جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ، پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات
سندھ کابینہ نے میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پبلک کردی ہے،جس میں پولیس کی کارکردگی کو بدترین قرار دیا گیا ہے ‘میڈیکو لیگل نظام کی بھی قلعی کھول دی ہے۔
کمیشن نے قتل کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی سفارش بھی کی جس کے سربراہ ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ ہوں گے۔جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی، آئی بی اور رینجرز کے نمائندے شامل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ کمیشن نے موت کو خودکشی قرار دینے کے ابتدائی پولیس مؤقف پر سوالات اٹھائے اور واضح کیا کہ پولیس نے صرف وہی فوٹیجز محفوظ کیں جو ان کے طے شدہ بیانیے کو آگے بڑھاتی تھیں۔ جائے وقوعہ اور اہم ثبوتوں کو جان بوجھ کر ضائع ہونے دیا گیا۔ پولیس نے کیس میں اپنی پوزیشن کو انا کا مسئلہ بنایا اور عداوت پر آگئی جس کی وجہ سے غیرجانبداری اور پروفیشنل ازم متاثر ہوئی۔ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ پولیس اپنی کوتاہیوں کو تسلیم کرے اور معافی مانگے۔ ڈاکٹر اسامہ کے لیے بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں، انہیں دو سال تک ایم ایل او کی ذمہ داری نہ دینے کی سفارش کی گئی۔رپورٹ کے مطابق،ایسا لگا کہ ڈاکٹر اسامہ کسی کے زیر اثر تھے۔ انہیں سخت تعلیمی اور عملی تربیت کی سفارش کی گئی۔ میر رضا کیس کی تحقیقات ہوجائیں گی اور سچ بھی سامنے آجائے گا لیکن صوبائی حکومت ہو یا وفاقی، انہیں سنجیدگی سے پولیس اور میڈیکولیگل شعبے کی اصلاحات پر کام کرنا ہوگا۔ میر رضا کیس میں میڈیکو لیگل شعبہ ہی تھا جس نے کیس کی تحقیقات کو مکمل طور پر نئی سمت دی۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم میں خودکشی قرار دیئے جانے کے کیس پر پولیس سرجن کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے بعد قبر کشائی کی گئی جس میں نہ صرف تشدد ثابت ہوا بلکہ میر رضا کا جسم بیہوشی کے زیر اثر ہونا، تیزاب سے جلائے جانے کے نشانات اور گولی کا آگے کے بجائے پیچھے سے لگنا بھی ثابت ہوا۔ یہ حقائق اس بات کے متقاضی ہیں کہ اس شعبے پر جنگی بنیادوں پر کام کر کے اسے بہتر کرنا پڑے گا۔
سیاست میں سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں ورنہ سیاست کیسے کر پائیں گے، بلاول بھٹو کا یہ جملہ موجودہ حالات کے حوالے سے بہترین ہے۔ شاید یہ بات تحریک انصاف کو اب تک سمجھ میں نہ آئی۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے ایک اور بات بھی واضح کردی کہ نئے صوبوں کے لیے آئینی اور قانونی طریقہ کار موجود ہے، صوبائی اسمبلی کی منظوری کے بعد ہی نئے صوبے بنائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ صوبوں کے حوالے سے گلگت بلتستان میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے، وہاں صوبہ بنانے میں کیا قباحت ہے؟بلاول بھٹو نے خیبرپختونخوا کے معزول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بزدل کہا اور بولے کہ وہ اپنی دھرتی کا دفاع کرنے کو تیار نہیں تھے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو گورنر راج کے خاتمے کا نسخہ بھی بتا دیا کہ دہشت گردی کے خلاف حکومت کا ساتھ دیں تو ایمرجنسی ختم بھی ہوسکتی ہے۔ بلاول بھٹو نے سانحہ کارساز کی برسی کے موقع ان خیالات کا اظہار کیا۔ دہشت گردی کے خلاف پیپلز پارٹی کا مؤقف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ صرف پیپلز پارٹی نہیں ملک کی تمام جماعتوں کو دہشت گردی کے خلاف یک جان ہونا ہوگا تب ہی جان چھوٹ پائے گی۔
ادھر ایم کیو ایم پاکستان مسلسل نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کی حمایت کر رہی ہے۔ وسیم اختر نے دعویٰ کیا کہ نئے انتظامی یونٹس پر ملک میں ریفرنڈم جیسی صورتحال پیدا ہوچکی ہے،عوام بھی کھل کر سامنے آرہے ہیں اور اقتدار میں بیٹھے افراد بھی انتظامی یونٹس کو مسائل کا حل سمجھنے لگے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایم کیو ایم سندھ کو تقسیم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی البتہ انتظامی ڈھانچے میں بہتری چاہتی ہے اور یہ کوئی برُی بات نہیں ہے۔ وسیم اختر نے الزام عائد کیا کہ صوبے کو کرپشن اور وڈیرا مافیا نے تباہ کرکے رکھ دیا ہے، مراد علی شاہ ایک ناکام وزیراعلیٰ ہیں۔ انہوں نے سندھ ترقی پسند پارٹی کے رہنما کو مذاکرات کی دعوت دی کہ وہ انتظامی یونٹس اور عوامی مسائل پر بات کریں اور کہا کہ قادر مگسی سیاسی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں، پیپلزپارٹی کی کارکردگی پر خود بھی تنقید کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب قادر مگسی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ سندھ ان کی ریڈلائن ہے اور وہ اس پر کوئی سمجھوتا قبول نہیں کریں گے۔ سندھ میری ماں ہے کے عنوان سے جلسے سے خطاب میں قادر مگسی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اپنے لوگوں کو گمراہ نہ کرے۔
سندھ میں تعلیم سمیت متعدد شعبوں کو نظرثانی کی شدید ضروروت ہے کیونکہ پرانے اور فرسودہ نظام سے جعل ساز مسلسل فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ شاہ عبداللطیف یونیورسٹی سے جعلی اسناد کا معاملہ سامنے آیا ہے اورجامعہ نے ایل ایل بی کی 1184ڈگریاں جعلی قرار دیں اور انہیں منسوخ قرار دیا ہے۔ صرف 64امیدواروں کی اسناد قانونی پائیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے امتحانی ریکارڈ، حاضری رجسٹر اور دیگر دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد یہ اعلان کیا۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ گزشتہ برس بھی 1280ڈگریاں منسوخ کی گئیں۔ پشاور میں نجی سکول کی عمارت کے حادثے کے بعد محکمہ تعلیم سندھ کو بھی ہوش آگیا ہے اور اس نے نجی سکولوں کے معائنے کا نہ صرف فیصلہ کرلیا ہے بلکہ خطرناک اور مخدوش عمارتوں میں قائم نجی سکولوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ حکومت کو سرکاری سکولوں کا بھی معائنہ کرنا چاہیے، اگر کہیں کوئی خامی یا کوتاہی نظر آئے تو ذمہ داران کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے تاکہ کوئی بچوں کی زندگی اور مستقبل سے کھیلنے کا دوبارہ سوچ بھی نہ سکے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments