صبر و شکرمشکل حالات میں مومن کا رویہ

تحریر : ڈاکٹر مفتی سید اطہر علی


’’اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف، بھوک اور مالوں، جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو‘‘ (البقرہ:155) ’’یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے رحمتیں اور برکتیں ہیں، اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں‘‘ (البقرہ:157)

زندگی دھوپ چھاؤں کا ایک چکر ہے۔ کبھی نعمتوں کی بارش ہوتی ہے، کبھی آزمائش کے کانٹے راستے میں بچھ جاتے ہیں۔ انسان انہی دو کیفیتوں میں الجھ کر رہ جاتا ہے، کبھی خوشی میں سرشار ہو کر غافل ہو جاتا ہے تو کبھی تکلیف میں ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے۔ مومن کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہ ہر حال کو اپنے رب کی طرف سے سمجھتا ہے اور دونوں صورتوں میں ایک خاص وقار کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ یہی وقار دراصل صبر اور شکر کے دو الفاظ میں سمٹا ہوا ہے، جو بظاہر مختلف مگر حقیقت میں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ جس طرح سکے کا ایک رخ دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، اسی طرح ایمان کی تکمیل بھی صبر اور شکر دونوں کے امتزاج سے ہوتی ہے۔

صبر و شکر کی حقیقت

صبر کوئی بے بسی یا مجبوری کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک باشعور فیصلہ ہے۔ انسان جب مشکل میں ہو اور اپنے اختیار سے شکایت کی زبان بند رکھے، دل کو مطمئن رکھے اور اللہ کے فیصلے پر راضی رہے، تو یہی اصل صبر کہلاتا ہے۔ علمائے کرام نے صبر کی تین قسمیں بیان کی ہیں۔ پہلی اللہ کی اطاعت پر صبر، یعنی نماز، روزہ اور دیگر عبادات کی پابندی میں نفس کی سستی پر قابو پانا۔ دوسری گناہوں سے بچنے پر صبر، یعنی نفس اور شیطان کی خواہشات کے مقابلے میں اپنے آپ کو روکے رکھنا۔ تیسری مصائب پر صبر، یعنی تکلیف، نقصان، بیماری یا کسی عزیز کی جدائی پر دل کو اللہ کی رضا پر مطمئن رکھنا۔ جو شخص ان میں سے کسی ایک پہلو میں کمزور رہ جائے، اس کا صبر بھی نامکمل رہتا ہے۔ شکر بھی اسی طرح ایک شعوری عمل ہے۔ یہ نعمت کو پہچاننا، اس کے دینے والے کی معرفت رکھنا اور اسے اسی راستے پر خرچ کرنا ہے جس پر رب نے اجازت دی ہے۔ صبر اور شکر دونوں دراصل ایک ہی حقیقت، یعنی اللہ کی حاکمیت اور حکمت پر ایمان، کے دو مختلف مظاہر ہیں۔

صبر قرآن کی روشنی میں

قرآن مجید نے آزمائش کو انسانی زندگی کا لازمی حصہ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف، بھوک اور مالوں، جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو‘‘ (البقرہ:155)۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آزمائش کسی کی سزا نہیں بلکہ ایک عمومی قانون ہے جس سے کوئی مستثنیٰ نہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اس آیت میں پانچ قسم کی آزمائشوں کا ذکر ہوا۔ خوف، بھوک، مال کی کمی، جان کا نقصان اور پھلوں یعنی پیداوار کی کمی۔ گویا انسان کی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو آزمائش سے خالی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں صبر کرنے والوں کو خوشخبری دینے کا حکم دیا، نہ کہ خود خوشخبری سنائی، تاکہ یہ ذمہ داری اُمت کے ہر فرد پر عائد ہو کہ وہ ایک دوسرے کو صبر کی تلقین اور حوصلہ دے۔

صابرین کا انعام

اسی سلسلے کی اگلی آیت میں صابرین کا مقام یوں بیان ہوا، ترجمہ: ’’یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے رحمتیں اور برکتیں ہیں، اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں‘‘ (البقرہ: 157)۔ گویا صبر محض تکلیف برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ وہ راستہ ہے جو براہ راست اللہ کی رحمت اور ہدایت تک لے جاتا ہے۔ جو شخص مشکل میں اپنی زبان اور اپنا دل قابو میں رکھتا ہے، اللہ اس کیلئے رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ 

شکر کا قرآنی وعدہ

اللہ تعالیٰ نے شکر کرنے والوں سے ایک واضح وعدہ فرمایا: اور جب تمہارے رب نے اعلان کر دیا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا، اور اگر تم ناشکری کرو گے تو بیشک میرا عذاب بہت سخت ہے۔ (سورہ ابراہیم:7)۔ یہ آیت دراصل ایک اصول بیان کرتی ہے کہ نعمت کی افزائش کا دارومدار شکر پر ہے۔ جو شخص چھوٹی نعمت پر بھی راضی اور شکرگزار رہتا ہے، اللہ اس کیلئے برکت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ آیت کا دوسرا حصہ ناشکری پر سخت عذاب کی وعیدپر مبنی ہے۔ جس طرح مصیبت میں صبر انسان کے ایمان کی آزمائش ہے، اسی طرح آسانی اور نعمت میں شکر بھی اتنا ہی بڑا امتحان ہے، بلکہ بعض علماء کے نزدیک شکر کا امتحان زیادہ مشکل ہے ۔

مومن کا امتیازی وصف

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مومن کی اصل پہچان کیا ہے، کیا وہ صرف مشکل میں صبر کرنے والا ہے یا آسانی میں شکر کرنے والا۔ اس کا خوبصورت جواب اس حدیث میں ملتا ہے جو حضرت صہیبؓ سے مروی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’مومن کا معاملہ عجیب ہے، اس کیلئے اس کا ہر معاملہ خیر ہی خیر ہے، اور یہ بات کسی اور کو حاصل نہیں سوائے مومن کے۔ اگر اسے خوشی پہنچے تو وہ شکر کرتا ہے تو یہ اس کیلئے بہتر ہوتا ہے، اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کیلئے بہتر ہوتا ہے (صحیح مسلم، کتاب الزہد والرقائق:999)۔ اس حدیث میں نبی کریمﷺ نے مومن کی زندگی کا وہ راز بیان فرما دیا جس کی بنیاد پر وہ کبھی حقیقی معنوں میں نقصان میں نہیں رہتا، کیونکہ اس کیلئے ہر دو حال فائدہ مند ہیں۔ یہ حدیث دراصل اس مضمون کی اساس ہے، کیونکہ اس میں نبی کریمﷺ نے لفظ ’’عجباً‘‘ استعمال فرمایا، یعنی مومن کا معاملہ حیرت انگیز ہے۔ حیرت اس بات میں ہے کہ دنیا کے دیگر لوگ حالات کے تابع ہوتے ہیں، خوشی ملے تو مسرور ہو جاتے ہیں اور تکلیف ملے تو مایوس، مگر مومن حالات پر غالب رہتا ہے۔ وہ خود حالات کے تابع نہیں بلکہ اپنے ایمان کے تابع ہے، اور یہی وہ خصوصیت ہے جو اسے دیگر انسانوں سے ممتاز کرتی ہے۔

مصیبت بھی رحمت کا ذریعہ

یہاں یہ نکتہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ مصیبت پر صبر کرنے والے کو محض اجر ہی نہیں ملتا بلکہ اس کے گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں۔ حضرت ابوسعید خدریؓ اور حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے، تھکاوٹ ہو، بیماری ہو، فکر ہو، غم ہو، ایذا ہو یا رنج، یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھ جائے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے‘‘ (صحیح بخاری: 5641)۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کس قدر وسیع ہے کہ دنیا کی ہر چھوٹی بڑی تکلیف کو، خواہ وہ جسمانی ہو یا نفسیاتی، گناہوں کی معافی  کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے، بشرطیکہ انسان صبر اور احتساب کا دامن تھامے رہے۔

حقیقی صبر کا وقت

صبر کا اصل امتحان کب ہوتا ہے، یہ سمجھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا صبر کا مفہوم سمجھنا۔ حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کا گزر ایک عورت کے پاس سے ہوا جو ایک قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ آپﷺ نے اسے فرمایا کہ اللہ سے ڈر اور صبر کر۔ وہ عورت آپﷺ کو نہ پہچانتے ہوئے تلخی سے بولی کہ تجھے میرے جیسی مصیبت نہیں پہنچی، اس لیے تو یہاں سے چلا جا۔ بعد میں جب اسے بتایا گیا کہ یہ تو نبی کریمﷺ تھے، وہ گھبرا کر آپﷺ کے دروازے پر پہنچی، اور وہاں اس نے کوئی دربان نہ پایا، اور معذرت کی۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا: ’’بے شک اصل صبر تو مصیبت کے پہلے صدمے کے وقت ہی ہوتا ہے‘‘ (صحیح بخاری، کتاب الجنائز:1302)۔

یعنی وقت گزرنے کے بعد جو سکون آ جاتا ہے وہ تو فطری بات ہے، اصل کمال اس شخص کا ہے جو صدمے کی پہلی گھڑی میں، جب دل خون کے آنسو رو رہا ہو، اسی وقت اپنی زبان اور اپنے دل کو اللہ کے فیصلے پر راضی رکھے۔ اس حدیث میں دو اہم اسباق پوشیدہ ہیں۔ پہلا یہ کہ نبی کریمﷺ نے اس عورت کی تلخ بات پر ناراضی کا اظہار نہیں فرمایا، کیونکہ آپﷺ جانتے تھے کہ یہ صدمے کی حالت میں کہی گئی بات ہے، اور غم کی شدت میں انسان سے ایسی باتیں سرزد ہو سکتی ہیں۔ دوسرا سبق یہ کہ صبر کی اصل قیمت ابتدائی لمحات میں ہے، بعد میں تو وقت خود ہی زخموں پر مرہم رکھ دیتا ہے۔

شکر کی عملی صورتیں

شکر بھی کوئی رسمی جملہ دہرانے کا نام نہیں، بلکہ یہ دل کی وہ کیفیت ہے جو نعمت کو دیکھ کر عاجزی اختیار کرتی ہے۔ شکر تین چیزوں کے ملاپ سے مکمل ہوتا ہے: دل کی رضا اور اعتراف کہ یہ نعمت اللہ کی طرف سے ہے، زبان کی حمد و ثنا، اور اعضاء کا نعمت کو نیکی کے راستے میں خرچ کرنا۔ جو شخص صرف زبان سے شکر ادا کرے مگر اپنی نعمت کو نافرمانی میں لگا دے، اس کا شکر ادھورا رہ جاتا ہے۔نبی کریمﷺ کی اپنی زندگی اس کی بہترین مثال ہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ اتنی طویل نماز پڑھتے کہ آپﷺ کے قدم مبارک سوج جاتے۔ جب عرض کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تو آپﷺ کو  گناہوں سے پاک فرما دیا ہے تو پھر اس قدر مشقت کیوں، تو آپﷺ نے فرمایا: ’’کیا میں اللہ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں؟‘‘ (صحیح بخاری)۔ یہ حدیث اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ شکر کا تعلق صرف گناہوں سے  معافی یا سزا سے بچنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ اللہ کی عظمت کے اعتراف میں کیا جانے والا ایک عاشقانہ عمل ہے۔ جس بندے کی مغفرت کی ضمانت مل چکی تھی، وہ بھی شکر کی راہ میں اپنے قدموں کو ورم آنے تک عبادت میں مصروف رہا، تو عام مومن کیلئے اس میں کتنا بڑا سبق ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

قطرہ قطرہ زندگی

نوشین اور اس کا چھوٹا بھائی ارتضیٰ دونوں صحن میں لگے نل کے پاس کھڑے تھے۔ ارتضیٰ دانت برش کر رہا تھا اور نلکا پوری طرح کھلا ہوا تھا۔ پانی تیزی سے بہہ کر نالی میں ضائع ہو رہا تھا۔

گنیز بک 2027ء میں شامل دنیا کے ہونہار بچے!

بڑی ٹیبل کا ننھا کھلاڑی:جوڈ اوونز

عیادت

ارے ، یہ کیا ہو رہا ہے ؟ بیمار شخص نے گھبرا کر بستر سے اُٹھتے ہوئے کہا۔ ایک موٹے سے لڑکے نے اپنے بازوں کو پھیلا کر جواب دیا : چچا جان ! ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔ ہم آپ کی عیادت کیلئے آئے ہیں ۔

ماں ہماری وقار ہستی ہے

ماں ہماری وقار ہستی ہے،ان کے دم سے بہارِ ہستی ہے

نصیحت آموز باتیں

٭…زبان کی حفاظت کرو، بہت سے فتنے خود ختم ہوجائیں گے۔

ذرا مسکرائیے

بیٹے نے باپ سے کہا:میں کھڑکی کے قریب کھڑا گانا گا رہا تھا تو کسی نے ایک جوتا پھینکا۔