آزاد کشمیر، سیاسی صف بندی یا دھڑے بندی؟

تحریر : محمد اسلم میر


آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر اندرونی خلفشار، قیادت کے سوال اور باہمی سیاسی اختلافات کے باعث توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

 بظاہر اقتدار میں موجود جماعت کے اندر سب کچھ معمول کے مطابق دکھائی دیتا ہے لیکن اس کے رہنماؤں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف بیانات اور مختلف سینئر رہنماؤں کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں واقعی دو الگ سیاسی دھڑے تشکیل پا رہے ہیں؟ ایک طرف سابق وزیراعظم فاروق حیدر اور مسلم لیگ( ن) کے صدر شاہ غلام قادر کے باہمی اشتراک کا تاثر ہے جبکہ دوسری طرف وزیراعظم افتخار گیلانی، سپیکر چوہدری طارق فاروق اور صدر محمد نجیب نقی کے درمیان ہم آہنگی کی باتیں سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہیں۔ آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے بعد مسلم لیگ (ن) کے لیے اصل امتحان صرف حکومتی معاملات چلانا نہیں بلکہ اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھنا بھی ہے۔ اگر جماعت میں اختلافات بڑھتے ہیں تو اس کے اثرات حکومتی کارکردگی، قانون ساز اسمبلی کی سیاست اور آئندہ سیاسی منظرنامے پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کا ایک اہم پہلو راجہ فاروق حیدر خان کی جانب سے ممبر کشمیر کونسل مشتاق منہاس پر کی جانے والی تنقید ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے اندر قیادت اور سیاسی حیثیت کے سوال پر اس نوعیت کے بیانات جماعت کے داخلی ماحول کو مزید حساس بنا سکتے ہیں۔

اس سے یہ بحث بھی سامنے آئی ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں قیادت کا معیار کیا ہونا چاہیے۔ کیا سیاسی قیادت کا فیصلہ ماضی کے حکومتی تجربے کی بنیاد پر ہوگا، موجودہ حکومتی منصب کے ذریعے یا جماعت کے اندر تنظیمی اور انتخابی قوت سے؟ ان سوالات کا جواب جماعت کے اندر واضح سیاسی مکالمے اور اجتماعی فیصلوں سے ہی نکل سکتا ہے۔یہاں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی محاذ آرائی میں تبدیل کرنے سے روکنا قیادت کی ذمہ داری ہے۔ اگر بیانات کا سلسلہ ایک دوسرے کی سیاسی حیثیت پر سوال اٹھانے تک محدود رہنے کے بجائے مستقل محاذ آرائی اختیار کر لے تو جماعت کے لیے اپنے سیاسی مخالفین کے مقابلے میں مشترکہ مؤقف برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم افتخار گیلانی ، سپیکر طارق فاروق اور صدرمحمد نجیب کی قربت کا تاثر سیاسی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔وزیراعظم کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ وہ اپنی حکومتی ترجیحات کو جماعتی اختلافات سے کس طرح محفوظ رکھتے ہیں۔ اگر وہ سینئر رہنماؤں کو مشاورت میں شریک رکھتے ہیں، اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرتے ہیں اور حکومتی فیصلوں میں شفافیت برقرار رکھتے ہیں تو صورتحال کو قابو میں رکھنا ممکن ہے۔

اگر سیاسی اختلافات ذاتی رقابت میں تبدیل ہو جائیں تو حکومت کی توجہ عوامی مسائل سے ہٹ کر داخلی محاذ آرائی پر مرکوز ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔صدر آزاد کشمیر کی سیاسی حیثیت بھی اس منظرنامے میں اہم ہے۔ صدر کا منصب حکومتی نظام میں ایک مخصوص کردار رکھتا ہے اس لیے ان کی سیاسی وابستگیوں یا مختلف رہنماؤں کے ساتھ تعلقات کو آئینی ذمہ داریوں سے الگ کرکے دیکھنا ضروری ہے۔یہ تاثر کہ وہ وزیراعظم اور سپیکر کے ساتھ ایک صفحے پر ہیں سیاسی مباحثے کو مزید وسعت دے رہا ہے۔ تاہم کسی باقاعدہ سیاسی اتحاد یا دھڑے کی موجودگی کا فیصلہ صرف قربت کے تاثر سے نہیں کیا جا سکتا۔صدر آزاد کشمیر کے لیے بھی اداروں کے وقار، آئینی حدود اور سیاسی ہم آہنگی کو برقرار رکھنا اہم ہے۔ اگر جماعتی اختلافات حکومتی معاملات پر اثرانداز ہونے لگیں تو اس سے سیاسی نظام میں غیر ضروری تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

آزاد کشمیر کی سیاست میں دھڑے بندی کوئی نئی بات نہیں۔ یہاں سیاسی جماعتوں کے اندر شخصی اثرورسوخ، انتخابی مفادات، حکومتی عہدوں، تنظیمی فیصلوں اور مستقبل کی قیادت کے معاملات اکثر اختلافات کا سبب بنتے رہے ہیں، لیکن ہر اختلاف کو باقاعدہ دھڑے بندی قرار دینا درست نہیں۔ سیاسی جماعتوں میں مختلف آرا کا ہونا جمہوری عمل کا حصہ ہے جبکہ اختلافات اس وقت بحران کی شکل اختیار کرتے ہیں جب مشاورت کا راستہ بند ہو جائے اور سیاسی فیصلے ذاتی مخالفت کی بنیاد پر ہونے لگیں جو اس وقت مسلم لیگ( ن) آزاد کشمیر میں عروج پر ہے۔مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے موجودہ حالات میں تین سوال بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ پہلا یہ کہ کیا فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر اپنے تحفظات کو جماعت کے اندر کسی منظم سیاسی حکمت عملی میں تبدیل کریں گے؟ دوسرا یہ کہ کیا وزیراعظم افتخار گیلانی اور ان کے قریبی سمجھے جانے والے رہنما تمام گروپوں کو ساتھ لے کر چلنے میں کامیاب ہوں گے؟ اور تیسرا یہ کہ جماعت کی مرکزی قیادت اس صورتحال میں کس وقت اور کس انداز میں مداخلت کرتی ہے؟ان سوالات کے جواب آنے والے دنوں میں سیاسی بیانات، جماعتی اجلاسوں، پارلیمانی رویوں اور حکومتی فیصلوں سے مل سکتے ہیں۔

فی الحال صورتحال کو مسلم لیگ (ن) کے اندر بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور بدلتے ہوئے تعلقات کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے اندر نئی صف بندی کے آثار ضرور زیر بحث ہیں لیکن اسے حتمی دھڑے بندی قرار دینے کے لیے ابھی واضح سیاسی شواہد اور عملی اقدامات دیکھنا ہوں گے۔سابق وزیر اعظم فاروق حیدر کے تنقیدی بیانات،سپیکر طارق فاروق کی جانب سے قیادت پر سوالات اور وزیر اعظم افتخار گیلانی کے گرد قائم ہونے والے سیاسی ہم آہنگی کے تاثر اور وزیر اعظم ، سپیکر اور صدر کی اقتدار پر مشتمل تکون یا’’ فرینڈز گروپ ‘‘ کے اقتدار نے جماعت کے داخلی ماحول کو موضوعِ بحث بنا دیا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس اختلاف کو سیاسی مکالمے میں بدلتی ہے یا یہ کشمکش آنے والے دنوں میں ایک بڑے حکومتی بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

نئے انتظامی یونٹس اور 28 ویں آئینی ترمیم

پاکستان میں اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی کی بحث اب سنجیدہ رُخ اختیار کر چکی ہے۔ نئے صوبوں کے قیام پر ایک کے بعد ایک قومی مباحثہ ہو رہا ہے جس میں سیاستدان، سول سوسائٹی ، قانون دان اور گورننس کے ماہرین حصہ لے رہے ہیں اور اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش ،کتنی سنجیدہ؟

وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کا تعلق دہشت گردی کے خلاف سیاسی یکجہتی اور ہم آہنگی سے ہے ۔

جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ، پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات

سندھ کابینہ نے میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پبلک کردی ہے،جس میں پولیس کی کارکردگی کو بدترین قرار دیا گیا ہے ‘میڈیکو لیگل نظام کی بھی قلعی کھول دی ہے۔

خیبر پختونخوا میں اگلے دو ماہ اہم!

کیا خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی واپس آجائے گی ؟یہ ایک سوال ہے جو آج کل تقریبا ًتمام حلقوں میں پوچھا جارہا ہے ۔بظاہر تو یہ مشکل لگ رہا ہے لیکن پس پردہ اس کیلئے کوششیں جاری ہیں۔

بلوچستان: قربانیاں، چیلنجز اور ذمہ داریاں!

بلوچستان میں ایک طرف سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہیں اور اہلکار اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں تو دوسری طرف اغوا، دھماکوں، فائرنگ اور شہریوں کے عدم تحفظ کی خبریں مسلسل توجہ حاصل کر رہی ہیں۔

بدلتی دنیا، مستقبل کے تقاضے بچوں کی تربیت کیسے کریں؟

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تعلیم اور روزگار کے بدلتے ہوئے تقاضوں نے زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں بچوں کی تربیت کا مقصد صرف انہیں اچھے نمبر دلوانا یا کسی اچھی ملازمت کے قابل بنانا نہیں، بلکہ انہیں ایسا باشعور، خوداعتماد، تخلیقی اور ذمہ دار انسان بنانا ہے جو مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔