نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت انسدادکوروناٹاسک فورس کااجلاس
  • بریکنگ :- بیرون ممالک سےآنیوالے 50 مسافرصحت یاب ہوگئے،وزیراعلیٰ سندھ
  • بریکنگ :- جون میں اب تک 192 مریض انتقال کرگئے،مرادعلی شاہ
  • بریکنگ :- سندھ میں کورونامریضوں کی تشخیص کی شرح 4.5 فیصدپرآگئی،وزیراعلیٰ
  • بریکنگ :- کراچی:اسپتالوں پراب کچھ دباؤ کم ہواہے،مراد علی شاہ
  • بریکنگ :- 12 جون کوبیرون ممالک سےآنیوالےمسافروں کے 37 ہزارٹیسٹ کیے،مرادعلی شاہ
Coronavirus Updates

سائیں شاہ لطیف بھٹائی

سائیں شاہ لطیف بھٹائی

اسپیشل فیچر

تحریر : میر حسین علی امام


وادی مہران ،باب الاسلام سندھ کے مشہور صوفی شاعر حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی بارہویں صدی ہجری کے اوائل میں ہالاکے قریب ایک گاؤں بھٹے پور میں پیدا ہوئے ،آپ کے والد کانام شاہ حبیب رحمۃُاﷲعلیہ تھا وہ ایک ولیٔ کامل تھے آپ کے جدامجدعبدالکریم شاہ مشہور بزرگ تھے اور بلڑی کے شاہ کریم کے نام سے مشہور ہوئے ۔شاہ عبد اللطیف رحمۃُاﷲعلیہ نے ابتدائی تعلیم نُورمحمد بھٹی سے حاصل کی اور بھٹ شاہ بارہ میل دور گاؤں وائی کے رہنے والے اور مشہور مُدرس تھے آپ نے اپنے والد شاہ حبیب رحمۃُاﷲعلیہ سے دینی تعلیم حاصل کی ۔آپ سادگی پسند ،شیریں گفت گوکرتے اورہر ایک سے عُجزواِنکساری سے پیش آتے شاہ حبیب رحمۃُاﷲعلیہ بھٹے پور سے نکل کر کوٹری مُغل میں رہنے لگے ،یہاں رئیس مرزامغل بیگ اور ارغوان خاندان آباد تھا ۔ایک دن رئیس مرزا مغل بیگ کی بیٹی بی بی سیدہ بیمار ہوئیں تو انہوں نے دعاکے لیے شاہ حبیب کو بُلا بھیجا ۔انہوں نے اپنی بیماری کے باعث شاہ لطیف رحمۃُاﷲعلیہ کو اپنے ساتھ لیا ۔شاہ لطیف رحمۃُاﷲعلیہ شعر گوئی کی فطرت رکھتے تھے، عشق الٰہی میں ڈوبے ہوئے تھے شاہ صاحب کا رجحان شعر گوئی ،سیاست ،بزرگوں فقیروں کی صحبت میں بیٹھنا اور یاد الٰہی میں مشغول رہنا تھا۔1713ء میں قبیلہ دل کے لٹیروں نے مرزا مغل پر حملہ کیا اور مال ودولت لوٹ کرچلے گئے شاہ عبد اللطیف رحمۃُاﷲعلیہ کو اطلا ع ملی تو آپ نے مددکی پیش کش کی مگر مغلوں نے انکار کیاجس کے باعث دل کے لُٹیروں نے مرزا مغل کا خاندان قتل کرڈالا ۔مرزاکی مستورات احساسِ ندامت لیے شاہ عبداللطیف رحمۃُاﷲعلیہ کے پاس حاضرہوئیں۔ شاہ لطیف نے انہیں بڑی عزت دی اور شریعت کے مطابق سیّدہ بی بی سے نکاح کیا۔سیدہ بی بی نے وفا شعار ی اور خدمت گزاری کی مثال قائم کی ۔شادی کے بعد شاہ عبداللطیف رحمۃُاﷲعلیہ کی ریاضت ،عبادات اور شعر گوئی میں اضافہ ہوا،محفل سماع بھی جاری ہوئی۔ موسیقی میں طنبورہ اور دیگر آلات ایجاد کیے دور دُور تک آپ کے عارفانہ کلام کی شہرت پہنچ گئی ۔محفل سماع اورطنبورہ نے بھی شہرت پائی، لوگ آپ کے پاس جوق در جوق آنے لگے ،آپ کا کلام سننے ،سماع کی محفل میں شر کت کرنے لگے اور دُور دراز واپس جاکر لوگوں کو آپ کا کلام سنانے لگے ۔آپ کا دل عشق الٰہی میں بڑھتا گیا اور آپ ہجوم سے ہٹ کر ٹیلے پر بیٹھ کر غوروفکر کرنے لگے اس میں آپ کوسکون محسوس ہونے لگا۔ یہاں مستقل رہائش اختیار کی بعد میںیہ جگہ بھٹ شاہ کے نام سے مشہور ہوگئی ۔شاہ لطیف رحمۃُاﷲعلیہ ایک عظیم صوفی ،آفاقی شاعر تھے۔ آپ نے بیش تر عمرسیر سیاحت فقیروں، صوفیوں کی صحبت میں گزاری اِن سے فیض حاصل کیا ۔ اس فیض کو اپنی فطری شعر گوئی کی قوت وصلاحیت کے نتیجے میں اشعار میں ڈھالا چوں کہ آپ سچے عاشق تھے اور عشق مجازی سے عشق حقیقی اور عشق الٰہی کی طرف پہنچے تھے، اسی لئے آپ کے کلا م میںبھرپورسوزوگداز ہے ،موسیقیت طبیعت میں تھی وہی شاعری میں جھلک آئی ان کی شاعری میں رموز،صوفیانہ رنگ ،شعریت اورموسیقیت سب ہی ملتا ہے ۔ادبی نثر پارے یاشعری پارے کی مقبولیت میں یہی عوامل کار فرماہوتے ہیں، جوادب گردوپیش علاقائی واقعات وکردار سے متاثر ہوکر تخلیق کیا گیا ہو،اس میں اخلاقی پیغام، آفاقی فکر ،فنی محاسن ہوں ۔ان اُصولوں پر جب ہم شاہ عبداللطیف رحمۃُاﷲعلیہ کی شاعری پرکھتے ہیں تو وہ عالمی صوفیانہ شاعری کے معیار پر پوری اُترتی ہے ۔شاہ عبداللطیف رحمۃُاﷲعلیہ نے بقیہ عمر بھٹ شاہ میں گزاری 1752میں آپ کا انتقال ہوا۔ ہرسال 14صفر کو آپ کا عر س منایا جاتا ہے سند ھ کے کلہوڑہ خاندان کے حکم راں غلام شاہ کلہوڑہ نے آپ کا مزار تعمیر کرایا۔شاہ عبداللطیف رحمۃُاﷲعلیہ کی شاعری شاہ جو رسالوکے نام سے جمع کی گئی اس کے مختلف زبانوں میں تراجم ہوئے اردومیں شیخ ایاز ،رشید احمد لاشاری ،پروفیسر آفاق صدیقی اور دیگر حضرات نے تراجم کیے اور آپ کے عارفانہ کلا م کا فیض عام کیا ۔مشہور جرمن اسکالر مسز این میری شمل نے شاہ عبداللطیف کے کلام کا جرمن زبان میں ترجمہ کیا اور شاہ صاحب رحمۃُاﷲعلیہ کا کلام یورپ میں متعارف کرایا۔شاہ صاحب رحمۃُاﷲعلیہ کا کلام سندھ کی حدود سے نکل کر برصغیر پاک وہند اورایشیا سے بڑھ کر ساری دنیامیں مشہور ہوگیا یہ آپ کی انسان دوستی، دھرتی سے محبت عشق الٰہی پر مشتمل کلام ہے جو بے پنا ہ مقبول ہوا۔آپ کا شمار دنیا کے اہم صوفی شعرا ء میں ہوتا ہے ۔آپ کی شاعری عالمی شاعری کا در جہ رکھتی ہے ۔حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی نے اپنے کلام میں توحید الٰہی ،حب رسولﷺ، حقیقت ومعرفت ،شریعت وطریقت اور حیات وکائنات کے اسرازورموز کو شر ح وبسط سے بیان کیا ہے، شاہ صاحب نے فلسفۂ تصوف محض ایک نظریے کے طور پر نہیں ،بلکہ جزوِزندگی بناکر اپنایا تھا، اجزائے ترکیبی کُل میں سموکر تخلیق کا ئنات وتعمیر حیات کا راز بن گئے ۔تلاش حق اور راہِ حق کے نکات شاہ صاحب رحمۃُاﷲعلیہ نے اپنے کلا م میں بڑی صراحت سے بیان کیے ہیں۔ آپ کا کلام عالمی شہرت رکھتا ہے۔ ہرزبان میں اس کے تراجم ہوئے۔آپ کاکلام امن دوستی، انسان دوستی کے حوالے سے امن دوستوں ،انسان دوستوں کے لیے کشش رکھتا ہے ،سندھ دھرتی اور سندھ کے روایتی کرداروں کو آپ نے اپنے اشعار کے ذریعے بین الاقوامی بنایا اورانہیں اَمر کردیا ۔آپ نے محبت ،امن اورانسان دوستی کا پیغام دیا۔ یہی قرآنی تعلیمات ہیں یہی صوفیانہ طرز فکر ہے کہ سب انسان اس زمین کے بیٹے ہیں ۔یہ کائنات سب کے لیے ہے اس کائنات کو حسین اور انسان کو خوبصورت بنانا ہے ۔انسان کی بقاء محبت پیار میں ہے، یہی شاہ عبداللطیف کا پیغام ہے کہ انسانوں سے پیار کریں جو اس کائنات کا حسین تحفہ ہے ۔شاہ عبد اللطیف بھٹائی نے 26سال کی عمر میں بھٹ شاہ میں سکونت اختیار کی اور وہیں رحلت فرمائی ،یہ وہ مقام ہے جہاں شاہ صاحب رحمۃُاﷲعلیہ نے روحانیت ومعرفت وشعروتصوف کو معراج کمال پر پہنچایا۔ ’’بھٹ‘‘ سندھی میں ریت کے ٹیلے کو کہتے ہیں، جب یہ ویران مقام شاہ صاحب کا روحانی مسکن بناتو یہ علاقہ آباد ہو گیا اس کانام بھٹ شاہ یعنی شاہ صاحب رحمۃُاﷲعلیہ کا ٹیلہ قرار پایا ،بھٹ شاہ ہالہ شہر سے چھ میل کے فاصلے پر مشر ق کی جانب نشیبی خطے میں واقع ہے شاہ صاحب کا مزار اونچے ٹیلے میں آج بھی مرجع خاص وعام ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
کہانی مجاہد آزادی رام پرسادبسمل کی

کہانی مجاہد آزادی رام پرسادبسمل کی

آج ہم آپ کو تاریخ کے اس دور میں لے جائیں گے جب ''سر فروشی کی تمنا ‘‘ ہر کسی کے دل میں تھی ، اس جملے سے آپ بخوبی جان گئے ہونگے کہ ہم برصغیر کے اُس بہادر سپوت کا تذکرہ کر رہے ہیں جو مجاہد آزادی ہونے کیساتھ ساتھ شاعر ، مترجم مؤرخ اور ادیب بھی تھا ۔ جی ہاں ہم اپنے لفظوں کے ذریعے اس مجاہد کی قربانیوں کو سلام پیش کر رہے ہیں جس نے آزادی کی خاطر پھانسی کے پھندے کو گردن دیدی لیکن غاصب انگریز حکمرانوں کے آگے گردن نہیں جھکائی ۔ بازوئے قاتل کا زور توڑنے والے اس مجاہد کا نام رام پرساد بسمل تھا ، آپ کو بسمل شاہجہاں پوری بھی پکارا جاتا تھا ، 11جون 1897ء کو شاہجہان پور شہر کے کھیرنی باغ محلے میں پنڈت مرلیدھر کے ہاں پیدا ہوئے اور 19دسمبر 1927ء کو گورکھ پور (بھارت) میں پھانسی کی سزا کو اپنے لئے باعثِ فخر بنایا ۔وہ قارئین جو رام پرساد بسمل کے نام سے واقف نہیں اس سوچ میں مبتلا ہو رہے ہونگے کہ آخراس نام میں رام اور بسمل اکٹھے کیوں ہیں اور یہ نام رکھنے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے تو ہم صرف اتنا بتاتے چلیں کہ بسمل صاحب ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے اور آریہ سماجی تھے بسمل تخلص تھا جسکا مطلب مجروح (روحانی طور پر ) ہے۔ بسمل نے ایک مولوی صاحب سے اردو اور فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ بعد میں گھر والوں نے انہیں مندر کے پجاری کے حوالے کر دیا ۔ہندی میں وہ اگیات اور اردو میں بسمل کے نام سے لکھتے، بسمل کے علاوہ وہ ''رام‘‘ اور ''نا معلوم ‘‘کے نام سے بھی مضمون لکھتے اور شاعری کرتے ۔ بسمل سے پہلے انکا ایک بھائی پیدا ہوتے ہی مر گیا تھا۔ بسمل نے اپنی آپ بیتی میں ایک دلچسپ واقعہ لکھا کہ جب میں پیدا ہوا تو میرا زائچہ اور دونوں ہاتھ کی انگلیوں کی گولائی دیکھ کر نجومی نے پیشگوئی کی''اگر اس بچے کی زندگی کسی طرح کی نظریاتی بندش سے بچی رہے جسکا امکان بہت کم ہے تو اسے عنان حکومت سنبھالنے سے دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں پائے گی ‘‘ بسمل کی پیدائش سے قبل انکی ماں ایک بیٹا کھو چکی تھی لہٰذا جادو ٹونے کا سہارا لیا گیا۔ ایک خرگوش لایا گیا اور نوزائیدہ بچے کے اوپر سے وار کر آنگن میں چھوڑ دیا گیا۔ خرگوش نے آنگن کے دو چار چکر لگائے اور فوراً مر گیا۔ یہ واقعہ عجیب ضرور لگتا ہے لیکن حقیقی ہے ۔شاہجہاں پور سے تعلق رکھنے والے شہیدِ آزادی اشفاق اللہ خان کے بڑے بھائی ریاست اللہ خان رام پرساد بسمل کے ہم جماعت تھے، بس اسی طرح ان کی اشفاق سے بھی دوستی ہو گئی اور ایسی دوستی کہ دونوں جیئے بھی ساتھ ساتھ اور موت کو گلے بھی ایک ساتھ لگایا ۔ ریاست اپنے چھوٹے بھائی اشفاق کوبسمل کی بہادری کے قصے سنایا کرتے ۔ اشفاق کے دل و دماغ پر بسمل ایک ہیرو کی طرح چھا چکے تھے۔ گو کہ اشفاق بسمل سے 3 سال چھوٹے تھے لیکن دونوں میں کمال کی دوستی تھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اشفاق اللہ خان بھی شاعری کرتے اور وارثی و حسرت تخلص رکھتے تھے ۔ سرفروشی کی تمنا رکھنے والے یہ دو نوں شاعر مادر وطن پہ اپنا سب کچھ قربان کر نے کو ہمہ وقت تیار رہتے ۔پھر انہیں بھگت سنگھ کی قربت بھی ملی اور یوں آزادی کے پروانوں نے مل کر ایک غول کی طرح اڑان بھری ۔بسمل کے اندر آزادی کاطوفان چھپا تھاوہ جان چکے تھے کہ انگریز آسانی سے آزادی نہیں دینگے انہوں نے 1916ء میں صرف 19 سال کی عمر میں انقلابی راستہ چنا۔ بسمل صاحب کو سمجھنے کیلئے اتنا کافی ہے کہ وہ تحریک آزادی کے بے مثل ہیرو تھے ۔اتنی کم عمر میں انہوں نے وہ داستان رقم کی جو نوجوانانِ برصغیر کیلئے ہمیشہ روشن مثال رہے گی۔ اپنی 11 سال کی انقلابی زندگی میں بسمل صاحب نے کئی کتابیں لکھیں اور خود ہی انہیں شائع کیا، وہ با ہمت ، فیصلہ ساز شخصیت تھے جو سوچتے نتائج کی پرواہ کئے بغیر کر گزرتے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کم عمری میں وہ کارنامے انجام دئیے جو مصلحت پسندوں یا مفاد پرستوں کے حصے میں نہیں آتے ۔ بسمل نہ صرف کتابیں لکھتے انہیں خود چھاپتے اور فروخت بھی کرتے سب سے دلچسپ بات یہ کہ کتابیں بیچ کر جو پیسہ ملتا اس سے ہتھیار خریدتے اور انگریزوں کیخلاف استعمال کرتے ۔ بسمل جی نے کئی کتابیں لکھیں جن میں 11 کتابیں انکی زندگی میں شائع ہوئیں، برطانوی حکومت نے تمام کتابیں ضبط کر لیں۔''وندے ماترم ‘‘ کے بعدبسمل کی تخلیقات نے بہت مقبولیت حاصل کی بلکہ یوں کہنا چاہئے آزادی کے متوالوں میں نئی روح پھونک دی تھی دوسرا بسمل اور اشفاق کی دوستی نے تحریکِ آزادی میں ساجھی وراثت اور ساجھی شہادت کے جذبے کو پروان چڑھانے کا کام کیا۔رام پرساد بسمل نے ہندوستان ری پبلکن ایسوسی ایشن بنائی اور یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ بسمل کوئی تنظیم یا جماعت بنائیں اور اس میں اشفاق اللہ خان نہ ہوں ، تنظیم میں اشفاق اللہ خان، راجندر ناتھ لاہری اور روشن سنگھ جیسے نوجوان انکے ساتھ مل گئے۔تنظیم بن گئی قابل اعتماد دوست مل گئے لیکن تنظیم کو چلانے کیلئے اور ملک بھر میں انگریزوں کیخلاف ماحول بنانے کیلئے پیسوں کی ضرورت تھی اب بسمل اور انکے ساتھیوں نے ٹرین سے سرکاری خزانہ لوٹنے کا منصوبہ بنایا۔ سہارنپور سے لکھنؤ جانے والی پیسنجر ٹرین سے سرکاری خزانہ لایا جا رہا تھا شاہجہاں پور کے پاس کاکوری میں یہ ٹرین لوٹ لی گئی۔ بعد میں انگریز سرکار نے بسمل اور انکے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا اور ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ ڈالے کئی ایسے نوجوانوں کو بھی سخت سزائیں دیں گئیں جوکا کوری ٹرین کیس میں شامل نہیں تھے۔ اشفاق، لاہری اور روشن سنگھ پر بھی مقدمات چلے 19 دسمبر 1927 ء کو ان چاروں کو پھانسی دینے کا اعلان ہوا۔ عوامی بغاوت کے خوف سے انگریز افسران نے الگ الگ مقامات پہ پھانسی دی۔ راجندر ناتھ لاہری کو وقت مقررہ سے2دن پہلے ہی یعنی 17 دسمبر 1927ء کو گونڈہ جیل میں پھانسی دیدی گئی۔ روشن سنگھ کو الہٰ آباد جیل میں اور اشفاق اللہ خان کو فیض آباد جیل میں 19 دسمبر 1927 ء کو پھانسی دی گئی۔ اسی دن گورکھپور جیل میں پنڈت رام پرساد بسمل کو پھانسی دی گئی۔ایک مدت تک یہ کہا جاتا رہا کہ ''سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے‘‘یہ کلام رام پرساد بسمل کا ہے لیکن بعد میں تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ شہرۂ آفاق کلام1890ء میں قدیم پٹنہ میں پیدا ہونیوالے محمد حسین بسمل عظیم آبادی کا تھا لیکن چونکہ دونوں شخصیات کا عہد ایک ہی ہے اور وہ دور آزادی کا تھا اس لئے یہ ابہام پیدا ہوا ۔ بہر حال کلام کسی کا بھی ہو رام پرساد بسمل اور انکے ساتھیوں نے آزادی کیلئے سرفروشی کا حق ادا کر دیا زندگی کی صرف30 بہاریں دیکھنے والے اردو کے اس شاعر، ادیب اور مجاہدِ آزادی پر تاریخ ہمیشہ نازاں رہے گی۔

دیواروں کے محافظ

دیواروں کے محافظ

اس مرتبہ لڑائی کا شرارہ مسجد اقصیٰ کے پاس اور مشرقی بیت المقدس کے محلہ شیخ جراح میں بھڑکا۔امیر حسام الدین بن شرف الدین عیسی الجراحی، سلطان صلاح الدین ایوبی کے طبیب خاص تھے۔900 برس ہوئے انہیں گزرے لیکن آج بھی شیخ الجراح کی یادوں ، باتوں اور کارناموں سے فلسطینیوں کے دل معمور ہیں۔اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہونے فلسطینی مزاحمت کاروں کو خبردار کرتے ہوئے بیان جاری کیا تھا کہ ''ہم تمہیں وہ مار ماریں گے جس کا تم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔‘‘اسرائیل نے غزہ میں نہتے عوام پر بمباری کی اور درجنوں بچوں اور عورتوں کو قتل کر کےؔ'دعویٰ کیا کہ یہ تو ابھی ابتدا ء ہے۔‘‘فلسطینی مجاہدوں کیخلاف اپنے آپریشن کا نام ''حارس الاسوار ‘‘ تجویز کیا ''دیواروں کے محافظ۔‘‘ لیکن تحریک مزاحمت حماس کچھ اور ہی طے کیے ہوئے تھی۔1948ء کی جنگ کے بعد پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ سیف القدس کے راکٹ دھماکوں سے اسرائیل کے گلی کوچے لرز رہے تھے۔ہر گھنٹے بعد سائرن کی گونجتی آوازیں شہریوں کو پناہ گاہوں کی طرف بھاگ جانے پر مجبور کردیتیں۔ راکٹوں کاخوف اتنا بڑھا کہ اسرائیلی ارکان کو پارلیمنٹ کا اجلاس ادھورا چھوڑکر بھاگنا پڑا۔جب سے غزہ کے عوام نے حماس کو حکومت کیلئے چنا ہے اب تک عزت کا نشان یہ شہر3 بڑی لڑائیاں دیکھ چکا ہے لیکن اب کی بار یہ لڑائی کئی لحاظ سے مختلف تھی۔اسرئیل کے طول و عرض میں مختلف شہروں اور بستیوں میں بسنے والے فلسطینی عرب شہری پہلی بار القدس اور غزہ میں ظلم و ستم کے شکار اپنے بھائیوں کی مدد کیلئے مظاہرے کرتے ہوئے نکل آئے تھے۔اسرائیلی صدر رووین ریولین کیلئے یہ منظر اس قدر خوفناک تھا کہ وہ پکار اٹھے'' لگتا ہے جنگ اسرائیل کی سڑکوں پر پھوٹ نکلی ہے۔آبادی کی اکثریت اس صورتحال پر حیران و پریشان ہے۔ جو دِکھ رہا ہے اس پر یقین کرنا مشکل ہے ہم نے حالات کو جو رخ دیا ہے ،مجھے ڈر ہے کہ کہیں حقیقی خانہ جنگی نہ شروع ہو جائے ، ہم ساکت و صامت کھڑے ہیں۔‘‘آئرن ڈوم ( لوہے کا گنبد ) حماس اور فلسطینیوں کے راکٹوں کیخلاف اسرائیل کا دفاعی نظام اس کا ایک ایک یونٹ مہنگا ہے اور اس کو چلانا اس سے بھی مہنگا ہے۔اسرائیل نے چار دانگ عالم میں اس کی تشہیر بھی خوب کر رکھی تھی۔دعویٰ یہ تھا اس کی ہدف حاصل کرنے کی صلاحیت سوفیصدہے لیکن مجاہدین فلسطین نے بیک وقت اور مختلف زاویوں سے سینکڑوں راکٹ داغنے کی حکمت عملی اختیار کی۔ان راکٹوں نے عسقلان ،رامون ،ایٹمی ریکٹر دیمونہ کیبن گوریان ہوائی اڈہ ، اسرائیل کاقلب اسکا دارالحکومت تل ابیب بھی نشانہ بنا۔اسرائیل کے طول عرض میں لگی اس آگ نے آئرن ڈوم کی دفاعی صلاحیتوں پر سوالیہ نشانات لگا دئیے ہیں۔یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ اسرائیل کے بن گوریون ایئر پورٹ سے ساری فلائٹس کے رخ قبرص اور یونان کی طرف موڑ دئیے گئے ، حالات و واقعات بتا رہے تھے کہ دیواروں کے محافظ اب اِن کی حفاظت سے عاجز ہیں۔ حماس کی قوت مزاحمت نے اسرائیلی فوج کا دبدبہ چکناچور کردیا ہے ۔ موجودہ مزاحمتی کردار سے حماس کو اسرائیلی عرب باشندوں میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے فلسطینی قوم میں یکجہتی اورایک ہونے کا تصور بھی پختہ ہوا۔

عافیت

عافیت

گذشتہ دنوں بھائی کے ساتھ ٹریفک حادثہ پیش آنے کی وجہ سے ہسپتال کے چکر لگتے رہے۔ وہاں کئی دن رہنا پڑا اور بہت قریب سے لوگوں کو دیکھنا بھی ہوا۔ آرتھو پیڈک وارڈ میں آپ کو ننانوے فیصد سے زیادہ لوگ ایسے ہی ملیں گے جو کسی نہ کسی حادثے کا شکار ہو کر اپنی ہڈیاں تڑوا بیٹھتے ہیں، عمر بھر کی معذوری کو گلے لگا بیٹھے ہوں یا اپنے کسی عضو سے محروم ہو گئے ہوں ۔ اور نا جانے کتنے ہی لوگوں کے پیارے ان ناگہانی حادثات کی وجہ سے داعیٔ اجل کو لبیک کہہ کر ان سے جدا ہو جاتے ہیں۔اگر صحت جیسی نعمت کی آپ کو قدر نہیں ہے تو کسی ہسپتال کے ایمرجنسی میں جا کر چند گھنٹے گزار آئیں آپ کو ہر اس نعمت کی دل سے قدر ہو جائے گی جسے آپ فار گرانٹڈ لیتے ہیں۔ وہاں کی مسجد میں اپنے پیاروں کی زندگی کیلئے لوگوں کو اللہ کے سامنے سسکتے، تڑپتے اور بلکتے دیکھا۔ ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ خود بھی دن رات اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگتے تھے اور آپ ؐنے امت کو بھی ہمیشہ اس کی تلقین کی ہے۔ حضرت عباسؓ سے روایت ہے کہ: میں نے عرض کیا ،یا رسول اللہﷺ! مجھے ایسی چیز بتائیے جو میں اللہ تعالیٰ سے مانگوں۔‘‘ آپ ﷺنے فرمایا: ''تم اللہ سے عافیت مانگو۔‘‘ میں کچھ دن ٹھہرا رہا اور پھر دوبارہ آپ ؐکی خدمت میں گیا اور پوچھا مجھے ایسی چیز بتائیے جو میں اللہ تعالیٰ سے مانگوں۔؟ آپ ﷺنے کہا:''اللہ سے دنیا و آخرت میں عافیت مانگا کرو۔‘‘اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عافیت کہتے کسے ہیں؟ جس کے مانگنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ عافیت، ایک ایسا جامع لفظ ہے جس میں ہر قسم کی ظاہری، باطنی، دنیوی و اخروی آفات و بلیات اور مصائب سے پناہ، نیز دین و دنیا کی تمام بھلائیوں کی طلب و استدعا موجود ہے۔ علامہ نواب قطب الدین خان دہلویؒ لکھتے ہیں ''اللہ تعالیٰ عافیت مانگنے کو بہت پسند کرتا ہے۔ اس کے برابر اور کسی چیز کے مانگنے کو پسند نہیں کرتا۔ عافیت کے معنی یہ ہیں کہ دنیا و آخرت کی تمام ظاہری و باطنی غیر پسندیدہ چیزوں، تمام آفات و مصائب، تمام بیماریوں اور تمام بلاؤں سے سلامتی و حفاظت۔ لہٰذا، عافیت‘ دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں پر حاوی ہے۔ جس نے عافیت مانگی، اس نے گویا دنیا و آخرت کی تمام ہی بھلائیاں مانگ لیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ عافیت مانگنے کو پسند کرتا ہے۔‘‘حضرت ڈاکٹر عبدالحیٔ عارفی ؒ بیان کیاکرتے تھے ''عافیت، بہت بڑی چیز ہے بہت اونچی نعمت ہے اور عافیت کے مقابلے میں دنیا کی ساری دولتیں ہیچ ہیں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتیں۔‘‘ نیز وہ بیان کرتے تھے کہ عافیت دل و دماغ کے سکون کو کہتے ہیں اور یہ سکون اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ دولت اللہ تعالیٰ بغیر کسی سبب اور استحقاق کے عطا فرماتے ہیں۔ عافیت کوئی آدمی خرید نہیں سکتا نہ روپے پیسے سے عافیت خریدی جا سکتی ہے نہ سرمائے سے نہ ہی منصب سے کوئی عافیت حاصل کر سکتا ہے ۔ عافیت کا خزانہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اس کی ذات کے سوا کوئی عافیت نہیں دے سکتا۔ رسول کریمﷺنے ارشاد فرمایا: ''اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی دعا رد نہیں کی جاتی۔‘‘ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: ہم نے سوال کیا کہ یہ قبولیت کے اوقات میں سے ایک اہم وقت ہے۔ ہمیں موقع ملے تو اللہ سے قبولیت کے وقت میں کیا دعا مانگیں؟ تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: ''اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کرو۔‘‘ ترمذی شریف میں یہ روایت بھی موجود ہے کہ ''اللہ کے نزدیک اس سے عافیت مانگنا ہر چیز مانگنے سے زیادہ محبوب ہے۔‘‘ آپؐ نے یہ ارشاد بھی فرمایا '' تمہیں کلمہ اخلاص (کلمۂ شہادت) کے بعد عافیت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں دی گئی۔ لہٰذا تم اللہ سے عافیت کا سوال کیا کرو۔‘‘ ابو داؤد میں یہ روایت موجود ہے کہ رسول کریم ﷺصبح و شام نہایت پابندی سے ان الفاظ کے ذریعے دعا مانگتے ۔''اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ میں تجھ سے اپنے اہل وعیال اور اپنے مال کے معاملے میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ میری پردوں کی چیزوں کو پردے میں رکھ اور گھبراہٹ کی باتوں سے مجھے امن میں رکھ۔‘‘ ان الفاظ کو یاد کر لیں۔ انشاء اللہ! زندگی میں قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی حفاظت و نگہبانی میں رہیں گے۔

سخت گرمی سے کیسے بچیں؟

سخت گرمی سے کیسے بچیں؟

موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی گرمی کی شدت میں ہر گْزرتے دن کیساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور اس بدلتے موسم کا اثر ہماری صحت پر بھی پڑتا ہے اور صحت کے متعلق بہت سی پریشانیاں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں، اگر آپ بدلتے موسم کیساتھ گرمیوں میں جسم کو تندرست رکھنا چاہتے ہیں تو گرمی کی بیماریوں کے تدراک کرنے کے طریقوں کو سیکھنا ضروری ہے۔گرمی سے بچنے کے طریقوں کا ذکر کیا جا رہا ہے تاکہ آپ موسم کی شدت سے اپنے جسم کو محفوظ رکھ سکیں اور صحت مند رہ سکیں۔سب سے پہلے پانی:موسم گرما میں قْدرت نے ہمارے جسم کو قدرتی طور پر ٹھنڈا رکھنے کے لیے ہمارے جسم میں پسینے کا نظام بنایا ہے اور زیادہ گرمی میں زیادہ پسینہ آنے سے جسم میں پانی کی کمی پیدا ہوتی ہے خاص طور پر اْن لوگوں میں جو جسمانی مشقت کے کام کرتے ہیں اور ورزش وغیرہ کرتے ہیں یہ کمی جلدی پیدا ہو سکتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ جسم میں پانی کی کمی کو پورا کیا جائے۔جب جسم میں پانی کی کمی پیدا ہوتی ہے تو بار بار پیاس لگتی ہے، معمول سے بہت کم پیشاب آتا ہے اور پیشاب کی رنگت گہری ہو جاتی ہے، جسم بہت جلد تھکاؤٹ کا شکار ہونا شروع ہو جاتا ہے، سر میں درد اور چکر آ سکتے ہیں اور ایسی صْورت میں زیادہ سے زیادہ پانی پینا بہت ضروری ہو جاتا ہے خاص طور پر نمک کی کمی کو پْورا کرنے کے لیے لیموں کی سکنجبین کا استعمال زیادہ کریں اور اس میں نمک ڈال کر پینا شروع کر دیں، نارنجی کا جْوس بھی جسم کو ڈی ہائیڈریٹ ہونے سے بچاتا ہے اسکے ساتھ چائے اور کافی کا استعمال کم کریں اور ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں کیونکہ گہرا رنگ سْورج کی دْھوپ کو اپنے اندر جلدی جذب کرتا ہے اور ایسا کپڑا جلدی گرم ہو جاتا ہے اور دْھوپ میں نکلنے سے پہلے اپنے سر کو سفید یا ہلکے رنگ کے کپڑے سے ضرور ڈھانپ لیں۔گرمی کے موسم میں معدے میں تیزابیت پیدا ہونی شروع ہوجاتی ہے جس سے کھٹی ڈکاریں، پیٹ کا بھاری پن، معدے میں جلن، پیٹ درد اور متلی جیسی شکایات بڑھ جاتی ہیں اور ایسی صْورت میں دھنیے کو پانی میں بھگو دیں اور 2 گھنٹے بعد اسکا پانی استعمال کریں اور اسی طرح پودینے کو پانی میں بھگو کر پانی استعمال کرنا شروع کر دیں، املی اور آلو بْخارے کو پانی میں رات بھر بھیگا رہنے دیں اورصْبح اسکا پانی پی لیں اور املی اور آلوبْخارے کی گٹھلیاں نکال کر اسے بھی ساتھ کھا لیں یہ آپ کے نظام انہظام کو خراب نہیں ہونے دے گا۔ْشک ادرک یا ادرک کا پائوڈر اور اس میں تھوڑا کالا نمک شامل کر کے وقفے وقفے سے اس چْورن کا استعمال کرنا بھی تیزابیت کے خاتمے کا باعث بنتا ہے، معدے میں تیزابیت کی صْورت میں سیدھا مت لیٹیں بلکہ چارپائی وغیرہ کے سر والی سائیڈ پر چارپائی کے پاؤں کے نیچے اینٹ وغیرہ رکھ کر اسے سرہانے سے اونچا کر لیں اور تیزابیت کی صْورت میں چائے اور کافی سے پرہیز کریں اور کچی لسی وغیرہ کا استعمال زیادہ کر دیں۔شدید گرمی سے اگر چکر آ رہے ہیں تو ایسی صْورت میں آملے کا شربت آپ کو فوری آرام پہنچائے گا اور ساتھ ہی تْلسی کے پتوں میں چینی مکس کر کے پیسٹ بنا لیں اور اسے پانی میں حل کر کے تھوڑی تھوڑی دیر بعد استعمال کریں یہ جسم سے گرمی کی شدت کو کم کرے گا۔موسم گرما میں سلاد والی سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں خاص طور پر کھیرا کھانا شروع کر دیں کھیرے میں پانی کی ایک بڑی مقدار شامل ہوتی ہے جو جسم کو ڈی ہائیڈریٹ ہونے سے بچاتی ہے اسی طرح اگر گرمی زیادہ لگ رہی ہو تو سینے پر پیاز کے رس سے مالش کریں۔گرمی میں گرمی دانے بھی جسم میں تلخی پیدا کرتے ہیں ان سے بچنے کے لیے کالے زیرے کا پاؤڈر ناریل کے دْودھ میں مکس کر کے جسم پر مالش کرنا انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے اور ساتھ ہی دھنیے کے پانی میں چینی شامل کرکے پینا بھی جسم کی تلخی کو کم کرنے کا باعث بنتا ہے۔فوڈ پوائزننگ بھی گرمی کے موسم سے جْڑی ہے اور خاص طور پر برسات کے موسم میں تو پنجاب کے ہسپتالوں میں اس بیماری سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی جاتی ہے اس بیماری سے بچنے کے لیے بازاری کھانا کھانا چھوڑ دیں اور کھانا کھانے سے پہلے، واش روم سے نکلنے کے بعد، پالتو جانوروں کو چْھونے کے بعد اپنے ہاتھوں کو اینٹی بیکٹیریل صابن سے دھوئیں، اور موسمی پھل اور سبزیوں کا استعمال بھی اچھی طرح دھو کر کریں تاکہ ان کے اوپر کوئی جراثیم وغیرہ نہ رہ جائے اور اپنی خوراک میں ایسے کھانوں کو شامل کریں جن میں فائبر کی مقدار زیادہ ہو جیسے پھل فروٹس اور سبزیاں۔لیموں جس کا نام سْن کر ہی منہ میں پانی بھر آتا ہے انسانی صحت کے لیے ایک انتہائی مْفید فروٹ ہے، خاص طور پر موسم گرما میں جب لوگوں کی قوت مدافعت کمزور ہو اس وقت لیموں میں موجود وٹامن سی ہمارے امیون سسٹم کو طاقتور بناتا ہے او گرمیوں کی بیماریوں سے بچاتا ہے۔لیموں منرلز اور وٹامنز سے بھر پور ہوتا ہے جو جسم کے امیون سسٹم کو طاقتور بناتا ہے اور انسان کو بیمار نہیں ہونے دیتا۔ گرمیوں میں لیموں کی سکنجبین بہت فائدہ مند ہوتی ہے جو جسم کی گرمی کو دور کرتی ہے۔ اس کے اندر فائبر کی ایک بڑی مقدار بھوک کو مٹاتی ہے اور لیموں میں سیب اور انگور سے بھی زیادہ پوٹاشیم ہوتی ہے۔لیموں دل، دماغ اور جگر کے لیے صدیوں سے انتہائی مْفید سمجھا جاتا ہے اور لیموں پر ہونے والی جدید میڈیکل سائنس کی ریسرچز بھی لیموں کی اس قابلیت کو تسلیم کرتی ہیں۔لیموں کا جْوس اینٹی بیکٹریا اور اینٹی وائرل خوبیوں کیساتھ موسمی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ معدے سے تیزابیت کا خاتمہ کرکے نظام ہضم کو بہتر بناتا ہے خاص طور پر موسم برسات میں جب ہوا میں نمی کی مقدار بڑھی ہوتی ہے اور کھانے پینے کی اشیا پلک جھپکتے خراب ہوسکتی ہیں ۔ لیموں پانی معدے میں تباہی مچانے والے جراثیموں کو بے قابو نہیں ہونے دیتا۔لیموں کے اندر موجود وٹامن سی جہاں اور بہت سی بیماریوں میں شفا ہے وہاں یہ جلد کو صاف کرتا ہے ۔

پروشیا:گمشدہ طاقتور سلطنت

پروشیا:گمشدہ طاقتور سلطنت

پروشیا ایک بہت طاقتور ریاست تھی، یہ جدید جرمنی کی پیشرو کے طور پر رہی ۔یہ سلطنت شمالی پولینڈ کے ایک چھوٹے سے علاقے سے جرمنی کی ایک اہم سپرپاور بنی جو کہ پندرہویں صدی سے لے کر عالمی جنگ دوم تک قائم رہی۔عالمی جنگ دوم کے بعد اس سلطنت کا نام و نشان مٹا دیا گیا ۔اور یہ تاریخ کے اوراق میں گمشدہ صفحات کی صورت موجود ہے۔پروشیا یورپ کی ایک خوشحال ریاست تھی۔پروشیا کے وزیر اعظم بسمارک نے 1871 میں ایک بکھرے ہوئے جرمنی کو متحد کیا اور اس کے پہلے چانسلر بن گئے تھے ۔ لیکن ایسا کیسے ممکن ہوا کہ ایک چھوٹی ریاست کا حکمران پورے جرمنی کا چانسلر بن گیا۔ اس کے پیچھے جدوجہد کی ایک لمبی کہانی ہے۔ انیسویں صدی میں پروشیا جرمنی کی ایک واحد بڑی طاقت تھی۔ سلطنت پروشیا پولینڈ اور لتھوینیا کے درمیان بالٹک سمندرکے کنارے پر واقع تھی۔اس کے رہائشی بالٹک زبان بولتے تھے۔شروع میں جرمن کا حصہ بننے سے پہلے یہ علاقہ چھوٹے چھوٹے ایسے علاقوں پر مشتمل تھا جو کہ رومن ایمپائر کے تحت تھے مگر ان کی زبان مشترکہ تھی۔ تیرہویں صدی میں جرمنی اور پولینڈنے ان علاقوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔پروٹیسٹینٹ ریفارمیشن کے نتیجے میں 1525 میں اس علاقے پر باقاعدہ حکومت قائم ہوئی۔ پولش بادشاہ کے بھتیجے البرٹ کو اس ریاست کا حکمران بناتے ہوئے ڈیوک آف پروشیا کا ٹائٹل دیا گیا۔البرٹ نے تعلیم اور آرٹ پر توجہ دی اور علاقے کے لوگوں کو باشعور بنایا۔13سال کی پروٹیسٹنٹ اور کیتھولک کی جنگ نے شمالی یورپ کو بہت نقصان پہنچایا۔ پروشیا کا ایک حصہ پولینڈ کے زیر اثر تھا لیکن جنگ کے بعد پروشیا نے اپنے علاقے کو پھیلایا اور پولینڈ کے زیر اثر حصہ بھی بقیہ پروشیا سے آملا۔پروشیا نے بہت جلد اپنی انتہائی ماہر افواج اور نیوی تیار کی جس نے خطے میں اسے ایک طاقتور ریاست بنا دیا ، اس لئے پروشیا نے 1701 میں باقاعدہ سلطنت کا اعلان کردیا۔یورپ کی یہ عظیم طاقتور ریاست کھڑی کرنے میں ولیم فریڈرک کا بہت بڑا کردار ہے ، اگرچہ وہ باقاعدہ کنگ ڈم کو دیکھنے لئے زندہ نہیں رہا لیکن یہ اعزاز اس کے بیٹے کو ملا کہ وہ ایک طاقتور سلطنت کاحکمران بنا۔فریڈک ولیم نے 13سالوں کی جنگ کے بعد ملک کی معیشت کو نئے سرے سے کھڑ ا کیا اور ملک کی فوج کو جدید سامان سے لیس کیا۔یہ مضبوط معیشت اور افواج ہی تھیں جس نے سلطنت کو ایک خوشحال اور طاقتور ریاست بنادیا۔اس نے اپنے بھتیجے ولیم (ڈچ ریپبلک)کے ساتھ بھی اتحاد قائم کیا جو بعد میں برطانیہ کے تخت پر بھی بیٹھا۔اسی دوران فریڈرک نے منتشر جرمنی پر بھی نظر رکھی۔جنگ نے کیتھولک رومن ایمپائر کو کمزور کردیا تھا۔ فریڈرک نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھایا اور پروشیا کو مزید مضبوط کرنے کیلئے بھرپور محنت کی ۔ 1688 میں فریڈرک کی وفات کے بعد اس کا بیٹا فریڈرک ون پروشیا کی سلطنت کا بادشاہ بنا۔جرمنی اور پولینڈ کے درمیان میں پروشیا نے زبردست ملٹری طاقت حاصل کرلی۔فریڈرک ون اور انگلینڈ کے بادشاہ ولیم سوئم آپس میں کزن تھے۔فریڈرک کے بیٹے فریڈرک ون نے سیاسی طور پر جرمنی کو متحد کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔1713سے لیکر 1740تک پروشیا کی سلطنت نے بھرپور طاقت کے ساتھ یورپ میں حکومت کی کیونکہ اس کے امیر تجار اور اچھی معیشت نے یورپ کو اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔ یورپ بھر سے لوگ پروشیا جانا پسند کرتے تھے۔فریڈرک ون نے سویڈن کے ساتھ ٹکر لی اور اپنے علاقوں کو وسعت دی۔فریڈرک ون کے بعد اس کے بیٹے فریڈرک ولیم دوم نے شاندار حکومت کی اور پروشیا کو مزید خوشحال بنایا۔ اسے'' فریڈرک دی گریٹ ‘‘کا خطاب دیا گیا۔فریڈرک دوم نے پولینڈ کی طرف بھی پیش قدمی کی اور کئی علاقے اپنی سلطنت میں شامل کرلئے اس کے علاوہ جرمنی پر قبضے کیلئے اپنے آسٹرین ہمعصر کے ساتھ بھی مقابلہ بازی شروع کردی۔مذہبی رواداری کی پالیسی ، آرٹ کے پھیلائواور لبرل سیاسی خارجہ پالیسی کے ذریعے پروشیا کو یورپ کی ایک طاقتور ریاست بنایا گیا۔اگلی صدی میں پروشیا نے جرمنی پر مکمل اثر و رسوخ حاصل کرلیا۔ انیسویں صدی میں بہت سے علاقوں کو جمع کرکے جرمنی کو یکجان کیا گیا اور اس کے پیچھے پروشیا کی طاقت تھی۔یہ کوششیں 1860سے شروع ہوئیں۔پروشیا کا اتنا اثرو رسوخ تھا کہ جب جرمن ایمپائر کا اعلان کیا گیا تو اس کے پہلے چانسلر پروشیا کے وزیراعظم تھے۔وہ1871 سے 1890تک جرمنی کے چانسلر رہے۔1918میں جب جرمن انقلاب آیا تو جرمن شہنشاہیت جمہوریہ ملک میں تبدیل ہوگئی۔جرمنی میں نازی ازم پروان چڑھا،جنگ عظیم دوم کے بعد جب جرمن کو شکست ہوئی تو جرمنی کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا ، ایک حصہ امریکہ کے حصہ میں اور ایک حصہ روس کے پاس آیا جس کے بعد پروشیا کی ریاست ختم کردی گئی اور اس کا نام صرف تاریخ میں رہ گیا۔ ایک وقت میں یورپ کی مضبوط ترین سلطنت سمجھی جانیوالی ریاست جنگ کی تباہ کاریوں کی نظر ہوگئی۔

زلزلہ ،جو 32سال جاری رہا

زلزلہ ،جو 32سال جاری رہا

فروری 1861 کو جب انڈونیشا کے جزیرے سماٹرا میں 8.5میگا حجم کا زلزلہ آیا تو اس نے ہلچل مچا دی ۔ زمین زور زور سے ہلنے لگی۔سمندر کا پانی ساحلوں سے اچھل کر قریبی آبادیوں میں پہنچ گیا۔ اس زلزلے سے سینکڑوں لوگ لقمہ اجل بنے۔یہ اتنا خطرناک زلزلہ تھا کہ زمین کی نچلی سطح میں یہ زلزلہ 32 سال تک رہا اور زمین ہلاتا رہا۔تاہم ارتعاش ہلکی ہوگئی تھی لیکن یہ اپنی نوعیت کا سست ترین زلزلہ تھا۔ یہ زلزلے کی وہ قسم تھی جو کئی کئی دن ، کئی کئی ماہ یا کئی کئی سال برقرار رہتے ہیں۔سنگاپور کی نین ینگ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کی جیوڈیسسٹ کے مطابق انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ کوئی زلزلہ اتنے سال تک بھی رہ سکتا ہے لیکن تحقیق سے پتا چلا کہ ایسا ممکن ہے اور یہ سب سماٹرا جزیرے پر ہوا۔ اس طرح کے سست رفتار زلزلے کا ریکارڈ سامنے آنے پر سائنسدانوں کیلئے یہ جاننے میں آسانی ہوگئی کہ ہماری زمین کی کچھ تہیں مسلسل حرکت میں ہیں۔ یہ تو سب کو پتا ہے کہ زلزلہ'' ٹیکٹانک پلیٹس‘‘کے ٹکرانے سے آتا ہے لیکن یہ تحقیق حیران کرنے والی تھی کہ کیا کوئی زلزلہ اتنا سست رفتار بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کئی سالوں پر محیط ہوجائے۔انڈونیشیا کے دیگر علاقوں میں بھی زلزلے آتے رہتے ہیں ، جنوبی جزیرہ اینگانو انہی زلزلوں کی وجہ سے آہستہ آہستہ ڈوب رہا ہے کیونکہ زلزلوں سے زمین میں دراڑیں پڑ رہی ہیں۔ سنگاپور ٹیکنالوجی کی ایک محقق نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے سست رفتار زلزلے قریبی جزیرے میں بھی ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک واحد واقعہ نہیں کہ جو اٹھارویں صدی میں وقوع پذیر ہوا ، یہ اب بھی ہوسکتا ہے ۔جدید تحقیق کا انحصار زمین کی ٹیکٹانک شفٹس کی غیرمتوقع کورل پر ہے۔ کورل کی کچھ اقسام اوپر کی طرف باہر کو نکلتی ہیں۔ یہ کورل تہوں کی شکل میں ایک مجموعہ کی طرح ہوتی ہیں۔ جس طرح درختوں کے جھنڈ، سائنسدان ان کے ڈھانچوں کو پانی کی سطح کو جانچنے کیلئے بھی دیکھتے ہیں۔سمند رکی سطح میں تبدیلی آب وہوا کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے جیسے گلیشئرز کا پگھلنا، یا پھر لینڈسکیپ کی بلندی میں شفٹ سے بھی ایسا ہوسکتا ہے، سماٹرا میں آنے والے زلزلے میں یہ دوسری وجہ ہوسکتی ہے اور یہ زمین دوز ٹیکٹانک پلیٹوں کے درمیان زبردست ٹکرائو سے ہوسکتا ہے ۔ سماٹرا کا جزیرہ اس زون میں واقع ہے کہ جہاں آسٹریلین ٹیکٹانک پلیٹس سنڈا پلیٹس سے نیچے ہوتی ہیں۔ لیکن یہ انڈونیشیا کے جزیروں میں بھی زمین دوز ٹیکٹانک پلیٹوں سے منسلک ہوتی ہے ۔ یہ زمین دوز پلیٹیں جب ٹکراتی ہیں تو ان سے اوپر والی سطح بھی حرکت میں آتی ہے جو باہر نکل کر سمندر میں گرنے کا باعث بنتی ہے جس سے سمندر کی سطح میں تبدیلی آتی ہے۔ ایسی شفٹ اس وقت بھی واقع ہوئی تھی جب 2005میں سماٹرا میں ریکٹر سکیل پر 8.7 حجم کا زلزلہ آیا تھا۔اسی طرح کی اچانک زمین کی حرکت کی شفٹ 1861میں بھی دیکھی گئی تھی ۔ ماہرین کی ٹیم کا خیال ہے کہ یہ تبدیلیاں اس لئے ہوتی ہیں کہ علاقے کی شفٹ میں تبدیلی ہورہی ہوتی ہے جہاں دو ٹیکٹانک پلیٹس آپس میں جڑتی ہیں۔