نئی حکومت، نئی کشمیر کونسل

تحریر : محمد اسلم میر


آزاد جموں و کشمیر میں نئی حکومت کے قیام، صدر کے انتخاب اور اسمبلی کی نئی سیاسی صف بندی کے بعد کشمیر کونسل کے نئے اراکین کا انتخاب بھی ہو گیا ہے۔

 بظاہر یہ چار نشستوں کا ایک معمول کا انتخابی عمل تھا لیکن سیاسی اعتبار سے اس کے اندر کئی ایسے اشارے پوشیدہ ہیں جو آنے والے دنوں میں آزاد کشمیر اور وفاق کے تعلقات کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔کشمیر کونسل کی چار خالی نشستوں کے لیے ابتدا میں انتخابی شیڈول جاری کیا گیا اور 12 اکتوبر کو پولنگ ہونا تھی۔ مسلم لیگ (ن) نے تین امیدوار میدان میں اتارے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک امیدوار نامزد کیا۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے راجہ مشتاق احمد منہاس، چودھری محمد سعید اور چودھری منظور احمد جبکہ پیپلز پارٹی کی طرف سے سابق سپیکر چودھری لطیف اکبر امیدوار تھے۔ لیکن سیاست نے ایک بار پھر اپنا انداز بدلا اور مقابلہ پولنگ سٹیشن تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہوگیا۔ کاغذاتِ نامزدگی جمع ہوئے، جانچ پڑتال ہوئی اور چونکہ چار نشستوں کے مقابلے میں صرف چار ہی امیدوار میدان میں رہ گئے اس لیے چاروں کو الیکشن کمیشن نے بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔ یہ اتفاق بھی کم اہم نہیں کہ ان چاروں میں سے تین حالیہ عام انتخابات میں اپنی نشستوں پر کامیاب نہیں ہو سکے تھے مگر سیاسی سفر نے انہیں ایک دوسرے راستے سے پارلیمانی کردار دے دیا۔ یہی سیاست ہے جہاں ایک انتخاب میں شکست اختتام نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات سیاست کا نیا راستہ کھول دیتی ہے اور نئی ذمہ داریاں سنبھالنی پڑتی ہیں۔کشمیر کونسل کی اہمیت محض چار نشستوں تک محدود نہیں یہ ادارہ آزاد کشمیر اور پاکستان کے درمیان آئینی اور سیاسی رابطے کی ایک اہم کڑی ہے۔ اسی لیے ان چار اراکین کا بلا مقابلہ انتخاب اگرچہ بظاہر ایک مختصر انتخابی واقعہ ہے، لیکن اس کے پس منظر میں آزاد کشمیر کی نئی سیاسی حکومت، وفاقی حکومت اور کشمیر کونسل کے درمیان آئندہ تعاون کی تصویر بھی دکھائی دیتی ہے۔ 

دو اکتوبر کو کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد اگلا مرحلہ حلف برداری کا تھا جو 6 اکتوبر کو اسلام آباد میں تکمیل کو پہنچ گیا۔ اس تقریب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بحیثیت چیئرمین کشمیر کونسل چاروں نومنتخب اراکین سے حلف لیا۔ حلف کے بعد وزیر اعظم نے کشمیر کونسل کو آزاد کشمیر اور پاکستان کے درمیان پل قرار دیا۔ انہوں نے صدر آزاد کشمیر نجیب نقی اور وزیراعظم افتخار گیلانی پر زور دیا کہ وہ اپنے آئینی کردار کو بھرپور طریقے سے استعمال کریں اور عوامی مسائل کو مشاورت اور باہمی تعاون سے حل کریں۔ وزیراعظم شہباز شریف کا سب سے اہم وعدہ شاید یہ تھا کہ وفاقی حکومت آزاد کشمیر کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔ تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کی بات کی گئی۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آزاد کشمیر کی نئی حکومت اپنے ابتدائی 100 روزہ پروگرام کو عملی شکل دینے کی کوشش کر رہی ہے لیکن 100 دنوں میں اب کام کے 60 دن ہی رہ گئے ہیں مگر زمین پر کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ دار الحکومت کی سڑکوں کے ارد گرد صفائی ستھرائی کا کوئی نظام نظر نہیں آ رہا اور شہر کی خوبصورتی کے لیے 35 کروڑ روپے سابق حکومت نے مختص کئے تھے لیکن اندرون شہر کے حالات نہیں بدلے۔

مظفرآباد کی سڑکیں اور گلیاں کہیں بھی دار الحکومت کا منظر پیش نہیں کر تیں۔ وافر فنڈز اور ترقیاتی ادارہ مظفرآباد کے سینکڑوں ملازمین کے باوجود زمین پر کوئی کام نظر نہیں آرہا۔ آزاد کشمیر کے عوام کو سڑک، تعلیم، صحت، روزگار، شہری سہولیات اور بنیادی ضروریات چاہئیں اور ان معاملات میں وفاق اور آزاد کشمیر کے درمیان فاصلے کم ہونا وقت کی ضرورت ہے۔انتخابات ہو چکے، اسمبلی وجود میں آ چکی، حکومت قائم ہو چکی، صدر منتخب ہو چکے اور اب سیاسی نظام کو آگے بڑھنا چاہیے۔ حکومت 100 دنوں کے اصلاحاتی پروگرام کے 40 دن گزار چکی لیکن زمین پر تبدیلی نظر نہیں آ رہی اور وزیر اعظم آزاد کشمیر سابق وزرائے اعظم کی پیروی کرتے ہوئے کشمیر ہاؤس اسلام آبا د سے ہی حکومت چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی تقریر کا اختتام ایک بڑے سیاسی وعدے کے ساتھ کیا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں آزاد کشمیر میں ایسے منصوبے اور اقدامات کیے جائیں گے جنہیں وہاں کے عوام آنے والے برسوں میں یاد رکھیں گے اور آزاد کشمیر میں ترقی و خوشحالی کا دور آئے گا۔ لیکن اس دور کو ایک کامیاب کہانی بنانے کے لیے وزیر اعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کو کشمیر ہاؤس اسلام آباد کے بجائے وزیر اعظم سیکرٹریٹ مظفر آباد میں قیام کرنا پڑے گا۔ دار الحکومت مظفر آباد نہ صرف آزاد کشمیر کی سیاست اور تعمیر و ترقی کے منصوبوں کو متعارف کرانے کا مرکز ہے بلکہ وزیر اعظم افتخار گیلانی کا انتخابی حلقہ بھی ہے۔ 

اب سوال یہ ہے کہ کیا کشمیر کونسل واقعی وہ پل ثابت ہوتی ہے جس کا ذکر وزیراعظم شہباز شریف نے کیا؟اس کا جواب آنے والے مہینوں میں ملے گاکیونکہ پل صرف کہنے سے مضبوط نہیں ہوجاتے، ان کے لیے دونوں اطراف سے قدم بڑھانا پڑتا ہے۔کشمیر کونسل کے چار اراکین نے حلف اٹھا لیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ چار آوازیں اسلام آباد میں آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کس قدرزور سے بلند کرتی ہیں اور پل کا یہ تصور حقیقت میں آزاد کشمیر اور پاکستان کے درمیان ترقی، اعتماد اور تعاون کا پل بن پاتا ہے ‘ اور کس تیزی کے ساتھ آزاد کشمیر میں قومی یکجہتی کو فروغ ملتا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

لانگ مارچ کیا رنگ لائے گا؟

خیبر پختونخوا میں ایک جانب مسلسل دہشت گردی‘ امن و امان کے مسائل اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے تو دوسری جانب صوبے کی حکمران جماعت کی جانب سے لانگ مارچ نے وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔

حکومت اپوزیشن مذاکرات اور بلدیاتی انتخابات

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر غیر مشروط طور پر پی ٹی آئی اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی مسائل سیاسی بنیادوں پر حل کرنا چاہتے ہیں اور وہ مل بیٹھ کر ہی ہو سکتے ہیں۔

ایم ڈی کیٹ کے نتائج پر تنازع

نئے صوبوں کے معاملے پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اس کی منطق سمجھ میں نہیں آتی، اگر اسلام آباد ناکام ہوچکا ہے تو اسے تھر واسیوں کے حوالے کردیا جائے۔

خیبرپختونخوا میں کیا ہونے والا ہے؟

خیبر پختونخوا کا سیاسی درجہ حرارت گزشتہ ہفتے سے مسلسل بلند ہے۔ چار اکتوبر کو لکی مروت سے شروع ہونے والا لانگ مارچ جنوبی علاقوں سے ہوتا ہوا شمال کی طرف بڑھ رہا ہے۔کرک اورکوہاٹ سے گزر کر آج یہ خیبرکے راستے پشاورپہنچے گا۔

بلوچستان، چیلنجز اور مواقع

صوبائی حکومت کی جانب سے گزشتہ ڈھائی برس کے دوران مختلف شعبوں میں اصلاحات، صحت کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، پولیسنگ کو جدید خطوط پر استوار کرنے، نوجوانوں کی تربیت، تعلیمی اداروں کے معیار میں بہتری اور سرکاری وسائل کو عوامی فلاح کے اقدامات واضح کرتے ہیں کہ بلوچستان میں حکمرانی کے انداز کو بتدریج جدید نظام سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش جاری ہے۔

مصنوعی ذہانت کے دور میں خواتین کیلئے نئے مواقع

آرٹیفشل انٹیلی جنس (AI) موجودہ دور کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی ٹیکنالوجیز میں شامل ہے۔ اس نے نہ صرف کاروبار، تعلیم، طب اور صنعت کے شعبوں کو متاثر کیا ہے بلکہ روزگار اور کام کرنے کے روایتی طریقوں کو بھی بدلنا شروع کر دیا ہے۔