میر تقی میر۔۔مستند ہے میرا فرمایا ہوا
اردوشاعری کے عالمگیر شہرت کے حامل شعرامیں ایک ناقابل فراموش شخصیت میر تقی میر کی ہے۔
ادب نواز طبقے نے انہیں سرتاج الشعرااور امام المتغزلین کے القابات سے نوازا۔میرنے اردو میں غزلوں کے چھ دیوان رقم کئے۔رباعیات، قصائد،مثنویات ،مراثی اور دوسرے اصنافِ سخن پر مشتمل ایک اور دیوان ہے۔مضامین کی جدت اور نازک مزاجی نے ان کے کلام میں انفرادیت پیدا کر دی ہے۔یہی وجہ ہے کہ میر تقی میر وہ استاد الاساتذہ ہیں جن کو اردو کے بڑے بڑے شاعروں نے نہ صرف سراہا بلکہ ان کی شاعری کی برملا تعریف و توصیف بھی کی۔مرزا غالب ،سودا،ذوق،حسرت موہانی اورحالی نے برملا معتقد میر ہونے کا اعتراف کیا۔نمونہ کے طور پر یہ اشعار ملاحظہ ہوں
غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقولِ ناسخ؍آپ بے بہرہ ہے جو معتقدِ میر نہیں
ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالب؍کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
نہ ہوا پر نہ ہو ا میر کا انداز نصیب؍ذوق ؔیاروں نے بہت زور غزل میں مارا
حالی سخن میں شیفتہ سے مستفید ہوں؍غالب کا معتقد ہوں مقلد ہوں میر کا
شعر میرے بھی ہیں پُر درد و لیکن حسرتؔ؍میر کا شیوۂ گفتار کہاں سے لاؤں
اپنے معاصروں اور پیش روؤں کے بر خلاف میر نے زبان کے ساتھ آزادیاں بہت کثرت سے روا رکھی ہیں۔ میر نے نامانوس الفاظ کا استعمال بھی بے خوفی سے کیا ہے۔ اس کے علاوہ میر نے اپنے اشعار میں کچھ الفاظ کاایسے مخصوص معنوں میں استعمال کیا ہے جن میں وہ عام طور پر استعمال نہیں کئے جاتے اور اس بنا پر پہلی قرأ ت میں ان کا مفہوم قاری کی سمجھ میں نہیں آتا۔شاعرانہ صنعتوں کا میرنے بہت استادانہ استعمال کیا ہے۔یہاں لف و نشر کے حوالے سے مثال پیش کی جاتی ہے۔یہ لف و نشر ِ غیرِ مرتب کی مثال ہے :
ایک سب آگ ، ایک سب پانی
دیدہ و دل عذاب ہیں دونوں
میر کے عاشقانہ جذبات و احساسات کے بارے میں لوگ مختلف الآرا نظر آتے ہیں۔کوئی پیدائشی افسردہ اور غمگین شخصیت کا حامل قرار دیتا ہے ،کوئی ناکامئیِ عشق کا الزام لگاتا ہے ،تو کوئی ماحول کی نامساعدی و ناسازی کے پیشِ نظر امامِ غم کا خطاب عطا کرتا ہے۔لب ِ لباب یہ ہے کہ اکثریت نے ان کی شاعری کو مرثیہ نگاری سے مشابہ قرار دیا ہے اور اس کی وجہ ان کی زندگی میں بچپن سے لے کر جوانی تک لگاتار آفات وحادثات کا رونما ہونا ہے جس کے نتیجے میں غمِ دل اور غمِ دوراں نے ان کی شاعری کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔ میر کے یہاں درد و الم اور شاعری کی مکمل ہم آہنگی ملتی ہے۔ان کا سوز و غم نہ صرف انہیں رلاتا ہے بلکہ دوسرے بھی اس پر آنسو بہاتے ہیں۔میر کی شاعری قلبی واردات و احساسات کی شاعری ہے اس کی وجہ سے بعض ناقدین نے انہیں قنوطی قرار دیا ہے۔ان تمام وجوہات کے باوجود میر کا غم ذاتی نہ ہوکر آفاقی نظر آتا ہے۔ان کی غزلوں میں گھٹن کے بجائے ہمیں دردمندی اور اپنائیت نظر آتی ہے۔انہوں نے خارجی ماحول کی عکاسی میں گہرے فنی شعور کا ثبوت دیا ہے۔ان کے کلام میں دور ازکار استعارات ،بعید از قیاس مبالغے اور بے جا تکلف و تصنع اور فضول لفاظی کا نام و نشان نظر نہیں آتا۔وہ قلبی واردات و کیفیات کو نہایت سادہ او ر صاف زبان میں پیش کرتے ہیں۔ماحصل یہ ہے کہ ان کے بعض اشعار بہ لحاظِ سلاست و روانی سہل ِ ممتنع کی عمدہ مثال ہے۔ کچھ اشعار ملاحظہ ہوں :
تھا میر بھی دیوانہ، پر ساتھ ظرافت کے؍ہم سلسلہ داروں کی زنجیر ہلا جاتا
جس سر کو غرو ر آج ہے یاں تاج وری کا؍کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا
آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت؍اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا
دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے؍یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہے؍دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments