پاکستانی معاشرہ میں اتحاد کی ضرورت !

تحریر : مفتی ڈاکٹرمحمدکریم خان


’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو‘‘(آل عمران:103) ’’اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے‘‘(الحجرات:13)

 اسلام نے باہمی الفت، محبت، تعاون، ہمدردی اور اخوت کو انسانی معاشرے کی تعمیر و ترقی کے بنیادی اصول قرار دیا ہے۔ اسلام کی دعوت محض انفرادی اصلاح تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد ایک ایسا صالح معاشرہ تشکیل دینا بھی ہے جس کے افراد ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں، مشکلات میں ایک دوسرے کے مددگار بنیں اور اجتماعی بھلائی کیلئے متحد ہوکر کام کریں۔

پاکستانی معاشرے کے موجودہ حالات میں اس تعلیم کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ صوبائی و لسانی تعصبات، سیاسی تقسیم، مسلکی کشیدگی، معاشی ناہمواری اور باہمی عدم اعتماد نے معاشرتی ہم آہنگی کو متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں اسلام کا تصورِ اتحاد ہمیں یہ رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ اختلافات کے باوجود مشترکہ دینی، اخلاقی اور قومی مقاصد کیلئے باہم متحد رہنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ رسول اللہﷺ نے اہل ایمان کے باہمی تعلق کو ایک جسم سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا: ’’تم مومنوں کو باہمی رحم، محبت اور مہربانی میں ایک جسم کی مانند پاؤ گے کہ جب اس کے کسی عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم بے خوابی اور بخار میں اس کا شریک ہو جاتا ہے‘‘(صحیح بخاری:6011)۔اس نبوی تعلیم کا تقاضا یہ ہے کہ کسی مسلمان کی تکلیف کو محض اس کا ذاتی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے، بلکہ اس کی پریشانی کو محسوس کرتے ہوئے حسبِ استطاعت اس کی مدد کی جائے۔ 

 باہمی تعاون ویکجہتی

اسلام مسلمانوں کو باہمی تعاون، یکجہتی اور اجتماعی قوت کے ساتھ زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے اہلِ ایمان کے باہمی تعلق کو ایک مضبوط عمارت سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا: ’’ایک مومن دوسرے مومن کیلئے عمارت کی مانند ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے‘‘۔راوی بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے اس بات کو واضح کرنے کیلئے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل فرمایا(صحیح بخاری:481)۔امت کی اجتماعی زندگی کے استحکام کیلئے یہ ایک بنیادی اصول ہے کہ افراد کی قوت باہمی اتحاد، تعاون اور یکجہتی سے کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔جس طرح عمارت کی اینٹیں باہم جڑ کر اسے مضبوط بناتی ہیں، اسی طرح معاشرے کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرکے اجتماعی استحکام پیدا کرتے ہیں۔

باہمی محبت و احترام

اتحاد کی پائیداری کیلئے ضروری ہے کہ افراد کے درمیان محض ظاہری تعلق نہ ہو، بلکہ دلوں میں اخلاص، محبت، خیرخواہی اور ایک دوسرے کے احترام کا جذبہ بھی موجود ہو۔ جب معاشرے میں حسد، بغض، تکبر، تحقیر اور ذاتی مفادات کو فروغ ملتا ہے تو باہمی اعتماد کمزور ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس محبت، حسن ظن، خیرخواہی اور احترام کی فضا لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔

حضرت ابومالک اشعری ؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایسے بندوں کا ذکر فرمایا جو نہ انبیاء ہیں اور نہ شہداء، لیکن قیامت کے دن ان کے بلند مرتبے پر انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں گے۔ آپﷺ نے ان کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ وہ مختلف قبائل سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے درمیان نسبی رشتہ داری نہیں، لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ایک دوسرے سے محبت کرتے اور باہمی خیر خواہی کا تعلق رکھتے ہیں (مسند احمد: 22957)۔ یہی اصول پاکستانی معاشرے میں برادری ازم، لسانی تعصب اور گروہی مفادات سے بلند ہوکر ایک دوسرے کو قبول کرنے کی تربیت دیتا ہے۔حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :جنت میں ایسے روشن بالاخانے ان لوگوں کیلئے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ایک دوسرے سے محبت کرتے، باہم ملتے اور ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ (شعب الایمان: 9002)

 اختلافِ رائے میں احترام 

اختلافِ رائے کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے دلیل، شائستگی اور تحمل کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے۔ سیاسی اختلافات، مذہبی مباحث، سماجی معاملات اور قومی پالیسیوں پر گفتگو کرتے ہوئے کسی فرد یا گروہ کی تضحیک اور کردار کشی سے اجتناب ضروری ہے۔ اختلاف کا مہذب اظہار معاشرے کی فکری ترقی کا ذریعہ بنتا ہے، جبکہ نفرت انگیز رویے باہمی اعتماد کو تباہ کر دیتے ہیں۔

 اخوتِ اسلامی اور تعلقات کی اصلاح

اسلامی اخوت کا دائرہ نسل، زبان، قبیلے اور جغرافیائی حدود سے بلند ہے۔ مسلمان دنیا کے کسی بھی خطے سے تعلق رکھتا ہو، ایمان کا رشتہ اسے دیگر مسلمانوں سے وابستہ کرتا ہے۔ اس اخوت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں، مصیبت میں مددگار بنیں اور اختلافات پیدا ہونے کی صورت میں اصلاحِ احوال کو ترجیح دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے باہمی تعلقات کی اصلاح کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرمایا:کیا میں تمہیں ایسے عمل کی خبر نہ دوں جو روزے، نماز اور صدقے سے بھی افضل ہے؟‘‘ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا: کیوں نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا:آپس کے تعلقات کی اصلاح، کیونکہ باہمی تعلقات کا بگاڑ دین کو مونڈ دینے والا ہے(جامع ترمذی:2509)۔

 اتحاد کی بنیاد

قرآنِ مجید نے مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کا واضح حکم دیا اور تفرقہ و انتشار سے منع فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو، اور اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی، پھر تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں واضح فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ‘‘(آل عمران103)۔ 

صوبائی و لسانی ہم آہنگی

پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی جداگانہ لسانی، ثقافتی اور علاقائی شناختیں پاکستان کے حسن و تنوع کی علامت ہیں۔ اسلام کسی قوم، زبان یا علاقے کی بنیاد پر تفریق کے بجائے باہمی احترام، عدل و مساوات اور اخوت کا درس دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے‘‘(الحجرات:13)۔گویا قومی، لسانی اور علاقائی تنوع باہمی تعارف اور احترام کا ذریعہ ہے، نہ کہ نفرت و تعصب کا۔ رسول اللہﷺ نے بھی انسانی مساوات اور نسلی و قومی تفاخر کی نفی فرمائی۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے (مسند احمد: 23489)۔

پاکستان میں قومی یکجہتی کے فروغ کیلئے تمام لسانی و ثقافتی شناختوں کا احترام، مادری زبانوں کی ترویج، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور تمام علاقوں کی متوازن ترقی ضروری ہے۔ صوبائی تعصبات اور احساسِ محرومی کے خاتمے، باہمی اعتماد اور مساوی حقوق کی فراہمی سے قومی اتحاد و استحکام کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

مذہبی رواداری اور شہری حقوق

قومی یکجہتی اور پرامن معاشرے کے قیام کیلئے مذہبی رواداری، باہمی احترام اور شہری حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے۔ اسلام مسلکی اختلافات کے باوجود اخوت، برداشت اور مکالمے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ہے: بے شک تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ (الحجرات: 10)۔ اسلام غیر مسلم شہریوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور انصاف کا حکم دیتا ہے، چنانچہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے کہ اللہ ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے منع نہیں فرماتا جو دین کے معاملے میں مسلمانوں سے جنگ نہیں کرتے (الممتحنہ:8)۔رسول اللہﷺ نے غیر مسلم معاہدین کے حقوق کی پامالی سے منع فرماتے ہوئے ایسے شخص کے خلاف قیامت کے دن حجت بننے کی وعید بیان فرمائی (ابو داؤد: 3052)۔ لہٰذا تمام شہریوں کے جان و مال، عزت و آبرو، عبادت گاہوں اور مذہبی آزادی کا تحفظ ریاست اور معاشرے کی اہم ذمہ داری ہے۔ مسلکی اختلافات کو نفرت و انتشار کے بجائے علمی مکالمے سے حل کرنا اور مذہبی منافرت و ناانصافی کی حوصلہ شکنی کرنا ضروری ہے۔ 

سوشل میڈیا اور انتشار

موجودہ دور میں سوشل میڈیا اطلاعات کی ترسیل اور باہمی رابطے کا مؤثر ذریعہ ہے، تاہم افواہوں، غیر مصدقہ خبروں، اشتعال انگیز تقاریر، کردار کشی اور فرقہ وارانہ نفرت کے پھیلاؤ سے معاشرتی اتحاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسلام خبر کی تحقیق، سچائی اور ذمہ دارانہ گفتگو کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ہے: ’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو‘‘ (الحجرات: 6)۔ یہ آیت اس اصول کی بنیاد فراہم کرتی ہے کہ کسی بھی خبر کو تصدیق کے بغیر آگے پھیلانا درست نہیں۔ خصوصاً جب اس سے کسی فرد، جماعت یا مسلک کی عزت و سلامتی متاثر ہونے کا اندیشہ ہو۔ 

غربت اور خدمتِ خلق

قومی یکجہتی اور اتحادِ امت کے قیام کیلئے معاشی انصاف، سماجی مساوات اور خدمت خلق کے عملی اقدامات ضروری ہیں۔ اسلام دولت کی منصفانہ گردش، ضرورت مندوں کی مدد اور معاشرے کے کمزور طبقات کی کفالت پر زور دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ہے:اور وہ اپنے مال سے محبت کے باوجود مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں (الدھر: 8)۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے مستحقین میں فقراء اور مساکین کو شامل فرمایا ہے۔   

 تعلیمی اداروں کا کردار

نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ اور مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ مدارس، جامعات، اسکولوں اور طلبہ تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ میں مکالمے، برداشت، تحقیقی سوچ، اختلاف کے آداب اور قومی ذمہ داری کا شعور پیدا کریں۔ قرآنِ مجید میں ہے:اور لوگوں سے اچھی بات کہو(البقرہ:83)۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور طلبہ تنظیموں کو چاہیے کہ وہ تعصب، نفرت اور غیر مصدقہ معلومات کے بجائے دلیل، تحقیق اور مثبت طرزِ فکر کی حوصلہ افزائی کریں۔ 

اتحادِ امت: عصر حاضر کے تقاضے

عصرِ حاضر میں پاکستان کا استحکام دینی و قومی یکجہتی، مسلکی رواداری، سماجی انصاف اور باہمی احترام کے فروغ سے وابستہ ہے۔ قرآنِ کریم نے باہمی نزاع کو کمزوری کا سبب قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی  (الانفال:  46)۔ اس قرآنی ہدایت کی  روشنی میں علماء، دانشوروں، تعلیمی اداروں اور ذرائع ابلاغ کو اختلافات کے باوجود اخوت، برداشت اور مکالمے کی فضا قائم کرنے کیلئے مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ 

اتحادامت کے ثمرات

امت کے باہمی اتحادسے حسب ذیل فوائدوثمرات حاصل ہوتے ہیں۔

٭…جن مختلف علاقوں اور قوموں میں اتحاد ہوتا ہے تو وہ علاقے اورقومیں مضبوط ہوتی ہیں ،اتحاد کی بنا پرکسی بھی ملک کو دیگرممالک کے مابین تصادم سے بچایا جا سکتا ہے۔

٭…امت کاباہمی اتحاد مشترکہ مسائل کا حل کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ ٭…اتحاد امت میں تاریخی اور ثقافتی وابستگیوں کو بھی مضبوط بناتا ہے۔

٭…اگر امت متحد ہوتی ہے تو اس کا باہمی اتحاد اقتصادی تعاون کوبڑھاتا ہے۔ 

٭…اتحاد امت ریاستی استحکام کو بڑھا سکتا ہے اور ملکی ترقی میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔

٭… سماجی ہم آہنگی اورباہم فکری ونظری  تبادلہ امت کے اتحادکوترقی کی بنیادیں فراہم کرتاہے۔

٭… اتحاد امت، بین الممالک معاملات میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔ 

پاکستانی معاشرے کو داخلی و خارجی چیلنجز سے نکالنے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا واحد حل باہمی اتحاد و یگانگت میں پنہاں ہے۔ وطن عزیز اس وقت جن لسانی، صوبائی اور سیاسی بحرانوں کا شکار ہے، ان کا تقاضا ہے کہ ہم فروغِ اتحاد کے نبوی اصولوں کو دل سے اپنائیں۔ اتحاد محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک عملی قوت ہے، جو معاشرے کے ہر فرد کو ایک دوسرے کے سکھ دکھ کا شریک بناتی ہے۔ اگر ہم ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے فروعی اور ذاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر بحیثیت قوم ایک صف میں کھڑا ہونا ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

خوشیاں بانٹنا !

آج چھٹی کا دن ہونے کے باوجود فرحان بہت اداس بیٹھا تھا۔ اس کی اداسی کو دیکھ کر اس کی اماں نے پوچھا: کیا بات ہے ؟ کیوں اداس ہو؟ کل ٹیسٹ ٹھیک ہوا تھا ؟۔تو اس نے جواب دیا:جی سب ٹھیک ہے۔

گنیز بک 2027ء میں شامل دنیا کے ہونہار بچے!

کارمیلا چلری واٹسن:کم عمری میں خدمتِ خلق کا عظیم کارنامہ دینے والی کم عمر بچی

جادوئی خوشبو

نیلے شفاف پانیوں کی گہرائی میں جادوئی دنیا آباد تھی۔ اسی سمندری سلطنت میں چنبیلی نامی خوبصورت جل پری رہتی تھی۔ چنبیلی کا دل سمندر کی وسعت سے زیادہ اپنے پیارے پھولوں سے جڑا تھا۔

خلائی سوٹ کیوں ضروری ہے؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ خلا باز جب زمین سے دور خلا میں جاتے ہیں تو وہ خاص قسم کا لباس کیوں پہنتے ہیں؟ خلائی سوٹ خلا بازوں کو خلا کے خطرناک ماحول سے محفوظ رکھتا ہے۔

پیدا کر لیں جذبہ خدمت

پیدا کر لیں جذبہ خدمت،خدمت سے ملتی ہے جنت

نصیحت آموز باتیں

٭…اپنی غلطیوں سے سیکھو، انہیں دہراؤ نہیں۔