خیبرپختونخوا میں کیا ہونے والا ہے؟
خیبر پختونخوا کا سیاسی درجہ حرارت گزشتہ ہفتے سے مسلسل بلند ہے۔ چار اکتوبر کو لکی مروت سے شروع ہونے والا لانگ مارچ جنوبی علاقوں سے ہوتا ہوا شمال کی طرف بڑھ رہا ہے۔کرک اورکوہاٹ سے گزر کر آج یہ خیبرکے راستے پشاورپہنچے گا۔
راستے کی یہ تبدیلی خود ایک اشارہ ہے کہ یہ مارچ ابھی اپنی منزل پر نہیں پہنچااور اصل سیاسی تصادم ابھی شروع ہونا باقی ہے۔ابھی تک لانگ مارچ خیبرپختونخوا میں گھوم پھر رہاتھا اوراس سے بظاہر کسی کو تکلیف بھی نہیں تاہم پشاور پہنچنے کے بعد اس کی اہمیت بڑھ جائے گئی ہے۔ اس لانگ مارچ کی نوعیت اور حجم کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس کا قائد کوئی اپوزیشن لیڈر نہیں بلکہ صوبے وزیر اعلیٰ ہے۔ ایک برسر اقتدارحکمران کا اپنے صوبے میں کسی مارچ کی قیادت کرنا پاکستان کی سیاسی روایت میں غیر معمولی بات ہے۔ کوہاٹ یونیورسٹی کے چوک میں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ ہم ایک ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں۔ ابھی بہت سے راؤنڈ اور کھلاڑی باقی ہیں۔انہوں نے راستے کی تبدیلی کو پی ٹی آئی کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا۔سیاست کو کھیل کے استعارے میں بیان کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ پی ٹی آئی اس معرکے کو طویل لڑائی سمجھ رہی ہے جس کی رفتار وفاقی حکومت نہیں بلکہ پی ٹی آئی طے کرے گی۔لانگ مارچ کی اصل منزل کیا ہے؟ جغرافیائی اعتبار سے اسلام آباد یقینا منزل ہے لیکن سیاسی منطق سے دیکھیں تو اصل نشانہ دو ٹھوس نکات ہیں، اول وفاقی حکومت کو عمران خان کی رہائی کے معاملے پر رعایت دینے پر مجبور کرنا،دوم مسلسل سیاسی دبا ؤکے ذریعے پی ٹی آئی کو اگلے مرحلے کے سیاسی کھیل میں مضبوط پوزیشن دلانا۔
لیکن یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اتنی مضبوط پوزیشن میں ہیں کہ وہ یہ سب کرواسکیں یامنواسکیں؟اس سوال کے مختلف جوابات اور پہلو ہیں، پہلا یہ کہ خود اُن کے سرپر عدالتی تلوار لٹک رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کا کیس ہے جس میں ان پر ہزارہ میں ضمنی انتخاب کے دوران سرکاری اہلکاروں پر ڈرانے اور دھمکانے کا الزام ہے، ریڈیوپاکستان کا کیس ہے، تیسراشیرافضل مروت کا آئینی عدالت میں کیس ہے جسے سب سے مضبوط سمجھاجارہا ہے اور چوتھا این سی سی آئی اے کا کیس ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی پارٹی کے اندر اپنی پوزیشن کا سوال بھی ہے۔ لانگ مارچ سے یہ پوزیشن قدرے واضح ہوگئی ہے۔ ان کا مخالف دھڑا بھی کھل کر سامنے آگیا ہے۔ان اراکین اسمبلی کا بھی پتہ لگ گیا ہے جو اس وقت ان کے ساتھ ہیں اور ان کا بھی جو اِن کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے سے کترا رہے ہیں۔علی امین گنڈاپور اس کی واضح مثال ہیں جو یارک سے واپس ہوگئے۔ کچھ اور ایم پی ایز بھی ہیں جن کا تعلق جنوبی وزیرستان سے تھا۔
انہوں نے سہیل آفریدی کا ساتھ نہیں دیا۔لکی مروت سے جب لانگ مارچ شروع ہوا تو تین ہزار کے قریب شرکاکی تعداد بتائی گئی،کرک میں یہ تعداد مزید گھٹ گئی۔کوہاٹ میں اچھاپاور شو کیاگیا۔درہ آدم خیل میں بھی بہتر تھا،تاہم اصل مرحلہ اور امتحان آج سے شروع ہوگاجب قافلہ پشاور سے نکلے گا۔سب کی نظریں وزیراعلیٰ کے کنٹینر پر ہیں جس پر ابھی تک ان کے چند قریبی ساتھی جن میں شفیع جان، شاہد خٹک،جنید اکبر وغیرہ شامل ہیں وہی نظر آئے ہیں۔ورکرز اس کنٹینر پر عاطف خان،شہرام ترکئی، اسد قیصر،تیمور سلیم جھگڑا اور دیگر بڑے ناموں کو بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔پارٹی کی مرکزی قیادت بھی ابھی تک کنٹینر پر اپنی حاضری یقینی نہیں بناپائی؛ چنانچہ کہاجارہاہے کہ سہیل آفریدی کا اصل امتحان پشاور سے شروع ہوگا۔
اس تمام قضیے کے دوران گورنر راج اور ایمرجنسی کی بازگشت بھی مسلسل سنائی دیتی رہی ہے، لیکن اس میں ایک مدھم آواز ان ہاؤس تبدیلی کی بھی ہے۔ پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے خودکہا تھا کہ انہیں سی ویز ملنا شروع ہوگئی ہیں۔اگرچہ یہ ابھی قیاس آرائی ہے لیکن اسے بھی ایک آپشن سمجھا گیا ہے۔یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ سہیل آفریدی کے بعد وزارت اعلیٰ کیلئے کون مضبوط امیدوار ہوسکتا ہے، تو نظریں ہزارہ اور سوات کی جانب اٹھتی ہیں۔سہیل آفریدی اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں،سکیورٹی آپریشنز بھی اپنے زیرنگرانی کروانا چاہتے ہیں اور تمام اہم ٹرانسفر پوسٹنگز بھی اپنی مرضی کی کرواناچاہتے ہیں۔ یہیں سے اختلاف شروع ہوتا ہے۔ مقتدر حلقے سیاسی بنیادوں پر تبادلوں اور تعیناتیوں کے بجائے ان علاقوں کے حالات کے تناظرمیں تعیناتیاں چاہتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ گورننس اور امن وامان کی صورتحال کی طرف توجہ دیں جبکہ وزیر اعلیٰ سڑکوں پر مارچ کرتے نظرآتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جس وقت انہوں نے لانگ مارچ کا آغاز کیا تو وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی پشاورپہنچے اور یہاں انہوں نے چیف سیکرٹری اورآئی جی کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔
اسی طرح جب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کنٹینر کوہاٹ پہنچا تو گورنرفیصل کریم کنڈی نے چیف سیکرٹری اورآئی جی سمیت اہم محکموں کے سیکرٹریز کو بلا کر ان سے بریفنگ لی۔یہاں گورنر کے آئینی اختیارات کا بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 105 گورنر کو کچھ مخصوص اختیارات دیتا ہے لیکن ان کی نوعیت کو درست طورپرسمجھنا ضروری ہے۔آئین کے آرٹیکل 129 سے 131 کے مطابق صوبائی انتظامی اختیار برائے نام گورنر کے پاس ہے لیکن گورنر اپنے فرائض وزیر اعلیٰ کے مشورے کے مطابق ہی انجام دے سکتا ہے۔دوسرے لفظوں میں گورنر کا آئینی کردار بنیادی طور پر علامتی ہے۔ آرٹیکل 130 واضح کرتا ہے کہ کابینہ وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں گورنر کی معاونت کرے گی اور اسے مشورے دے گی، اس کا مطلب یہ ہے کہ گورنر کابینہ کے مشورے کے بغیر کوئی انتظامی اقدام نہیں کر سکتا۔تو کیا گورنر کا ہائی لیول میٹنگ کی صدارت کرنا آئینی طور پر جائز ہے؟ جواب کا انحصار میٹنگ کی نوعیت اورمقصد پر ہے۔
اگر یہ میٹنگ ہم آہنگی کی نوعیت کی ہوجس میں قانون کی عملداری یا انتظامی امورپربات ہوتو گورنر کا بطور صوبائی آئینی سربراہ اس میں شریک ہونا لازمی طور پر غیر آئینی نہیں۔ آئین کا آرٹیکل 105 گورنر کو صوبائی اسمبلی کو پیغام بھیجنے یا اسمبلی طلب کرنے کا اختیار دیتا ہے جو بذات خود صوبائی امور میں گورنر کی کچھ شرکت کو فرض کرتا ہے تاہم اگر میٹنگ کا مقصد کابینہ کو نظر انداز کر کے براہ راست وزیر اعلیٰ پر دباؤ ڈالنا ہویا گورنرراج کے لیے حقائق تیار کرنا ہوتو یہ آئین کی سرخ لکیر کو چھو سکتی ہے۔لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ گورنر میٹنگ کی صدارت کر سکتا ہے یا نہیں بلکہ یہ کہ ایسی میٹنگ کا سیاسی مقصد اور آئینی نتائج کیا ہوں گے۔موجودہ تناظر میں گورنر کی طرف سے بلائی گئی میٹنگ لازمی طور پر وفاقی حکومت کی طرف سے صوبائی حکومت پر دبا ڈالنے کے اوزار کے طور پردیکھی جائے گی،بہرحال آٹھ اور نو اکتوبر وقت کے حساب سے انتہائی اہم ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ پہلے آنکھ کون جھپکتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments