صبر مؤمن کی پہچان اور کامیابی کی کنجی
’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘ (البقرہ: 153) ’’مومن کا معاملہ عجیب ہے، اگر اسے خوشی پہنچے تو وہ شکر کرتا ہے، اور اگر اسے غم پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے، اور یہ دونوں اس کیلئے خیر ہیں‘‘ (صحیح مسلم)
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صبر کو ایک عظیم صفت قرار دیا ہے جو مومن کی پہچان اور طاقت ہے، صبر کا مطلب ہے کہ مشکلات، آزمائشوں اور مصائب کے وقت اللہ کی رضا پر راضی رہنا اور کسی شکایت یا بے صبری کا اظہار نہ کرنا،یہ صفت مومن کی زندگی کو سکون بخشتی ہے اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے۔ صبر کرنے والے وہ لوگ ہیں جو زندگی کے نشیب و فراز میں اللہ کی مدد پر یقین رکھتے ہیں اور ہر مشکل کو ایک موقع سمجھتے ہیں تاکہ وہ اللہ کی رحمت کے قریب ہو سکیں،صبر ایک عظیم صفت ہے جو انسان کو مشکلات اور آزمائشوں میں ثابت قدم رہنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صبر کو مومن کے ایمان کی پہچان قرار دیا ہے اور اس پر بڑے انعامات کا وعدہ فرمایا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: ’’اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو‘‘ (البقرہ: 155)۔
صبر کا مطلب صرف مشکلات کو برداشت کرنا نہیں بلکہ اس کے ساتھ اللہ کی رضا پر راضی رہنا اور شکایت سے بچنا ہے،صبر ایک ایسی طاقت ہے جو انسان کو زندگی کی آزمائشوں میں مضبوطی عطا کرتی ہے اور اسے اللہ کے قریب لے جاتی ہے۔ اس مضمون میں ہم جانیں گے کہ صبر کرنے کی اہمیت کیا ہے،اس کے فوائد کیا ہیں اور انسان صبر کرنے والا کیسے بن سکتا ہے۔
صبر کی فضیلت
صبر کا مفہوم ہے کہ مصائب ومشکلات اور آزمائشوں کے وقت اللہ کی رضا پر راضی رہنا اور اپنے نفس کو بے صبری، شکوہ و شکایت سے باز رکھنا۔اسلام میں صبر کو بڑی فضیلت حاصل ہے۔ یہ وہ صفت ہے جو انسان کو نبیوں، ولیوں اور اللہ کے مقرب بندوں کے راستے پر لے جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بارہا صبر کرنے والوں کی تعریف کی ہے اور انہیں انعامات کا مستحق قرار دیا ہے۔ صبر نہ صرف ایمان کا حصہ ہے بلکہ یہ انسان کو زندگی کے ہر شعبے میں کامیاب بناتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کی بہت سی فضیلتیں بیان فرمائی ہیں؛ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘ (البقرہ: 153)۔ دنیا میں کوئی بھی شخص آزمائشوں سے مبرا نہیں، لیکن مومن کی پہچان یہ ہے کہ وہ ان آزمائشوں میں صبر سے کام لیتا ہے۔ صبر کرنے والے نہ صرف دنیاوی سکون حاصل کرتے ہیں بلکہ آخرت میں بھی ان کیلئے جنت کی بشارت دی گئی ہے۔
صبر کی ا قسام
صبر کی تین اقسام ہیں۔
اطاعت پر صبر
اللہ کے احکام کو بجا لانے میں صبر کرنا اور اپنی خواہشات کو اللہ کی مرضی کے تابع رکھنا مومن کیلئے ضروری ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر عبادات میں مستقل مزاجی صبر بر اطاعت کی بہترین مثال ہے۔
معصیت پر صبر
گناہوں اور شیطانی وسوسوں سے بچنے کیلئے صبر کرنا ایک مومن کی خصوصیت ہے خواہشات کے باوجود اللہ کی نافرمانی سے دور رہنا بڑی ہمت کا کام ہے۔
مصیبت پر صبر
آزمائش، بیماری، مالی مشکلات یا دیگر پریشانیوں میں مایوسی کا شکار نہ ہونا اور اللہ کی رحمت پر یقین رکھنا صبر بر مصیبت کہلاتا ہے۔
صبر کی فوائد
صبر کے بیشمار فوائد ہیں۔ (1)صبر انسان کو مایوسی اور بے چینی سے بچا کر اس کے دل میں اطمینان پیدا کرتا ہے۔ (2)صبر کرنے والے اللہ کے قریب ہو جاتے ہیں کیونکہ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (3)صبر کرنے والوں کو آخرت میں بڑے انعامات اور جنت کی خوشخبری دی گئی ہے۔ (4)صبر کے ذریعے انسان اپنی زندگی کو بہتر انداز میں گزار سکتا ہے کیونکہ یہ اسے قوتِ ارادی اور استقامت عطا کرتا ہے۔ (5)آج کے دور میں جہاں مشکلات اور دباؤ بہت زیادہ ہیں، صبر انسان کو مایوسی اور ذہنی دباؤ سے بچاتا ہے۔ (6)صبر خاندان اور معاشرتی زندگی میں سکون کا ذریعہ بنتا ہے کیونکہ یہ انسان کو دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کا درس دیتا ہے۔ (7)صبر کے ذریعے انسان مشکل حالات کا مقابلہ بہتر انداز میں کر سکتا ہے اور کامیاب زندگی گزار سکتا ہے۔
انسان صبر کرنے والا کیسے بنے؟
سوال یہ پیداہوتا ہے کہ انسان صبر کرنے والا کیسے بنے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ صبر ایک ایسی صفت ہے جسے انسان تربیت اور محنت سے حاصل کر سکتا ہے۔ درج ذیل عملی اقدامات انسان کو صبر کرنے والا بنا سکتے ہیں۔
اللہ کی ذات پر بھروسہ کریں: صبر کی بنیاد اللہ کی ذات پر کامل یقین اور بھروسہ ہے۔ انسان اس وقت صبر کر سکتا ہے جب اسے یقین ہو کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اللہ کی حکمت کا حصہ ہے،قرآن کی تلاوت کریں اور اللہ کی قدرت پر غور کریں، ہر مشکل وقت میں اللہ سے دعا کریں اور اس کی مدد طلب کریں، یہ یاد رکھیں کہ ہر آزمائش عارضی ہے اور اس کے بعد آسانی آتی ہے۔
مشکلات کو زندگی کا حصہ سمجھیں: مشکلات اور آزمائشیں زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہے: ’’ہم ضرور تمہیں خوف، بھوک، مال اور جان کے نقصان سے آزمائیں گے‘‘ (البقرہ: 155)۔ مشکلات کو اللہ کی طرف سے امتحان سمجھیں۔ یہ یقین رکھیں کہ آزمائشوں کے ذریعے اللہ اپنے بندوں کو آزماتا اور پاکیزہ بناتا ہے۔
جذبات پر قابو پائیں: صبر کرنے کیلئے جذبات کو کنٹرول کرنا ضروری ہے، غصہ، بے چینی اور مایوسی انسان کو بے صبرا بناتے ہیں۔ غصے کی حالت میں خاموش رہیں اور ٹھنڈا پانی پئیں۔ جذبات کو کنٹرول کرنے کیلئے گہری سانسیں لیں اور اللہ کا ذکر کریں۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان یاد رکھیں: ’’قوی انسان وہ نہیں جو لڑائی میں غالب ہو بلکہ وہ ہے جو غصے کے وقت خود پر قابو رکھے‘‘ (صحیح بخاری)
شکر گزاری کو اپنائیں: صبر اور شکر کا گہرا تعلق ہے۔ شکر گزاری انسان کو صبر کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اپنی موجودہ نعمتوں کو یاد کریں اور ان پر شکر ادا کریں۔ یہ سوچیں کہ آپ کی مشکلات دوسروں کے مقابلے میں کم ہیں، ہر حال میں ’’الحمدللہ‘‘ کہنا اپنی عادت بنائیں۔
صبر کے فضائل کو یاد رکھیں: صبر کے بارے میں قرآن اور حدیث میں بیان کیے گئے انعامات کو یاد رکھیں۔ اللہ کی معیت کا تصور کریں۔ جنت کے انعامات کو اپنی نگاہ میں رکھیں اور یہ یاد رکھیں کہ صبر کا بدلہ جنت ہے۔
مثبت سوچ اپنائیں: مثبت سوچ انسان کو صبر کرنے میں مدد دیتی ہے ،ہر مشکل میں خیر تلاش کریں اور اسے اللہ کی حکمت سمجھیں،مایوسی اور شکایت سے گریز کریں، یہ سوچیں کہ ہر آزمائش کے ساتھ آسانی آتی ہے: ’’بیشک، مشکل کے ساتھ آسانی ہے‘‘ (انشراح: 6) ۔
صبر کے عملی مظاہرے کریں: عملی طور پر صبر کرنے کیلئے درج ذیل عادات اپنائیں، ناپسندیدہ حالات میں جلدی ردعمل دینے کے بجائے سوچ سمجھ کر عمل کریں، روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی آزمائشوں میں صبر کریں، جیسے ٹریفک میں انتظار یا دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنا، بچوں اور اہلخانہ کے ساتھ نرمی اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔
دعا اور ذکر کریں: صبر کیلئے اللہ سے مدد طلب کرنا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، دعاؤں کو اپنی عادت بنائیں اور اللہ سے صبر عطا کرنے کی التجا کریں، نبی کریم ﷺ کی دعائیں یاد کریں، جیسا کہ یہ دعا: ’’اے اللہ! مجھے صبر کرنے والوں میں شامل فرما‘‘ ۔
نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں: صبر کرنے والے لوگوں کے ساتھ رہنے سے آپ کو صبر کی ترغیب ملتی ہے۔قرآن و حدیث کے مطالعہ کے ذریعے انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام ؓکے صبر کی کہانیاں پڑھیں، ایسے دوستوں اور ساتھیوں کا انتخاب کریں جو مثبت رویہ رکھتے ہوں اور آپ کو صبر کی نصیحت کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنی معیت نصیب کرے۔ آمین!
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments