جگنو کیسے چمکتا ہے؟
اسپیشل فیچر
جگنو کے جسم کے اندر ایک کیمیائی ردعمل ہوتا ہے جس کے وجہ سے ان کے دھڑ کا پچھلا حصہ روشنی سے چمکنے لگتا ہے۔ اس قسم کی روشنی کو حیاتیاتی نوارنیت یا ’’بائیولومینی سنس‘‘ کہتے ہیں۔ جس طرح سے جگنو روشنی پیدا کرتے ہیں وہ حیاتیاتی نورانیت کی بہترین مثال ہے۔ جگنوئوں میں ’’لیوسیفریس‘‘ نامی انزائم کی موجودگی میں ’’لیوسیفرن‘‘ کیمیکل اور ’’اڈینوسین ٹرائی فاسفیٹ‘‘ یا ATP کی آکسیڈیشن میں اضافہ ہوجاتا ہے جس سے روشنی پیداہوتی ہے۔روشنی کا بلب، جو جلنے پر حرارت بھی پیدا کرتا ہے، کے برعکس ایک جگنو کی روشنی ’’ٹھنڈی‘‘ ہوتی ہے اور اس کی بہت سی توانائی حرارت کی شکل میں ضائع نہیں ہوجاتی۔ یہ اس اڑنے والے کیڑے کے لئے ضروری بھی ہے کیوں کہ اگر جگنو کے جسم میں روشنی پیدا کرنے والے حصے بلب کی طرح گرم ہوجائیں گے تو وہ اس حرارت کی تاب نہ لاتے ہوئے ویسے ہی چل بسے گا۔جگنو کے اندر اس کیمیائی ردعمل کے شروع ہونے اور ختم ہونے کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس کی روشنی جلتی بجھتی نظر آتی ہے۔ یہ نظام کیڑے کے جسم میں روشنی والے حصے کے اندر موجود ہوتا ہے۔ جب آکسیجن دستیاب ہوتی ہے تو روشنی والا حصہ چمکنے لگتا ہے اور جب یہ دستیاب نہیں ہوتی تو جگنو کی بتی بجھ جاتی ہے۔ کیڑے مکوڑوں کے پھیپھڑے نہیں ہوتے لیکن یہ آکسیجن کو باہر سے جسم کے اندر سیلوں میں پہنچانے کے لئے ’’ٹریکیول‘‘ نامی چھوٹی چھوٹی ٹیوبوں کے ایک وسیع نظام کو استعمال کرتا ہے۔ ایک طویل عرصے تک یہ بات معمہ بنی رہی کہ جگنوئوں کی بعض اقسام چمکنے کی بلند شرح کیسے حاصل کرلیتی ہیں جبکہ ان کے اندر آکسیجن کنٹرول کرنے والے پٹھوں کی رفتار انتہائی سست ہوتی ہے۔ محققین کو حال ہی میں معلوم ہوا ہے کہ نائٹرک آکسائیڈ گیس جگنو کی چمک کو کنٹرول کرنے کے نظام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ یعنی جب جگنو کی بتی بجھی ہوئی ہوتی ہے تو نائٹرک آکسائیڈ پیدا نہیں ہو رہی ہوتی ۔ اس صورت میں روشنی والے حصے میں داخل ہونے والی آکسیجن سیل کے توانائی پیدا کرنے والے اجزاء جنہیں مائٹوکونڈریا کہتے ہیں تک محدود رہتی ہے اور مزید آگے روشنی پیدا کرنے والے حصے میں جانے کے لئے دستیاب نہیں ہوتی۔ لیکن نائٹرک آکسائیڈ ، جو کہ مائٹو کونڈریا کو باندھ دیتی ہے، کی موجودگی میں آکسیجن روشنی پیدا کرنے والے حصے تک پہنچ جاتی ہے جہاں وہ روشنی پیدا کرنے والے دیگر ضروری کیمیکلز سے ملتی ہے اور اس طرح چمک پیدا ہوتی ہے۔ چونکہ نائٹرک آکسائیڈ بڑی تیزی سے ٹوٹتی ہے اس لئے جونہی کیمیکل بننا بند ہوتا ہے آکسیجن کے مالیکیول دوبارہ مائٹروکونڈریا کے چنگل میں آجاتے ہیں اور روشنی پیدا کرنے کے لئے دستیاب نہیں رہتے۔