طہارت و پاکیزگی کا حکم

تحریر : صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی


’’ بیشک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک و صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘‘ (البقرہ) ’’ اگر میری اُمت پر شاق نہ گزرتا تو میں مسواک کو ضروری قرار دے دیتا‘‘(صحیح مسلم :589)

طہارت و پاکیزگی اسلام کے اوّلین احکام میں سے ہے۔ اسلام میں اس کی بہت اہمیت و فضیلت ہے۔ اسی لئے تو اسلام میں طہارت ،پاکیزگی کو فرض قرار دیا گیا ہے۔ طہارت جسمانی بھی ہوتی ہے، روحانی بھی اور ذہنی بھی۔ اللہ کے محبوب کریمﷺ نے یہاں تک ارشاد فرمایا کہ ’’اسلام کی بنیاد صفائی و پاکیزگی پر رکھی گئی ہے‘‘۔ اس لئے تو تمام عبادات کرنے سے پہلے خاص قسم کی طہارت وپاکیزگی کا اہتمام کرنا لازم ہے، اسلام نے طہارت و پاکیزگی کے اصول مقرر کر دیئے ہیں۔ 

سرکار دوعالم ﷺ نے اپنی تعلیمات کے ذریعے ان کی حدود بھی مقرر فرمائی ہیں۔ جس طرح نفس کی پاکیزگی بہت بڑی نعمت ہے اسی طرح جسمانی پاکیزگی بھی گراں قدر نعمت ہے اور انسان پر اللہ کی نعمت اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک انسان کا نفس اور جسم پاکیزگی و طہارت کیلئے تیار نہیں ہوں گے۔ نماز جو سب سے اہم اور فرض عبادت ہے اس کی درست ادائیگی کیلئے یہ ضروری قرار دیا گیا کہ نمازی کا بدن، کپڑے اور جگہ ہر قسم کی نجاست اور آلودگی سے پاک ہوں۔قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے ’’ مومنو!جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کیا کرو تو منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو اور سر کا مسح کر لیا کرو اور ٹخنوں تک پائوں (دھو  لیا کرو) اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو (نہا کر) پاک ہو جایا کرو‘‘ (سورۃ المائدہ)۔ نماز کی تیاری کیلئے پاک صاف لباس پسند کیا گیا ہے اور اللہ کے گھروں یعنی مساجد میں پاک صاف لباس اور قلبی پاکیزگی کے ساتھ داخلے کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ ’’ اے اولاد آدم!تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت اپنے آپ کو (صاف ستھرے لباس سے) مزین کیا کرو‘‘(سورۃ الاحزاب)۔

غسل انسان کی جسمانی طہارت وپاکیزگی کیلئے جامع مکمل اور ہمہ گیر عمل ہے۔ اللہ کے رسول کریمﷺ نے ہمیں ہمیشہ پاک وصاف رہنے کی تلقین فرمائی اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ خود ظاہری و باطنی پاکیزگی کے لحاظ سے پوری اُمت مسلمہ کیلئے بہترین نمونہ ہیں۔ آپ ﷺ کا لباس مبارک ہمیشہ پاک وصاف ہو تا اور ہر مسلمان کیلئے بھی یہی حکم ہے کہ وہ پاک و صاف لباس زیب تن کرے ۔

اہل عرب پانی کی کمی کی وجہ سے بہت کم نہاتے تھے اور ان کے لباس عموما ًموٹے کپڑے کے ہوا کرتے تھے اور جب محنت مزدوری کرتے تو پسینے میں شرابور ہو جاتے تھے چونکہ وہ ایک لباس کئی دنوں تک پہنے رکھتے تو جب وہ مسجد میں آتے تو ان کے لباس او رجسموں سے بد بو آتی تھی تو اس پر اسلام نے ہفتے میں ایک دن جمعہ کے روز غسل کرنے کو واجب قرار دے دیا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ’’ جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ پر ضروری ہے‘‘ ۔

طہارت و پاکیزگی اللہ اور اس کے رسول پاک ﷺکو بہت پسند ہے اور یہ ان کی محبت و حصولِ رضا کا ذریعہ بھی ہے اللہ نے اپنے بے مثال کلام ِمقدس میں اس کا یوں ذکر فرمایا ’’بے شک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک و صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘‘ (البقرہ)۔

ایک مرتبہ ایک بدو نے مسجد نبوی میں آکر سب کے سامنے گندگی کر دی۔ یہ دیکھ صحابہ کرام ؓ اس کو مارنے کیلئے دوڑے تو نبی کریمﷺ نے ان کو روکا اور اس بدو کو اپنے پاس بلا کر نہایت مہربانی سے فرمایا ’’یہ نماز پڑھنے کی جگہ ہے یہاں گندگی نہیں کرتے‘‘ اور پھر صحابہ کرام ؓ سے ارشاد فرمایا ’’یہاں پانی بہا دو‘‘۔ اس تعلیم نے جوصرف نماز کیلئے دی گئی تھی اہل عرب اور عام مسلمانوں کو پاک وصاف رہنے کا خوگر بنا دیا۔

حضور اکرمﷺ نے اپنے غلاموں کو نجاستوں سے اپنے بدن، گھروں، دلوں کو لباس کو مسجدوں کو پاک و صاف کرنے کا حکم دیا۔ آپ ﷺ کے غلام صحابہ کرام ؓطہارت و پاکیزگی کا خصوصی اہتمام فرمایا کرتے اور اللہ نے خود ان کی مدح فرمائی کہ ’’اس مسجد میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو یہ پسند کرتے ہیں کہ وہ پاک و صاف رہیں اور اللہ پاک و صاف رہنے والوں سے پیار فرماتا ہے‘‘ (سورۃ التوبہ)۔

اسلام نے طہارت و پاکیزگی کو اللہ کی رضا کا ذریعہ ٹھہرایا تو اس عظیم نعمت سے کون کلمہ پڑھنے والا محروم ہو نا پسند کرتا ہے نماز ادا کرنے والا ہر ایک نمازی اپنا بدن اپنے کپڑے پاک وصاف رکھتا ہے۔ اسی طرح زندگی کے دیگر معمولات میں بھی وہ صفائی پاکیزگی کا خاص خیال رکھے گا۔ سرکاردوعالم ﷺنے فرمایا ’’جب کوئی شخص سو کر اٹھے تو جب تک تین بار ہاتھ نہ دھو لے، اسے پانی کے برتن میں ہاتھ نہیں ڈالنا چاہیے کیوں کہ سوتے میں اس کا ہاتھ نہ جانے کس کس جگہ لگا ہو‘‘۔ اسی طرح اسلام نے دانتوں کی صفائی کا خاص خیال رکھنے کا حکم بھی دیا ہے کیونکہ دانت نہ صاف کرنے سے بہت سی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ سرکار دوعالم ﷺنے مسواک کی اتنی تاکید فرمائی کہ وہ واجب ہونے کے قریب ہو گئی، آپﷺنے ارشاد فرمایا ’’ اگر میری امت پر شاق نہ گزرتا تو میں مسواک کو ضروری قرار دیتا‘‘(صحیح مسلم :589)

 اللہ ہمیں ہر لمحہ اپنی یاد اور اپنے حبیب کریمﷺ کی محبت میں گم فرما دے اور اسلام کے ان مقدس اصولوں پر ہر لمحہ عمل کرنے والا بنا دے۔ زندگی کے ایک لمحے کابھی کچھ معلوم نہیں اگر ہم ناپاک رہے یا پاک وصاف نہ رہے، کیا خبر اسی لمحے ہماری موت آجائے تو کتنا افسوس کا مقام ہے کہ نبی کریم ﷺکا کلمہ گو اس دنیا سے حالت ناپاکی سے رخصت ہو۔اسلام نے تو ہمیں موت کے بعد بھی پاک و صاف حالت میں قبر میں غسل کے بعد دفن کا حکم دیا ہے کہ جب نبی پاک ﷺکا امتی اپنی قبر میں جائے تو وہاں بھی پاک وصاف ہو کیونکہ وہاں رحمت عالمﷺ کی زیارت ہونی ہے۔ اللہ ہمیں اسلام کی تعلیمات پر اپنی زندگی بسر کرنے کی تو فیق عطا فرمائے، آمین 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

حُسنِ ظن … پاکیزہ دل اور مضبوط معاشرے کی بنیاد

’’اے ایمان والو، بہت زیادہ گمان سے بچو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں، اور ایک دوسرے کے عیب مت ٹٹولو، اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو‘‘(الحجرات:12) ’’ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے‘‘ (صحیح مسلم) ’’جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بغیر کسی گناہ کے تکلیف پہنچاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھایا‘‘ (الاحزاب:58)’’جو شخص کسی مسلمان کا عیب چھپائے، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا عیب چھپائے گا‘‘ (صحیح مسلم)

یتیم کی کفالت، اجرِ عظیم کا ذریعہ

’’اور یتیموں کو اُن کا مال دے دو، اور اچھے مال کو خراب سے تبدیل نہ کرو، اور اُن (یتیموں) کا مال اپنے مال کے ساتھ ملاکر مت کھاؤ! بے شک یہ بڑا گناہ ہے‘‘ (سورۃ النساء:02)ایک آدمی نے حضور ﷺ سے اپنے دل کی سختی کی شکایت کی تو آپﷺ نے فرمایا ’’یتیم کے سرپر ہاتھ پھیرا کرو اور مسکین کو کھانا کھلایا کرو‘‘ (مسند احمد)

مسائل اور ان کا حل

عورت کا بچے کے کان میں اذان دینا سوال:بچے کی پیدائش پرعورت بچے کے کان میں اذان دے سکتی ہے؟(کمال، راولپنڈی) جواب:جی ہاں دے سکتی ہے،تاہم اذان میں آواز اتنی بلندنہ کرے کہ کوئی غیرمحرم سنے۔

نئے انتظامی یونٹس اور 28 ویں آئینی ترمیم

پاکستان میں اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی کی بحث اب سنجیدہ رُخ اختیار کر چکی ہے۔ نئے صوبوں کے قیام پر ایک کے بعد ایک قومی مباحثہ ہو رہا ہے جس میں سیاستدان، سول سوسائٹی ، قانون دان اور گورننس کے ماہرین حصہ لے رہے ہیں اور اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش ،کتنی سنجیدہ؟

وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کا تعلق دہشت گردی کے خلاف سیاسی یکجہتی اور ہم آہنگی سے ہے ۔

جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ، پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات

سندھ کابینہ نے میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پبلک کردی ہے،جس میں پولیس کی کارکردگی کو بدترین قرار دیا گیا ہے ‘میڈیکو لیگل نظام کی بھی قلعی کھول دی ہے۔