ممتاز مفتی اُردو ادب کی قدآ ور شخصیت

تحریر : پروفیسر صابر علی


آ ج31ویں برسی: سادگی ،بے ساختگی اور مطالب کی ندرت ان کے اسلوب کو خوشگوار اثر انگیزی عطا کرتی ہے:ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’ ان کہی‘‘1943میں شائع ہوا۔ ’’ان کہی‘‘ کی کہانیاں جس دور میں لکھی گئیں وہ عالمی اعتبار سے بحران، کشمکش اور انتشار کا دور تھا اور برصغیر اقتصادی اعتبار سے کساد بازاری اور مندی کی زد میں تھا

مختصر سوانح

ممتاز مفتی کا اصل نام مفتی ممتاز حسین تھا۔11 ستمبر1905ء کو بٹالہ (ضلع گورداسپور) میں مفتی محمد حسین کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم امرتسر ، میانوالی ، ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں پائی۔ میٹر ک ڈیرہ غازی خان سے اور ایف اے امرتسر سے اور اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کیا۔

 پہلا افسانہ ’’جھکی جھکی آنکھیں‘‘ادبی دنیا لاہور میں شائع ہوااوراس طرح وہ مفتی ممتاز حسین سے ممتاز مفتی بن گئے۔

 ان کے کئی افسانوی مجموعے شائع ہوئے جن میں ان کہی، گہماگہمی، چپ، روغنی پتلے، اور سمے کا بندھن شامل ہیں۔علی پور  کا ایلی اور الکھ نگری سوانحی ناول میں شمار ہو تے ہیں جبکہ لبیک اور ہند یاترا جیسے سفر نامے بھی تحریر کیے اورخاکہ نگاری میں اوکھے لوگ، پیاز کے چھلکے اور تلاش جیسی کتابوں کے خالق ہیں۔

 ممتاز مفتی 27 اکتوبر 1995ء کو 91 برس کی عمر میں اسلام آباد میں وفات پاگئے۔

اعزازات: ستارہ امتیاز(1986)، نقوش ادبی ایوارڈ(1987)، عالمی اردو کانفرنس سے ملنے والا پریم چند ایوارڈ(1988)، طفیل ادبی ایوارڈ(1989)، بابائے اردو مولوی عبدالحق ایوارڈ(1994)۔ پاکستان پوسٹ نے 13 جون 2013ء کو ممتاز مفتی کی یاد میں 8 روپے مالیت کے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیے۔

ممتاز مفتی اردو ادب کی ایسی قد آور شخصیت ہیں جن کے ادبی کارنامے ایک طویل عرصے پر محیط، ان کے گہرے مشاہدات اور ژرف نگاہی کا نچوڑ ہیں۔ ممتاز مفتی نے اردو ادب کی بہت سی اصناف میں فن کے جوہر دکھائے اور ان اصناف کو  نئی معنویت اور گہرائی سے روشناس کیا، لیکن جب ان کے تخلیقی جوش کے دھارے مروجہ اصناف ادب کی حدود میں نہ سما سکے تو وہ نئے امکانات کی کھوج میں نکل کھڑے ہوئے۔ ہر بڑا فنکار اپنے فن کی ہیئت اور تکنیک خود وضع کرتا ہے۔ ممتاز مفتی نے بھی ایسا ہی کیا۔ انہوں نے اردو ادب کی مروج اصناف کی حدود امکانات کو وسیع کیا اور اردو زبان کو ایک نئے اور دلکش لب و لہجے سے آشنا کیا۔ ممتاز مفتی کے لسانی تجربے ایک علیحدہ موضوع ہے۔ انہوں نے زبان کے صوتی ڈھانچے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور پنجابی کے عام فہم، رواں اور غنائیت سے بھرپور روز مرہ کے استعمال سے اردو کو عوامی زندگی سے اور بھی قریب کر دیا۔ ان کی نثر میں طنزو ظرافت کی شوخی، اظہار میں سادگی، بے تکلفی اور بے ساختگی ، مطالب کی ندرت اور انوکھا پن ان کے اسلوب کو ایک خوشگوار اثر انگیزی عطا کرتے ہیں۔ وہ اپنی تصانیف اور ان کے وسیع دائرہ اثر کے حوالے سے بیسویں صدی میں اردو نثر کی نمایاں شخصیتوں میں سے ایک ہیں۔ممتاز مفتی کی فنی عظمت کے پس پشت ان کا مخصوص ذہنی فکر رویہ کار فرما نظر آتا ہے جو شعوری اور لاشعوری سطح پر ان کی تحریروں میں جھلکتا ہے۔ انہوں نے زندگی کو خود اپنی نظر سے دیکھا اور جیسی بھی وہ انہیں نظر آئی اسے ویسا ہی پیش کردیا۔ ان کے نقطہ نظر سے اختلاف کے لاکھوں پہلو نکل سکتے ہیں مگر انہوں نے تقلیدی روش کو اپنا شعار نہیں بنایا۔ اپنے ذاتی تجربات، مشاہدات اور علم کے جتنے ذرائع تک ان کی رسائی ہو سکی، انہی کی بنیاد پر انہوں نے زندگی کے بارے میں اپنی رائے مرتب کی اور نوے سالہ بھرپور زندگی کے دوران مسلسل اس رائے کی نو بہ نو ترتیب میں مشغول رہے۔ 

 ممتاز مفتی کی شخصیت کے تاروپود میں سب سے گہرا اثر ان کے والد کا ہے جو ماسٹر محمد حسین کے نام سے جانے جاتے تھے۔ان کے والد نے قیام پاکستان کے بعد اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کرشن نگر لاہور میں سکونت اختیار کر لی اور یہیں ان کا انتقال ہوا۔ممتاز مفتی نے علی پور کا ایلی میں اپنے والد صاحب کی شخصیت کو بہت منفردانداز میں پیش کیا ہے۔ممتاز مفتی دوران تعلیم، غبی یا نالائق نہیں تھے۔ وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی شریک ہوتے تھے اور انعامات کے مستحق بھی قرار پاتے تھے۔ یقیناً انہیں اپنے مدارس میں نمایاں مقام حاصل رہا ہوگا۔انہوں نے ایف اے کا امتحان پانچ سالوں میں پاس کیا مگر اس کی وجہ ان کی ذہنی کمزوری نہ تھی۔اصل وجہ یہ تھی کہ وہ اکثر کالج سے غیر حاضر رہا کرتے تھے، فیس بروقت ادا نہ کرتے تھے اور پڑھائی میں دلچسپی نہ لیتے تھے۔ بعد میں جب انہیں پڑھنے کا شوق پیدا ہوا تو انہوں نے ثابت کردیا کہ وہ غیر معمولی طور پر حساس ہی نہیں ذہین بھی تھے۔ ممتاز مفتی کو بچپن کی بیماری، جسمانی کمزوری اور اپنی کم روئی کے شدید احساس نے احساسِ کمتری کی عمیق دلدل میں پھینک دیا تھا۔

یہ احساس کمتری ان کی شدید ترین حساسیت اور انا پرستی کا آئینہ دار ہے۔وہ کالج کی تعلیم کے دوران اپنے ہم جماعتوں سے گھلنے ملنے سے احتراز کرتے رہے، اسی احساس ِکمتری کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے اپنے خوابوں اور خیالوں میں گوشۂ عافیت تلاش کیا اور بعد میں یہی ا حساس تنہائی انہیں مطالعہ کی دنیا میں لے آیا۔ یہ مطالعہ ان کی تخلیقی سرگر میوں کیلئے بہت اہم بنیاد بنا۔ اسی مرحلے پر انہیں انسانی فطرت میں چھپے ہوئے تضادات کا احساس ہوا۔ یہی احساس بعد ازاں نفسیات اور دوستو فسکی کے مطالعہ کے بعد ان کی زندگی کی ایک عظیم فکری یافت بن کر نمودار ہوا۔ جب انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور میں بی اے میں داخلہ لیا تو ان کی زندگی کے دو اہم موڑ ان کے منتظر تھے۔ ان میں سے ایک کا تعلق ان کی  فکری زندگی سے اور دوسرے کا جذباتی زندگی سے تھا۔پہلا واقعہ تو ان کااپنے ہم جماعت فیاض محمود سے دوستی کا ہے جس نے انہیں پہلی بار مطالعہ کی لت ڈالی اور انہوں نے امتحانی ضروریات کے علاوہ بھی کتاب سے رشتہ  استوار کیا۔ بعد میں سنٹرل ٹریننگ کالج کے قیام کے دوران انہوں نے فلسفہ، نفسیات اور ادبیات کامطالعہ کیا۔ 1929ء میں اسلامیہ کالج سے فلسفہ اور اقتصادیات کے مضامین میں تھرڈ ڈویژن میں بی اے کر لیا تھا۔

بی اے کے بعد انہوں نے شارٹ ہینڈ اور ٹائپنگ کا ڈپلومہ حاصل کیا اور کچھ عرصہ کیلئے کمشنر راولپنڈی کے سٹینوکی حیثیت سے کام کیامگر جلد ہی اس نوکری  کو خیر باد کہ کر اپنے والد کے اصرار پر سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور میں ایس اے وی میں داخلہ لے لیا۔ ایس اے وی کا امتحان پاس کرنے کے بعد انہوں نے تدریس کا پیشہ اختیار کر لیا اور  انگلش ٹیچر کے طور پر مختلف مقامات پر فرائض سرانجام دیتے رہے۔

ممتاز مفتی کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’ ان کہی‘‘1943ء میں لاہور سے شائع ہوا۔ ’’ان کہی‘‘ کی کہانیاں جس دور میں لکھی گئیں وہ عالمی اعتبار سے بحران، کشمکش اور انتشار کا دور تھا اور برصغیر اقتصادی اعتبار سے کساد بازاری اور مندی کی زد میں تھا۔ روس میں ایک خونی انقلاب کے بعدبادشاہت کا سلسلہ ختم ہو چکا تھا اور اشتراکیت کا فلسفہ دنیا بھر کے بڑے بڑے ذہنوں کو شدت سے متاثر کر رہا تھا۔  

نوے سالہ بھرپور زندگی گزارنے کے بعد 27اکتوبر1995ء کو ممتاز مفتی جب اس دنیائے فانی سے رخصت ہوئے تو ان کی فکر، نفسیات اور تصوف کی وادیوں سے ہوتی ہوئی اسلامی تعلیمات میں ڈھل چکی تھی۔ جب مرض الموت میں مبتلا ہو کر آخری بار پمز ہسپتال اسلام آب میں داخل تھے تو ان کی زندگی کی آخری شام ان کے دوست ڈاکٹر ابدال بیلا نے ان سے دریافت کیا کہ اگر انہیں دوبارہ زندگی ملے تو وہ اسے کس طرح گزارنا پسند کریں گے؟ ان کا جواب تھا کہ دوبارہ زندگی ملی تو وہ اسے قرآن کریم کے مطالعے میں صرف کریں گے۔

’’ علی پور کا ایلی‘‘کیوں مقبول ہوئی؟

’’ علی پور کا ایلی‘‘1961ء میں پہلی بار ایک ناول کی حیثیت سے شائع ہوئی اور آدم جی ادبی ایوارڈ کے حوالے سے اسے بہت شہرت حاصل ہوئی۔ بقول ابن انشا،یہ کتاب اس لئے مشہور ہوئی کہ اسے آدم جی انعام نہ مل سکا۔ لیکن اس کے باوجود اسے ادبی حلقوں میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی اور ممتاز مفتی کی ادبی شخصیت پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم ہو گئی۔ تاہم دوسرے ایڈیشن میں انہوں نے اسے اپنی سوانح قرار دے ڈالا اور کتاب کے اختتام پر ایک طویل فہرست شامل کر دی جس میں تمام کرداروں اور مقامات کے اصل نام اور پہچان ظاہر کی گئی تھی۔’’علی پور کا ایلی‘‘ میں ایک اچھے ناول کی تمام خوبیاں موجود ہیں۔ 

واقعات کے تسلسل اور کہانی کے ارتقا پر نظر ڈالی جائے تو ممتاز مفتی کی زندگی کا پورا نقشہ آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے۔ کمسن ایلی کی جذباتی نشوونما میں  آنے والی رکاوٹیں، فرد کی نجی و شخصی زندگی پر سماجی عوامل کا گہر ادبائو، ماحول اور ورثے کی میکانیت، نفسی کیفیات کا خارجی حالات پر غالب آنا اور ذہنی و فکری ارتقا پر اثر انداز ہونے والے اسباب و علل کا تجزیہ اس کتاب کا موضوع ہیں۔ ایلی کی زندگی کے آغاز میں گمان تک نہیں ہوتا کہ وہ آخر کار زمانے اور ماحول کو تسخیر کرکے ایک فتح مند اور کامران شخصیت کا روپ دھار لے گا۔ایلی کی شخصیت نے کتاب کے آخر میں جو گہرائی اور گیرائی حاصل کی ہے وہ اس کے تجربات کی شدت اور وفور کی دین ہے وہ ادراک و آگاہی کی جس منزل پر پہنچتا ہے اس کی پوری قیمت ادا کر چکا ہے۔ اس نے اپنے بچپن اور جوانی کی انمول مسرتیں دے کر فکرو احساس کی روشنی پائی ہے۔یہ آفاقی حقیقت ہے کہ انسان کو اپنے فہم و شعور کی قیمت پیشگی ادا کرنا پڑتی ہے۔’’ علی پور کا ایلی‘‘ اس آفاقی حقیقت کا ایک مکمل اظہار ہے۔

’’ الکھ نگری‘‘ کیلئے بے چین کیوں رہے؟

1992ء میں ممتاز مفتی کی خود نوشت کا دوسرا حصہ ’’ الکھ نگری‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ انہوں نے یہ حصہ ’’ ایلی اور الکھ نگری‘‘ کے عنوان سے 1965ء میں لکھنا شروع کردیا تھا۔1978ء میں اس کے بعض حصے ایک ڈائجسٹ میں شائع ہوئے تھے۔ 1988ء میں انہوں نے دوبارہ اس پر کام شروع کیا اور 1992ء میں یہ پایہ تکمیل کو پہنچا۔ ممتاز مفتی ’’ الکھ نگری‘‘ کی تخلیق کے ایام میں سخت بے چین رہا کرتے تھے۔ انہیں اس بات کی فکر تھی کہ کہیں شہاب صاحب ان کی اس حرکت سے خفا نہ ہو جائیں یا پھر موت انہیں اس کام کو مکمل  کرنے کی مہلت نہ دے۔ وہ مختلف بزرگوں سے اس بارے میں سوال کرتے رہتے اور عام لوگوں سے بھی دعا کی درخواست کرتے۔’’الکھ نگری‘‘ کے ابتدائی ابواب میں قصہ گوئی کا چٹخارہ اور زیب داستاں کے گہرے شوخ رنگ نظر آتے ہیں۔ یہ رنگ ’’ علی پور کا ایلی‘‘ کے طرزِ بیان سے مختلف ہے۔ ’’ علی پور کا ایلی کے بیانیہ میں جو ایک گہرائی اور سوزِ دل کی جدت جھلکتی ہے وہ اس کتاب میں ناپید ہے۔’’الکھ نگری‘‘ کے ابتدائی ابواب میں بہت خوبصورت شخصی خاکے بھی شامل ہیں جو  اگرچہ کتاب کے زمانی تسلسل کا ایک حصہ ہیں اور ممتاز مفتی کی زندگی کے حوالے سے کتاب کا حصہ بنتے ہیں لیکن انہیں اس کتاب سے الگ کرکے بھی اسی توجہ اور انہماک سے پڑھا جا سکتا ہے ۔یہ مکمل اور دلچسپ خاکے ان کے دوستوں احمد بشیر، اشفاق احمد اور آذر زوبی کے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

خودنوشت سوانح،ادبی اور تاریخی اہمیت

ادب کی دنیا میں خودنوشت سوانح ایک ایسی صنف ہے جس میں انسان اپنی زندگی کے تجربات، کامیابیوں، ناکامیوں، محرومیوں، خوشیوں اور تلخ حقیقتوں کو اپنے الفاظ میں بیان کرتا ہے۔

شاہینوں کی دھاک، ریکارڈز کی برسات

ون ڈے انٹرنیشنل ٹرائی سیریز2026ء:دوسرے مرحلے میں آج پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیمیں قذافی سٹیڈیم لاہور میں مدمقابل ہوں گی:راولپنڈی میں گرین شرٹس نے دونوں حریفوں کو چاروں شانے چت کیا سری لنکا نے انگلینڈ کیخلاف تاریخ سازمیچ میں ون ڈے کرکٹ کے تمام پرانے پیمانے، حکمت عملیوں اور ریکارڈز کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا

خدمت انسانیت

ننھے بلال کی عمر بمشکل دس سال تھی۔ وہ خوبصورت پہاڑی قصبے میں اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا۔ بلال رحمدل بچہ تھا لیکن اسے یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ چھوٹا بچہ ہے اور بڑے کام کرنا اس کے بس کی بات نہیں۔

گنیز بک 2027ء میں شامل دنیا کے ہونہار بچے!

نوح ولیمز،ذہانت اور مہارت کی حیرت انگیز مثال

آخری اُمید

دیکھو ! علی نے دور دھواں اُگلتی فیکٹری کی طرف اُشارہ کرتے ہوئے کہا : یہی وہ شہر ہے جس کے بارے میں دادا ابو بتایا کرتے تھے ۔

کوئلہ (Coal)کیسے بنتا ہے؟

زمین کے اندر سے نکالے جانے والے ایندھن مثلاً قدرتی گیس اور تیل کی طرح کوئلہ بھی نامیاتی مادے کی تبدیلیوں کی وجہ سے بنتا ہے۔