نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:قومی اسمبلی کااجلاس
  • بریکنگ :- صحافیوں نےپریس گیلری سےواک آوٹ کیاہے،شازیہ مری
  • بریکنگ :- مشترکہ اجلاس میں گیلری بندکی گئی جوتاریخ میں کبھی نہیں ہوا،شازیہ مری
  • بریکنگ :- میڈیاجمہوری سیٹ اپ میں ستون کی اہمیت رکھتاہے،شازیہ مری
  • بریکنگ :- پی آراےکےمنتخب ارکان سےفوری رجوع کیاجائے،شازیہ مری
  • بریکنگ :- آپ کی منتخب باڈی سےکوئی ملاقات نہیں ہوئی،شازیہ مری
  • بریکنگ :- میں معاملےپرموقف دےچکاہوں،اسپیکرقومی اسمبلی
  • بریکنگ :- پریس گیلری بندکرناان کی متفقہ رائےنہیں تھی،اسپیکراسدقیصر
  • بریکنگ :- نارووال منصوبےکوکیوں کھنڈربنادیاگیا،احسن اقبال
  • بریکنگ :- قومی منصوبےکوکیوں نظراندازکیاگیا،احسن اقبال
  • بریکنگ :- وزارت نےبدین میں منصوبےلگاناشروع کردیئے،احسن اقبال
  • بریکنگ :- کھیل کےشعبےمیں صوبائی حکومتوں کوذمہ داری اٹھاناہوگی،فہمیدہ مرزا
  • بریکنگ :- سی سی آئی نےفیصلہ کیانارووال منصوبہ صوبےکوواپس بھیجیں،فہمیدہ مرزا
  • بریکنگ :- پسماندہ علاقےمیں 20کروڑکامنصوبہ لگ جائےتوکیاان کاحق نہیں؟فہمیدہ مرزا
  • بریکنگ :- آپ کوخیال نہیں آیااپنی حکومت میں سندھ کوکچھ دیں،فہمیدہ مرزا
  • بریکنگ :- منصوبہ میرےحلقےوالوں کاحق ہے،آپ نارووال کیوں لےکرگئے؟فہمیدہ مرزا
  • بریکنگ :- نویدقمرنےایوان میں پٹرولیم مصنوعات پرتحریک پیش کی
  • بریکنگ :- پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پربات کی جائے،نویدقمر
  • بریکنگ :- آج ایجنڈابہت ہےاس پرکل بات کرلی جائے،بابراعوان
  • بریکنگ :- اسلام آباد:اپوزیشن ارکان نےکورم کی نشاندہی کردی
  • بریکنگ :- قومی اسمبلی کااجلاس منگل کی سہ پہر 4 بجےتک ملتوی
Coronavirus Updates

سائیں شاہ لطیف بھٹائی

سائیں شاہ لطیف بھٹائی

اسپیشل فیچر

تحریر : میر حسین علی امام


وادی مہران ،باب الاسلام سندھ کے مشہور صوفی شاعر حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی بارہویں صدی ہجری کے اوائل میں ہالاکے قریب ایک گاؤں بھٹے پور میں پیدا ہوئے ،آپ کے والد کانام شاہ حبیب رحمۃُاﷲعلیہ تھا وہ ایک ولیٔ کامل تھے آپ کے جدامجدعبدالکریم شاہ مشہور بزرگ تھے اور بلڑی کے شاہ کریم کے نام سے مشہور ہوئے ۔شاہ عبد اللطیف رحمۃُاﷲعلیہ نے ابتدائی تعلیم نُورمحمد بھٹی سے حاصل کی اور بھٹ شاہ بارہ میل دور گاؤں وائی کے رہنے والے اور مشہور مُدرس تھے آپ نے اپنے والد شاہ حبیب رحمۃُاﷲعلیہ سے دینی تعلیم حاصل کی ۔آپ سادگی پسند ،شیریں گفت گوکرتے اورہر ایک سے عُجزواِنکساری سے پیش آتے شاہ حبیب رحمۃُاﷲعلیہ بھٹے پور سے نکل کر کوٹری مُغل میں رہنے لگے ،یہاں رئیس مرزامغل بیگ اور ارغوان خاندان آباد تھا ۔ایک دن رئیس مرزا مغل بیگ کی بیٹی بی بی سیدہ بیمار ہوئیں تو انہوں نے دعاکے لیے شاہ حبیب کو بُلا بھیجا ۔انہوں نے اپنی بیماری کے باعث شاہ لطیف رحمۃُاﷲعلیہ کو اپنے ساتھ لیا ۔شاہ لطیف رحمۃُاﷲعلیہ شعر گوئی کی فطرت رکھتے تھے، عشق الٰہی میں ڈوبے ہوئے تھے شاہ صاحب کا رجحان شعر گوئی ،سیاست ،بزرگوں فقیروں کی صحبت میں بیٹھنا اور یاد الٰہی میں مشغول رہنا تھا۔1713ء میں قبیلہ دل کے لٹیروں نے مرزا مغل پر حملہ کیا اور مال ودولت لوٹ کرچلے گئے شاہ عبد اللطیف رحمۃُاﷲعلیہ کو اطلا ع ملی تو آپ نے مددکی پیش کش کی مگر مغلوں نے انکار کیاجس کے باعث دل کے لُٹیروں نے مرزا مغل کا خاندان قتل کرڈالا ۔مرزاکی مستورات احساسِ ندامت لیے شاہ عبداللطیف رحمۃُاﷲعلیہ کے پاس حاضرہوئیں۔ شاہ لطیف نے انہیں بڑی عزت دی اور شریعت کے مطابق سیّدہ بی بی سے نکاح کیا۔سیدہ بی بی نے وفا شعار ی اور خدمت گزاری کی مثال قائم کی ۔شادی کے بعد شاہ عبداللطیف رحمۃُاﷲعلیہ کی ریاضت ،عبادات اور شعر گوئی میں اضافہ ہوا،محفل سماع بھی جاری ہوئی۔ موسیقی میں طنبورہ اور دیگر آلات ایجاد کیے دور دُور تک آپ کے عارفانہ کلام کی شہرت پہنچ گئی ۔محفل سماع اورطنبورہ نے بھی شہرت پائی، لوگ آپ کے پاس جوق در جوق آنے لگے ،آپ کا کلام سننے ،سماع کی محفل میں شر کت کرنے لگے اور دُور دراز واپس جاکر لوگوں کو آپ کا کلام سنانے لگے ۔آپ کا دل عشق الٰہی میں بڑھتا گیا اور آپ ہجوم سے ہٹ کر ٹیلے پر بیٹھ کر غوروفکر کرنے لگے اس میں آپ کوسکون محسوس ہونے لگا۔ یہاں مستقل رہائش اختیار کی بعد میںیہ جگہ بھٹ شاہ کے نام سے مشہور ہوگئی ۔شاہ لطیف رحمۃُاﷲعلیہ ایک عظیم صوفی ،آفاقی شاعر تھے۔ آپ نے بیش تر عمرسیر سیاحت فقیروں، صوفیوں کی صحبت میں گزاری اِن سے فیض حاصل کیا ۔ اس فیض کو اپنی فطری شعر گوئی کی قوت وصلاحیت کے نتیجے میں اشعار میں ڈھالا چوں کہ آپ سچے عاشق تھے اور عشق مجازی سے عشق حقیقی اور عشق الٰہی کی طرف پہنچے تھے، اسی لئے آپ کے کلا م میںبھرپورسوزوگداز ہے ،موسیقیت طبیعت میں تھی وہی شاعری میں جھلک آئی ان کی شاعری میں رموز،صوفیانہ رنگ ،شعریت اورموسیقیت سب ہی ملتا ہے ۔ادبی نثر پارے یاشعری پارے کی مقبولیت میں یہی عوامل کار فرماہوتے ہیں، جوادب گردوپیش علاقائی واقعات وکردار سے متاثر ہوکر تخلیق کیا گیا ہو،اس میں اخلاقی پیغام، آفاقی فکر ،فنی محاسن ہوں ۔ان اُصولوں پر جب ہم شاہ عبداللطیف رحمۃُاﷲعلیہ کی شاعری پرکھتے ہیں تو وہ عالمی صوفیانہ شاعری کے معیار پر پوری اُترتی ہے ۔شاہ عبداللطیف رحمۃُاﷲعلیہ نے بقیہ عمر بھٹ شاہ میں گزاری 1752میں آپ کا انتقال ہوا۔ ہرسال 14صفر کو آپ کا عر س منایا جاتا ہے سند ھ کے کلہوڑہ خاندان کے حکم راں غلام شاہ کلہوڑہ نے آپ کا مزار تعمیر کرایا۔شاہ عبداللطیف رحمۃُاﷲعلیہ کی شاعری شاہ جو رسالوکے نام سے جمع کی گئی اس کے مختلف زبانوں میں تراجم ہوئے اردومیں شیخ ایاز ،رشید احمد لاشاری ،پروفیسر آفاق صدیقی اور دیگر حضرات نے تراجم کیے اور آپ کے عارفانہ کلا م کا فیض عام کیا ۔مشہور جرمن اسکالر مسز این میری شمل نے شاہ عبداللطیف کے کلام کا جرمن زبان میں ترجمہ کیا اور شاہ صاحب رحمۃُاﷲعلیہ کا کلام یورپ میں متعارف کرایا۔شاہ صاحب رحمۃُاﷲعلیہ کا کلام سندھ کی حدود سے نکل کر برصغیر پاک وہند اورایشیا سے بڑھ کر ساری دنیامیں مشہور ہوگیا یہ آپ کی انسان دوستی، دھرتی سے محبت عشق الٰہی پر مشتمل کلام ہے جو بے پنا ہ مقبول ہوا۔آپ کا شمار دنیا کے اہم صوفی شعرا ء میں ہوتا ہے ۔آپ کی شاعری عالمی شاعری کا در جہ رکھتی ہے ۔حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی نے اپنے کلام میں توحید الٰہی ،حب رسولﷺ، حقیقت ومعرفت ،شریعت وطریقت اور حیات وکائنات کے اسرازورموز کو شر ح وبسط سے بیان کیا ہے، شاہ صاحب نے فلسفۂ تصوف محض ایک نظریے کے طور پر نہیں ،بلکہ جزوِزندگی بناکر اپنایا تھا، اجزائے ترکیبی کُل میں سموکر تخلیق کا ئنات وتعمیر حیات کا راز بن گئے ۔تلاش حق اور راہِ حق کے نکات شاہ صاحب رحمۃُاﷲعلیہ نے اپنے کلا م میں بڑی صراحت سے بیان کیے ہیں۔ آپ کا کلام عالمی شہرت رکھتا ہے۔ ہرزبان میں اس کے تراجم ہوئے۔آپ کاکلام امن دوستی، انسان دوستی کے حوالے سے امن دوستوں ،انسان دوستوں کے لیے کشش رکھتا ہے ،سندھ دھرتی اور سندھ کے روایتی کرداروں کو آپ نے اپنے اشعار کے ذریعے بین الاقوامی بنایا اورانہیں اَمر کردیا ۔آپ نے محبت ،امن اورانسان دوستی کا پیغام دیا۔ یہی قرآنی تعلیمات ہیں یہی صوفیانہ طرز فکر ہے کہ سب انسان اس زمین کے بیٹے ہیں ۔یہ کائنات سب کے لیے ہے اس کائنات کو حسین اور انسان کو خوبصورت بنانا ہے ۔انسان کی بقاء محبت پیار میں ہے، یہی شاہ عبداللطیف کا پیغام ہے کہ انسانوں سے پیار کریں جو اس کائنات کا حسین تحفہ ہے ۔شاہ عبد اللطیف بھٹائی نے 26سال کی عمر میں بھٹ شاہ میں سکونت اختیار کی اور وہیں رحلت فرمائی ،یہ وہ مقام ہے جہاں شاہ صاحب رحمۃُاﷲعلیہ نے روحانیت ومعرفت وشعروتصوف کو معراج کمال پر پہنچایا۔ ’’بھٹ‘‘ سندھی میں ریت کے ٹیلے کو کہتے ہیں، جب یہ ویران مقام شاہ صاحب کا روحانی مسکن بناتو یہ علاقہ آباد ہو گیا اس کانام بھٹ شاہ یعنی شاہ صاحب رحمۃُاﷲعلیہ کا ٹیلہ قرار پایا ،بھٹ شاہ ہالہ شہر سے چھ میل کے فاصلے پر مشر ق کی جانب نشیبی خطے میں واقع ہے شاہ صاحب کا مزار اونچے ٹیلے میں آج بھی مرجع خاص وعام ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیا،آج اردو کے نامور شاعر میر تقی میر کو دنیا سے رخصت ہوئے دو سو دس سال بیت گئے

دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیا،آج اردو کے نامور شاعر میر تقی میر کو دنیا سے رخصت ہوئے دو سو دس سال بیت گئے

''کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا‘‘اردو کے نامور شاعر میر تقی میر کو اسدارِ فانی سے گزرے آ ج دو سو دس سال کا عرصہ گزر گیا لیکن ان کا کلام آ ج بھی دلوں پہ سحر طاری کر دیتا ہے ۔میر تقی میر آگرہ میں 1723ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام محمد علی تھا لیکن علی متقی کے نام سے مشہور تھے اور درویش گوشہ نشین تھے۔ میر نے ابتدائی تعلیم والد کے دوست سید امان للہ سے حاصل کی مگر مزید تعلیم سے پہلے جب میر ابھی نو برس کے تھے وہ چل بسے۔ اس کے بعد ان کے والد نے خود تعلیم و تربیت شروع کی۔ مگر چند ماہ بعد ہی ان کا بھی انتقال ہو گیا۔یہاں سے میر کی زندگی میں رنج و الم کے طویل باب کی ابتداء ہوئی۔۔ تلاشِ معاش کی فکر میں دہلی پہنچے اور ایک نواب کے ہاں ملازم ہو گئے۔ مگر جب نواب موصوف ایک جنگ میں مارے گئے تو میر آگرہ لوٹ آئے۔ لیکن گزر اوقات کی کوئی صورت نہ بن سکی۔ چنانچہ دوبارہ دہلی روانہ ہوئے۔میر کا زمانہ شورشوں اور فتنہ و فساد کا زمانہ تھا۔ مسلسل تنگدستی اور مشکلات برداشت کرنے کے بعد بالآخر میر گوشہ عافیت کی تلاش میں لکھنؤ روانہ ہو گئے۔مولانا محمد حسین آزاد ''آبِ حیات‘‘ میں لکھتے ہیں۔'' میر تقی میر جب لکھنؤ چلے تو گاڑی کا کرایہ بھی پاس نہ تھا۔ ناچار ایک شخص کے ساتھ شریک ہوگئے تو دلی کو خدا حافظ کہا۔ تھوڑی دور آگے چل کر اس شخص نے کچھ بات کی۔ یہ اُس کی طرف سے منہ پھیر کر ہو بیٹھے۔ کچھ دیر کے بعد پھر اُس نے بات کی ۔میر چیں بچیں ہوکر بولے کہ صاحب قبلہ آپ نے کرایہ دیا ہے۔ بے شک گاڑی میں بیٹھئے مگر باتوں سے کیا تعلق! اس نے کہا۔'' حضرت کیا مضائقہ ہے۔ راہ کا شغل ہے باتوں میں ذرا جی بہلتا ہے۔ ‘‘میر صاحب بگڑ کر بولے کہ خیر آپ کا شغل ہے۔ میری زبان خراب ہوتی ہے۔ لکھنؤ میں پہنچ کر جیسا کہ مسافروں کا دستور ہے ایک سرائے میں اُترے۔ معلوم ہوا کہ آج یہاں مشاعرہ ہے۔ رہ نہ سکے۔ اُسی وقت غزل لکھی اور مشاعرے میں جاکر شامل ہوئے۔ ان کی وضع قدیمانہ تھی۔ کھڑکی دار پگڑی، پچاس گز کے گھیر کا جامہ، اک پورا تھان پستولیے کا کمر سے بندھا، ایک رومال پٹڑی دار تہہ کیا ہوا اس میں آویزاں، مشروع پاجامہ، ناگ پھنی کی انی دار جوتی جس کی ڈیڑھ بالشت اونچی نوک، کمر میں ایک طرف سیف یعنی سیدھی تلوار، دوسری طرف کٹار، ہاتھ میں جریب، غرض جب داخل محفل ہوئے تو انہیں دیکھ کر سب لوگ ہنسنے لگے، میر نے یہ قطعہ فی البدیہہ کہہ کر غزل طرحی میں داخل کیا:کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنوہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کےدلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخابرہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کےجس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیاہم رہنے والے ہیں اُسی اجڑے دیار کےسب کو حال معلوم ہوا تو میر تقی میر سے بہت معذرت طلب کی۔میر نے اِک جہاں کو اپنا گرویدہ کیا اور سترہ سو اڑتالیس میں لکھنؤ جا بسے۔ یہاں رْباعی، مثنوی، قصیدہ اور خصوصاً غزل گوئی کوعروجِ ادب پر پہنچا دیا۔دکھائی دیے یوں کہ بیخود کیاہمیں آ پ سے بھی جدا کر چلےمیر کی شاعری میں غم والم کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ یہ غم میر کا ذاتی غم بھی تھا اور یہی انسان کی ازلی اور ابدی تقدیر کاغم بھی تھا۔مرزا اسد اللہ غالب اور میر تقی میر کی شاعری کا تقابلی جائزہ اہلِ ادب کے ہاں عام ہے، مگر خود غالب بھی میر کے شیدائی تھے۔غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقولِ ناسخآپ بے بہرہ ہے جو معتقد ِمیر نہیں

باؤلی :یہ کس بلا کا نام ہے۔۔۔؟

باؤلی :یہ کس بلا کا نام ہے۔۔۔؟

لفظ '' باؤلی‘‘ جو اُردو میں اکثر استعمال ہوتا ہے اس کا مطلب '' پاگل عورت‘‘ کے ہیں جبکہ باؤلی ایک ایسے لمبے چوڑے کنوئیں (Step well)کو بھی کہتے ہیں جس میں پانی کی تہہ تک سیڑھیاں بنی ہوتی ہیں۔ حسبِ ضرورت ان سیڑھیوں کی مدد سے کنوئیں کی تہہ تک بھی پہنچا جا سکتا ہے۔آ ج ہم اسی پہ بات کریں گے۔'' باؤلی‘‘ راجپوت دور میں استعمال ہونا شروع ہوئیں۔شیر شاہ سوری نے بھی کافی باؤلیاں بنوائیں۔ خاص طور پر جی ٹی روڈ کے آس پاس شیر شاہ سوری کے زمانے کی باؤلیاں اب بھی کہیں کہیں نظر آتی ہیں۔ماضی میں باؤلی صرف مذہبی حیثیت کے تالابوں کے لئے مختص تھیں۔رفتہ رفتہ بر صغیر پاک و ہند میں باؤلیاں مذہبی مقامات سے ہٹ کر بھی رواج پاتی چلی گئیں۔ تاریخ کی کتابوں میں چھٹی صدی عیسوی میں برصغیر پاک و ہند کے ایسے علاقے جہاں خشک سالی کا سامنا رہتا تھا وہاں باؤلیاں تیزی سے رواج پاتی چلی گئیں۔ایک سروے کے مطابق گجرات کے علاقے میں 120سے زیادہ باؤلیوں کا سراغ ملا ہے۔ٹیکسلا ،گوجر خان ،کلر سیداں ،کہوٹہ ،بھمبر آزاد کشمیر،پلندری اورکھاریاں میں کچھ کچھ باؤلیوں کا سراغ بھی ملا ہے۔ مغلیہ دور میں باؤلیوں نے تیزی سے رواج پایا۔ان میں اکثر باؤلیاں تو اتنی بڑی ہوتی تھیں کہ ان میں براہ راست ہاتھی اور گھوڑے بھی پانی پینے کی غرض سے اتارے جا سکتے تھے۔ ان باؤلیوں کی یہ خاصیت تھی کہ جانوروں اور انسانوں کیلئے پانی کا الگ الگ انتظام ہوا کرتا تھا۔ اکبر بادشاہ اور ان کے جانشینوں نے تو مغلیہ دورِ حکومت میں جتنے بھی قلعے تعمیر کرائے وہاں باؤلیاں ضرور ملتی تھیں۔ تاریخی عمارتوں خاص طور پر قلعوں میں پانی کے وسیع تر ذخائر کو محفوظ کرنے کیلئے عمارتوں کے احاطے میں سیڑھیوں والے کنوئیں یعنی باؤلیاں ضرور بنتی تھیں۔ کسی زمانے میں پانی کی رات کی ضرورت کے پیش نظر جن میں تعمیری کام بھی شامل تھے، باؤلیاں استعمال ہوا کرتی تھیں۔گئے وقتوں میں جب جی ٹی روڈ رابطے کیلئے مرکزی شاہراہ کا درجہ رکھتی تھی، اس کے اطراف ہر کچھ فاصلے پر باؤلیاں پائی جاتی تھیں۔اکثر باؤلیاں اتنی بڑی ہوتی تھیں جن میں کئی گنا زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوتی تھی۔ ان کی تہہ تک سیڑھیاں بنی ہوتی تھیں ۔یہ اپنی وسعت کے لحاظ سے تالاب سے کافی مشابہت رکھتی تھیں، اِن کا مقصد ہی لمبے عرصے تک پانی ذخیرہ کرنا ہوتا تھا۔پاکستان کے اکثر شہروں جن میں لوسر (واہ کینٹ)ہٹیاں ضلع اٹک اور قلعہ روہتاس میں تین باؤلیاں اب بھی باقی ہیں۔ان میں اکثر اتنی بڑی ہیں کہ ان کے ارد گرد راہداریاں اور کمرے بھی بنے ہوئے ہیں جو شدید گرمی کے موسم میں انتہائی ٹھنڈے ہوتے تھے۔ ماضی میں یہ پانی ذخیرہ کرنے کا نعم البدل ہوتی تھیں موسم گرما میں یہ گرمی سے ستائے لوگوں کے لئے کسی نعمت سے کم بھی نہیں ہوتی تھیں۔ چنانچہ گرمیوں کے موسم میں امراء اور اعلی حکومتی عہدیدار اپنے دفاتر عارضی طور پر یہاں منتقل کر لیا کرتے اور یوں وہ ٹھنڈے پانی کے پہلو میں بیٹھ کر دفتری کام بھی سرانجام دیتے تھے۔بعض باؤلیاں تواتنی بڑی ہوا کرتی تھیں کہ ان کے اندر زیر زمین رستے بھی بنے ہواکرتے تھے جو کئی کئی کلومیٹر لمبے ہوتے تھے۔ بعض جگہوں پر تو ایسی باؤلیاں بھی دریافت ہوئی ہیں جنکے اندر خفیہ رستے بھی بنے ہوتے تھے۔ ان کے بارے قیاس کیا جاتا ہے یہ ہنگامی رستے کے طور پر استعمال ہوتی ہوں گی۔بعض روایات کے مطابق باؤلیوں کی تعمیر کا آغاز قدیم راچپوت دور سے ہوا تھا لیکن اس کو رواج دینے میں کافی حد تک شیر شاہ سوری کی کاوشیں لائقِ تحسین ہیں۔یہ کہنا غلط نہ ہوگاکہ اپنے زمانے کی اس بے مثال ایجاد کی روح کو ایک مدت تک زندہ رکھنے کا اعزاز شیر شاہ سوری کو ہی جاتا ہے۔ دراصل شیر شاہ سوری نے جہاں جہاں سڑکیں بنوائیں اور نئے شہر آباد کئے وہاں سب سے پہلے پانی کا مسئلہ حل کیا۔ اس نے جب جرنیلی سڑک تعمیر کرائی تو ہر تین کلومیٹر کے فاصلے پر سرائیں تعمیر کرائیں جہاں ہمہ وقت صاف اور ٹھنڈے پانی کے مٹکے موجود ہوتے تھے۔ جہاں پانی کی طلب زیادہ ہوتی وہاں مستقل کنوئیں اور باؤلیاں تعمیر کرائیں۔ غرضیکہ اُس کی فوجیں جہاں سے گزرتیں وہاں بھی باؤلیاں بنواتا جاتا۔ اس زمانے کی جنگیں آج کی جنگوں کی طرح مختصر دورانئے کی نہیں ہوتی تھیں بلکہ فوجوں کا پڑاؤ بعض اوقات سالوں پر محیط ہوتا تھا۔ایسے میں جب اس کی فوجیں ایک گمنام علاقے لیکن آج کے ایک پر رونق شہر واں بھچراں سے گزریں تو اُنہیں یہاں پڑاؤ ڈالنا پڑا۔ اس وجہ سے اس نے یہاں ایک بہت بڑاکنواں کھدوایا۔یہ کنواں اپنے وقتوں کا ایک لازوال شاہکار تھا۔ اس کے کھنڈرات کو میانوالی سے لاہور جانے والے آج بھی حسرت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔واں بھچراں میانوالی شہر سے بیس بائیس کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ اس منفرد کنوئیں کی تہہ تک جانے کیلئے لگ بھگ چار سو سیڑھیاں ہیں۔اس کنوئیں کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں ہاتھی اور گھوڑے براہ راست نیچے پانی پینے یا آرام کی غرض سے آسانی سے جا سکتے تھے۔ اس باؤلی کے پہلو میں دو بلند مینار ہیں جو حکومتی عدم توجہی کے باعث کھنڈرات میں بدلتے جا رہے ہیں۔کتنا خوبصورت اتفاق ہے کہ ایک گمنام قصبے کے ایک کنوئیں نے ایک تاریخی شہر کو جنم دیا جسے بعد میں '' واں بھچراں ‘‘ کہا گیا۔'' واں ‘‘ دراصل کنوئیں کا مخفف ہے اور'' بھچراں ‘‘ یہاں ایک قدیم قبیلے '' بھچر‘‘ سے ماخوذ ہے جو پانی کی کشش کے سبب اس کنوئیں کے ارد گرد آباد ہو گیا ۔ یوں اس قصبے کا نام واں بھچراں پڑ گیاجو اب ایک بارونق شہر کا روپ دھار چکا ہے۔ مغلیہ دور ہو یا شیر شاہ کا دور، اُنہوں نے جس کمال مہارت سے لازوال شاہکار عمارتیں تعمیر کرائیں ہم ان کی حفاظت نہیں کرسکے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس عظیم قومی ورثے کو محفوظ کرنے کے لئے خاطر خواہ انتظامات کرے۔ 

ڈیپ ڈائیو دبئی،دنیا کا گہرا ترین سوئمنگ پول

ڈیپ ڈائیو دبئی،دنیا کا گہرا ترین سوئمنگ پول

7نومبر 2020 کو جب پولینڈ کے شہر وارسا میں''ڈیپ اسپاٹ ‘‘ نامی سوئمنگ پول کا افتتاح کیا گیا تو یہ 150 فٹ کی گہرائی کے ساتھ دنیا کا گہرا ترین سوئمنگ پول تھا۔ ڈیپ اسپاٹ نے یہ اعزاز اٹلی کے ''مونٹی گریٹو ٹیرم ‘‘ سے چھینا تھا جو اس سے پہلے 138فٹ کی گہرائی کے ساتھ دنیا کے گہرے ترین سوئمنگ پول کا اعزاز تھامے ہوئے تھا۔ حال ہی میں جولائی 2021 میں دبئی کے '' ڈیپ ڈائیو دبئی ‘‘ نے 200فٹ گہرائی کے ساتھ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں اپنا نام درج کرالیا۔دبئی دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز اپنے نام کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر دنیا کے گہرے ترین سوئمنگ پول کا اعزاز بھی اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ ماہرین اس سوئمنگ پول کو ‘‘ سٹیٹ آف دی آرٹ ‘‘ کا نام دیتے ہیں۔متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی کے معروف اور مہنگے ترین علاقے دبئی مرینہ میں واقع بیچ ریزورٹ کی بلند عمارت پر واقع‘‘ ڈیپ ڈائیو دبئی ‘‘ نامی سوئمنگ پول 964فٹ کی بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے تیراکی کے دوران آسمان اور سمندر کا ایک ساتھ نظارہ پیش کرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس میں ایک کروڑ 46لاکھ لٹر تازہ پانی ذخیرہ ہوتا ہے جو اولمپک سائز کے 6 سوئمنگ پولوں کے حجم کے برابر ہے۔اس سوئمنگ پول کے ڈائریکٹر جیرڈ جبلونسکی جن کا تعلق امریکی ریاست فلوریڈا سے ہے۔اُن کے بقولیہ ‘‘ سیپ ‘‘ کی شکل کی مشابہت رکھتا ہے جو اس خطے کی تاریخ اور ثقافت کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کیا گیا ہے ۔یہ دراصل قدیم عرب روایات کی عکاسی کرتا ہے جہاں سمندر میں موتی تلاش کرنے کی روایت برسوں سے چلی آ رہی ہے۔اس منفرد سوئمنگ پول میں سوئمنگ کے علاوہ متعدد منفرد اور دلچسپ تفریحی کھیلوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ان میں پول کے نچلے حصے میں غوطہ خور روشنیوں اور موسیقی کی دھنوں کے ساتھ فٹ بال اور دیگر کھیلوں سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ پانی میں تیراکی یا کھیلوں کے دوران ارد گرد کے ماحول نے رنگ برنگی روشنیوں ، موسیقی کی مدھر دھنوں اور سر سبز پودوں نے فضا کو ایسا پرکشش اور معطر کیا ہوتا ہے کہ کسی کا یہاں سے نکلنے کو جی ہی نہیں چاہتا۔اس کے ساتھ ساتھ یہاں پر جدید ٹیکنالوجی اور ناقابل یقین سہولیات سے مزین ایک حیرت انگیز اور منفرد''لوگوں سے خالی ڈوبے ہوئے شہر ‘‘ کو بھی تعمیر کیا گیا ہے جو لوگوں کو ایک چیلنج کے طور پر دورانِ تیراکی تلاش کرنا ہوتا ہے۔ بقول ڈائریکٹر جیرڈ جبلو نسکی پانی کے اندر ڈُوبے بے آ باد اور گمشدہ شہر کی تلاش کا تصور ایک منفرد اور دلچسپ کھیل ہے جسے ابتدا ہی میں لوگوں نے سراہنا شروع کر دیا۔ ہمیں یقین ہے کہ مستقبل میں ہم ایسے متعدد کھیل لوگوں کی دلچسپی کیلئے متعارف کراتے رہیں گے۔ یہ سب لوگوں کیلئے نیا ہے جو اس سے پہلے کہیں متعارف نہیں کرایا گیا۔ڈیپ ڈائیو دبئی میں ایک گھنٹے کی غوطہ خوری کا کم سے کم ٹکٹ ایک سو پینتیس ڈالر ہے جبکہ زیادہ گہرائی میں جانے کیلئے یہ ٹکٹ چار سو دس ڈالر تک چلا جاتا ہے۔ اس تالاب کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ پانی کے اندر چھ اور اکیس میٹر کی گہرائی میں دو رہائش گاہیں بھی بنائیگئی ہیں جو خشک چیمبر کے ساتھ موجود ہیں۔علاوہ ازیں اس سوئمنگ پول کے تمام زاویوں سے 56جدید کیمرے نصب کئے گئے ہیں جو ریکارڈنگ آواز اور موڈ لائٹنگ سسٹم کے تحت کام کرتے ہیں۔ان کا مقصد سوئمنگ پول کی سیکورٹی کا مکمل احاطہ کرناہے۔ بقول انتظامیہ ڈیپ ڈائیو دبئی تیراکوں اور غوطہ خوروں کیلئے کسی جنت سے کم نہیں ہے۔ اس پول کے باقاعدہ افتتاح کے بعد سرِدست صرف اکیس سال یا اس سے زائد عمر کے ہوٹل کے مہمانوں کو داخلے کی اجازت ہے جبکہ مرحلہ وار اسے دیگر شائقین کیلئے بھی کھول دیا جائے گا۔

سری لنکا ،برطانوی نو آبادی سے آزادی تک!

سری لنکا ،برطانوی نو آبادی سے آزادی تک!

سری لنکا کو نو آبادی بنانے کا عمل 1505 ء میں شروع ہوا جب پرتگیزوں نے اس پر قبضہ کیا۔ پھر1815ء میں برطاینہ نے پورے جزیرے کو فتح کرلیا۔ 1948ء میں سری لنکا نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ جب برطانیہ نے سری لنکا پر قبضہ کیا تو اس نے اسے سیلون ( Ceylon )کا نام دیا آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی 1972ء تک سری لنکا کی نو آبادی حیثیت( Dominion Status )برقرار رہی ۔اصل میں1802ء میں ہی ایمنیز معاہدے کے بعد برطانیہ کے پاس جزیرے کا وہ حصہ چلا گیا جو ولندیزیوں کے پاس تھا۔1803ء میں برطانیہ نے کنیڈی پر حملہ کردیا لیکن اس حملے کو پسپا کردیا گیا۔ اسے کنیڈی کی پہلی جنگ(Kandyan war )کہا جاتا ہے کنیڈی کی دوسری جنگ میں اسے فتح کرلیا گیا اور یوں سری لنکا کی آزادی کا خاتمہ ہوگیا۔سری لنکا مجموعی طورپر 443 برس تک نو آبادی بنا رہا۔ پہلے پرتگیزیوں نے نو آبادی( 1505-1658) بنائے رکھا پھر یہ جزیرہ ولندیزیوں (1658-1796 )کے زیر تسلط رہا اور پھر اسے1796 سے 1948 تک برطانیہ نے اپنی نو آبادی بنائے رکھا۔ 1815ء میں جب برطانیہ نے اسے مکمل طورپر فتح کیا تو سری لنکا کے ساحلی علاقوں کو فرانس نے اپنی نو آبادی بنائے رکھا تھا۔ 1815ء میں یہ ساحلی علاقے بھی برطانیہ کے قبضے میں آگئے۔ البتہ سری لنکا کے اندرونی علاقوں پر سنہالہ کے بادشاہ کی حکومت تھی۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ برطانیہ کو یہ ضرورت کیوں پڑی کہ وہ سری لنکا کو نو آبادی بنائے۔ اس کی وجہ نپولین کی مشہور جنگیں تھیں۔ برطانیہ کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ اگر فرانس نے نیدر لینڈ کا کنٹرول حاصل کر لیا تو پھر سری لنکا فرانس کی نو آبادی بن جائے گا۔1802ء میں ایمنیز معاہدے کی وجہ سے فرانس اور برطانیہ کی دشمنی عارضی طورپر ختم ہوگئی۔سری لنکا کی آزادی کی تحریک بہت پر امن تھی جس کا مقصد آزادی کا حصول اور حکومت خود کرنے کا اختیارلینا تھا۔ برٹش سیلون کو اقتدار پر امن طریقے سے منتقل کرنے کا مطالبہ آہستہ آہستہ زور پکڑتا گیا۔ ایشیا میں برطانوی راج نے اس وقت زور پڑا جب نپولین کو واٹر لو میں شکست سے دو چار ہوتا پڑا۔ برطانوی راج کے وقار کوبھارت، افغانستان اور جنوبی افریقہ میں ہلکا سا نقصان پہنچا۔ 1914ء تک برطانوی راج کو کوئی چیلنج نہ کرسکا۔ سری لنکا کی معیشت کا دارومدار زراعت اور غیر ملکی زر مبادلہ پر تھا۔ سری لنکا میں زمین بڑی اہمیت کی حامل تھی کیونکہ اس کی وجہ سے مختلف ممالک کی آپس میں کئی جنگیں ہوئی تھیں۔ 1830ء کے عشرے میں سری لنکا میں کافی( Coffee )متعارف کروائی گئی اس کے علاوہ سیلون ٹی بڑی مشہور ہوئی۔ چائے کے باغات بنائے گئے اور یورپ کے لوگوں نے خوب دولت بنائی۔ اس مقصد کیلئے انہوں نے جنوبی بھارت سے بڑی تعداد میں تامل کارکنوں کو بلایا جو بہت جلد سری لنکا کی آبادی کا 10 فیصد حصہ بن گئے۔سیلون قومی کانگرس( CNC )کی بنیاد خود مختاری حاصل کرنے کے لئے رکھی گئی لیکن یہ پارٹی جلد ہی نسلی بنیادوں پر ٹوٹ گئی۔ اس کاسب سے بڑا سبب یہ تھا کہ سیلون کے تاملوں نے اقلیتی حیثیت قبول کرنے سے انکار کردیا۔ سیلون قومی کانگرس آزادی کی خواہاں نہیں تھی۔ تحریک آزادی کے آرزو مند واضح طورپر دو حصوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک وہ جوآئین پسند تھے یہ لوگ آہستہ آہستہ تبدیلی کے ذریعے سیلون کی حیثیت میں تبدیلی چاہتے تھے تا کہ آزادی کا سفر آسان ہوجائے۔ زیادہ انقلابی گروپ کولمبو یوتھ لیگ ، گونا سنگھے کی مزدور تحریک اور جافنا یوتھ کانگرس سے منسلک ہوگئے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران سری لنکا جاپان کے خلاف برطانوی اڈہ تھا۔15 اپریل 1942ء کو جاپان کی نیوی نے کولمبو پر بمباری کی جس کی وجہ سے بھارتی تاجرسری لنکا سے نکل گئے۔ آخر کار سنہالی لیڈر ڈی ایس سنہانائکے کی قیادت میں جدوجہد کرنے والے آئین پسندوں نے آزادی کی جنگ جیت لی۔جنگ عظیم دوم کے بعد سنہالی لیڈرنے آزادی کے مسئلے پر سیلون نیشنل کانگرس کی چھوڑ دی ۔ انہوں نے بعد میں یونائٹیڈ نیشنل پارٹی بنالی۔1947ء کے انتخابات میں یو این پی نے پارلیمنٹ کی اتنی زیادہ نشستیں نہیں جیتیں لیکن سولومان نیدرانائیکے اور جی جی پونم بالم کی تامل کانگرس کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل ہوگئی۔ سری لنکا1972ء میں جمہوریہ بنائے1978ء میں آئین متعارف کروایا گیا۔ جس کی رو سے صدر کو ریاست کا سربراہ بنایا گیا۔1983ء میں سری لنکا میں خانہ جنگی شروع ہوگئی1971ء اور 1987ء میں مسلح بغاوتیں ہوئیں۔2009ء میں25 سالہ خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا۔

وکی پیڈیا،جدید دورہ کا انسائیکلوپیڈیا

وکی پیڈیا،جدید دورہ کا انسائیکلوپیڈیا

وقت کے ساتھ ساتھ جس طرح ہر شعبہ زندگی کی رسائی انسانی ہاتھوں سے نکل کر بذریعہ ٹیکنالوجی جدید مشینوں پر منتقل ہوتی جا رہی ہے اسی طرح انسائیکلوپیڈیا بھی اب کتابوں سے نکل کر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے چند انچ کی ایک چھوٹی سی سکرین پر منتقل ہو چکا ہے۔ ذرا غور کریں کہاں موٹی موٹی ضخیم اور بھاری بھر کم کتابوں پر مشتمل معلومات کا ذخیرہ اور کہاں چند انچ کی سکرین جہاں چند سیکنڈ کے اندر اندر دنیا بھر کی معلومات کا خزانہ آپ کی انکھوں کے سامنے آپ کے کمپیوٹر یا موبائل فون کی سکرین پر نظر آ رہا ہوتا ہے۔ اس جدید دور کا یہ انسائیکلو پیڈیا ''وکی پیڈیا ‘‘ کے نام سے جاناجاتا ہےوکی پیڈیا ایک ڈیجیٹل انسائیکلو پیڈیا ہے جو انٹر نیٹ سے منسلک ہے۔ یوں کہیں کہ یہ انسائیکلو پیڈیا کی ایک جدید شکل ہے۔ جس پر دنیا بھر کے انٹر نیٹ صارفین باہمی خیالات اور نظریات کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں۔یہ انسائیکلو پیڈیا جسے '' وکی میڈیا فاؤنڈیشن ‘‘ کے نام سے ایک غیر منعفتی تنظیم نے شروع کیا۔ وکی پیڈیا دراصل'' نیو پیڈیا‘‘ کی ابتدائی شکل ہے ۔یہ 9 مارچ 2000 میں ایک ویب پورٹل کمپنی ''بومس ‘‘ کی نگرانی میں شروع کی گئی۔ اس کمپنی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو جمی ویلز تھے اور ایڈیٹر انچیف لیری سینگر تھے۔ جنہوں نے 15جنوری 2001 کو مل کر وکی پیڈیا کا آغاز کیا۔انسائیکلو پیڈیا کے بنیادی تصور کی توسیع کے نظرئیے کے تحت اس کا نام ''وکی پیڈیا " تجویز کیا گیا اور یہی حتمی قرار پایا۔ ابتدا میں وکی پیڈیا صرف انگریزی زبان تک محدود تھا لیکن رفتہ رفتہ اس کی مقبولیت اور افادیت کے باعث یہ دوسری زبانوں تک پھیلتا چلا گیا۔ اردو وکی پیڈیا کا اجراء 27جنوری 2004 کو کیا گیا تھا۔یکم ستمبر 2021 سے اردو وکی پیڈیا میں ایک لاکھ 65 ہزار سے زائد مضامین شائع کئے گئے جبکہ 11ہزار پانچ سو کے لگ بھگ فائلیں لوڈ کی گئیں۔اب وکی پیڈیا پر 130 سے بھی زائد زبانوں کے 30لاکھ سے زیادہ موضوعات سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔وکی پیڈیا ویب پر مبنی ایک کثیرالاستعمال انسائیکلوپیڈیا کا نعم البدل ہے۔جو پوری دنیا میں ہر لمحے کروڑوں انسانوں کے زیر استعمال رہتا ہے۔اس کی خاص اور منفرد بات یہ ہے کہ اس کے مواد کی ہرخاص وعام کو ترمیم کی اجازت ہوتی ہے۔ یہ انٹر نیٹ کی دنیا کی مقبول ترین اور مشہور ترین ویب سائٹ ہے جس پر ہر لمحے لاکھوں لوگ معلومات شیئر کر رہے ہوتے ہیں۔

وزیر افضل۔۔۔خواجہ خورشید انور کے گنڈا بند شاگرد

وزیر افضل۔۔۔خواجہ خورشید انور کے گنڈا بند شاگرد

وزیر افضل جیسا شاندار موسیقار بھی دنیا سے چلا گیا۔گذشتہ دنوں ان کا انتقال ہوا تو موسیقی کے شائقین غمزدہ ہو گئے۔وزیر افضل واحد موسیقار تھے جنہیں خواجہ خورشید انور کا گنڈا بند شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل ہوا اور وہ ہمیشہ اس بات پر فخر کیا کرتے تھے۔اس میں حیرت کی بات یہ ہے کہ خواجہ صاحب کا گھرانہ گانے بجانے سے وابستہ نہیں تھا جبکہ وزیر کا تعلق موسیقار گھرانے سے تھا۔ موسیقار گھرانوں کو خود اور اپنے ورثے پر ہمیشہ بہت مان رہا اس کے باوجود وزیر ایک موسیقی سے تعلق نہ رکھنے والے گھرانے کے شاگرد بنے۔بتدا میں وزیر افضل فلموں کی پس پردہ موسیقی ترتیب دیا کرتے تھے۔ انہیں پنجابی فلموں کے معروف ہدایت کار اسلم ایرانی نے اپنی فلم' 'چاچا خواہ مخواہ‘ ‘ کی پس پردہ موسیقی کے لیے سائن کرلیا۔ اسلم ایرانی کی اپنے مستقل موسیقار بابا جی اے چشتی سے اَن بن ہو گئی اور وزیر افضل کو کچھ گیت ترتیب دینے کا موقع مل گیا۔ منیر حسین اور عنایت حسین بھٹی کی آوازوں میں ان کا پہلا ہی گیت مقبول ہوا 'ایتھے وگدے نے راوی تے چناں بیلیا۔‘ان کی اگلی فلم 'زمین‘ 1965 میں ریلیز ہوئی جومہدی حسن کے ایک انتہائی لاجواب گیت کی وجہ سے امر ہو گئی۔ مشیر کاظمی کے لکھے گیت 'شکوہ نہ کر گلہ نہ کر یہ دنیا ہے پیارے،‘ کی دھن اور مہدی حسن کی پرسوز آواز آج بھی دل درد سے بھر دیتی ہے۔ ۔اپنی تیسری فلم 'دل دا جانی‘ سے وہ نہ صرف شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے بلکہ اپنی فنی مہارت کی دھاک بٹھانے میں بھی کامیاب رہے۔ جب ہم 'سیونی میرے دل دا جانی‘ سننے بیٹھتے ہیں تو حزیں قادری کے سادہ بول، میڈیم نور جہاں کی درد میں ڈوبی آواز اور وزیر افضل کی سْچی دھن دل کی فضا کو پوری طرح سوگوار کر دیتی ہے۔1968 ان کی ریلیز ہونے والی آٹھ پنجابی فلموں میں کامیاب ترین 'جماں جنج نال‘ تھی۔ یہ ممکن ہی نہیں کوئی شخص موسیقی کا پرستار ہو اور اس نے 'کیندے نے نیناں، تیرے کول رہنا‘ نہ سنا ہو۔ میڈم نور جہاں نے اپنی لوچ دار آواز سے حزیں قادری اور وزیر افضل کی محنت کو چار چاند لگا دیے۔ اس فلم کا ایک اور قابل ذکر گیت مہدی حسن کی آواز میں ہے 'گھنڈ مکھڑے توں لاؤ یار۔‘فلموں سے ہٹ کر وزیر افضل نے ٹی وی اور ریڈیو کے لیے بھی انتہائی خوبصورت گیت کمپوز کیے جن میں میرا لونگ گواچا (مسرت نذیر)، چھاپ تلک سب چھین لی (ناہید اختر)، رنگوا دے چنریا (ناہید اختر)، رْکھ ڈولدے تے اکھ نئیں لگدی، نمی نمی وا وگدی (افشاں) اور سات سروں کا بہتا دریا (پرویز مہدی) شامل ہیں۔'رْکھ ڈولدے تے اکھ نئیں لگدی، نمی نمی وا وگدی‘ کے انتہائی خوبصورت بول احمد راہی نے لکھے تھے۔ پنجاب کا لوک کلچر اس گیت کے ایک ایک مصرعے سے چھلکتا ہے۔وزیر افضل اپنے لازوال گیتوں کی وجہ سے ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گے۔