خیبر پختونخوا میں اگلے دو ماہ اہم!

تحریر : عابدحمید


کیا خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی واپس آجائے گی ؟یہ ایک سوال ہے جو آج کل تقریبا ًتمام حلقوں میں پوچھا جارہا ہے ۔بظاہر تو یہ مشکل لگ رہا ہے لیکن پس پردہ اس کیلئے کوششیں جاری ہیں۔

پی ٹی آئی کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیاگیاہے ۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے بھی ایک درخواست پشاور ہائی کورٹ میں دائرکی گئی ہے۔ منگل کے روز ان درخواستوں کی سماعت بھی کی گئی ۔ لیکن اصل اشارے پی ٹی آئی کے اندر سے آنا شروع ہوگئے ہیں اور پارٹی کی وہ قیادت جو لانگ مارچ کے حق میں نہیں تھی وہ سامنے آنا شروع ہوگئی ہے ۔پارٹی کی کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی میں اس حوالے سے شدید تنقید کی جارہی ہے۔ معطل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے پلان اے ،بی اور سی پر بھی سوال اٹھائے جارہے ہیں ۔واضح طورپر پارٹی مختلف گروپوں میں تقسیم ہے۔ یہ تقسیم گورنر راج کے بعد سے پیدانہیں ہوئی بلکہ یہ بہت پہلے سے موجود ہے۔ اسی تقسیم کی وجہ سے لانگ مارچ بھی ناکام ہوا،ورکرز بھی تقسیم ہوئے ،پارٹی کے اندر شدید اختلافات پیدا ہوئے۔بہرحال پی ٹی آئی کے وہ چہرے جو پس پردہ چلے گئے تھے وہ اب سامنے آرہے ہیں ۔شوکت یوسفزئی ہوں یا علی محمد خان اور مشعال یوسفزئی، یہ افراد کور کمیٹی میں پی ٹی آئی قیادت پر تنقید کررہے ہیں ۔بیشتر سینئر رہنماؤں کی جانب سے سہیل آفریدی کے اقدمات،اس کے نتیجے میں صوبے میں گورنر راج کے لگنے اور مرکزی قیادت کی خاموشی پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں ۔

اگرچہ فی الوقت گورنر راج کے خاتمے کی بات خارج از امکان نظرآرہی ہے لیکن حکومتی حلقوں کا کہناہے کہ اس پر سوچ وبچار کی جاسکتی ہے، لیکن اس کا انحصار پی ٹی آئی کی قیادت پر ہے ۔چند شرائط ہیں جو اس سے قبل بھی وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کی گئی تھیں، جن میں سے ایک دہشت گردی کے خلاف جنگ کو پی ٹی آئی کی جانب سے اپنی جنگ کو تسلیم کرنا ہے اور اس حوالے سے اپنی موجودہ پالیسی میں تبدیلی لانی ہے۔ اس کے علاوہ اگر پی ٹی آئی کی حکومت آبھی جاتی ہے، جس کا فوری امکان نہیں، تب بھی انہیں بارہ اضلاع میں ایمرجنسی کی حقیقت کو نہ صرف تسلیم کرنا ہوگا بلکہ اس کی مخالفت بھی نہیں کرنی ہوگی ۔انتہائی اہم ذرائع کے مطابق گورنر راج اگر ہٹ بھی جاتا ہے تو ان بارہ اضلاع میں ایمرجنسی قائم رہے گی ۔وفاقی حکومت اور مقتدرہ اب اس علاقے میں صوبے میں موجود سیٹ اَپ کے ذریعے امن لانے کی کوششوں میں ہے ۔ایسا نہیں کہ ان بارہ اضلاع میں امن وامان کے قیام کیلئے آپریشنز نہیں  کئے جارہے تھے یا کوئی کوشش نہیں کی جارہی تھی لیکن اس کیلئے جو سیاسی حمایت چاہیے تھی وہ موجود نہیں تھی۔ اب یہ سیاسی حمایت بھی مل گئی ہے، اب ایسا نہیں ہوگاکہ کہیں آپریشن ہورہا ہو اور صوبائی حکومت کی جانب سے اس کی مخالفت کی جارہی ہو۔

گورنر راج اور ایمرجنسی کو افغانستان کے حالات سے بھی جوڑا جارہاہے، بتایاجارہا ہے کہ اگراس موقع پر صوبائی اور وفاقی حکومت اور قیادت ایک پیج پر نہیں آتیں تو خیبرپختونخوا کیلئے آنے والے دن بہت سخت ہیں ۔ہمسایہ ممالک اور مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بدلتے حالات کے اثرات یہاں بھی مرتب ہورہے ہیں ۔اس وقت صوبے میں ایسی قیادت چاہئے جو مشکل فیصلے کرسکے ،سکیورٹی اداروں کی پشت پر کھڑی ہوسکے ،جو مالی اورافرادی قوت چاہئے اس کی فوری اور مؤثر ترسیل کو ممکن بنایاجاسکے ،اہل سرکاری افسروں کی تعیناتی کی جاسکے، جزا وسزا کا عمل متعارف کرایاجاسکے ۔اس کی ابتداپشاور میں تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن سے کردی گئی ہے۔ اس آپریشن کی قیادت گورنر خیبرپختونخوا کررہے ہیں۔عوام کو بتایاجارہاہے کہ گورننس کے مسائل حل کئے جائیں گے جو پی ٹی آئی کی حکومت میں نظرانداز کئے گئے ۔یہ اعتماد سازی کی ایک چھوٹی سی کوشش ہے جس کا دائرہ کار وسیع کیاجائے گا۔دیکھنا یہ ہے کہ گورنر اور ان کی ایڈوائزری کونسل کس حد تک اس میں کامیاب ہوتی ہے ۔گورنر کی زیرقیادت اس ایڈوائزری کونسل کے لیے اگلے دو ماہ انتہائی اہم ہیں۔ اگر اس میں عوام کو ڈیلیور کیاگیاتو شاید یہ سیٹ اَپ مزید چند مہینے بھی چلے بصورت دیگر اسے تبدیل کیاجاسکتا ہے ۔

دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کی ناراضگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ان کے لہجے کی ترشی اب ان کے الفاظ میں بھی در آئی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے بارہ اضلاع کیلئے قائم کی گئی ترقیاتی کونسل سے اپنے ارکان کو نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔مقتدرہ کا لہجہ بھی اب ان کے حوالے سے تلخ ہوگیا ہے۔ ماضی قریب میں مولانافضل الرحمان کے سخت بیانات کے باوجود لہجے میں اتنی تلخی نہیں تھی  لیکن اب شہدا کے حوالے سے ان کے بعض بیانات کو انتہائی سنجیدگی سے لیاجارہا ہے ۔بارہ اضلاع میں ایمرجنسی کو معدنیات اور وہاں کے قدرتی وسائل سے منسلک کرنے کے بیانات کو بھی ناپسندیدگی سے دیکھاگیا ہے ۔یہ سوال پوچھاجارہاہے کہ مولانا فضل الرحمان کے غصے کی اصل وجوہات کیا ہیں؟اس میں کوئی شک نہیں کہ جے یو آئی کے مرکزی سربراہ کو کچھ عرصے سے مکمل لاتعلق کرردیاگیا ہے۔ اگرچہ ان کے سیاسی قدکاٹھ میں کوئی کمی نہیں آئی لیکن یہی چیز شاید ان کو سب سے زیادہ تکلیف دے رہی ہے ۔بعض حلقوں کا یہ بھی خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت پی ٹی آئی کے بعد خیبرپختونخوا میں دوسری بڑی سٹیک ہولڈر ہے۔

ان کے خیال میں ماضی میں وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت کو ختم کرنے سے ان کی جماعت  کو سیاسی فائدے کے بجائے نقصان ہوا۔پی ڈی ایم حکومت سے یہ نقصان مزید بڑھااور اب ایک بارپھر گورنر راج لگا کر  پی ٹی آئی کو سیاسی شہید بنادیاگیا ہے جس کانقصان انہیں ہوگا،عوام کی ہمدردیاں پی ٹی آئی کے ساتھ بڑھیں گی۔ مذاکرات کے دوران مرکزی حکومت کے رویے پر بھی مولانا شاکی ہیں ۔جن بارہ اضلاع میں ایمرجنسی لگی ہے ان میں ڈیرہ اسماعیل خان بھی شامل ہے جو ان کا آبائی حلقہ ہے ۔وہ اس پر بھی کچھ خوش نظرنہیں آرہے ۔ماضی قریب میں بھی مولانا فضل الرحمان اور مقتدرہ میں چھیڑ خانی چلتی رہی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ اس بار کیا وفاقی حکومت انہیں رام کرنے میں کامیاب رہتی ہے یا نہیں۔خیبرپختونخوا کی کنجی اس وقت گورنر فیصل کریم کنڈی اور ان کی ایڈوائزری کونسل کے پاس ہے۔ وفاقی حکومت نے گورنر راج نافذ کرکے تمام ذمہ داری اپنے سر پر لے لی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس ذمہ داری سے کیسے عہدہ برآہوتے ہیں ۔ناکامی کی صورت میں یہ ملبہ صرف( ن) لیگ پر نہیں گرے گا بلکہ پیپلزپارٹی بھی اس میں برابر کی شریک ہوگی، اسی لئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے گورنر فیصل کریم کنڈی کو تھپکی کے ساتھ سخت ہدایات بھی دی گئی ہیں۔اگریہ سیٹ اَپ ناکام ہوتا ہے تو یقینی طورپر اس سے پی ٹی آئی کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوگا ۔ یہی وہ خدشہ ہے جس کا شاید مولانافضل الرحمان برملا اعتراف تو نہیں کررہے ہیں لیکن ان کی پارٹی سے دبے دبے الفاظ میں یہی سنائی دے رہاہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

نئے انتظامی یونٹس اور 28 ویں آئینی ترمیم

پاکستان میں اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی کی بحث اب سنجیدہ رُخ اختیار کر چکی ہے۔ نئے صوبوں کے قیام پر ایک کے بعد ایک قومی مباحثہ ہو رہا ہے جس میں سیاستدان، سول سوسائٹی ، قانون دان اور گورننس کے ماہرین حصہ لے رہے ہیں اور اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش ،کتنی سنجیدہ؟

وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کا تعلق دہشت گردی کے خلاف سیاسی یکجہتی اور ہم آہنگی سے ہے ۔

جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ، پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات

سندھ کابینہ نے میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پبلک کردی ہے،جس میں پولیس کی کارکردگی کو بدترین قرار دیا گیا ہے ‘میڈیکو لیگل نظام کی بھی قلعی کھول دی ہے۔

بلوچستان: قربانیاں، چیلنجز اور ذمہ داریاں!

بلوچستان میں ایک طرف سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہیں اور اہلکار اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں تو دوسری طرف اغوا، دھماکوں، فائرنگ اور شہریوں کے عدم تحفظ کی خبریں مسلسل توجہ حاصل کر رہی ہیں۔

آزاد کشمیر، سیاسی صف بندی یا دھڑے بندی؟

آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر اندرونی خلفشار، قیادت کے سوال اور باہمی سیاسی اختلافات کے باعث توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

بدلتی دنیا، مستقبل کے تقاضے بچوں کی تربیت کیسے کریں؟

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تعلیم اور روزگار کے بدلتے ہوئے تقاضوں نے زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں بچوں کی تربیت کا مقصد صرف انہیں اچھے نمبر دلوانا یا کسی اچھی ملازمت کے قابل بنانا نہیں، بلکہ انہیں ایسا باشعور، خوداعتماد، تخلیقی اور ذمہ دار انسان بنانا ہے جو مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔