آن لائن جرائم سے مالی بے ضابطگیوں تک
کراچی میں گزشتہ چند روز میں دو عجیب واقعات ہوئے۔ بچوں کی نازیبا ویڈیوز اور دوسرا 13سالہ بچی کو تشدد اور خود کشی پر اکسانے کی کوشش۔ دونوں واقعات میں آن لائن نیٹ ورکس ملوث نکلے۔
نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے والا نیٹ ورک گرفت میں آیا ہے۔اس نیٹ ورک سے منسلک تین کمپنیاں پکڑی گئیں اور 42افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے اور 12بچوں کو بازیاب کرایا گیا ہے۔ یہ سارا نیٹ ورک رقم کی وصولی کے لیے کرپٹو کرنسی کا ذریعہ استعمال کرتا تھا۔دوسرا واقعہ بھی ڈارک ویب کے گھناؤنے دھندے سے تعلق رکھتا ہے جس میں 13سالہ بچی کو پہلے زہر دے کر پالتو بلی کو ہلاک کرنے پر راضی کیا گیا پھر اسے خودکشی پر اکسایا گیا۔ وہ تو بھلا ہو بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے کا جس نے بروقت اطلاع دی اور این سی سی آئی اے نے کارروائی کر کے اس بچی بچا لیا۔آن لائن ایسے متعدد گیمز ہیں جو بچوں کو شاطرانہ انداز میں اپنے جال میں پھنساتے ہیں اور پھر انہیں خود کو یا دوسروں کونقصان پہنچانے پر آمادہ کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے جہاں فوائد گنوائے جاتے ہیں وہاں اس کے معاشرے اور بچوں پر نقصانات بھی سامنے آرہے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ صحیح یا غلط استعمال ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے لیکن بچوں کے معاملے میں جس طرح والدین پر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اسی طرح حکومت کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔والدین کو اپنے بچوں کے موبائل فون یا انٹرنیٹ کے استعمال پر نظر رکھنی ہوگی اورحکومت کو سائبر نیٹ ورک کو مضبوط بنانا ہوگا اور ایسے ادارے تشکیل دینا ہوں گے جو انٹرنیٹ پر ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ موبائل فون کے استعمال کے لیے بچوں کی عمر کی حد اور فون پر پابندیوں والی ایپس کو روشناس کرایا جانا بھی ضروری ہے۔ عوام کو آگاہی بھی فراہم کی جانی چاہیے۔ حکومت کو ایسی اشتہاری مہم چلانی چاہیے جس میں بچوں کو بتایا جائے کہ انہیں کس طرح خود کو ان خطرناک ویب سائٹس اور افراد سے بچانا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ اس کے لیے آگاہی مہم چلائے۔
دوسری طرف ایم کیو ایم رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال مسلسل نئے صوبوں کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ بہادر آباد مرکز میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک فیصلہ کن موڑ تک آگئی ہے اور اب واپسی کا راستہ نہیں ہے۔نئے انتظامی یونٹس پر مختصر نوٹس پر فیصلہ کن اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔ مصطفی کمال نے تنظیمی ڈھانچے کو تیار رہنے کی بھی ہدایت کردی۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری نسلیں عزت کی زندگی چاہتی ہیں، روزمرہ ذلت کو اب مزید قبول نہیں کیا جاسکتا۔ مصطفی کمال نے شہر کو درپیش صحت و تعلیم، ٹرانسپورٹ اور پانی و بجلی کے مسائل کا ذکر کیا۔ مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد نے بھی شہر کی صورتحال کا ذکر کیا اور کہا کہ اردو بولنے والے اب اجنبی بنتے جارہے ہیں، ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا زندگی کی علامت ہے، حق کی جدوجہد کرنے کے لیے ثابت قدمی ازحد ضروری ہے۔نئے صوبوں کا فیصلہ آج نہیں تو کل ہو جائے گا البتہ کراچی سمیت صوبہ بھر میں ترقیاتی کاموں کا پیپلز پارٹی دعویٰ کرتی آرہی ہے۔ کراچی کی صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، سڑکیں کھدی پڑی ہیں، شہر کا کوئی سا علاقہ ہو، گٹروں کا ابلنا عام سی بات ہے۔ ہر گلی محلے میں آوارہ کتوں کے غول پھر رہے ہیں، شہر کے سرکاری ہسپتال اپنی پوری استطاعت کے ساتھ یقینی طور پر کام کر رہے ہوں گے لیکن شہر کی آبادی کو علاج معالجہ فراہم کرنے کے لیے چند ہسپتال ناکافی ہیں۔ عوام کی بڑی تعداد نجی ہسپتالوں کا رخ کرتی ہے۔ مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے، صوبائی حکومت کو سہولتوں کی فراہمی پر توجہ دینی چاہیے۔
اگر یہاں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ذکر کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ بنیادی طور پر یہ پروگرام غریب اور مستحق افراد کے لیے تھا اور حکومت سنجیدگی سے یہ کام کرتی بھی رہی ہے لیکن غریب عوام کی حق تلفی کا سلسلہ ادھر بھی شروع ہو چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بی آئی ایس پی کی آڈٹ رپورٹ میں 24ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے اورایک لاکھ 40ہزار سے زائد ایسے سرکاری ملازمین کی نشاندہی ہوئی ہے جو برسوں سے امدادی رقم وصول کرتے آ رہے ہیں۔ بہت سوں نے اپنی بیویوں کے کارڈ بناکر رقم حاصل کی۔ 22لاکھ افراد پروگرام سے باہر ہیں، 8لاکھ سے زائد جعلی افراد کو ادائیگی روک دی گئی ہے۔ تادیبی کارروائی جاری ہے، رقم وصولی کی بھی کوشش کی گئی تاہم یہ رقم لوٹی گئی رقم کے مقابلے میں بہت معمولی ہے۔ سوال یہ ہے کہ نظام اتنا مضبوط کیوں نہیں بنایا گیا کہ لٹیروں کو موقع نہ ملے؟ ایسی خامیاں کیوں تھیں کہ برسر روزگار افراد نے غریبوں کے حق پر ڈاکہ مارا؟ انتظامیہ کہاں تھی؟ قانون کا آہنی ہاتھ کہاں تھا؟ 24ارب روپے کی رقم معمولی نہیں، حکومت کو چاہیے کہ پروگرام میں غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والوں کو برطرف کیا جائے اور جن سرکاری ملازمین نے رقم وصول کی انہیں نہ صرف ملازمتوں سے فارغ کیا جائے بلکہ سزا کے ساتھ ان کی وصول کردہ رقم ان کے پراویڈنٹ اور گریجویٹی فنڈز سے کاٹ لی جائے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments