دنیا کی پہلی خاتون ماہر فلکیات

دنیا کی پہلی خاتون ماہر فلکیات

اسپیشل فیچر

تحریر : خاور گلزار


شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کے شعری مصرعے ''ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں‘‘ پر عمل کرتے ہوئے جرمن نژاد برطانوی خاتون کیرولین ہرشل نے دور بین کے شیشے صاف کرتے کرتے خلائوں کا مشاہدہ شروع کیاتو اس حیرت انگیز انوکھی دنیا کے کئی رازوںپر سے پردہ اٹھایا۔ ان کے مشاہدات آج بھی ماہر فلکیات کیلئے مشعل راہ ہیں۔
کیرولین ہرشل دنیا کی پہلی ماہر فلکیات خاتون ہیں۔ کیرولین ہرشل 16 مارچ 1750 کو ہینوور، جرمنی میں پیدا ہوئیں۔ کیرولین ہرشل کے والدآئزک مقبول موسیقار تھے۔کیرولین پانچ بہن بھائی تھے جو کہ ریاضی، فرانسیسی اور موسیقی کی کا علم حاصل کر رہے تھے جبکہ کیرولین کی والدہ نے لڑکی ہونے کی وجہ سے اسے تعلیم دینا ضروری نہ سمجھی اور گھر کے کام کاج میں لگا دیا اور وہ گھریلو ملازمہ کی طرح باقی بہن بھائیوں کے کام کرنے لگی۔ دس سال کی عمر میں کیرولین بیمار ہوگئی اس مہلک بیماری نے اس کی نشونما کو مستقبل طور پر روک دیا۔بیماری کے باعث ہرشل کی شادی نہ ہوسکی اور 22 سال تک اپنے والدین کے گھر ہی گھریلو ملازمہ کی طرح زندگی گزارتی رہی۔ ان دنوں ان کا بھائی ولیم تعلیم حاصل کرنے اور روز گار کے سلسلے میں انگلینڈ کیلئے روانہ ہوا تو کیرولین کو بھی اپنے ساتھ ہی لے گیا۔ ولیم موسیقی کا ماہر تھا اس لئے و لیم نے اپنی بہن ہرشل کیرولین کو بھی موسیقی کی تعلیم دی اور اس طرح ہرشل ایک ماہرپیشہ ور گائیکہ بن گئی ۔
ولیم فلکیات کے علم کا بھی شوق رکھتا تھا۔اس نے فلکیات کے علم میں دلچسپی کی وجہ سے ایک طاقتور دور بین بنانا شروع کی۔ یہ ایک ایسی دوربین تھی جس سے وہ خلا میں گہرائی تک دیکھ سکتا تھا۔ ہرشل کیرولین بھی گھرکے کام کاج کے ساتھ ساتھ بھائی ولیم کی ٹیلی سکوپ بنانے میں مدد کرنے لگی۔ اس دوران ہرشل کو بھی خلائوں میں جھانکنے کا شوق پیدا ہوا اورزیاد ہ سے زیادہ وقت اپنے بھائی کے ساتھ گزارنا شروع کردیا اور ولیم کے فلکیاتی علم میں مدد کرنا شروع کر دی۔ ولیم نے ٹیلی سکوپ بنانے میں اتنی شہرت حاصل کی کہ اس نے موسیقار کی نوکری چھوڑ دی اور باقاعدہ طورپر دور بین بنانے اور فلکیات پر تحقیق شروع کر دی۔ ولیم نے 1781ء میں سیارہ یورینس دریافت کیا اور اس کے بعد اسے کنگ جارج III کے درباری ماہر فلکیات کا خطاب دیا گیا اور حکومت کی طرف سے باقاعدہ تنخواہ کا اعلان بھی کیاگیا۔
اکثر اوقات ولیم اپنے تیار کردہ ٹیلی سکوپ کے ذریعے سیڑھی پر کھڑے ہو کر خلاء کا مشاہدہ کرتا اور مشاہدے کے دوران جو نظر آتا وہ کیرولین ہرشل کو بتاتا اور وہ اسے قلمبند کرتی جاتی ۔ اس طرح ہرشل بھی فلکیات کے مشاہدے میں گہری دلچسپی لینے لگی۔ ولیم نے آسمان کا سروے شروع کیا۔ اپنی دوربین پر ایک سیڑھی پر کھڑے ہو کر، اس نے اپنے مشاہدات کیرولین کو بتا ئے۔ آخر کار، انہوں نے 2,500 نئے نیبولا اور ستاروں کے جھرمٹ کی ایک فہرست مرتب کی، جسے ''نیو جنرل کیٹلاگ‘‘ (NGC)کا نام دیا گیا۔ خلائوں میں بہت سی غیر تاریک اشیاء کی شناخت ان کے ''این جی سی نمبر‘‘ سے ہوتی ہے۔
کیرولین اکثر اپنے طور پر آسمان کا مطالعہ کرنے کیلئے ایک چھوٹا نیوٹنین سویپر استعمال کرتی تھی۔ 26 فروری 1783ء کو کیرولین نے ایک کھلا جھرمٹ دریافت کیا جسے آج ''این جی سی 2360‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کیرولین ہرشل نے تین نئے نیبولا (دھندلے بادل جہاں ستارے بنتے ہیں) دریافت کئے۔یکم اگست 1786ء کو، کیرولین نے رات کے وقت آسمان سے آہستہ آہستہ سفر کرنے والی ایک چیز (دم دار ستارے )حرکت کرتے ہوئے دیکھی ۔ اس نے اگلی رات دوبارہ اس کا مشاہدہ کیا اور فوری طور پر دیگر ماہرین فلکیات کو خط کے ذریعے دم دار ستارے کی دریافت کے بارے آگاہ کیا تا کہ وہ بھی ان کے بتائے ہوئے خطوط پر خلاء کا مشاہدہ کرتے ہوئے مطالعہ کریں اوردم دار ستارے کو دیکھیں۔ دم دار ستارے کی دریافت کے بعد ہرشل کیرولین کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے اسے ماہر فلکیات تسلیم کرلیا گیا۔ 1787ء میں، کنگ جارج III نے اسے ولیم کے اسسٹنٹ کے طور پر ملازم رکھا۔ اس طرح سائنسی خدمات کیلئے تنخواہ حاصل کرنے والی پہلی خاتون ماہر فلکیات بن گئیں۔
1786ء اور 1797ء کے درمیان اس نے آٹھ دم دام ستارے دریافت کیے۔ کیرولین نے اپنی اور ولیم کی ہر دریافت کی فہرست بنائی۔ کیرولین ہرشل کے شائع کردہ فلکیاتی کیٹلاگ میں سے دو آج بھی استعمال میں ہیں۔ ان کی چھیاسیویں سالگرہ پر ''کنگ آف پرشیا کے گولڈ میڈل آف سائنس‘‘ سے نوازا گیا۔
1822ء میں ولیم کی موت کے بعد، کیرولین جرمنی واپس آگئیں اور نیبولا کے اپنے کیٹلاگ پر کام جاری رکھا۔ اس نے رائل آسٹرونومیکل سوسائٹی کا گولڈ میڈل حاصل کیا اور رائل سوسائٹی میں اعزازی رکنیت حاصل کی۔کیرولین ہرشل کا انتقال9 جنوری 1848ء کو ہوا۔
اس نے اپنے مقبرے کے پتھر پر یہ نوشتہ لکھا، جس میں لکھا ہے:
"The eyes of her who is glorified here below turned to the starry heavens."

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مائیکل فیراڈے

مائیکل فیراڈے

فیراڈے کا نام بجلی کے ساتھ ساتھ ذہن میں آتا ہے۔ اس نے اس عظیم قوت کو انسان کا غلام بنایا اور اسے تیار کرنے کے آسان ذرائع ایجاد کئے۔ ڈائنمو، جنریٹر اور ٹیلیفون، تار، برقی اور زندگی کی بہت سی دوسری سہولتیں بہت کچھ اسی عظیم موجد کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ وہ ایک قابل ماہر طبیعیات کے علاوہ اعلیٰ پائے گا کیمیا دان بھی تھا۔کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ فیراڈے نے علم طبیعیات کو نئی بنیادوں پر قائم کیا۔ اس نے نیوٹن کے نظریات میں اہم تبدیلیاں کیں بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اگر فیراڈے مقناطیسی میدان کا صحیح مفہوم پیش نہ کرتا تو وائرلیس ٹیلی گرافی کو معرض وجود میں آنے میں بہت دیر لگ جاتی۔ اسی مفہوم پر آئن سٹائن نے اپنا نظریہ اضافیت قائم کیا۔فیراڈے کسی اچھے سکول میں تعلیم نہ پا سکا تھا اور نہ ہی اسے ریاضیات پر کسی قسم کا عبور حاصل تھا۔ لیکن خداداد ذہانت اور محبت و استقلال نے اسے دنیائے سائنس میں ایک ارفع مقام عطا کیا۔ اسے فزکس اور کیمسٹری دونوں علوم سے گہرا لگائو تھا اس نے کبھی اپنی ایجادات سے پیسہ کمانے کی کوشش نہیں کی۔ ورنہ اگر وہ چاہتا تو آسانی سے ایسا کر سکتا تھا۔ یہی جذبہ اس کی شہرت کا سبب بنا۔ یہ موجد غریب گھرانے میں پیدا ہوا اور غربت ہی میں مرا لیکن اس کا نام اس کی محنت کی بدولت آج بھی زندہ ہے۔فیراڈے کا باپ ایک لوہار تھا، وہ لندن کے قریب 22ستمبر 1891ء کو پیدا ہوا، والدین غریب تھے اس لئے وہ کسی سکول میں داخل نہ ہو سکا۔ ''میری تعلیم‘‘ کے عنوان سے اپنی ڈائری میں لکھتا ہے '' میں نے نہایت معمولی درجے کے ایک عام سکول میں لکھنا پڑھنا اور کچھ حساب کتاب سیکھا، میں اپنا زیادہ وقت گھر پر یا باہر گلیوں میں گزارتا تھا‘‘۔13سال کی عمر میں فیراڈے کتابوں کی ایک دکان پر ملازم ہو گیا۔ پھر اس نے کتابوں کی جلدیں باندھنی شروع کیں اور یہ وہ زمانہ تھا جب اس نے سائنسی کتابوں کا مطالعہ کیا۔ اسے مشہور کیمیادان سرہمفری ڈیوی کے لیکچر سننے کا موقع بھی ملا اور بعد میں ان کے لیبارٹری اسسٹنٹ کی حیثیت سے ان کے پاس ملازم بھی ہو گیا۔ یہاں سے فیراڈے کے تحقیقاتی مشاغل کا آغاز ہوتا ہے۔ اس نے سرہمفری ڈیوی کے ساتھ دو سال یورپ کا دورہ کیا اور پھر ان کی تجربہ گاہ میں سائنسی تجریات کرنے لگا جو زیادہ تر علم کیمیا سے تعلق رکھتے تھے۔ اس نے بہترین دریافت کی۔ پہلی مرتبہ ایسا فولاد تیار کیا جس پر زنگ نہیں آ سکتا تھا۔ کئی گیسوں کو مائع کی حالت میں تبدیل کیا لیکن جس دریافت نے اس کے نام کو زادہ جاوید کر دیا وہ بجلی اور مقناطیسیت کا باہمی تعلق ہے۔ 1860ء میں ڈنمارک کے مشہور سائنسدان اور سسٹڈنے بجلی اور مقناطیسیت کے درمیان ایک تعلق کا اعلان کیا، انہوں نے تجرباتی طور پر یہ دیکھا تھا کہ اگر کسی ایسے تار کے قریب جس میں سے برقی رو گزر رہی ہو۔ ایک مقناطیسی سوئی لائی جائے تو یہ سوئی حرکت میں آکر اپنی سمت تبدیل کر لیتی ہے۔ انہوں نے اس تجربے سے یہ نتیجہ اخذ کیا۔ کہ برقی رو گزرنے کی وجہ سے تار کے چاروں طرف ایک مقناطیسی میدان قائم ہو جاتا ہے اگلے سال فرانسیسی سائنسدان ایمپیر نے بھی اس سلسلے میں کچھ اور تجربات کئے۔ڈیوی اور فیراڈے کو بھی ان تجربات سے دلچسپی پیدا ہوئی اور انہوں نے خود یہ تجربات کرکے دیکھے۔ فیراڈے نے برقی موٹر کا بنیادی اصول دریافت کیا۔ اس کی شہرت میں اتنا اضافہ ہوا کہ خود ہمفری ڈیوی کو حسد ہونے لگا۔ 1833ء میں فیراڈے کو رائل سوسائٹی کا فیلو منتخب کیا گیا۔فیراڈے پھر کیمیاوی تجربات میں مصروف ہو گیا لیکن اس کے دل میں یہ خیال برابر چٹکیاں لیتا رہا کہ اگر بجلی سے مقناطیسیت حاصل ہو سکتی ہے تو مقناطیسیت سے بجلی کیوں نہیں پیدا ہو سکتی؟ اس نے 1824ء اور 1825ء میں اس موضوع پر تجربات کئے لیکن کامیاب نہ ہو سکا۔1831ء میں فیراڈے نے کیمیاوی تجربات کا سلسلہ ختم کردیا اور ساری توجہ اسی چیز پر مرکوز کر دی کہ مقناطیس کی مدد سے بجلی کس طرح پیدا کی جائے۔ اس سوال کا جواب اسے 29اگست 1831ء کو ملا۔ وہ مقناطیسیت سے بجلی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے برقی جنریٹر کا بنیادی اصول دریافت کر لیا تھا۔ اس کی اہم ترین دریافت مقناطیسی میدان ہے جس پر جدید طبیعیات کی عمارت استوار ہوئی۔فیراڈے کے ملک اور اس کی قوم نے اس کی کافی قدر کی۔ رائل سوسائٹی کا فیلو منتخب ہونے کے دو سال بعد اسے رائل انسٹی ٹیوشن کی تجربہ گاہ کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ اور 1833ء میں اسے اسی درسگاہ میں تمام عمر کیلئے کیمسٹری کا پروفیسر مقرر کیا گیا۔ لیکن لیکچر دینا اس کے فرائض میں شامل نہ تھا۔فیراڈے کی زندگی ہی میں برقی روشنی ممکن ہو گئی تھی۔ اسے 1836ء میں ٹرنیٹی ہائوس کا سائنٹیفک ایڈوائزر مقرر کیا گیا۔ اس زمانے میں سمندروں میں روشنی کے میناروں پر روشنی کا معقول انتظام موجود نہ تھا۔ اس لئے فیراڈے نے یہ تجویز پیش کی کہ سب سے پہلے برقی روشنی ان میناروں پر ہی استعمال کی جائے۔ چنانچہ سائوتھ فورلینڈ لائٹ ہائوس بجلی کی روشنی سے جگمگانے لگا۔ یہ دنیا کا پہلا مینار تھا جس پر برقی روشنی نظر آئی۔فیراڈے کو تجارت اور پیسہ کمانے سے نفرت تھی وہ ایک حقیقی سائنس دان کی طرح اپنے تجربات میں مصروف رہنا چاہتا تھا تاکہ قدرت کے زیادہ سے زیادہ راز بے نقاب ہو جائیں۔ اس نے بجلی اور کیمیا کے باہمی تعلق پر بھی بہت کام کیا اور متعدد نئی اصطلاحات وضع کیں جو آج تک رائج ہیں۔ اس کی تحقیقات کی اہمیت جاننی ہو تو موجودہ صنعت و حرفت پر ہلکی سی نظر ڈال لیجئے۔اب فیراڈے کی صحت خراب رہنے لگی تھی۔ سخت محنت اور مستقل مصروفیت نے اسے کمزور کردیا تھا۔ اسے تین سو پونڈ سالانہ پنشن ملنے لگی تھی۔1841ء میں اس پر فالج کا حملہ ہوا جس سے اس کے اعصاب بری طرح متاثر ہوئے۔ اس کی یادداشت خراب ہو گئی تھی۔ وہ اپنے پچھلے تجربات اور ان کے نتائج کو بھول جاتا تھا۔ تین سال تک وہ کوئی کام نہیں کر سکا اور اپنی بیوی کے ساتھ سوئٹزرلینڈ چلا گیا۔ اسے اپنے بیوی بچوں سے کافی لگائو تھا۔ اس کی طبیعت میں غرور بالکل نہ تھا۔ وہ اکثر اپنے بچپن کا زمانہ یاد کرتا تھا اور اسے یہ کہنے میں کبھی عار محسوس نہیں ہوا۔ کہ اس کا باپ ایک لوہار تھا۔جیسے ہی صحت بہتر ہوئی۔ فیراڈے پھر اپنی تحقیقات میں مصروف ہو گیا۔1845ء میں اس نے مقناطیسیت اور روشنی کے درمیان ایک قسم تعلق دریافت کیا جو آج تک اس کے نام سے مشہور ہے۔ اسی دریافت نے وائرلیس ٹیلیگرافی کو جنم دیا اگرچہ کافی مدت بعد۔ اس کی تحقیقات اتنی زیادہ ہیں کہ اگر انہیں تفصیل سے بیان کیا جائے تو ایک کتاب تیار ہو جائے۔ نہ صرف یہ کہ وہ ایک قابل سائنس دان تھا اسے لیکچر دیئے میں بھی کمال حاصل تھا۔فیراڈے نے اپنی زندگی کے پورے چالیس سال رائل انسٹی ٹیوشن میں بسر کئے لیکن 1858ء میں ملکہ نے اسے ایک علیحدہ مکان عطا کیا۔ یہاں فیراڈے نے اپنی زندگی کے آخری چند سال گزارے۔ اس نے 1865ء میں اپنی تحقیقات کا سلسلہ ختم کردیا۔ یادداشت نے ساتھ چھوڑ دیا تھا لیکن کتابوں نے نہیں۔ 25 اگست 1867ء کو اس نے اپنی مطالعے کی کرسی میں جان دی۔ خوشی اور اطمینان کے ساتھ محنت اور شوق کی اس سے بہتر مثال اور کیا ہو سکتی ہے!فیراڈے کی تحقیقات اور ایجادات اس کے نام کو ہمیشہ زندہ رکھیں گی اس کے طبیعت میں سخاوت تھی اور وہ مذہب سے گہری دلچسپی رکھتا تھا۔ اسے اپنے والدین سے بھی لگائو تھا اور اپنے بیوی بچوں سے بھی وہ مسلسل چالیس سال تک تقریباً ہر روز اپنی تجربہ گاہ میں مصروف رہا۔ اس کے دماغ میں نئے نئے سوالات پیدا ہوتے تھے اور جب تک وہ ان کا جواب حاصل نہیں کر لیتا تھا اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتا تھا۔ اس کی زندگی سب کیلئے مثالی حیثیت رکھتی ہے۔

حیرت انگیز زیر زمین گھر

حیرت انگیز زیر زمین گھر

جیسے جیسے آبادی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے انسان نے اپنے لئے مزید مسائل سے بچنے کیلئے حل تلاش کرنا شروع کردیئے ہیں۔ انہیں مسائل میں ایک جگہ کا مسئلہ بھی ہے جس کے حل کیلئے اب لوگوں نے زیر زمین عمارتیں تعمیر کرنا شروع کردی ہیں۔ انسان جو کہ ابتدا میں غاروں میں رہائش پذیر تھا اور آہستہ آہستہ اس کو احساس ہوا کہ زمین پر رہائش ختیار کرنا اس کیلئے زیادہ سود مند ہے۔ لیکن اب اس نے زمین کے اندر بھی رہائش اختیا رکرنا شروع کر دی ہے۔ یہاں چند حیرت انگیز زیر زمین گھروں کے بارے میں آگاہ کیا جارہا ہے۔''کیو ہائوس‘‘( Cave House)یہ جدید اور توانائی کی بچت کا حامل گھر پندرہ ہزار اسکوائر فٹ پر میسوری کے علاقے Festus کی ایک غار میں تعمیر کیا گیا ہے۔ اس گھر کو اس انداز سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ نہ اس کو ٹھنڈا کرنے کیلئے ایئرکنڈیشن کی ضرورت ہے اور نہ گرم رکھنے کیلئے کسی ہیٹرکی۔ اس کی گھر کی دیواریں غار کی دیواریں ہی ہیں۔ اس گھر کو ''Curt and Debaorah Sleeper‘‘ نے تعمیر کیا ہے۔ اس مقام پر پہلے کنسرٹ ہوا کرتے تھے اور گھر بننے سے قبل اسے نیلام کردیا گیا۔''مالیٹرڈروڈسٹن‘‘(Malator Druidstone)یہ گھر ویلز (Wales) کی خوبصورت تعمیرات میں سے ایک ہے۔ مقامی لوگ اس گھر کو ''The Teletubby House‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس گھر کی چھت پر ایک سٹیل کی چمٹی موجود ہے اور اس گھر کا ڈیزائن سادہ ہے۔بنیادی طورپر اس گھر میں ایک ہی کمرا ہے جسے مختلف رنگوں کے ذریعے تقسیم کیا گیا ہے۔ اس گھر کے باہر بھی زمین کی تزئین و آرائش کی گئی ہے۔ہیڈن ہائوس(Hidden House)پولینڈ میں موجوداس زیر زمین گھر کو KWK Promoes نے ڈیزائن کیا ۔اس کی چھت پر گھاس ہی گھاس ہے اور اسی گھاس کو کاٹ کر گھر کے اندر اترنے والی سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔گھاس ہونے کی وجہ سے ان سیڑھیوں تک رسائی صرف رہائشیوں کو ہی حاصل ہے۔''صدم ہائوس‘‘Sadum Houseاس گھر کی تعمیر اس انداز سے کی گئی ہے کہ زیادہ سے زیادہ سورج کی روشنی اس پر پڑے جبکہ اس گھر کا زیادہ تر حصہ زیر زمین ہے۔ یہ ایک ماحول دوست گھر ہے جو کہ آسانی سے گرم اور ٹھنڈا بھی ہوجاتا ہے۔ اس گھر کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ بارش کے پانی کو ذخیرہ بھی کرسکتا ہے۔ برطانیہ میں تعمیر یہ زیر زمین گھر ایک ذاتی رہائش گاہ ہے۔''فلاور پیٹلز‘‘( Flower Petals)مانچسٹر کی یونائیٹڈ فٹ بال ٹیم کے سابقہ کپتان Gary Nevill نے برطانیہ میں ایک زیر زمین ماحول دوست گھر تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا اور آر کار ٹائون کی منصوبہ بندی کرنے والی کمیٹی نے ان کو اجازت دے دی۔ یہ گھر8 ہزار سکوائر فٹ پر تعمیر کیا گیا ہے جس میں4 کمرے موجود ہیں اور اس کے اردگردPennine Hillside موجود ہے۔ پھولوں کی پنکھڑیوں کی شکل میں کھلنے والی ان کھڑکیوں کے ذریعے روشنی نیچے زمین تک پہنچتی ہے۔سٹون ڈیزرٹ ہوم(Stone Desert Home)Deca کی جانب سے مستطیل کی شکل میں تعمیرکیا گیا ہے۔ یہ زیر زمین گھرنہایت ہی ماحول دوست ہے کیونکہ اس میں قدرتی روشنی، گرمی اور ٹھنڈی ہوا کا گھر ہے۔ اس گھر کو دوپہاڑیوں کی ڈھلان کے درمیان تعمیر کیا گیا ہے اس گھر کے اردگرد ریگستان ہے اور اس کے ڈیزائن میں روایتی یونانی عناصر موجود ہیں۔ یونان میں موجود یہ گھر صرف درمیان سے دکھائی دیتا ہے۔اسٹیٹ لیٹنس ٹریسیEstate Lattenstrasseسوئٹزر لینڈ میں تعمیر ان9 خوبصورت گھروں کی سڑھیاں ایک بیسمنٹ میں جا کر اترتی ہیں۔ ان گھروں میں موجود جدید نظام موثر انداز میں بارش اور انتہا کی گرمی سے بچاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ہوا کے گزر کو بھی یقینی بناتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

ترکی کا تیسرا بدترین فضائی حادثہیوکرینی،میڈیٹیرینین ایئر لائنز کی پرواز 4230 ایک چارٹرڈ بین الاقوامی مسافر پرواز تھی جو 2003ء میں آج کے روز گر کر تباہ ہو گئی۔ یہ پرواز افغانستان میں متعین ہسپانوی امن دستے کے فوجیوں کو لے کر جا رہی تھی۔ طیارہ ترک ضلع ترابزون کے قصبے ماچکہ کے قریب گر کر تباہ ہوا۔ اس فضائی حادثے میں جہاز میں سوار 74افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ ترکی کی تاریخ کا تیسرا بدترین حادثہ تھا۔ ماہرین کے مطابق حادثہ گہری دھند کے باعث پیش آیا۔فورڈ ماڈل ٹی کی آخری گاڑی26مئی 1927ء کو فورڈ ماڈل ٹی کی آخری گاڑی تیار کی گئی۔ فورڈ ماڈل ٹی ایک آٹوموبائل تھی جسے فورڈ موٹر کمپنی نے یکم اکتوبر 1908ء سے 26 مئی 1927ء تک تیار کیا۔ اسے عام طور پر پہلے بڑے پیمانے پر سستی آٹو موبائل کے طور پر شمار کیا جاتا ہے، جس نے درمیانی طبقے کے امریکیوں کیلئے کار کا سفر آسان بنایا۔ اسے بنیادی طور پر تین انجینئرز، جوزف اے گالمب (مرکزی انجینئر)، یوجین فرکاس اور چائلڈ ہیرالڈ ولز نے ڈیزائن کیا تھا۔گیانا آزاد ہوا1966ء میں آج کے روز گیانا نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ آزادی سے قبل یہ برطانیہ کی کالونی تھا اور اسے برٹش گیانا کے نام سے جانا جاتا تھا۔ گیانا کو معروف یورپی مہم جو سر والٹر ریلی نے دریافت کیا تھا۔ 17ویں صدی کے اوائل میں ڈچ پہلے یورپی باشندے تھے جو وہاں آباد ہوئے۔ انہوں نے ''ایسکیبو‘‘ اور ''بربیس‘‘ کالونیوں کی بنیاد رکھی۔ جمہوریہ گیانا جنوبی امریکہ کے شمالی ساحل پر واقع ایک ملک ہے۔ گیانا کی سرحد شمال میں بحر اوقیانوس، جنوب اور جنوب مغرب میں برازیل، مغرب میں وینزویلا اور مشرق میں سورینام سے ملتی ہے۔چین میں شدید سیلاب 26مئی 2008ء کو مشرقی اور جنوبی چین میں شدید سیلاب آیا جو 148 اموات کا سبب بنا۔لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے ساتھ طوفانی بارشوں کے چار دور 20 دن تک جاری رہے اور اس نے مشرقی اور جنوبی چین کے پندرہ صوبے متاثر ہوئے۔سیلاب کے پہلے دور سے جنوبی چین کے بارہ صوبے متاثر ہوئے اور 30مئی تک 93 افراد ہلاک ہوئے۔ سیلاب کا ایک نیا دور 6 جون کو شروع ہوا اور اس نے جنوبی چین کے نو صوبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے 55 افراد ہلاک اور 7 لاپتہ ہو گئے اور 14 جون تک 13 لاکھ افراد کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔

کیچووے دنیا کے پہلے ماحولیاتی انجینئر

کیچووے دنیا کے پہلے ماحولیاتی انجینئر

ذرا غور کریں تو معلوم ہو گا کہ نظام قدرت کا استحکام بلاسبب نہیں ہے۔ انسان تو انسان کوئی بھی کیڑا مکوڑا، چرند، پرند قدرت نے بلاسبب پیدا نہیں کیا۔ ہر مخلوق کی اہمیت اور افادیت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ یہ الگ بات ہے تاحال انسانی تحقیق وہاں تک نہ پہنچ سکی ہو۔ بہت سارے حشرات الارض ایسے ہیں، بادی النظر میں جنہیں ہم کراہت اور نفرت کی نظر سے دیکھتے ہیں لیکن درحقیقت، درپردہ یہ انسانی زندگی کے محسن ہیں۔یہ انکشاف شاید بہت سارے لوگوں کیلئے نیا ہو کہ اس روئے زمین پر 24 گھنٹے کام کرنے والا ''دنیا کا سب سے پہلا ماحولیاتی انجینئر‘‘ ایک ایسا کیڑا تھا جو عمومی طور پر مٹی کے اندر رہتا ہے۔ اس کی سب سے پہلی گواہی قدیم مصریوں نے دی تھی۔ جنہوں نے اس کیڑے کو ''چھوٹے خدا‘‘ کا درجہ دیا ہوا تھا۔ قدیم مصریوں کا یہ لقب بلاسبب نہیں تھا انہوں نے جب دیکھا کہ یہ ننھے کیڑے دریائے نیل میں سیلاب کے بعد زرخیز مٹی زمین تک لاتے رہتے ہیں تو انہوں نے انہیں اپنا محسن گردانتے ہوئے ''چھوٹا خدا‘‘ کا لقب دے ڈالا۔ قدیم مصریوں کیلئے دریائے نیل ایک مقدس دریا یوں تھا جو ان کی زراعت اور تجارت کے ساتھ ساتھ نقل و حمل کا اہم ذریعہ بھی تھا۔ جدید سائنس بھی اس نقطے پر متفق ہے کہ ''دریائے نیل میں سیلاب کے بعد زرخیز مٹی زمین تک لانے کا سہرا ان زیر زمین کیڑوں کے سر تھا جنہیں عرف عام میں ''کیچوے‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ مصر کی زمینوں کی زرخیزی کیچووں کے بغیر ویسی قطعاً نہ ہوتی جو عام طور پر ہوا کرتی ہے‘‘۔کیچووں کی اہمیت کا اندازہ چارلس ڈارون کی 1881ء کی اس تحقیق سے بخوبی ہو جاتا ہے جس میں اس نے کہا تھا، ''اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ دنیا کی تاریخ میں اس سادہ سی مخلوق (کیچووں) سے زیادہ انسانوں کیلئے اہم کردارکسی اور جانور نے ادا کیا ہو‘‘۔کیچوے دراصل ہیں کیا ؟کیچوا، جسے انگریزی میں ''ارتھ ورم‘‘ کہتے ہیں بنیادی طور پر سرخ رنگ کا کیڑا ہوتا ہے جو عمومی طور پر برسات میں گیلی زمین میں پیدا ہوتے ہیں۔ عام طور پرزمین کے اندر چھپے اس کیڑے بارے لوگوں کی بیشتر تعداد انہیں مچھلیوں کی غذا سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہے یا مچھلی کے شکاری اس معصوم کیڑے کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر استعمال کرتے ہیں۔ کیچوے اتنے اہم کیوں ہیں کیچوے زیر زمین اپنی رہائشی کالونیاں بنا کر مٹی کی ساخت کو بہتر بناتے ہیں۔یہ نامیاتی مواد اور مٹی کو اپنی خوراک کا حصہ بنا کر ایک طرف تو خوردبینی جرثوموں کا کام آسان بناتے رہتے ہیں جبکہ دوسری طرف یہ پودوں کے غذائی اجزا پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ پودے بھی وہاں بہتر پرورش پاتے ہیں جہاں زیر زمین کیچووں کی کالونیاں ہوتی ہیں۔ جرمن سنٹر فار انٹیگریٹیو بائیو ڈائیورسٹی ریسرچ سنٹر سے وابستہ ڈاکٹر ہیلن فلپس کا کہنا ہے کہ بہت کم لوگوں کو اس حقیقت کا علم ہے کہ کیچوے زرعی پیداوار بڑھانے اور زمین کو ہوادار رکھنے میں انتہائی مددگار ہیں، بدقسمتی سے اس انسان دوست کیڑے کو بری طرح نظر انداز کیاجارہا ہے۔ کیچوے چوبیس گھنٹے مٹی کھاتے رہتے ہیں اور بدلے میں انسانوں کو کمپوسٹ (نامیاتی کھاد)، جسے ماہرین '' بلیک گولڈ ‘‘ کہتے ہیں مہیا کرتے ہیں۔کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ ایک طرف تو نم مٹی میں بل بنا کر رہنے والی یہ مخلوق زمین کی زرخیزی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف عالمی طور پر اس انسان دوست مخلوق بارے نہ صرف معلومات محدود ہیں بلکہ ان کی بقا کیلئے آج تک کبھی غور ہی نہیں کیا گیا۔اب سے کچھ عرصہ پہلے ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ سمندری جڑی بوٹیوں کی مدد سے تیار کی گئی نامیاتی کھاد زمین میں کیچوے پیدا کرتے ہیں ، جو بنجر اور کمزور زمین کی مٹی کو اپنی خوراک کا حصہ بنا کر ایسا مواد خارج کرتے ہیں جو زمین کی زرخیزی بڑھا دیتے ہیں۔کیچوے زمین کی چند انچ کی اوپری سطح سے نیچے جاتے ہیں اور زمین کو نرم کرتے رہتے ہیں جس سے زمین کی قدرتی اور پیداواری صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔جس سے بنجر اور ناکارہ زمینیں بھی قابل کاشت بن جاتی ہیں۔ اسی تحقیق میں سائنس دانوں نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ کیچوے زمین کے اندر چار فٹ کی گہرائی تک پہنچ جاتے ہیں اور اپنا کام بلا تعطل جاری رکھتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ زمین دس انچ کی بجائے چالیس سے پچاس انچ تک قابل استعمال ہو جاتی ہے ، نتیجتاً اس قدرتی کھاد سے فصل میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ کیچووں بارے جدید تحقیق کچھ عرصہ پہلے دنیا بھر کے سائنسدانوں کی طرف سے کیچووں پر ایک تحقیقاتی رپورٹ میگزین '' سائنس‘‘ میں شائع ہوئی تھی ، جس میں دنیا بھر کے 57 ممالک میں کیچووں کی موجودگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا تھا۔یہ تحقیق دراصل ممکنہ طور پر 14 عشرے قبل ڈارون کے نظرئیے کے تناظر میں کی گئی تھی۔ تحقیق میں انٹارکٹکا کے علاوہ تمام براعظموں کے 57 ممالک کے 140 محققین نے حصہ لیا۔ اس میں 7000 سے زائد مقامات سے کیچووں کا ڈیٹا ، موسمیاتی اور ماحولیاتی صورتحال کاجائزہ لیا گیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دنیا میں پہلا موقع تھا کہ ایک چھوٹے سے کیڑے کی خاطر دنیا بھر میں اس وسیع پیمانے پر اس قدر منظم تحقیق کا اہتمام کیا گیا ہو۔جس سے اس کیڑے (کینچوا ) کی اہمیت کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ ان کی حیاتیاتی تنوع معتدل موسموں والے علاقوں میں گرم موسم والے علاقوں کی نسبت زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسری دریافت یہ سامنے آئی کہ عالمی طور پر کیچوے زیر زمین اپنی کالونیاں بارش اور زمینی درجہ حرارت کو مدنظر رکھ کر بناتے ہیں۔اسی تحقیق میں سائنسدانوں نے دنیا بھر کے انسانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ زیر زمین اس انسان دوست معصوم کیڑے کی بقا کیلئے اپنا کردار اداکریں جو خاموشی سے بلاتعطل انسانی فلاح کیلئے مصروف کار رہتا ہے۔جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کیچووں کی 6 ہزار اقسام پائی جاتی ہیں۔ایک مربع میٹر زمین پر اوسطاً 150 کیچوے پائے جاتے ہیں۔جہاں تک ان کی لمبائی کا تعلق ہے عام طور پر یہ چند سنٹی میٹرلمبے ہوتے ہیں جبکہ اکثر علاقوں میں ان کی لمبائی تین میٹر تک بھی دیکھی گئی۔  

موسم گرما اور پھلوں کا بادشاہ آم

موسم گرما اور پھلوں کا بادشاہ آم

ہمارا خطہ کرہ ارض کے ایسے حصہ پر واقع ہے جہاں پر بسنے والے مختلف موسموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہاں سال میں چار موسم تبدیل ہوتے ہیں اور ہر موسم اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ خوشنما پھولوں اور خوش ذائقہ پھلوں کے ساتھ زندگیوں کو سرشار کرتے ہیں۔ تمام موسم اپنی اپنی الگ ہی پہچان رکھتے ہیں۔ موسم گرما جہاں دھوپ اور تمازت لئے جلوہ گر ہوتا ہے وہیں پر اس موسم کے پھل خصوصاً آم جسے پھلوں کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے دنیا بھرمیں پسند کیا جاتا ہے۔بعض لوگ آم کو کھاتے ہوئے بہت نفاست کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ہاتھ گندے نہ ہوں ویسے کانٹے سے کھانا بھی شاید آم کی توہین ہے۔ کیونکہ آم اور پائے کھاتے ہوئے جب تک ہاتھ گندے نہ ہوں تو مزہ ہی نہیں آتا۔ بد تہذیبی کے ساتھ کھانے سے ہی آم کا مزہ دوبالا ہوتا ہے۔موسم گرما شروع ہوتے ہی آموں کی مٹھاس اور دل کو لبھانے والا ذائقہ ہر ایک کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ پاکستان میں چونسہ ، سندھڑی ، لنگڑا اور انور راٹھور ایک منفرد پہچان رکھتے ہیں اور یہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک میں بھی بہت پسند کئے جاتے ہیں۔ بیرون ملک مقیم اپنے پیاروں کو تحفے کے طورپر ہزاروں میل دور پارسل کیا جاتا ہے۔ ویسے دنیا کے بہت سے خطوں میں آم کی پیداوار ہوتی ہے مگر پاکستانی آموں کی ایک الگ ہی پہچان ہے۔ بیرون ملک بسنے والے پاکستانی اپنے وطن کے آموں کی خوشبو سے سرشار ہوجاتے ہیں۔ دبئی میں تو یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کسی جنرل سٹور والے نے پاکستانی آم منگوائے ہوں تو وہ دکان پر آنے سے پہلے ہی فروخت ہوجاتے ہیں۔ موسم گرما میں جب سورج اپنی تمازت کا بھرپور جلوہ دکھاتا ہے اور شہر لاہور کا درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے تو لاہور کے منچلے ہی نہیں بچے ،بوڑھے ،جوان اور خواتین بھی نہر کا رخ کرتی ہیں اور نہر کے کنارے کنارے ایک میلے کا سماں ہوتا ہے۔ یہاں پر مینگو پارٹی کااہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ لوگ نہر کے پانی میں آموں کو ٹھنڈا کرتے ہیں یا پھر ایک بڑے برتن میں پانی ڈال کر اس کو دو یا تین گھنٹے کیلئے رکھ دیا جاتا ہے یا پھر برف میں لگا کر آم کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔آموں سے بھرے برتن کو نہر کنارے بیٹھ کر درمیان میں رکھ کر خوش ذائقہ آموں سے لطیف اندوز ہوتے ہیں۔پاکستانی آموں کی مقبولیت کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ آنجہانی ملکہ برطانیہ کیلئے خاص طورپر پاکستانی آم منگوائے جاتے تھے۔ اومان کے سلطان مرحوم سلطان بن قابوس پاکستانی آموں کے بہت شوقین تھے۔ 1968 ء میں پاکستانی وزیر خارجہ شریف الدین پیر زادہ چین کے دورے پرگئے جہاں ان کی ملاقات چینی رہنما مائوزے تنگ سے طے تھی ۔ اس دورے پر روانہ ہونے سے پہلے شریف الدین پیزادہ اپنے ساتھ 40 پیٹیاں آم بھی لے گئے اور مزے کی بات یہ ہے کہ اب چین آموں کی پیداوار میں ایشیا کے بہت سے ممالک کو پیچھے چھوڑ چکا ہوں۔پاکستانی وزیر خارجہ شریف الدین پیر زادہ کی آموں کو بطور تحفہ دینے کی روایت آج کے دور میں بھی جاری و ساری ہے۔ماضی اور حال میں پاکستانی حکمران جب بھی بیرون ملک سرکاری دوروں پر جاتے ہیں تو پاکستانی آموں کو بطورتحفہ ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ موسم گرما کے آتے ہی پاکستان سمیت مختلف ممالک میں پاکستانی آموں کی نمائش کا اہتمام کیا جاتا ہے۔آم پاکستان کے علاوہ ہندوستان اور فلپائن کا بھی قومی پھل ہے۔ آم کی پیداوار کیلئے جنوب ایشیائی ممالک کی آب و ہوا موزوں ترین ہے۔ دنیا کا 70 فیصد آم ایشیا میں پیدا ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت میں 1500 سے زیادہ اقسام کے آم پائے جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں225 قسم کے آموں کی پیداوار کی جاتی ہے۔صرف سندھ میں ہی 150 قسم کے آموں کی پیداوار کی جاتی ہے۔ موسم گرما کے شروع ہوتے ہیں آم کے آنے سے پہلے ہی پاکستان میں کے عوام پرجوش ہو جاتے ہیں سوشل میڈیا پر بھی اس پھل کے بارے میں پوسٹیں اور وی لاگز شیئر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔آم کی کوئی بھی قسم ہو یہ عام آدم سے لے کر خواص تک سب کے دل کو خوش کرتا ہے۔آم کے ٹھیلے کے قریب سے گزرتے ہوئے آم کسی بھی قسم کا ہو اس کی مخصوص خوشبو، ذائقہ اور رنگت دیکھ کر آپ کے منہ میں پانی آ ہی جاتا ہے۔دنیا کا مہنگا ترین آمجب آموں کی بات کی جائے تو جاپان میں ا گنے والے نایاب آم کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ زیادتی ہوگا۔ جاپان کے شہر میازاکی میں آموں کی ایک ایسی نایاب قسم کی پیداوار ہوتی ہے جوکہ دنیا کی مہنگی ترین قسم ہے۔یہ آم پیلے رنگ کی بجائے سرخ یا بینگنی مائل سرخ ہوتے ہیں۔بین الاقوامی منڈیوں میں، یہ پریمیم آم 800 ڈالر سے 900 ڈالر فی کلوگرام میں فروخت ہوتے ہیں، جو پاکستان میں اڑھائی سے تین لاکھ روپے کے برابر ہے۔آموں کی اس نایاب نسل کی جاپان، فلپائن ، تھائی لینڈ کے علاوہ پاکستان اور بھارت میں بھی پیداوار کی جاتی ہے۔ 

آج کا دن

آج کا دن

کارلوکی لڑائی 25مئی 1798ء کو آئر لینڈ کے شہر کارلو میں لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب کارلو باغی 1798ء کی بغاوت کی حمایت میںاٹھ کھڑے ہوئے۔یہ بغاوت کائونٹی کلڈیرے میں ایک دن پہلے شروع ہوئی تھی۔ کارلو میں یونائیٹڈ آئرش مین آرگنائزیشن کی قیادت ایک نوجوان کر رہا تھا جس کا نام مک ہیڈن تھا۔ اس نوجوان کو پچھلے رہنما پیٹر آئورز کی گرفتاری کے بعد قیادت دی گئی تھی۔ سابق رہنما کو مارچ میں اولیور بانڈ کے گھر سے متحدہ آئرلینڈ کے کئی دیگر سرکردہ افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔گرفتاری سے قبل وہ اپنے رضاکاروں کے ساتھ کاؤنٹی ٹاؤن پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے اور ان کی تعدا1200کے قریب پہنچ چکی تھی۔انقلاب مئی25مئی 1810ء کو ایک ہفتہ تک جاری رہنے والا ''انقلاب مئی‘‘ اختتام پذیر ہوا۔ انقلاب مئی ریو ڈی لا پلاٹا کے وائسرائیلٹی کے دارالحکومت بیونس آئرس میں 18 سے 25 مئی تک ہونے والے واقعات کا ایک طویل سلسلہ تھا۔ اس ہسپانوی کالونی میں تقریباً موجودہ ارجنٹائن، بولیویا، پیراگوئے، یوراگوئے اور برازیل کے کچھ حصے شامل تھے۔ نتیجتاً 25 مئی کو وائسرائے بالتاسر ہائیڈالگو ڈی سیسنیروس کی برطرفی ہوئی اور ایک مقامی حکومت کا قیام عمل میں آیا۔اسے وہاں سے نکال دیا گیا اور اس کی حکوت کو صرف ان علاقوں تک محدود کر دیا گیاجو ارجنٹائن سے تعلق رکھتے تھے۔اسلحہ ڈپو میں دھماکہ 25 مئی 1865 کو جنوبی ریاست ہائے متحدہ میں الاباما میں ایک اسلحہ ڈپو میں دھماکہ ہوا جس میں تقریباً 300 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ واقعہ امریکی خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد، فاتح افواج کے شہر پر قبضے کے دوران پیش آیا۔یہ ڈپو بیورگارڈ اسٹریٹ پر ایک گودام تھا جہاں فوجیوں نے تقریباً 200 ٹن گولے اور پاؤڈر رکھے ہوئے تھے۔ 25 مئی کی دوپہر کے وقت سیاہ دھویں کا بادل ہوا میں اٹھا اور زمین گڑگڑانے لگی۔ آگ کے شعلے آسمان کی طرف اٹھے اور پورے شہر میں گولہ باری کی آوازیں سنی گئیں۔ قریبی ندی میں دو بحری جہاز ڈوب گئے ،دھماکے سے کئی مکانات بھی منہدم ہوگئے۔ایکسپلورر32''ایکسپلورر32‘‘یا ''Atmosphere Explorer‘‘ ناسا کی جانب سے بھیجے جانے والا سیٹلائٹ تھا جسے زمین کے اوپری ماحول کا جائزہ لینے کیلئے لانچ کیا گیا تھا۔ ایکسپلورر32 کو 25 مئی 1966ء کوڈیلٹاC1وہیکل کیپ کینورل کے ذریعے لانچ کیاگیا۔ اس سے پہلے ایکسپلورر17لانچ کیا گیا تھا اگرچہ اسے خرابی کی وجہ سے توقع سے زیادہ مدار کے قریب رکھا گیا تھا۔ اپنی لانچ وہیکل پر دوسرے مرحلے میں، ایکسپلورر 32 نے ناکام ہونے سے پہلے دس ماہ تک ڈیٹا بھیجا۔