خوشیاں بانٹنا !
آج چھٹی کا دن ہونے کے باوجود فرحان بہت اداس بیٹھا تھا۔ اس کی اداسی کو دیکھ کر اس کی اماں نے پوچھا: کیا بات ہے ؟ کیوں اداس ہو؟ کل ٹیسٹ ٹھیک ہوا تھا ؟۔تو اس نے جواب دیا:جی سب ٹھیک ہے۔
’’پھر ایسے کیوں بیٹھے ہو؟‘‘ اس کی اماں نے اس کے سرپر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلا تے ہوئے کہاکہ کوئی بات نہیں، بس بوریت ہورہی ہے۔ لگتا ہے آج آپ کو کوئی یاد کررہا ہے۔ اس کی اماں نے سنجیدگی سے کہا۔’’ہیں، کون؟‘‘ فرحان یکدم چونک اٹھا، ’’مجھے کون یاد کرسکتا ہے اماں؟‘‘۔’’آپ کا پیٹ، جسے کچھ اچھا اور مزیدار کھانے کی طلب ہو رہی ہو گی‘‘۔
’’اچھاتو بنا دیں کچھ‘‘۔ فرحان نے بیزاری سے کہا۔’’تو پھر جائو، پاس دکان سے پاستا میکرونی لے آئو، کھائو گے نا؟ ’’ہاں کھائوں گا‘‘ فرحان نے تھوڑا ہنس کر جواب دیا تو اس کی امی نے اسے پیسے دیے اور وہ اپنی سائیکل پر بیٹھ کر دکان سے پاستا اور کولڈ ڈرنک لینے چلا گیا۔
جب فرحان اپنی گلی سے گزرا تو اسے ضعیف العمر شیخ حاجی صاحب اپنے گھر کے دروازے پر برے حالوں میں بیٹھے نظر آئے۔ فرحان نے انھیں دیکھ کر رکنا چاہا مگر پھر دکان کی جانب ہی چلا گیا۔واپسی پر پھر اسے حاجی صاحب بیٹھے نظر آئے۔ انھیں بے چین دیکھ کر فرحان ان کی جانب مڑا اور کہنے لگا: کیا بات ہے انکل جی،آپ ایسے کیو ں بیٹھے ہیں؟۔ انھوں نے فرحان کو دیکھا تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ چھاگئی اور اسے اپنے ساتھ گھرکے اندر لے گئے۔
کوئی پریشانی ہے؟ فرحان نے وجہ پوچھی تو انھوں نے اس کے پاس بیٹھ کر کہاکہ صبح سے اکیلا بیٹھا ہوں، بہت سر درد ہے۔مجھے بتاو اکیلا بندہ کیا کرئے۔ بیٹا ملک سے باہر، بیٹی اپنے گھر اور بیوی اللہ کے پاس، میں بہت اکیلا ہوگیا ہوں ‘‘۔
یہ سن کر فرحان کا دل بھر آیا۔ا س نے چارپائی کے پاس میز پر پڑا ہوا گلاس پکڑا اور اس میں حاجی صاحب کو بوتل ڈال کر دی۔ جس کو انہوں نے پیا تو ان کو قرار آگیا۔ اس کے بعد فرحان نے ان سے چند لمحوں تک باتیں کیں۔ جس سے حاجی صاحب کا دل بہل گیا اور وہ ہنسنے اور مسکرانے لگے۔
کافی دیر باتیں کرنے کے بعد فرحان کو امی کی یاد آئی تو اس نے اجازت لی۔ جب وہ گھر آنے لگا تو اس نے پیچھے مڑ کر حاجی صاحب کے بے رونق چہرے پر زندگی کی رونق نمایاں ہوتی دیکھی۔ اس نے پاس آکر کہا: آئیں ہمارے گھر چلیں، اماں بہت مزے کا پاستا پکائیں گی اور ہم پھر مل کر کھائیں گے‘‘۔ یہ سن کر وہ اس کے ساتھ ہولیے۔
فرحان، حاجی صاحب کے ساتھ اپنے گھر پہنچا تو اس کی اماں خاصی فکرمند تھیں۔ ’’کہاں تھے اتنی دیر؟‘‘ ۔ ’’میں حاجی صاحب کے گھر تھا۔بالکل اکیلے تھے تو میں ان کو اپنے ساتھ لے آیا۔ تھوڑی دیر ساتھ رہیں گے۔ یہ سن کر اس کی اماں نے حاجی صاحب کو اندر بلا لیا۔ انھوں نے کھانا اور پاستا پکایا تو فرحان ٹی وی لائونج میں ان کے ساتھ بیٹھا خوش گپیاں کر رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد تینوں نے کھانا کھایا تو حاجی صاحب بہت خوش ہوئے اور فرحان کی نیک دلی پر اس کو بہت دعائیں اور پیار دیا۔ گھر کی طرف جانے لگے تو فرحان بہت خوش ہوا اور کہنے لگا ’’انکل میں آپ سے ملنے آتا رہوں گا۔ ہم دونوں کھیلا کریں گے۔بس آپ نے اب پریشان نہیں ہونا‘‘۔
رات کا وقت ہوا تو فرحان بہت مطمئن اور خوش تھا۔بستر پر لیٹا اپنی اماں سے کہنے لگا ’’ آپ کہہ رہی تھی نا کہ آپ کو کوئی یاد کررہا ہے اس لیے آپ اداس ہو۔ دیکھو مجھے اللہ کی طرف سے حاجی صاحب یاد کرر ہے تھے‘‘۔
’’پیارے بچو! کبھی کبھی ہمیں اپنے آس پاس موجود تنہائی کے شکار لوگوں کے ساتھ بھی کچھ وقت گزارنا چاہئے،تاکہ انہیں خوشی ملے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments