چہرے کی بے رونقی دور کرنے کے آسان طریقے

تحریر : سائرہ خان


چہرہ انسان کی شخصیت کا سب سے نمایاں حصہ ہوتا ہے۔ صاف، تروتازہ اور شاداب چہرہ نہ صرف خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ انسان کی صحت اور شخصیت کے بارے میں بھی مثبت تاثر دیتا ہے۔

 تاہم مصروف طرزِ زندگی، ذہنی دباؤ، نیند کی کمی، غیر متوازن غذا، آلودگی، دھوپ اور پانی کی کمی کے باعث چہرے کی رونق ماند پڑ سکتی ہے۔ بعض اوقات جلد خشک، بے جان اور تھکی ہوئی نظر آنے لگتی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ چند آسان اور روزمرہ کی عادات اپنا کر چہرے کی تازگی اور قدرتی رونق کو کافی حد تک بحال کیا جا سکتا ہے۔

متوازن غذا اور مناسب پانی کا استعمال

چہرے کی خوبصورتی کا تعلق صرف بیرونی نگہداشت سے نہیں بلکہ اندرونی صحت سے بھی ہے۔ اگر غذا میں ضروری غذائی اجزا شامل نہ ہوں تو اس کے اثرات جلد پر بھی نظر آ سکتے ہیں۔ روزانہ کی خوراک میں تازہ پھل، سبزیاں، دالیں، انڈے، مچھلی، دہی اور دیگر صحت بخش غذائیں شامل کریں۔ وٹامنز، منرلز اور مناسب مقدار میں پروٹین جلد کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔پانی کی مناسب مقدار بھی جلد کے لیے بہت اہم ہے۔ جسم میں پانی کی کمی سے جلد خشک اور بے رونق دکھائی دے سکتی ہے۔ اس لیے دن بھر وقفے وقفے سے پانی پینا چاہیے۔ بہت زیادہ میٹھے مشروبات اور ضرورت سے زیادہ چائے یا کافی کے بجائے پانی، دودھ یا صحت بخش مشروبات کو ترجیح دینا بہتر ہے۔بہت زیادہ تلی ہوئی، چکنائی والی اور انتہائی پراسیسڈ غذاؤں کے استعمال کو بھی محدود کرنا صحت اور جلد کے لیے مفید ہے۔ 

جلد کی صفائی اور موئسچرائزنگ

چہرے کی بے رونقی دور کرنے کے لیے جلد کی بنیادی صفائی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ دن میں ایک یا دو مرتبہ اپنی جلد کی نوعیت کے مطابق فیس واش سے چہرہ صاف کیا جا سکتا ہے۔ بہت سخت صابن یا بار بار چہرہ دھونے سے جلد میں خشکی اور جلن پیدا ہو سکتی ہے۔چہرہ دھونے کے بعد مناسب موئسچرائزر کا استعمال جلد کو نرم اور ہموار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر جلد خشک ہے تو نسبتاً زیادہ موئسچرائزنگ والا پروڈکٹ جبکہ چکنی جلد کے لیے ہلکا اور نان کامیڈوجینک موئسچرائزر بہتر ہے۔دھوپ بھی جلد کی بے رونقی، جھریوں اور رنگت میں ناہمواری کی ایک اہم وجہ بن سکتی ہے، اس لیے باہر نکلتے وقت سن سکرین استعمال کرنا مفید ہے۔ خاص طور پر ایسے افراد جو زیادہ وقت دھوپ میں گزارتے ہیں،انہیں جلد کو براہِ راست تیز دھوپ سے بچانے کے لیے ٹوپی، چھتری یا مناسب لباس کا بھی استعمال کرنا چاہیے۔

نیند، ورزش اور ذہنی سکون

چہرے کی تازگی کے لیے اچھی نیند بہت ضروری ہے۔ مسلسل دیر تک جاگنا اور ناکافی نیند آنکھوں کے گرد سوجن، تھکن اور چہرے کی مجموعی بے رونقی کا سبب بنتی ہے۔ کوشش کریں کہ روزانہ مناسب اور باقاعدہ نیند لی جائے اور سونے سے پہلے موبائل فون یا دیگر سکرینز کا استعمال کم کیا جائے۔ورزش بھی جسم کے ساتھ ساتھ جلد کے لیے مفید ہے۔ روزانہ تیز قدموں سے چہل قدمی، ہلکی ورزش یا کوئی پسندیدہ جسمانی سرگرمی مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ ورزش کے بعد پسینہ آنے کی صورت میں چہرہ صاف پانی سے دھونا اور جلد کو صاف رکھنا بھی ضروری ہے۔ذہنی دباؤ بھی انسان کی مجموعی صحت اور ظاہری شکل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ مسلسل پریشانی اور تناؤ سے بچنے کے لیے کچھ وقت آرام، مطالعے، عبادت، گہری سانس لینے، دوستوں یا اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنے اور پسندیدہ سرگرمیوں کے لیے نکالیں۔ پرسکون ذہن اکثر چہرے پر  بھی تازگی کا احساس پیدا کرتا ہے۔

گھریلو طریقے‘احتیاط ضروری 

چہرے کی رونق کے لیے بہت سے گھریلو ٹوٹکے مشہور ہیں لیکن ہر چیز ہر قسم کی جلد کے لیے مناسب نہیں ہوتی۔ لیموں، بیکنگ سوڈا یا دیگر تیزابیت والی چیزیں براہِ راست چہرے پر لگانے سے بعض افراد میں جلن، خشکی یا الرجی ہو سکتی ہے۔ اس لیے قدرتی چیز کو بھی استعمال کرنے سے پہلے احتیاط ضروری ہے۔اگر کوئی فیس ماسک یا نیا سکن کیئر پروڈکٹ استعمال کرنا ہو تو پہلے جلد کے ایک چھوٹے حصے پر آزمائش کرنا بہتر ہے۔ اگر خارش، سرخی، جلن یا سوجن محسوس ہو تو اسے استعمال نہ کریں۔یہ بھی یاد رکھیں کہ چہرے کی رونق ایک دن میں واپس نہیں آتی۔ مستقل مزاجی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔اگر چہرہ اچانک بہت زیادہ بے رونق ہو جائے، جلد کا رنگ غیر معمولی طور پر بدل جائے، شدید خشکی یا خارش ہو یا مسلسل تھکن، کمزوری یا دیگر علامات بھی موجود ہوں تو صرف گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔ بعض اوقات جلد کی تبدیلیاں کسی  صحت کے مسئلے کی علامت بھی ہو سکتی ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

لانگ مارچ کیا رنگ لائے گا؟

خیبر پختونخوا میں ایک جانب مسلسل دہشت گردی‘ امن و امان کے مسائل اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے تو دوسری جانب صوبے کی حکمران جماعت کی جانب سے لانگ مارچ نے وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔

حکومت اپوزیشن مذاکرات اور بلدیاتی انتخابات

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر غیر مشروط طور پر پی ٹی آئی اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی مسائل سیاسی بنیادوں پر حل کرنا چاہتے ہیں اور وہ مل بیٹھ کر ہی ہو سکتے ہیں۔

ایم ڈی کیٹ کے نتائج پر تنازع

نئے صوبوں کے معاملے پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اس کی منطق سمجھ میں نہیں آتی، اگر اسلام آباد ناکام ہوچکا ہے تو اسے تھر واسیوں کے حوالے کردیا جائے۔

خیبرپختونخوا میں کیا ہونے والا ہے؟

خیبر پختونخوا کا سیاسی درجہ حرارت گزشتہ ہفتے سے مسلسل بلند ہے۔ چار اکتوبر کو لکی مروت سے شروع ہونے والا لانگ مارچ جنوبی علاقوں سے ہوتا ہوا شمال کی طرف بڑھ رہا ہے۔کرک اورکوہاٹ سے گزر کر آج یہ خیبرکے راستے پشاورپہنچے گا۔

بلوچستان، چیلنجز اور مواقع

صوبائی حکومت کی جانب سے گزشتہ ڈھائی برس کے دوران مختلف شعبوں میں اصلاحات، صحت کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، پولیسنگ کو جدید خطوط پر استوار کرنے، نوجوانوں کی تربیت، تعلیمی اداروں کے معیار میں بہتری اور سرکاری وسائل کو عوامی فلاح کے اقدامات واضح کرتے ہیں کہ بلوچستان میں حکمرانی کے انداز کو بتدریج جدید نظام سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش جاری ہے۔

نئی حکومت، نئی کشمیر کونسل

آزاد جموں و کشمیر میں نئی حکومت کے قیام، صدر کے انتخاب اور اسمبلی کی نئی سیاسی صف بندی کے بعد کشمیر کونسل کے نئے اراکین کا انتخاب بھی ہو گیا ہے۔