حکومت اپوزیشن مذاکرات اور بلدیاتی انتخابات
وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر غیر مشروط طور پر پی ٹی آئی اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی مسائل سیاسی بنیادوں پر حل کرنا چاہتے ہیں اور وہ مل بیٹھ کر ہی ہو سکتے ہیں۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والے دو روزہ اجلاس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکاحالانکہ کہا جاتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن نے مل کر بہت سے معاملات پر اتفاق کر لیا تھا اور اس کا مشترکہ اعلامیہ بھی تیار ہو گیا تھالیکن آخری لمحات میں محمود خان اچکزئی اور سہیل آفریدی کی مداخلت سے مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے۔ اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ حکومت نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرانے سے انکار کر دیا تھاجبکہ دوسری بڑی وجہ خیبر پختونخوا کے سکیورٹی حالات تھے جس پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق نہیں ہو سکا۔اب وزیراعظم نے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن لانگ مارچ ختم کر دے تو ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں،لیکن اپوزیشن بضد ہے کہ پہلے ان کی عمران خان سے ملاقات کروائی جائے اس کے بعد لانگ مارچ ملتوی ہوگا۔اس وقت لانگ مارچ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے صوابی کی طرف رواں دواں ہے اور وہاں سے انہوں نے اسلام آباد کی طرف آنا ہے۔ حکومت نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ کسی صورت لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔اگر اگلے ایک دو روز میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کامیاب مذاکرات نہیں ہوتے تو خدشہ ہے کہ لانگ مارچ کی صورت میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ٹکراؤ دیکھنے کو ملے گا۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کی باتیں بھی ہو رہی تھیں لیکن وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کی ملاقات میں یہی طے پایا کہ ابھی اس آپشن سے دور رہا جائے اور معاملات کا سیاسی حل تلاش کیا جائے۔
وزیراعظم اور صدر مملکت کو اس کا احساس ہے کہ اگر گورنر راج یا ایمرجنسی کا آپشن اختیار کیا جاتا ہے تو اس سے اور زیادہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ خیبر پختونخوا میں جودہشت گردی سے جڑے مسائل ہیں ان کو وفاقی اور صوبائی ایپکس کمیٹی میں لے کر جائے جہاں حکومت اپوزیشن اور سکیورٹی ادارے مل کر حکمت عملی بنائیں، جس سے وفاق اور صوبوں کے درمیان دہشت گردی سے نمٹنے میں تحفظات ہیں وہ دور ہو سکیں۔حکومت کے وزرا کو بھی ان حالات میں اشتعال انگیز ی سے گریز کرنا چاہیے۔پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر براہ راست دہشت گردی کے الزامات مذاکرات کی ناکامی کا سبب بن سکتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ لانگ مارچ جب اسلام آباد کی طرف آتا ہے تو اس سے پہلے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا راستہ کھلتا ہے یا نہیں۔اگرچہ وزیر داخلہ محسن نقوی کہہ چکے ہیں کہ اب پی ٹی آئی سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے لیکن وزیراعظم نے مذاکرات کا آپشن کھولا ہے، دیکھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی قیادت اس آپشن سے فائدہ اٹھاتی ہے یا نہیں۔
ایک اچھی تجویز مولانا فضل الرحمن نے دی ہے کہ ہم بطور اپوزیشن ایک آل پارٹیز کانفرنس منعقد کریں اور اس کے نتیجے میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے اور اس بنیاد پر حکومت کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔مولانا فضل الرحمن پہلے بھی پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے حامی نہیں تھے اور ان کی جماعت نے اس میں شرکت سے انکار کر دیا تھالیکن ان کا مؤقف تھا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اس کا سیاسی حق ہے اور حکومت کو اسے تسلیم کرنا چاہیے اور کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرنی چاہیے۔مولانا فضل الرحمن کی جانب سے ایک بار پھر حکومت کو مذاکرات کی پیشکش ایک اچھی کوشش ہے اور اگر مولانا اس عمل میں آگے بڑھتے ہیں تو یہ ایک اچھی پیش رفت ہو سکتی ہے۔مولانا فضل الرحمن نے یہ بھی کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو محض عمران خان کی رہائی تک لانگ مارچ یا سیاسی تحریک کو نہیں چلانا چاہیے بلکہ ہمیں بڑے ایشوز پر ایک سیاسی تحریک کا آغاز کرنا ہوگا۔ اس بات کی حمایت تحریک تحفظ آئین پاکستان اور جماعت اسلامی نے بھی کی ہے۔ ان کا بھی مؤقف ہے کہ ہمیں بڑے معاملات کو بنیاد بنا کر سیاسی تحریک کو آگے لے کر چلنا ہوگا۔اس وقت ہم اس صوبے میں دہشت گردی کا شکار ہیں ایسے میں وفاق اور صوبے کے درمیان مضبوط کوآرڈینیشن درکار ہے اور یہ کام ایک دوسرے کے درمیان تحفظات اور اختلافات کی بنیاد پر آگے نہیں بڑھ سکے گا۔
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بھی الیکشن کمیشن نے ایک مجوزہ شیڈول پنجاب حکومت کو جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ اس پر نہ صرف جواب دیں بلکہ اپنا شیڈول بھی جمع کرائیں تاکہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو ممکن بنایا جا سکے۔لیکن ابھی تک حکومت نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا۔ پنجاب میں ویسے بھی ابھی تک ایسے حالات نظر نہیں آرہے جو ظاہر کریں کہ یہاں بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ خبریں یہ بھی ہیں کہ وفاق کی سطح پر 28 ویں ترمیم کے امکانات موجود ہیں اور اس ترمیم میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے آئینی ترامیم ہونی ہیں۔ان ترامیم کی بنیاد پر بلدیاتی انتخابات کے نظام میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔ یہ صرف ایک صوبے تک محدود نہیں ہوں گی بلکہ اس میں ملک کی سطح پر وہ بلدیاتی نظام ہے وہ تبدیل ہو سکتا ہے۔کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اب جب بلدیاتی انتخابات ہوں گے تو چاروں صوبوں میں ایک نئے نظام کے تحت ہوں گے۔اسی لیے اسلام آباد، کوئٹہ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں جہاں الیکشن نہیں ہو رہے ان کو اسی بنیاد پر روکا ہوا ہے۔
اگرچہ پنجاب حکومت نے کہا تھا کہ ہم اکتوبر سے دسمبر تک بلدیاتی انتخابات کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن اب دیکھنا ہوگا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات الیکشن کمیشن کے مجوزہ شیڈول کے تحت ہوں گے یا یہاں بھی مستقبل میں نئی ترامیم کے تحت کروائے جائیں گے۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ پنجاب میں محکمہ بلدیات نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ نومبر، دسمبر اور جنوری میں موسمی شدت اور ماحول میں فوگ زیادہ ہوتی ہے اور محکمے کے ملازمین زیادہ تر اس دوران ہنگامی کاموں میں مصروف ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ شاید مجوزہ بلدیاتی انتخابات کے شیڈول میں اپنی حاضری کو ممکن نہ بنا سکیں۔اس لیے اگر انتخابات کو آگے کر دیا جائے تو بہتر ہوگا۔محکمہ بلدیات کی رپورٹ کابینہ میں پیش ہوگی اور اس کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا کہ موجودہ شیڈول کے دوران بلدیاتی انتخابات کروائے جاتے ہیں یا مؤخر کر دئیے جاتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments