بلوچستان: قربانیاں، چیلنجز اور ذمہ داریاں!

تحریر : عرفان سعید


بلوچستان میں ایک طرف سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہیں اور اہلکار اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں تو دوسری طرف اغوا، دھماکوں، فائرنگ اور شہریوں کے عدم تحفظ کی خبریں مسلسل توجہ حاصل کر رہی ہیں۔

 اسی ماحول میں روزگار، تجارت، پانی کی قلت، سرکاری بھرتیوں میں شفافیت اور بنیادی حقوق جیسے معاملات بھی عوامی بحث کا حصہ ہیں۔ان مسائل کے اثرات صوبے کے امن، معیشت اور عوام کے اعتماد پر مرتب ہوتے ہیں اس لیے  بلوچستان کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے نہ حکومتی کوششوں کو نظرانداز کرنا مناسب ہے اور نہ عوامی شکایات کو معمولی سمجھنا۔ سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کا احترام، حکومت کی ذمہ داریوں کا اعتراف، سیاسی جماعتوں کے اختلافِ رائے کی گنجائش اور شہریوں کے جائز مطالبات کی سماعت، یہ سب ایک ہی مقصد کے مختلف پہلو ہیں، اور وہ مقصد ہے ایسا بلوچستان جہاں امن محض ایک سرکاری دعویٰ نہ ہو بلکہ عام شہری کی روزمرہ زندگی میں بھی محسوس کیا جائے۔صوبے کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں اور سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیاں اس خطرے کی سنگینی واضح کرتی ہیں جس کا بلوچستان کو سامنا ہے۔ قلات، مستونگ، نوشکی اور دیگر علاقوں میں کارروائیوں کی اطلاعات جبکہ گوادر میں میجر وجاہت وحید کی شہادت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ امن کے قیام کے لیے بھاری قیمت ادا کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کا احترام اور دہشت گردی کے خلاف کوششوں کی حمایت ضروری ہے۔ ان اقدامات کی کامیابی کا اندازہ اس طرح بھی لگایا جانا چاہیے کہ شہریوں کو کس حد تک تحفظ حاصل ہوا، متاثرہ علاقوں میں معمولاتِ زندگی کتنے بحال ہوئے اور لوگوں کا ریاستی اداروں پر اعتماد کتنا مضبوط ہوا۔

مؤثر سکیورٹی، قابلِ اعتماد معلومات، انتظامی رابطے اور عوامی تعاون کو ساتھ لے کر چلنا پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے قومی سلامتی کے معاملے پر سیاسی ذمہ داری اور تعاون کی ضرورت اجاگر کی ہے۔ ان کا مؤقف اس پہلو سے اہم ہے کہ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے پر سیاسی اختلافات کے باوجود مشترکہ  قومی ترجیحات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ صوبائی حکومت کو امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھنے کے ساتھ انتظامی کارکردگی اور عوامی تحفظ میں بہتری بھی یقینی بنانا ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کے تحفظات سننا، جائز سوالات کے جواب دینا اور کارکردگی کے نتائج سامنے لانا حکومتی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ اسی طرح سیاسی قیادت کو بھی چاہیے کہ تنقید کو حقائق اور قابلِ  عمل تجاویز کی بنیاد پر آگے بڑھائے۔صوبائی وزیر داخلہ میر ضیااللہ لانگو کی بریفنگ بھی بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال اور انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے امن کے قیام کے لیے دستیاب وسائل بروئے کار لانے کے حکومتی مؤقف کو واضح کیا۔ ان کی بریفنگ سے یہ پہلو سامنے آتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی کے لیے اداروں کے درمیان تعاون اور سیاسی سطح پر ذمہ دارانہ رویہ ضروری ہے۔ تاہم حکومتی مؤقف کے ساتھ  عملی نتائج کا جائزہ بھی اہم ہے۔ عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ کیے گئے اقدامات سے ان کے تحفظ میں کتنی بہتری آئی اور آئندہ خطرات سے نمٹنے کے لیے کیا انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

عوامی شکایات پر کارروائی حکومتی کوششوں کو زیادہ مؤثر اور قابلِ اعتماد بنا سکتی ہے۔اس کے باوجود اغوا اور حملوں سے متعلق اطلاعات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ صوبائی مشیر مینا مجید کے بھائی اور رخشان ڈویژن کے کمشنر اسداللہ کاکڑ کے اغوا کی اطلاعات نے تشویش پیدا کی ہے۔ میاں غنڈی میں دھماکے سے پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے، یک مچ پولیس سٹیشن پر حملے، نوشکی میں دھماکوں اور فائرنگ اور ڈرون حملے میں ایک چرواہے کی ہلاکت اور دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سنجیدہ توجہ چاہتی ہیں۔

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا عبدالواسع نے سیاسی پروپیگنڈے کے حوالے سے جومؤقف اختیار کیا ہے اس بحث کو سیاسی ذمہ داری اور جمہوری رویوں کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں کو حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھانے اور پالیسیوں پر تنقید کا پورا حق حاصل ہے لیکن تنقید کو حقائق، شواہد اور قابلِ عمل تجاویز کے ساتھ پیش کرنا زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ اسی طرح حکومت کو بھی اختلافی آوازوں کو محض مخالفت سمجھنے کے بجائے ان کے جائز تحفظات سننے چاہئیں۔ بلوچستان میں امن، روزگار اور بنیادی سہولتوں کے مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی قوتوں کی سنجیدہ شرکت درکار ہے۔ اختلافِ رائے کو تصادم میں بدلنے کے بجائے مکالمے اور اصلاح کا ذریعہ بنایا جائے تو جمہوری نظام اور عوامی اعتما مضبوط ہوسکتا ہے۔بلوچستان میں چودہ سالہ ہندو بچی کے مبینہ اغوا، سرکاری بھرتیوں میں بے ضابطگیوں اور زمین سے متعلق معاملات پر صوبائی اسمبلی ہونے والی بحث بھی صوبے کے انتظامی اور سماجی مسائل کی نشاندہی کرتی ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ، میرٹ پر بھرتیاں اور شہریوں کی جائیداد اور قانونی حقوق کی حفاظت ریاست کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔  اگر بھرتیوں میں بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آئیں تو متعلقہ ریکارڈ کی غیر جانب دارانہ جانچ کی جائے اور بے ضابطگی ثابت ہونے پر قانون کے مطابق کارروائی ہو۔

اسی طرح مبینہ اغوا کے معاملے میں حقائق سامنے لانا اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنا ضروری ہے۔ادھر صوبائی وزیر میر محمد صادق عمرانی نے ڈیموں اور پانی کے بحران کے حوالے سے اسمبلی اجلاس کے دوران بتایا کہ حکومت اس معاملے کو بھی عملی منصوبہ بندی اور طویل المدتی ترجیحات مانتی ہے بلوچستان کے کئی علاقوں میں پانی کی قلت انسانی ضروریات، زراعت اور مقامی معیشت کو متاثر کرتی ہے۔ آبی ذخائر کی تعمیر، بارش کے پانی  کو محفوظ کرنا اور پانی کی منصفانہ تقسیم اس مسئلے کے حل کے اہم پہلو ہیں۔ منصوبوں کا انتخاب مقامی ضروریات، ماحولیاتی اثرات اور دستیاب وسائل کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ منصوبوں کی بروقت تکمیل، اخراجات کی شفاف  نگرانی اور پانی کی فراہمی کے نظام کی دیکھ بھال بھی ضروری ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی صرف ان کے اعلان میں  نہیں بلکہ اس فائدے میں ہے جو عام شہری اور کسان روزمرہ زندگی میں محسوس کریں۔ صوبے میں پائیدار امن اسی وقت قائم ہوسکتا ہے جب سکیورٹی اقدامات کے ساتھ انصاف، معاشی مواقع، بہتر انتظامیہ اور عوامی اعتماد کو بھی یکساں اہمیت دی جائے۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور وزیر داخلہ میر ضیااللہ لانگو کے حکومتی مؤقف، مولانا عبدالواسع کی سیاسی پروپیگنڈے کے حوالے سے گفتگو اور میر محمد صادق عمرانی کی آبی مسائل پر توجہ ان تمام موضوعات کو  ایک مشترکہ مقصد کے تحت دیکھنے کی ضرورت ہے، بلوچستان میں امن، ترقی اور شہریوں کی بہتر زندگی۔

سیاسی اختلافات جمہوریت کا حصہ ہیں لیکن عوامی مفاد کے معاملات میں مکالمہ اور تعاون زیادہ اہم ہیں۔ حکومت اپنی کارکردگی کے نتائج سامنے لائے، اپوزیشن مثبت تنقید اور قابلِ عمل تجاویز پیش کرے اور متعلقہ ادارے قانون و انصاف کے تقاضے پورے کریں تو صوبے میں اعتماد کی فضا بہتر بنائی جاسکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

نئے انتظامی یونٹس اور 28 ویں آئینی ترمیم

پاکستان میں اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی کی بحث اب سنجیدہ رُخ اختیار کر چکی ہے۔ نئے صوبوں کے قیام پر ایک کے بعد ایک قومی مباحثہ ہو رہا ہے جس میں سیاستدان، سول سوسائٹی ، قانون دان اور گورننس کے ماہرین حصہ لے رہے ہیں اور اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش ،کتنی سنجیدہ؟

وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کا تعلق دہشت گردی کے خلاف سیاسی یکجہتی اور ہم آہنگی سے ہے ۔

جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ، پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات

سندھ کابینہ نے میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پبلک کردی ہے،جس میں پولیس کی کارکردگی کو بدترین قرار دیا گیا ہے ‘میڈیکو لیگل نظام کی بھی قلعی کھول دی ہے۔

خیبر پختونخوا میں اگلے دو ماہ اہم!

کیا خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی واپس آجائے گی ؟یہ ایک سوال ہے جو آج کل تقریبا ًتمام حلقوں میں پوچھا جارہا ہے ۔بظاہر تو یہ مشکل لگ رہا ہے لیکن پس پردہ اس کیلئے کوششیں جاری ہیں۔

آزاد کشمیر، سیاسی صف بندی یا دھڑے بندی؟

آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر اندرونی خلفشار، قیادت کے سوال اور باہمی سیاسی اختلافات کے باعث توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

بدلتی دنیا، مستقبل کے تقاضے بچوں کی تربیت کیسے کریں؟

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تعلیم اور روزگار کے بدلتے ہوئے تقاضوں نے زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں بچوں کی تربیت کا مقصد صرف انہیں اچھے نمبر دلوانا یا کسی اچھی ملازمت کے قابل بنانا نہیں، بلکہ انہیں ایسا باشعور، خوداعتماد، تخلیقی اور ذمہ دار انسان بنانا ہے جو مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔