بلوچستان، چیلنجز اور مواقع
صوبائی حکومت کی جانب سے گزشتہ ڈھائی برس کے دوران مختلف شعبوں میں اصلاحات، صحت کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، پولیسنگ کو جدید خطوط پر استوار کرنے، نوجوانوں کی تربیت، تعلیمی اداروں کے معیار میں بہتری اور سرکاری وسائل کو عوامی فلاح کے اقدامات واضح کرتے ہیں کہ بلوچستان میں حکمرانی کے انداز کو بتدریج جدید نظام سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش جاری ہے۔
تاہم ان اقدامات کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب ان کے ثمرات صوبے کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے عام شہریوں تک بھی پہنچیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت سیکرٹریز کمیٹی کے اجلاس میں صوبے کے ترقیاتی منصوبوں، مختلف شعبوں میں اصلاحات اور گزشتہ ڈھائی سال کی محکمانہ کارکردگی کا جائزہ حکومت کو اپنی کارکردگی کاجائزہ لینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔اچھی حکمرانی صرف منصوبوں کے اعلان کا نام نہیں بلکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل، وسائل کے درست استعمال اور عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی سے اس کی کامیابی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس تناظر میں میرٹ، شفافیت اور جدید ٹیکنالوجی کو انتظامی نظام کا حصہ بنانا مثبت اقدام ہے۔
صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹم کا نفاذ بلوچستان کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ صحت کے اعدادوشمار کی درست اور بروقت دستیابی مؤثر پالیسی کی بنیاد ہوتی ہے۔ درست معلومات دستیاب ہوں تو حکومت وسائل اور سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بہتر فیصلے کرسکتی ہے۔ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے رپورٹنگ میں بہتری، ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی، پرائمری ہیلتھ کیئر کی ڈیجیٹلائزیشن اور تحقیق کو فروغ دینے کے اقدامات اس شعبے میں ایک نئے دور کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ بلوچستان کے ڈیجیٹل ہیلتھ ماڈل کی عالمی پذیرائی حوصلہ افزا ہے۔ صحت کے شعبے میں بین الاقوامی سطح پر بلوچستان کے ڈیجیٹل ماڈل کو اجاگر کیا جانا خوش آئند ہے۔ڈی ایچ آئی ایس ٹو ایشیا پیسیفک کانفرنس جس میں26 ممالک نے شرکت کی تھی،اس میں صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ اور ان کی ٹیم کا بلوچستان کے تجربے کو پیش کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر اداروں میں اصلاحات کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے تو صوبے کی مثبت کارکردگی عالمی سطح پر توجہ حاصل کرسکتی ہے۔ تاہم اصل امتحان بلوچستان کے عام لوگوں کے لیے ہے۔ دیہی اور دور دراز علاقوں میں بنیادی مراکز صحت کی فعالیت، ادویات کی دستیابی، ڈاکٹروں اور طبی عملے کی موجودگی اور بروقت علاج کی سہولت ہی وہ پیمانہ ہے جس سے عوام حکومتی اصلاحات کو پرکھیں گے۔
بلوچستان میں امن و امان کے حوالے سے سیاسی اور عوامی حلقوں کی تشویش کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ شاہراہوں پر سفر، تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کے متاثر ہونے سے براہ راست عام آدمی متاثر ہوتا ہے۔ بلوچستان ایک وسیع و عریض صوبہ ہے جہاں لوگوں کی معاشی، تعلیمی اور سماجی ضروریات کے لیے ایک شہر سے دوسرے شہر سفر ناگزیر ہے۔ شاہراہیں غیر محفوظ ہوں تو اس کے اثرات صرف مسافروں تک محدود نہیں رہتے بلکہ تجارت، روزگار، سیاحت اور مجموعی معیشت بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے حکومت، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو امن کے قیام کے لیے جامع اور مسلسل حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ اپوزیشن اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے عوامی مسائل کو بھی جمہوری نظام میں مثبت انداز میں سنا جانا چاہیے تاکہ حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد مزید مضبوط ہو۔بلوچستان اسمبلی میں قانون سازی اور عوامی مسائل پر بحث بھی جمہوریت کا حسن ہے۔ اسمبلی میں مختلف مسودات قانون کی منظوری، متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو معاملات بھیجنا، امن و امان، بھرتیوں، تعلیمی اداروں کے فنڈز اور شہری مسائل پر ارکان کی آواز اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ عوامی نمائندوں کا کردار اہم ہے۔ اختلاف رائے جمہوری نظام کا حصہ ہے تاہم اداروں کے احترام، آئینی حدود اور باہمی مکالمے کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے۔ حکومت اور اپوزیشن اگر عوامی مفاد کے مشترکہ نکات پر تعاون کریں تو اس کے نتیجے میں صوبے کے مسائل کے حل کی رفتار تیز ہوسکتی ہے۔
نوجوان بلوچستان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ بلوچستان یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام کے پہلے مرحلے میں ایک ہزار سے زائد نوجوانوں کو مختلف اضلاع میں کمیونیکیشن، لیڈرشپ، انٹرپرینیور شپ، کیریئر کونسلنگ، سی وی رائٹنگ اور انٹرویو کی تیاری جیسی مہارتوں کی تربیت فراہم کرنا ایک مثبت قدم ہے۔ صوبے کے مختلف شہروں اور دور دراز علاقوں تک تربیتی پروگرام پہنچانا اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ نوجوانوں کو مواقع صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں۔ دوسرے مرحلے میں ڈیجیٹل سکلز اور سٹارٹ اپس کی تربیت کا منصوبہ بھی وقت کی ضرورت ہے۔ آج کی دنیا میں تعلیم کے ساتھ عملی مہارت، ٹیکنالوجی اور کاروباری سوچ نوجوانوں کے لیے روزگار اور خود روزگاری کے نئے راستے کھول سکتی ہے۔تعلیم کے شعبے میں کالجز کے معیار کو بہتر بنانے پر توجہ بھی قابلِ ذکر ہے۔ نئے ادارے قائم کرنے کے بجائے موجودہ کالجز کے معیار، تدریسی ماحول، بنیادی ڈھانچے، کھیلوں کی سہولیات، ہاسٹلز، ٹرانسپورٹ، طبی سہولیات اور سیکیورٹی کو بہتر بنانا وسائل کے مؤثر استعمال کی جانب مناسب حکمت عملی ہوسکتی ہے۔ بلوچستان کے طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنا صوبے کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ ایسے اداروں کو صرف عمارتوں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں کردار سازی، نظم و ضبط، جدید تعلیم اور قومی خدمت کے مراکز بنایا جانا چاہیے۔
مجموعی طور پر بلوچستان حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل گورننس، صحت، پولیسنگ، نوجوانوں، تعلیم، میرٹ اور ادارہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے اقدامات مثبت سمت میں پیش رفت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اصلاحات کو وقتی اقدامات کے بجائے مستقل پالیسی کا حصہ بنایا جائے، ان کی باقاعدہ نگرانی ہو اور کارکردگی کے نتائج عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ حکومت کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر عوامی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے جبکہ سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، میڈیا اور شہریوں کو بھی اصلاحات کے عمل میں تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔بلوچستان کے مسائل پیچیدہ ضرور ہیں مگر ناقابل حل نہیں۔ مضبوط ادارے، شفاف نظام، میرٹ، جدید ٹیکنالوجی، موثر پولیسنگ، معیاری تعلیم، بہتر صحت اور نوجوانوں کے لیے مواقع ایک محفوظ اور خوشحال بلوچستان کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اصلاحات کے اس سفر کو تسلسل دے اور عوام کی حقیقی ضروریات کو پالیسی سازی کا مرکز بنائے جبکہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ قانون کی پاسداری، امن کے قیام اور اجتماعی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ اگر حکومت اور عوام مشترکہ مقاصد کے تحت آگے بڑھیں تو بلوچستان کے چیلنجز کو مواقع میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ یہی اجتماعی سوچ صوبے کو امن، ترقی، خوشحالی اور بہتر مستقبل کی طرف لے جانے کا سب سے مضبوط راستہ ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments