جادوئی خوشبو
نیلے شفاف پانیوں کی گہرائی میں جادوئی دنیا آباد تھی۔ اسی سمندری سلطنت میں چنبیلی نامی خوبصورت جل پری رہتی تھی۔ چنبیلی کا دل سمندر کی وسعت سے زیادہ اپنے پیارے پھولوں سے جڑا تھا۔
اس کے پاس جادوئی آئینہ تھا، جس کی سطح پر جب بھی پانی کی لہریں ٹکراتیں، تو اسے دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں موجود مصیبت زدہ پھول دکھائی دینے لگتے۔ چنبیلی کے پاس جادوئی رنگوں کی شیشی تھی، وہ رات کی خاموشی میں چپکے سے ساحلی باغوں میں اترتی اور مرجھاتے، رنگین رخ کھوتے پھولوں کی پنکھڑیوں کو اپنے جادو سے دوبارہ شاداب اور تازہ دم کر دیتی۔
ایک رات، چنبیلی تیرتے ہوئے انجان اور پراسرار سمندری راستے پر نکل گئی۔ وہاں کا پانی بو سے بھرا ہوا تھا۔ ساحل پر پہنچ کر اس نے ایسا ویران باغ دیکھا جو گھنی جھاڑیوں کے خوفناک جال میں جکڑا ہوا تھا۔ پودے خشک ہو کر سیاہ ہو چکے تھے اور ہوا میں خوشبو کی جگہ سڑاند کا احساس تھا۔
وہاں ایک ننھی، چمکتی ہوئی مچھلی تیرتی ہوئی چنبیلی کے پاس آئی اور پرسرار لہجے میں بولی، چنبیلی! یہاں سے فوراً چلی جاؤ۔ یہ باغ ظالم چڑیل کا ہے جو رنگوں اور پھولوں کی خوشبو سے شدید نفرت کرتی ہے۔اسی لمحے جھاڑیوں کے پیچھے سے سسکتی ہوئی آواز ابھری۔ چنبیلی کا دل بھر آیا، وہ آگے بڑھنے لگی لیکن ننھی مچھلی نے جلدی سے اسے روکا،تم ٹھہرو! میں جا کر دیکھتی ہوں کہ چڑیل سو رہی ہے یا جاگ رہی ہے۔چند لمحات بعد مچھلی گھبرائی ہوئی واپس آئی،اندر ایک ننھا، بے رنگ اور مرجھایا ہوا پھول درد سے رو رہا ہے۔ چڑیل کے جاگنے سے پہلے تم جلدی سے اسے نیا رنگ دے دو تاکہ اس کی زندگی بچ جائے۔
چنبیلی بغیر کسی خوف کے جھاڑیوں سے گزرتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ سامنے کمزور سا ننھا پھول اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا۔ چنبیلی نے اپنی جادوئی شیشی کھولی اور اس پر سنہرا رنگ نچھاور کرنے لگی۔ ابھی پھول کی چند پنکھڑیاں ہی رنگین ہوئی تھیں کہ ہولناک چنگھاڑ سے پورا باغ کانپ اٹھا۔
خوفناک، لمبے ناخنوں اور بدصورت چہرے والی چڑیل جھاڑیوں سے نمودار ہوئی۔’’تمہاری یہ مجال کہ تم میرے باغ میں قدم رکھو؟‘‘۔اس نے غصے سے چیختے ہوئے چنبیلی کے ہاتھ سے جادوئی رنگوں کی شیشیاں چھین لیں اور وہ تمام رنگ چنبیلی پر زور سے دے مارے۔
جادوئی رنگوں کی چمکدار بوندیں جیسے ہی چنبیلی اور ارد گرد کی زمین پر گریں، معجزہ رونما ہوا۔ رنگ کا ہر قطرہ جہاں گرا، وہاں سے چنبیلی کے سفید، معطر اور چمکتے ہوئے پھول تیزی سے پھوٹنے لگے۔ لمحوں میں پورا تاریک اور بدبودار باغ چنبیلی کے سفید پھولوں کے سمندر میں بدل گیا۔ پھولوں کی تیز، پاکیزہ خوشبو اور چمکتی ہوئی سفیدی چڑیل کیلئے ناقابلِ برداشت ہو گئی۔ وہ روشنی اور خوشبو کا تاب نہ لاتے ہوئے چیخنے لگی اور ہمیشہ کیلئے بینائی سے محروم ہو کر اندھیروں میں غائب ہو گئی۔
اب چنبیلی جہاں بھی جاتی ہے، اس کے گرد سفید پھولوں کی دلکش بہار اور جادوئی خوشبو کا ڈیرہ ہوتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments