سیاسی مسائل کا حل مذاکرات سے
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پٹرولیم لیوی کے حوالہ سے جاری مذاکراتی عمل میں ایک اہم پیش رفت اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام ہے جو پٹرولیم لیوی کے حوالہ سے حکومت کو سفارشات پیش کرے گی۔
حکومت کی جانب سے کمیٹی میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اورسیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے لیاقت بلوچ، سید فراست شاہ، نصراللہ رندھاوا اور عنایت اللہ کمیٹی میں شامل ہوں گے۔ مذکورہ فیصلہ جماعت اسلامی کے امیر نعیم الرحمن کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات میں ہوا۔ اگرچہ حکومت اور جماعت اسلامی میں کمیٹی بنانے پر اتفاق ہو چکا ہے لیکن اس میں ایک بنیادی نکتہ جس پر اختلاف ہے وہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ چاہتی ہے جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ لیوی میں کمی کے بارے میں غورو غوض کر رہی ہے اور ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ لیوی کی شرح میں مرحلہ وار کمی ہوئی۔ خود حکومت کو بھی معاشی اور مالیاتی بحران در پیش ہے اور لیوی کے ذریعہ اس نے کسی حد تک اس بحران پر قابو پا رکھا ہے۔ جماعت اسلامی نے لیوی کے معاملے پر اپنے احتجاج کے ذریعے بہت حد تک عوام کی آواز بننے میں کامیاب رہی جبکہ حکومت نے جماعت اسلامی کے احتجاج پر انتظامی طور پر اثر انداز ہونے کی بجائے سیاسی ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کیا، جماعت اسلامی کی لیڈر شپ کے تحفظات سنے اور اپنی پوزیشن بھی واضح کی۔ جماعت اسلامی اور حکومت میں مذاکراتی عمل اور اس پر ہونے والی پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت سیاسی ڈائیلاگ کا رجحان رکھتی ہے۔ اس پیش رفت کو حکومت کی سیاسی پسپائی یا جماعت اسلامی کی فیصلہ کن برتری قرار دینا قبل از وقت ہوگا، فی الحال یہ احتجاجی سیاست سے مذاکراتی سیاست کی طرف پیش قدمی ہے۔ فریقین کی ساکھ کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ مذاکرات کس ٹھوس نتیجہ پر پہنچیں۔ اطلاعات کے مطابق پٹرولیم لیوی کو یکسر ختم تو نہیں کیا جائے گا لیکن اس میں کسی حد تک کمی آ سکتی ہے۔
جماعت اسلامی کی جانب سے پٹرولیم لیوی کے خلاف چلنے والے احتجاجی مارچ اور حکومت سے جاری مذاکراتی عمل کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ کوئی جماعت یا پارلیمانی اپوزیشن مسائل کے حل میں سنجیدہ ہو اور معاملات کو مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے کی خواہاں ہو تو حکومتوں کیلئے اس سنجیدہ عمل سے صرفِ نظر برتنا ممکن نہیں ہوتا۔موجودہ منظر نامے میں اگر حکومت جماعت اسلامی سے مذاکراتی عمل جاری رکھے ہوئے ہے تو یہ آپشن پارلیمانی اپوزیشن پارٹیوں کو بھی بروئے کار لانا چاہئے۔ اس لئے کہ سیاسی مسائل کا حل ہمیشہ مذاکرات سے ہی ممکن بنتا ہے، اور آج کے حالات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بامقصد مذاکرات کا سلسلہ شروع ہونا چاہئے۔ ملک میں موجودہ سیاسی صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں۔ اگر حکومت جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکراتی عمل جاری رکھ سکتی ہے تو اسے پارلیمانی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بھی بامقصد مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنے سے پس و پیش نہیں کرنا چاہیے۔ جمہوری نظام میں اختلاف رائے ایک فطری امر ہے تاہم ان اختلافات کو سیاسی محاذ آرائی میں تبدیل کرنے کے بجائے افہام و تفہیم سے حل کرنا ہی سیاسی بلوغت کی علامت ہے۔ملک کو اس وقت متعدد سیاسی، معاشی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے،اور مہنگائی، بے روزگاری، معاشی عدم استحکام اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی قیادت ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دے۔
مسلسل سیاسی کشیدگی نہ صرف حکومتی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ عوام کا جمہوری اداروں پر اعتماد بھی کمزور کرتی ہے۔حکومت اور اپوزیشن دونوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ سیاسی اختلافات کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیں۔ حکومت کو چاہیے کہ اپوزیشن کے تحفظات سنے اور انہیں دور کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے جبکہ اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ مذاکرات کے عمل میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے۔ مذاکرات کا مقصد محض سیاسی برتری حاصل کرنا نہیں بلکہ ایسے قابل عمل حل تلاش کرنا ہونا چاہیے جن سے ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہو اور عوام کو درپیش مشکلات میں کمی آئے۔یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ جمہوریت کی مضبوطی کا انحصار صرف انتخابات پر نہیں بلکہ برداشت، مکالمے اور اختلاف رائے کے احترام پر بھی ہوتا ہے۔ ماضی میں بھی سیاسی بحرانوں کے حل کے لیے مذاکرات کی اہمیت تسلیم کی جاتی رہی ہے لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت پارلیمانی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کا آغاز کرے۔ سیاسی قوتیں اگر خلوص نیت کے ساتھ آگے بڑھیں تو نہ صرف سیاسی تناؤ میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ قومی مسائل کے حل اور جمہوری نظام کے استحکام کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔
یہ خوش آئند بات ہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، مبینہ طور پر حکومت سے بامقصد مذاکرات چاہتے ہیں اورقومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بھی بعض سیاسی معاملات اور آئینی تقرریوں کے عمل کے حوالہ سے وزیراعظم ہائوس جانے کا عندیہ دیا ہے۔ مطلب یہ کہ اپوزیشن ہر طرح کی زور آزمائی اور احتجاجی آپشنز بروئے کار لانے کے بعد اب اسی نتیجہ پر پہنچ چکی ہے کہ سیاسی معاملات میں مذاکرات ہی ایک اہم اور نتیجہ خیز آپشن ہے، اور اس پر سنجیدگی ظاہر کرتے ہوئے ملک میں سیاسی استحکام کی راہ نکالی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں جماعت اسلامی کا کردار اپوزیشن کی رہنمائی کیلئے کافی ہے جس سے قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے پٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنا سیاست کو بھی بروئے کار لائی اور مذاکراتی عمل کو بھی ساتھ ساتھ جاری رکھا اور آنے والے چند روز میں اس حوالہ سے اہم اعلان متوقع ہے، جس سے ظاہر ہوگا کہ احتجاج اور ڈائیلاگ کو ساتھ ملا کر مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نوازشریف جرائم پیشہ عناصر اور غنڈہ گردی کے رجحانات کے خلاف پر عزم نظر آ رہی ہیں۔ آج کے حالات میں اس طرز عمل کو سراہا جانا چاہئے کیونکہ معاشرے جزا اور سزا کی بنیاد پر ہی چل سکتے ہیں اور اگر مجرموں اور جرائم پیشہ افراد کی سرگرمیوں سے صرف نظر برتا جائے گا تو اس سے جرائم ختم نہیں ہوں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments