سوشل میڈیا اور اختلافات کا درست منہج
’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کیا کرو‘‘ (الحجرات:8) ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘‘(صحیح بخاری ،صحیح مسلم)
سوشل میڈیا نے انسانی گفتگو کے دائرے کو غیر معمولی وسعت دے دی ہے۔ جو بات کبھی ایک محدود مجلس، درس یا تحریر تک رہتی تھی، آج چند لمحوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد تک پہنچ جاتی ہے۔ دینی علوم کی اشاعت، اہل علم کی گفتگو، علمی کتابوں کا تعارف اور اصلاحی مواد کی فراہمی کیلئے یہ ایک مؤثر ذریعہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وسعت کے ساتھ ساتھ ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔ اب ایک معمولی سی غلط نسبت، ایک نامکمل اقتباس، ایک سیاق و سباق سے کٹی ہوئی ویڈیو یا ایک غیر محتاط تبصرہ صرف چند افراد کی گفتگو نہیں رہتا بلکہ ایک بڑے طبقے کی رائے پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر دینی کام کرنے والے ہر شخص کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے طریقہ اظہار، معلومات کے انتخاب، نسبتوں کی تحقیق اور دوسروں کے بارے میں اپنے فیصلوں کا مسلسل جائزہ لیتا رہے۔ اسلامی علمی روایت میں اختلاف کوئی نئی چیز نہیں۔ علمی موضوعات پر اہل علم نے مختلف آرا پر ابحاث کی ہیں، دلائل پیش کیے، اعتراضات کیے اور جوابات دیے، لیکن علمی اختلاف کا بنیادی مقصد حق تک پہنچنا اور علمی مسئلے کو واضح کرنا تھا، کسی صاحب علم مسلمان کی تحقیر یا شخصیت کو مجروح کرنا نہیں۔ آج سوشل میڈیا کے ماحول میں اسی علمی روایت کو نئے ذرائع کے مطابق زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ اختلاف رائے کو دشمنی، تنقید کو تحقیر اور علمی رد کو شخصی حملے میں تبدیل کرنا اس مقصد کو کمزور کرتا ہے جس کیلئے علمی گفتگو کی جاتی ہے۔
دینی کام کا آغاز اس بات سے ہونا چاہیے کہ انسان یہ طے کرے کہ وہ سوشل میڈیا پر کیوں لکھ رہا ہے؟ اگر مقصد دین کی خدمت، صحیح بات کی وضاحت اور اصلاح ہے تو پھر ہر تحریر سے پہلے نیت کا محاسبہ بھی ضروری ہے۔ محض اپنی بات منوانا، مخالف کو خاموش کرانا یا کسی شخصیت کے بارے میں اپنے تاثر کو عام کرنا علمی خدمت کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ علمی کام میں اخلاص کے ساتھ تحقیق، امانت، عدل، حسن تعبیر اور حسنِ ظن کی بھی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ درست بات بھی اگر غلط انداز میں پیش کی جائے تو اصلاح کے بجائے انتشار پیدا کرسکتی ہے۔
سب سے پہلا اصول تحقیق کا ہے۔ قرآن کریم نے فرمایا: فَتَبیَّنُوٓا، یعنی تحقیق کرلیا کرو۔ سوشل میڈیا پر اس اصول کی اہمیت اس لیے مزید بڑھ جاتی ہے کہ یہاں خبر کی رفتار تحقیق کی رفتار سے کہیں زیادہ ہے۔ کوئی پوسٹ وائرل ہوجائے، ہزاروں لوگ اسے شیئر کردیں یا متعدد صفحات ایک ہی بات نقل کرنے لگیں تو اس سے وہ بات خود بخود مستند نہیں ہوجاتی۔ دینی گفتگو میں تعداد سند نہیں اور شہرت دلیل نہیں۔ کسی خبر، اقتباس، ویڈیو، فتویٰ یا نسبت کو آگے بڑھانے سے پہلے اصل ماخذ تک پہنچنااور نسبت کی تصدیق کرنا علمی دیانت کا بنیادی تقاضا ہے۔
اسی طرح کسی بزرگ یا عالم کی گفتگو کو سمجھنے میں بھی خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔ کسی صاحب علم کی ایک نامکمل عبارت یا چند سیکنڈ کی ادھوری ویڈیو کو ان کے پورے علمی موقف کا نمائندہ قرار دینا انصاف نہیں۔ اہل علم کی گفتگو مخصوص سوال، مخصوص مجلس، مخصوص حالات اور مخصوص علمی پس منظر میں ہوتی ہے۔ اس لیے کسی بات کو سمجھنے کیلئے اس کے سیاق و سباق، پہلے اور بعد کے کلام، متعلقہ کتاب یا مکمل بیان کو دیکھنا ضروری ہے۔ جو شخص اکابر کی بات کو سمجھنے کے بجائے اپنی پہلے سے قائم رائے کے مطابق اس کا مطلب متعین کرتا ہے، وہ تحقیق نہیں بلکہ اپنے گمان کو دلیل بناتا ہے۔
اکابر کی تحریروں اور بیانات کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے ایک اور اہم اصول یہ ہے کہ مشکل یا مجمل عبارت کو فوراً اعتراض کا عنوان نہ بنایا جائے۔ علمی متون میں بعض الفاظ اصطلاحی معنی رکھتے ہیں، بعض گفتگو کسی خاص اشکال کے جواب میں ہوتی ہے اور بعض عبارات کا مفہوم پورے باب یا پوری کتاب کو سامنے رکھ کر واضح ہوتا ہے۔ اس لیے کسی عبارت سے بظاہر پیدا ہونے والی اشکال کو علمی طریقے سے سمجھنا چاہیے، پھر اگر ضرورت ہو تو اہل علم سے رجوع کرنا چاہیے۔ کسی عبارت کے ایک حصے کو الگ کرکے اس سے ایسا مفہوم نکالنا جو مصنف یا متکلم کے مجموعی موقف کے خلاف ہو، علمی احتیاط کے منافی ہے۔
قرآن کریم کا اصول ہے: ’’جس چیز کا تمہیں علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑو‘‘(سورۃ الاسراء:36)۔ یہ آیت صرف خبر کے معاملے میں نہیں بلکہ رائے قائم کرنے کے پورے عمل میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ ہم کسی کا بیان سن سکتے ہیں، اس کی تحریر پڑھ سکتے ہیں اور اس کے موقف پر علمی گفتگو کرسکتے ہیں، لیکن اس کے دل کی نیت، پوشیدہ مقصد اور اندرونی کیفیت کا فیصلہ اپنے گمان سے نہیں کرسکتے۔ کسی کی علمی غلطی کی نشاندہی ایک الگ معاملہ ہے اور اس کی نیت پر حکم لگانا الگ معاملہ۔ پہلا تحقیق کے دائرے میں ہوسکتا ہے، دوسرا اکثر گمان کے دائرے میں داخل ہوجاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر دینی کام کرنے والے شخص کیلئے الفاظ کی ذمہ داری بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘‘۔ آج اظہار صرف زبان سے نہیں ہوتا، قلم، موبائل، کی بورڈ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھی اظہار کے ذرائع ہیں۔ اس لیے زبان کی حفاظت کے ساتھ تحریر کی حفاظت بھی دینی ذمہ داری ہے۔ جو لفظ کسی مسلمان کے سامنے بیٹھ کر کہنا مناسب نہیں، اسے اسکرین پر لکھ دینا بھی مناسب نہیں ہوتا۔ تحقیر، تمسخر، طنز اور طعنہ اگرچہ چند لمحوں کیلئے داد حاصل کرسکتے ہیں، لیکن وہ علمی گفتگو کو مضبوط نہیں کرتے۔
اختلاف میں سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ انسان اپنے موافق اور مخالف دونوں کیلئے ایک ہی معیار اختیار کرے۔ قرآن کریم فرماتا ہے: ’’انصاف کرو کہ یہی بات تقویٰ کے زیادہ نزدیک ہے‘‘ (المائدہ:8)۔ اپنے پسندیدہ شخص کی صریح غلطی کو نظر انداز کرنا اور مخالف کی معمولی سہو ، نسیان اور لغزش کو بڑا بنا کر پیش کر دینا علمی انصاف نہیں۔ اسی طرح کسی شخصیت کی ایک درست بات سے اس کے ہر موقف کو درست سمجھ لینا بھی درست طرزِ فکر نہیں، اور ایک غلطی کی بنیاد پر اس کی پوری علمی خدمات کو رد کردینا بھی انصاف کے تقاضے کے مطابق نہیں۔ ہر قول کو اس کے اپنے دلائل، سیاق اور علمی حیثیت کے مطابق دیکھنا ہی متوازن طرزِ فکر ہے۔
علمی نسبتوں کے معاملے میں بھی یہی احتیاط ضروری ہے کہ بات کہاں سے آئی، کس سے منقول ہے اور نسبت کس حد تک درست ہے؟آج یہی اصول سوشل میڈیا پر ہر دینی کارکن، مدرس، طالب علم اور لکھنے والے کیلئے ضروری ہے۔ کسی بزرگ کی طرف قول منسوب کرنے سے پہلے اصل کتاب دیکھنا، کسی ویڈیو کا حوالہ دینے سے پہلے مکمل مواد تلاش کرنا اور کسی الزام کو نقل کرنے سے پہلے اس کی حقیقت معلوم کرنا صرف تحقیقی خوبی نہیں بلکہ دینی امانت ہے۔
سیاق و سباق سے الگ کٹی ہوئی ویڈیوز اور ادھورے اقتباسات نے اس ذمہ داری کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو بسا اوقات کئی گھنٹوں کی گفتگو کا ایک حصہ ہوتی ہے، جبکہ ایک جملہ پورے مضمون کے ایک مخصوص مقام سے لیا گیا ہوتا ہے۔ اگر سیاق وسباق حذف ہوجائے تو الفاظ باقی رہتے ہیں مگر مفہوم بدل سکتا ہے۔ اس لیے کسی عالم کی بات پر اعتراض کرنے سے پہلے مکمل بیان سننا، کسی تحریر پر نقد کرنے سے پہلے پورا مضمون پڑھنا اور کسی موقف پر حکم لگانے سے پہلے اس کے بنیادی ماخذ دیکھنا ضروری ہے۔
دینی سوشل میڈیا کے کام میں ایک اور اہم ضرورت یہ ہے کہ خبر، تجزیے اور رائے کے درمیان فرق برقرار رکھا جائے۔ جو بات ثابت شدہ ہے اسے ثابت شدہ انداز میں پیش کیا جائے، جو کسی شخص کی رائے ہے اسے رائے کے طور پر بیان کیا جائے اور جو بات ابھی تحقیق طلب ہے اسے قطعی انداز میں نہ پھیلایا جائے۔
سوشل میڈیا پر علمی کام کرنے والے افراد کیلئے اپنے نفس کا محاسبہ بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا دوسروں کی اصلاح کی فکر۔ بعض اوقات انسان سمجھتا ہے کہ وہ حق کی حمایت کررہا ہے، لیکن اس کے انداز میں غصہ، گروہی تعصب یا اپنی بات کی برتری کا احساس شامل ہوجاتا ہے۔ اس لیے ہر تحریر سے پہلے اور بعد میں یہ دیکھنا مفید ہے کہ کیا میں نے واقعی مسئلہ واضح کیا ہے؟ کیا میں نے دلیل پیش کی ہے یا شخصیت پر منفی تبصرہ کیا ہے؟ کیا میں نے پوری بات سمجھی ہے یا چند الفاظ سے نتیجہ نکال لیا ہے؟ کیا میری تحریر اصلاح کا دروازہ کھولتی ہے یا صرف ردعمل پیدا کرتی ہے؟ یہ سوالات کسی مخالف کیلئے نہیں بلکہ سب سے پہلے اپنے لیے ہونے چاہئیں۔
اہل علم کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے احترام کا مطلب یہ نہیں کہ واقعتًاعلمی غلطی پر سوال ہی نہ کیا جائے۔ اسی طرح علمی نقد کا مطلب یہ بھی نہیں کہ سرے سے احترام ختم کردیا جائے۔ کسی قول کو غلط قرار دینے کیلئے دلیل دی جاسکتی ہے، کسی حوالے کی تصحیح کی جاسکتی ہے اور کسی مسئلے میں علمی اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ سب کچھ شخصیت کی تحقیر کے بغیر ممکن ہے۔ علمی اختلاف کی قوت دلیل سے آتی ہے، لہجے کی سختی سے نہیں۔
اختلاف علمی زندگی کا حصہ ہے، لیکن کردار کشی علمی اختلاف نہیں۔ تنقید علمی ضرورت ہوسکتی ہے، مگر تحقیر اس کا لازمی حصہ نہیں۔ کسی موقف سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، مگر ہر اختلاف کو شخصیت کے خلاف مقدمہ بنا دینا ضروری نہیں۔ آج سوشل میڈیا پر دینی گفتگو کرنے والے ہر شخص کیلئے اصل احتساب یہی ہے کہ وہ اپنے الفاظ، اپنے ماخذ، اپنی نسبت، اپنے لہجے اور اپنی نیت کو بار بار دیکھے۔ دینی گفتگو اسی وقت اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے جب حق گوئی کے ساتھ تحقیق، ادب، عدل اور اپنے احتساب کا احساس بھی موجود ہو۔ اللہ کریم ہمیں احقاق حق اور ابطال باطل کے میدان میں اعتدال کے ساتھ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments