حُسنِ ظن … پاکیزہ دل اور مضبوط معاشرے کی بنیاد
’’اے ایمان والو، بہت زیادہ گمان سے بچو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں، اور ایک دوسرے کے عیب مت ٹٹولو، اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو‘‘(الحجرات:12) ’’ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے‘‘ (صحیح مسلم) ’’جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بغیر کسی گناہ کے تکلیف پہنچاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھایا‘‘ (الاحزاب:58)’’جو شخص کسی مسلمان کا عیب چھپائے، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا عیب چھپائے گا‘‘ (صحیح مسلم)
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو محبت، اخوت، رواداری اور باہمی احترام کا درس دیتا ہے۔ ان اعلیٰ اخلاقی اقدار میں حُسنِ ظن کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، جس کا مطلب ہے کہ دوسروں کے بارے میں اچھا گمان رکھا جائے اور محض شک، بدگمانی یا سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر کسی کے کردار اور نیت پر انگلی نہ اٹھائی جائے۔ بدگمانی دلوں میں نفرت، رشتوں میں دراڑ اور معاشرے میں انتشار پیدا کرتی ہے، جبکہ حسن ظن محبت، اعتماد اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بہت سے گمانوں سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے، کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ ایک مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ دوسروں کی لغزشوں کی تلاش کے بجائے اپنی اصلاح پر توجہ دے، دوسروں کے معاملات کو مثبت انداز میں دیکھے اور بلاوجہ کسی کے بارے میں منفی رائے قائم نہ کرے۔ یہی طرزِ فکر نہ صرف انفرادی کردار کو خوب صورت بناتا ہے بلکہ ایک پرامن، مہذب اور بااعتماد معاشرے کی تشکیل میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
علم و تربیت کے مراکز معاشرے کی روحانی و اخلاقی بنیادیں مضبوط کرنے کیلئے قائم کیے جاتے ہیں۔ یہاں انسان نہ صرف علم حاصل کرتا ہے بلکہ اخلاق، معاملات اور باہمی تعلقات کی تربیت بھی پاتا ہے۔ مگر جب انہی اداروں میں بدگمانی، الزام تراشی اور بہتان کی فضا پروان چڑھنے لگے تو تعلیم کا اصل مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ استاد و شاگرد کے درمیان اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے، طلبہ ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔قرآن کریم اور احادیثِ صحیحہ نے اس رویے کی سنگینی کو نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا ہے، اور اس کے مقابلے میں ’’حسنِ ظن‘‘ یعنی دوسروں کے بارے میں اچھا گمان رکھنے کی تربیت کو ایک بنیادی علاج کے طور پر پیش کیا ہے۔ ذیل میں اسی موضوع پر دس ذیلی عنوانات کے تحت تفصیلی اور جامع گفتگو پیش کی جاتی ہے، تاکہ تعلیمی اداروں سے وابستہ ہر فرد اس مسئلے کی نزاکت کو سمجھ سکے اور اس کے حل کی طرف رہنمائی حاصل کر سکے۔
بدگمانی کی قرآنی مذمت
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحجرات میں بدگمانی سے سختی کے ساتھ روکا ہے۔ ارشاد ہے کہ ’’اے ایمان والو، بہت زیادہ گمان سے بچو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں، اور ایک دوسرے کے عیب مت ٹٹولو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ (سورۃ الحجرات: 12)۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ بدگمانی محض ایک نفسیاتی کیفیت نہیں بلکہ ایک ایسا گناہ ہے جو مزید برائیوں یعنی جاسوسی اور غیبت کا دروازہ کھولتا ہے۔ آیت میں ’’بعض گمان گناہ ہیں‘‘ کہہ کر یہ واضح کیا گیا کہ ہر شک اور اندازہ گناہ نہیں، بلکہ وہ گمان قابلِ مؤاخذہ ہے جو بغیر دلیل کے کسی کی نیت یا کردار پر منفی حکم لگا دے۔ تعلیمی ادارے میں جب استاد، طالب علم یا انتظامیہ کسی کے بارے میں بلا دلیل منفی رائے قائم کر لیتے ہیں، پھر اسی گمان کی بنیاد پر تجسس کرتے یا دوسروں سے اس کا تذکرہ کرتے ہیں تو یہ ایک ہی آیت میں مذکور تین گناہوں یعنی بدگمانی، جاسوسی اور غیبت کے مجموعے میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہی آیت ان کیلئے براہِ راست تنبیہ ہے کہ علمی ماحول کو اس فساد سے پاک رکھا جائے۔
بہتان: ایک کھلا گناہ
قرآن مجید میں بہتان کو ایک ایسا جرم قرار دیا گیا ہے جس کی سنگینی کھلے گناہ کے برابر ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’جو شخص کوئی خطا یا گناہ کما کر پھر اسے کسی بے گناہ کے سر منڈھ دے، اس نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھا لیا۔ (النساء: 112)۔ اسی طرح ارشاد ہوا کہ ’’جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بغیر کسی گناہ کے تکلیف پہنچاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھایا‘‘ (الاحزاب:58)۔ یہ دونوں آیات ملا کر پڑھی جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بہتان دو صورتوں میں واقع ہوتا ہے، ایک یہ کہ اپنی غلطی دوسرے کے سر تھوپ دی جائے، اور دوسرا یہ کہ بغیر کسی جرم کے کسی بے گناہ کو محض تکلیف پہنچانے کی نیت سے بدنام کیا جائے۔ تعلیمی ماحول میں کسی طالب علم یا استاد پر بلا ثبوت الزام لگانا، چاہے وہ اخلاقی کردار سے متعلق ہو یا علمی دیانت سے، مثلاً نقل کا الزام، بدنیتی کا الزام یا کسی نامناسب تعلق کا الزام، اسی قرآنی وعید کے دائرے میں آتا ہے۔
حُسنِ ظن کی قرآنی دعوت
سورۃ النور میں اللہ تعالیٰ نے واقعہ افک کے تناظر میں مومنین کو یہ تعلیم دی کہ ’’جب انہوں نے یہ بات سنی تو مومن مردوں اور عورتوں نے اپنے آپ سے اچھا گمان کیوں نہ کیا اور کیوں نہ کہا کہ یہ کھلا بہتان ہے‘‘ (النور:12)۔ یہ آیت اسلامی تربیت کا وہ سنہری اصول بیان کرتی ہے کہ کسی بھی افواہ یا الزام کو سنتے ہی فوراً یقین کر لینے کے بجائے پہلے حسنِ ظن کو کام میں لایا جائے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہ آیت ایک ایسے سنگین واقعے کے پس منظر میں نازل ہوئی جس نے پوری مسلم معاشرت کو ہلا کر رکھ دیا تھا، اور اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے تحقیق سے پہلے حسنِ ظن کو مطلوب قرار دیا۔ تعلیمی اداروں میں یہی اصول اگر رائج ہو جائے، یعنی کوئی بات سننے پر فوری ردِعمل کے بجائے پہلے متعلقہ فرد سے حسنِ ظن رکھا جائے اور معاملے کی تحقیق کی جائے، تو بے شمار غلط فہمیاں جنم لینے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں۔
حدیثِ نبویﷺ میں بدگمانی
سے اجتناب کی تاکید
نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے۔ (صحیح بخاری:6066، صحیح مسلم:2563)۔ اس حدیث میں بدگمانی کو سب سے بڑا جھوٹ قرار دیا گیا ہے، کیونکہ اس کی بنیاد کسی ثابت شدہ حقیقت پر نہیں بلکہ محض وہم و گمان پر ہوتی ہے۔ گویا نبی کریمﷺ نے اس رویے کی حقیقت ہی بے نقاب کر دی کہ یہ ایک ایسا جھوٹ ہے جو انسان اپنے ہی دل میں گھڑتا ہے، بغیر کسی خارجی گواہی کے۔ تعلیمی ادارے میں جہاں علم و تحقیق کی بنیاد ثبوت اور دلیل پر رکھی جاتی ہے، وہاں بدگمانی کا رواج علمی روح کے سراسر منافی ہے، کیونکہ ایک ایسا فرد جو علمی میدان میں ہر دعوے پر دلیل مانگتا ہے، وہی اگر انسانی معاملات میں بلا دلیل رائے قائم کر لے تو یہ ایک تضاد ہے جسے دور کرنا ضروری ہے۔
مسلمان بھائی کی عزت و
آبرو کی حُرمت
سیدنا حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے (صحیح مسلم: 2564)۔ اسی حدیث میں آگے یہ بھی مذکور ہے کہ تقویٰ یہاں ہے، اور آپﷺ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا، اور کسی مسلمان کو حقیر جاننا ہی برائی کیلئے کافی ہے۔ یہ حدیث تعلیمی اداروں میں باہمی تعلقات کی بنیاد کو واضح کرتی ہے۔ استاد و شاگرد اور ہم جماعت طلبہ کے درمیان اگر یہ اصول اپنایا جائے کہ ایک دوسرے کو ظلم، تذلیل اور تحقیر سے محفوظ رکھنا اصل تقویٰ کا حصہ ہے، تو ایک دوسرے کی تحقیر اور بے جا الزام تراشی کا سلسلہ خود بخود رک جائے۔ خاص طور پر استاد کی طرف سے کسی طالب علم کے بارے میں پہلے سے قائم شدہ منفی رائے، یا طلبہ کی طرف سے کسی ہم جماعت کے خلاف بلا وجہ تعصب، اسی حدیث کی روشنی میں قابلِ اصلاح ہے۔
غیبت اور بہتان میں
فرق کی نبوی تشریح
نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام ؓسے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟ صحابہ کرام ؓنے عرض کیا اللہ اور اس کا رسولﷺ ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کا ذکر ایسی بات سے کرنا جسے وہ ناپسند کرے۔ پوچھا گیا اگر وہ بات میرے بھائی میں واقعی موجود ہو تو؟ فرمایا اگر وہ بات اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر موجود نہیں تو تم نے اس پر بہتان باندھا (صحیح مسلم: 2589)۔ یہ حدیث ایک نہایت اہم اصولی فرق واضح کرتی ہے کہ بغیر تحقیق کے کسی پر الزام لگانا محض غیبت نہیں بلکہ بہتان ہے، جو کہیں زیادہ سنگین گناہ ہے۔ اس نبوی تشریح سے یہ اصول ملتا ہے کہ کسی کے بارے میں بات کرنے سے پہلے یہ جانچنا ضروری ہے کہ آیا بات درست بھی ہے یا نہیں، کیونکہ بہت سی باتیں جو تعلیمی اداروں میں زبان زدِ عام ہو جاتی ہیں، ان کی کوئی حقیقی بنیاد نہیں ہوتی۔ تعلیمی ادارے میں افواہوں پر مبنی الزامات اکثر اسی زمرے میں آتے ہیں، اور اساتذہ و انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ اس فرق کو طلبہ کے ذہن نشین کرائیں تاکہ وہ بلا تحقیق کسی بات کو آگے نہ بڑھائیں۔
عیب پوشی اور پردہ داری کی فضیلت
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کا عیب چھپائے، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا عیب چھپائے گا۔ (صحیح مسلم: 2699)۔ اسی مفہوم کی روایت صحیح بخاری میں بھی موجود ہے جہاں مسلمان بھائی کی مدد اور پردہ پوشی کو اللہ کی مدد سے مشروط کیا گیا ہے۔ (صحیح بخاری: 2442)، ان دونوں روایات میں ایک اصولی تعلیم یہ ملتی ہے کہ انسان کی فطری کمزوریوں اور لغزشوں کو فوراً عام کرنے کے بجائے، انہیں چھپا کر اصلاح کی کوشش کرنا زیادہ محمود عمل ہے، بشرطیکہ معاملہ عوامی حق تلفی یا سنگین جرم کا نہ ہو۔ تعلیمی اداروں میں اگر اساتذہ اور طلبہ ایک دوسرے کی لغزشوں پر پردہ ڈالنے اور اصلاح کا رویہ اپنائیں، بجائے اس کے کہ ہر چھوٹی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے، تو بدگمانی اور بہتان کی جڑ ہی کاٹی جا سکتی ہے۔
حُسن ظن کی عملی تربیت
مذکورہ بالا آیات و احادیث سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ حسنِ ظن کوئی جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ قابلِ تربیت رویہ ہے، جسے منظم کوششوں سے فروغ دیا جا سکتا ہے۔ تعلیمی ادارے اسے نصاب کا حصہ بنا کر، اساتذہ کے طرزِ عمل میں شامل کر کے، اور نظم و ضبط کے قواعد میں شفافیت لا کر عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔ اس کیلئے چند عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ جب کسی طالب علم یا استاد کے خلاف کوئی بات سنی جائے تو پہلا قدم تحقیق ہونا چاہیے، الزام کی تصدیق نہیں۔ دوسرا یہ کہ ادارے میں شکایات کیلئے شفاف اور منصفانہ طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ افواہوں کی بجائے حقائق کی بنیاد پر فیصلے ہوں۔ تیسرا یہ کہ اساتذہ خود اپنے طرزِ عمل سے حسنِ ظن کا نمونہ پیش کریں، کیونکہ طلبہ اکثر اپنے اساتذہ کے رویے کی نقل کرتے ہیں۔
اجتماعی ماحول پر بدگمانی کے اثرات
بدگمانی اور بہتان کا ماحول تعلیمی ادارے کی اجتماعی نفسیات کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ اعتماد کا فقدان، باہمی رنجش، اور تعلیمی ارتکاز میں کمی اسی رویے کے براہِ راست نتائج ہیں۔ جب طلبہ یہ محسوس کریں کہ ان کے اساتذہ یا ساتھی ان کے بارے میں بلا وجہ منفی رائے رکھتے ہیں، تو ان کا اعتماد مجروح ہوتا ہے اور وہ تعلیمی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہونے لگتے ہیں۔ اسی طرح جب اساتذہ کے درمیان بدگمانی پھیلتی ہے تو ادارے کی اجتماعی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ قرآن و حدیث میں بیان کردہ اصول دراصل ایک صحت مند اجتماعی نظام کی بنیاد فراہم کرتے ہیں جہاں ہر فرد دوسرے کے بارے میں پہلے اچھا گمان رکھتا ہے اور الزام کی صورت میں فوری تحقیق کو ترجیح دیتا ہے، جس سے ادارے میں امن، اعتماد اور علمی ارتکاز کا ماحول قائم رہتا ہے۔
حسنِ ظن کی ثقافت کا
فروغ: خلاصہ اور لائحہ عمل
مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں بدگمانی کے خاتمے کا واحد پائیدار راستہ حسنِ ظن کی منظم تربیت ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ اساتذہ خود نمونہ بنیں، انتظامیہ شفاف احتسابی نظام قائم کرے، اور طلبہ کو ابتدا ہی سے یہ سکھایا جائے کہ کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے تحقیق اور دلیل کو معیار بنایا جائے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ افواہوں اور بلا ثبوت باتوں کو آگے پھیلانے کی بجائے، معاملے کو براہِ راست متعلقہ فرد یا ادارے کی مجاز اتھارٹی تک پہنچایا جائے۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جسے قرآن و حدیث نے بار بار امتِ مسلمہ کے سامنے رکھا، اور یہی تعلیمی اداروں کی روحانی صحت، علمی وقار اور اجتماعی سکون کی ضمانت ہے۔ جب حسنِ ظن ایک انفرادی خوبی سے نکل کر ادارہ جاتی ثقافت بن جائے، تب ہی بدگمانی اور بہتان جیسی بیماریوں سے مکمل نجات ممکن ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments