۔ اس صورت میں خود بانی پی ٹی آئی کیلئے ریلیف ممکن بن پائے گی اور لانگ مارچ میں حفاظتی اقدامات کے طور پر بڑے پیمانے پر نظر بندقیدیوں کی رہائی کے امکانات بھی بن سکتے ہیں۔

لیکن مذکورہ عمل کیلئے پی ٹی آئی کوان کرداروں سے  بچنا ہوگا جنہوں نے ماضی میں بنی بنائی بات چیت کے عمل کو خراب کیا۔ ویسے تو اب پی ٹی آئی کے اندر سے بھی اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے طرز عمل پر تحفظات سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں ،انہیں جس مقصد کیلئے بانی پی ٹی آئی نے اپنے اراکین اسمبلی پر ترجیح دے کر اپوزیشن لیڈر بنایا تھا وہ اس میں یکسر ناکام ثابت ہوئے، نہ مذاکرات پر پیش رفت ہوسکی نہ احتجاجی سیاست کا آپشن نتیجہ خیز ہوا، اور اپوزیشن کا کردار بھی کمزور ہوا۔اگرچہ تو بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ابھی ایسی کوئی تجویز نہیں کہ محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر سے ہٹایا جائے مگر خود اپوزیشن لیڈر نے یہ کہہ کر کہ انہیں ہٹانے کا اختیار اُسے ہے جس نے انہیں اپوزیشن لیڈر بنایا تھا،یہ ظاہر کر دیا ہے کہ وہ اپنی ناکامی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ لیکن پی ٹی آئی کے ذمہ داران میں نظر آنے والی سوچ کی تبدیلی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب شاید پی ٹی آئی کیلئے ان کی ضرورت ختم ہو چکی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے  کہ ان کی لیڈر شپ میں اپوزیشن نے کچھ حاصل کرنے کی بجائے بہت کچھ کھویا ہے۔

دوسری جانب مولانا فضل الرحمن سیاسی محاذ کو گرم کرتے نظر آ رہے ہیں اور اس بنیاد پر بعض حکومتی ذمہ داران نے انہیں ٹارگٹ کر رکھا ہے اور پی ٹی آئی بھی ان کی طرف دیکھتی نظر آ رہی ہے، لیکن کیا مولانا فضل الرحمن کے اس کردار کو پی ٹی آئی قبول کر پائے گی اور مولاناپی ٹی آئی کے ساتھ مل کر کسی کردار کی ادائیگی کی پوزیشن میں ہوں گے؟ پی ٹی آئی کے احتجاجی اور مزاحمتی کردار کے نتائج اب ڈھکے چھپے نہیں رہے بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اسی پالیسی نے اس کے سیاسی کردار اور حکومت میں آنے کے امکانات کو مجروح کیا ہے، لہٰذا مولانا فضل الرحمن اپوزیشن میں بڑا کردار تو ضرور ادا کر سکتے ہیں مگر وہ ایسے  کسی پروگرام پر گامزن نہ ہوں گے جس میں انہیں لینے کے دینے پڑجائیں۔ البتہ وہ پی ٹی آئی کے کسی مثبت سیاسی کردار  میں اس کی معاونت ضرور کر سکتے ہیں، اس لئے کہ ملک میں جاری سسٹم میں جہاں اس میں حکومتوں کا مؤثر کردار نہیں رہا تو وہاں اپوزیشن کے کردار بھی اب لانگ مارچ یا احتجاجی تحریکوں کی بجائے روایتی انداز تک محدود ہوتا نظر آ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاسی معاملات اب سیاسی طرز عمل کے ہی پابند ہوں گے اور اپوزیشن کی سیاست میں اب احتجاجی عمل زیادہ کارآمد نہیں رہے گا ۔ اس صورتحال میں اگر مذاکرات کے آپشن کو بروئے کار لایا جائے تو حکومت کی بات بھی بن سکتی ہے اور پی ٹی آئی کیلئے ریلیف کا بندوبست بھی ہو سکتا ہے، لیکن فریقین کو اب اپنے مؤقف میں لچک لانا پڑے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

نئے انتظامی یونٹس اور 28 ویں آئینی ترمیم

پاکستان میں اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی کی بحث اب سنجیدہ رُخ اختیار کر چکی ہے۔ نئے صوبوں کے قیام پر ایک کے بعد ایک قومی مباحثہ ہو رہا ہے جس میں سیاستدان، سول سوسائٹی ، قانون دان اور گورننس کے ماہرین حصہ لے رہے ہیں اور اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ، پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات

سندھ کابینہ نے میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پبلک کردی ہے،جس میں پولیس کی کارکردگی کو بدترین قرار دیا گیا ہے ‘میڈیکو لیگل نظام کی بھی قلعی کھول دی ہے۔

خیبر پختونخوا میں اگلے دو ماہ اہم!

کیا خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی واپس آجائے گی ؟یہ ایک سوال ہے جو آج کل تقریبا ًتمام حلقوں میں پوچھا جارہا ہے ۔بظاہر تو یہ مشکل لگ رہا ہے لیکن پس پردہ اس کیلئے کوششیں جاری ہیں۔

بلوچستان: قربانیاں، چیلنجز اور ذمہ داریاں!

بلوچستان میں ایک طرف سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہیں اور اہلکار اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں تو دوسری طرف اغوا، دھماکوں، فائرنگ اور شہریوں کے عدم تحفظ کی خبریں مسلسل توجہ حاصل کر رہی ہیں۔

آزاد کشمیر، سیاسی صف بندی یا دھڑے بندی؟

آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر اندرونی خلفشار، قیادت کے سوال اور باہمی سیاسی اختلافات کے باعث توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

بدلتی دنیا، مستقبل کے تقاضے بچوں کی تربیت کیسے کریں؟

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تعلیم اور روزگار کے بدلتے ہوئے تقاضوں نے زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں بچوں کی تربیت کا مقصد صرف انہیں اچھے نمبر دلوانا یا کسی اچھی ملازمت کے قابل بنانا نہیں، بلکہ انہیں ایسا باشعور، خوداعتماد، تخلیقی اور ذمہ دار انسان بنانا ہے جو مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔