مرض مؤمن کیلئے آزمائش و رحمت

تحریر : مولانا محمد حسنین حنفی


’’اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی (اللہ )مجھے شفا دیتا ہے‘‘(الشعراء:80) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں، اسے آزمائش میں مبتلا فرماتے ہیں‘‘

صحت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ انسان جب تندرست ہوتا ہے تو اسے اپنی صحت معمول کی چیز محسوس ہوتی ہے، لیکن جب جسم کسی مرض کی گرفت میں آتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ صحت کتنی بڑی نعمت تھی۔ چلنا، پھرنا، کھانا، پینا، عبادت کرنا اور روزمرہ کے معمولات انجام دینا بظاہر معمولی کام ہیں، مگر علالت کے ایام میں یہی معمولات دشوار محسوس ہونے لگتے ہیں۔ اسی لیے اسلام نے صحت کی حفاظت کی بھی تعلیم دی اور مرض کی حالت میں صبر و شکر کا راستہ بھی دکھایا۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی (اللہ )مجھے شفا دیتا ہے‘‘(الشعراء:80)۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انسان کے جسم کا بھی اس پر حق ہے۔ اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ جسم اللہ تعالیٰ کی عطا اور امانت ہے، اس لیے اس کی حفاظت کرنا، مناسب غذا استعمال کرنا، صحت کے اصولوں کا خیال رکھنا اور ضرورت کے وقت علاج کروانا انسان کی ذمہ داری ہے۔ البتہ تمام احتیاطوں کے باوجود جب انسان مرض میں مبتلا ہوجائے تو اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ اب اس کیلئے صبر اور رجوع الی اللہ کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوا ہے۔

مرض کے وقت صبر کیجیے 

مرض کے وقت مؤمن کیلئے سب سے اہم چیز صبر ہے۔ جسمانی تکلیف اور ذہنی پریشانی فطری ہے، لیکن مؤمن آزمائش میں اپنے رب سے بدگمان نہیں ہوتا بلکہ حمد و شکر اور رحمتِ الٰہی کی امید کے ساتھ اسے برداشت کرتا ہے۔ نبی کریمﷺ نے ایسے مریض کیلئے خوشخبری بیان فرمائی جو اپنی علالت پر اللہ تعالیٰ کی حمد کرے کہ وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوکر اٹھے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو۔ مزید یہ کہ مرض کی وجہ سے صحت کے زمانے کے معمولات رک جائیں تو سابقہ نیک اعمال کا اجر بھی جاری رہتا ہے۔

اس لیے مرض کو صرف مصیبت سمجھنا درست نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں، اسے آزمائش میں مبتلا فرماتے ہیں۔ بسا اوقات مرض انسان کو غفلت سے جگاتا، اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتا اور عاجزی و اصلاحِ نفس کا موقع فراہم کرتا ہے۔

مریض کے گناہ پتوں کی 

طرح جھڑتے ہیں 

ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کو مرض یا کسی بھی تکلیف کی وجہ سے جو اذیت پہنچتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کو اس طرح دور فرماتے ہیں جیسے درخت اپنے پتے جھاڑ دیتا ہے۔ یہ کتنی بڑی خوشخبری ہے کہ مؤمن کی کوئی تکلیف بھی بے فائدہ نہیں جاتی۔ اگر وہ صبر کرے تو اس کی تکلیف اس کیلئے پاکیزگی اور اجر کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسی لیے مرض کے وقت انسان کو اپنے دل کی کیفیت پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ زبان سے شکوہ، ناشکری اور بے صبری کے الفاظ نکالنے کے بجائے حمد، ذکر، استغفار اور دعا کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اپنی تکلیف کو بیان کرنا یا ڈاکٹر سے علاج کیلئے رجوع کرنا صبر کے خلاف نہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر شکوہ کرنا اور اس کی رحمت سے مایوس ہونا مؤمن کے شایانِ شان نہیں۔

مرض کی حالت میں دعا  کیجیے 

مرض کی حالت میں دعا بھی بہت اہم ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بیمار کیلئے اللہ تعالیٰ سے رحمت، مغفرت اور شفا مانگنے کی دعائیں سکھائی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیماری کے وقت انسان کو اپنی توجہ اپنے رب کی طرف زیادہ کرنی چاہیے۔ دوا جسم کے علاج کا ذریعہ ہے، جبکہ حقیقی شفا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس لیے مسلمان علاج بھی کرے اور دعا بھی۔

یہاں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اسلام نے مریض کو بیماری برداشت کرنے کا حکم دے کر علاج سے بے نیاز نہیں کیا۔ شریعت نے جسم کے حق کو تسلیم کیا ہے، اس لیے مناسب اور جائز علاج اختیار کرنا بھی درست ہے۔ ایک طرف انسان دوا اور طبی تدابیر اختیار کرے اور دوسری طرف دل کا اعتماد اللہ تعالیٰ پر رکھے۔ یہی توکل کا درست مفہوم ہے۔

مرض انسان کو اپنی کمزوری کا احساس بھی دلاتا ہے۔ صحت کے زمانے میں انسان اپنے منصوبوں، صلاحیتوں اور وسائل پر بھروسہ کرتا ہے، لیکن ایک چھوٹی سی جسمانی تکلیف اسے یاد دلاتی ہے کہ اصل طاقت اور اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ چند لمحوں میں انسان کی مصروف زندگی رک سکتی ہے اور اسے اپنے رب کے سامنے اپنی محتاجی کا احساس ہوسکتا ہے۔ یہی احساس اگر دل میں پیدا ہوجائے تو مرض روحانی اصلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے۔لہٰذا مرض آنے پر مؤمن کا رویہ مایوسی نہیں بلکہ امید، شکوہ نہیں بلکہ صبر، غفلت نہیں بلکہ رجوع اور بے تدبیری نہیں بلکہ دعا کے ساتھ علاج ہونا چاہیے۔ صحت ملے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور صحت کی قدر کرے، اور علالت آجائے تو اسے گناہوں کی معافی، اجر کے حصول اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کا موقع سمجھے۔

صحت میں شکر کیجیے 

حقیقت یہ ہے کہ مؤمن کی زندگی کا کوئی مرحلہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے خالی نہیں۔ صحت اسے شکر کا موقع دیتی ہے اور مرض اسے صبر کا۔ صحت میں وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مرض میں انہی نعمتوں کی قدر سیکھتا ہے۔ اس لیے مرض کو صرف درد کی نظر سے نہیں بلکہ ایمان کی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے اور ساتھ ساتھ صحت کی حالت میں اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کرتے رہنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحت کی نعمت کی قدر کرنے، مرض میں صبرو شکر اختیار کرنے، ہر تکلیف کو اپنی اصلاح کا ذریعہ بنانے، جائز علاج کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے شفا مانگنے اور ہر حال میں اپنے رب سے مضبوط تعلق قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

 

مولانا محمد حسنین حنفی مرکز اھل السنۃ 

والجماعت سرگودھا میں تحریر و تصنیف کے 

شعبے سے وابستہ ایک مذہبی اسکالر ہیں

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

قطرہ قطرہ زندگی

نوشین اور اس کا چھوٹا بھائی ارتضیٰ دونوں صحن میں لگے نل کے پاس کھڑے تھے۔ ارتضیٰ دانت برش کر رہا تھا اور نلکا پوری طرح کھلا ہوا تھا۔ پانی تیزی سے بہہ کر نالی میں ضائع ہو رہا تھا۔

گنیز بک 2027ء میں شامل دنیا کے ہونہار بچے!

بڑی ٹیبل کا ننھا کھلاڑی:جوڈ اوونز

عیادت

ارے ، یہ کیا ہو رہا ہے ؟ بیمار شخص نے گھبرا کر بستر سے اُٹھتے ہوئے کہا۔ ایک موٹے سے لڑکے نے اپنے بازوں کو پھیلا کر جواب دیا : چچا جان ! ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔ ہم آپ کی عیادت کیلئے آئے ہیں ۔

ماں ہماری وقار ہستی ہے

ماں ہماری وقار ہستی ہے،ان کے دم سے بہارِ ہستی ہے

نصیحت آموز باتیں

٭…زبان کی حفاظت کرو، بہت سے فتنے خود ختم ہوجائیں گے۔

ذرا مسکرائیے

بیٹے نے باپ سے کہا:میں کھڑکی کے قریب کھڑا گانا گا رہا تھا تو کسی نے ایک جوتا پھینکا۔